ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نئی دہلی میں ’موافقتی حکمت عملیوں کے ذریعے ساحلی علاقوں کی لچک کو مضبوط بنانے‘سے متعلق قومی ورکشاپ کا افتتاح

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 5:56PM by PIB Delhi

ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی مرکزی وزارت (ایم او ای ایف سی سی) کی جانب سے 29 اور 30اکتوبر 2026کو نئی دہلی میں ’موافقتی حکمت عملیوں کے ذریعے ساحلی علاقوں کی لچک کو مضبوط بنانے‘ کے موضوع پر ایک قومی ورکشاپ کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ ورکشاپ گرین کلائمیٹ فنڈ(جی سی ایف)کے پروجیکٹ ’ہندوستان کی ساحلی برادریوں کی ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانا‘(جی سی ایف – ای سی آر آئی سی سی)کے تحت منعقد کی جا رہی ہے۔ اس پروجیکٹ  کا مقصد مینگرووز، ساحلی آبی طاس، سمندری گھاس، نمکین دلدلی علاقوں اور مرجانی چٹانوں سمیت اہم ساحلی ماحولیاتی نظاموں کی بحالی کے ساتھ ساتھ انتہائی غیر محفوظ علاقوں میں رہنے والی برادریوں کے ذرائع معاش کو مضبوط بنانا ہے۔

افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کے سکریٹری جناب نریندر بھوشن نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے مقرر کردہ ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ لوگوں کے ذرائع معاش کا تحفظ کرتے ہوئے ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے ساحلی علاقوں کو محفوظ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط کیا جائے۔ انہوں نے ساحلی خطوں کو درپیش ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور حیاتیاتی تنوع، ذرائع معاش اور ساحلی تحفظ کے لیے مینگرووز، سمندری گھاس، نمکین دلدلی علاقوں اور مرجانی چٹانوں کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261029175645_c2f8dd.jpg

سکریٹری  موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان نے ساحلی منصوبہ بندی کے لیے سائنسی بنیادوں کو نمایاں طور پر مضبوط کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے ساحلی خطِ ساحل میں تبدیلیوں کا جائزہ، خطرات سے متعلق حد بندی کے نقشے، ساحلی خطرات کے تئیں حساسیت کا جائزہ اور ماحولیاتی نظام سے متعلق معلومات تیار کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اگلا کام یہ یقینی بنانا ہے کہ ان سائنسی شواہد کو محض رپورٹوں اور نقشوں تک محدود رکھنے کے بجائے ریاستی، ضلعی اور مقامی سطح پر حقیقی منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوں میں استعمال کیا جائے۔ جناب بھوشن نے بتایا کہ قومی ساحلی مشن(نیشنل کوسٹل مشن)،(جی  سی ایف- ای سی آر آئی سی سی) پروجیکٹ کے نتائج کی بنیاد پر ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے اور موافقتی اقدامات کو فروغ دینے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔

ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کی سینئر اقتصادی مشیر محترمہ راج شری رے نے خطبئہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے قومی اور ریاستی سطح کے نقطۂ نظر، سائنسی معلومات، عمل درآمد کے تجربات اور مالی اعانت کے طریقوں کو یکجا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ آندھرا پردیش، مہاراشٹر اور اوڈیشہ میں جی  سی ایف- ای سی آر آئی سی سی کے تحت ہونے والی پیش رفت اور اس کے اقدامات کو دیگر علاقوں میں دہرانے اور وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کے امکانات کو اجاگر کیا گیا۔ جی  سی ایف- ای سی آر آئی سی سی پروجیکٹ کے تحت کلائمیٹ چیمپئن ماڈل بھی پیش کیا گیا، جس میں زیادہ تر ساحلی برادریوں سے تعلق رکھنے والی خواتین، جنہیں ’’ای سی آر آئی سی سی دیدی‘‘ کہا جاتا ہے، ماحولیاتی اقدامات سے متعلق تکنیکی معلومات کو مقامی برادریوں تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ اس ماڈل کو دیگر علاقوں میں بھی اپنانے کی صلاحیت کے حامل اقدام کے طور پر پیش کیا گیا۔ ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ تنوی گرگ نے ساحلی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اشتراک سے ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے اور ان کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے میں قومی ساحلی مشن کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی ہندوستان میں ریزیڈنٹ نمائندہ ڈاکٹر انجیلا لوسیگی نے اس بات کو اجاگر کیا کہ ساحلی ماحولیاتی نظاموں کی بحالی، ذرائع معاش کو بہتر بنانے، خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کے کاروباری اداروں کی ترقی میں معاونت فراہم کرکے انہیں خود کفیل بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نیچر کنزروینسی انڈیا(ٹی این سی) کے عبوری منیجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر سشیل سیگل نے ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے معلومات کے تبادلے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے آزمودہ بہترین طریقوں اور تبدیلی لانے والے نقطۂ نظر کو مرکزی دھارے میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے عملی حل تیار کرنے میں مدد ملتی ہے جنہیں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261029175650_d94237.jpg

اس ورکشاپ میں تقریباً 150 شرکاء نے حصہ لیا، جن میں ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت(ایم او ای ایف سی سی) اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر افسران، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی)اور نیچر کنزروینسی انڈیا (ٹی این سی) کے سینئر نمائندے، ساحلی زون مینجمنٹ اتھارٹیز، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے محکمۂ جنگلات، ممتاز تحقیقی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، مالیاتی اداروں اور فلاحی تنظیموں کے نمائندے شامل تھے۔

ورکشاپ سے سامنے آنے والی سفارشات سے توقع ہے کہ وہ ہندوستان میں ساحلی علاقوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے محفوظ بنانے اور ان کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت کو مضبوط کرنے کے لیے وسیع رہنما اصول وضع کرنے میں معاون ثابت ہوں گی۔ ان سفارشات میں موجودہ قومی پالیسی اور پروگرام کے فریم ورک، ریاستی ترجیحات اور عمل درآمد کے تجربات کو مدنظر رکھا جائے گا۔ یہ اقدامات وزیر اعظم کے اس وژن سے ہم آہنگ ہیں جس کے تحت نیلی معیشت اور سمندری معیشت کو فروغ دینا ہے، جس کی علامت ہندوستان کے قومی پرچم میں موجود نیلے رنگ کا چکر ہے۔

***

) ش ح – م م ع-ت ا)

U.No. 6917


(ریلیز آئی ڈی: 2330184) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil