ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی  وزارت کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ مونا کندھر نے رائے والا، اتراکھنڈ میں واقع منشیات  سےبحالی  کےسرکاری مرکز کا دورہ کیا


اس مرکز میں دیکھ بھال، احترام اور وقار کے ساتھ بحالی کو فروغ دیا جا رہا ہے

طبی نگہداشت، مشاورت، صحت و تندرستی کی سرگرمیوں اور زیرِ علاج افراد کی شرکت کو یکجا کرتے ہوئے ایک جامع اور انسانی وقار پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ دیا جا رہا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 5:03PM by PIB Delhi

اتراکھنڈ کے رائے والا میں واقع منشیات سے بحالی کے سرکاری  مرکز، طبی نگہداشت، پیشہ ورانہ مشاورت، روزمرہ کے منظم معمولات اور صحت و تندرستی سے متعلق سرگرمیوں کو یکجا کرکے منشیات کی لت سے نجات حاصل کرنے کے لیے ایک جامع اور انسانی وقار پر مبنی طریقۂ کار کو فروغ دے رہا ہے، تاکہ مرکز میں زیرِ علاج افراد کو صحت یابی کے سفر میں مدد فراہم کی جا سکے۔

حکومتِ ہند کی وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کی ایڈیشنل سکریٹری محترمہ مونا کے کندھر نے سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسز (ایس پی وائی ایم )کے زیرِ انتظام اس مرکز کا دورہ کیا اور وہاں زیرِ علاج افراد سے بات چیت کی، تاکہ ان کے تجربات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مرکز میں نافذ کیے جا رہے بحالی پروگرام کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔

دورے کے دوران محترمہ کندھر نے کہا کہ وہ منشیات کی لت سے بحالی کے پروگراموں میں یوگا اور نیچروپیتھی سمیت مناسب روایتی طریقہ ہائے صحت و تندرستی کو شامل کرنے کے امکانات تلاش کرنے کے لیے آیوش کی وزارت کے ساتھ رابطہ قائم کرنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رائے والا مرکز میں حاصل ہونے والا تجربہ، وزارتِ آیوش کے اشتراک سے آزمائشی منصوبوں کے امکانات تلاش کرنے کے لیے نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ اقدام کے تحت اس بات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے کہ مناسب طبی نگرانی میں یوگا، مراقبہ، نیچروپیتھی اور صحت و تندرستی کے دیگر موزوں طریقے، شواہد پر مبنی طبی علاج اور پیشہ ورانہ مشاورت کے معاون کیسے بن سکتے ہیں۔

ایڈیشنل سکریٹری نے کہا کہ مجوزہ پروجیکٹوں کے لیے منظم منصوبہ بندی، دستاویز بندی اور جائزے کی ضرورت ہوگی، تاکہ ان اقدامات کی حفاظت، قابلِ قبول ہونے اور ممکنہ فوائد کا اندازہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طبی ماہرین، آیوش کے معالجین، ذہنی صحت کے ماہرین، تحقیقی ادارے اور بحالی کے ماہرین موزوں طریقۂ کار اور معیار کے ضوابط تیار کرنے میں تعاون کر سکتے ہیں۔

محترمہ کندھر نے کہا کہ اس طرح کے جائزوں کے نتائج اور متعلقہ وزارتوں کی منظوری سے مشروط، کامیاب طریقوں کو ملک بھر میں حکومت کے تعاون سے چلنے والے دیگر منشیات سے بحالی کے مراکز میں اپنانے کے لیے زیرِ غور لایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت یابی ایک تدریجی عمل ہے، جو چھوٹے لیکن اہم اقدامات کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ ان میں صحت مند معمولات اپنانا، کھل کر بات چیت کرنا، خود اعتمادی بحال کرنا اور خاندان و برادری کی زندگی میں دوبارہ شامل ہونے کی تیاری کرنا شامل ہیں۔

ایڈیشنل سکریٹری نے کہا کہ رائے والا کے منشیات سے بحالی کے سرکاری مرکز کا تجربہ اس بات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ پیشہ ورانہ علاج، نفسیاتی معاونت، صحت و تندرستی کی موزوں سرگرمیاں اور ہمدردانہ نگہداشت کس طرح مل کر صحت یابی کے عمل میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ محتاط دستاویز بندی، سائنسی جائزے اور ادارہ جاتی تعاون کے ذریعے رائے والا میں کیے جانے والے اقدامات، ہندوستان بھر میں منشیات کی لت سے بحالی کی خدمات کو مضبوط بنانے کے لیے وسیع تر تجربات اور معلومات کے حصول میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

محترمہ مونا نے کہا کہ ہر شخص نگہداشت، احترام، صبر اور اپنی زندگی کو نئے سرے سے سنوارنے کا موقع پانے کا حق دار ہے۔

محترمہ مونا کندھر نے مرکز میں زیرِ علاج افراد کے تجربات سنے اور رائے والا مرکز میں کیے جا رہے اقدامات کا جائزہ لیا۔

محترمہ کندھر نے شفاف ادارہ جاتی طریقۂ کار، اہل پیشہ ور افراد، شکایات کے مؤثر ازالے کے نظام اور بدسلوکی سے تحفظ کے انتظامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحالی مراکز میں محفوظ، پیشہ ورانہ اور انسانی ہمدردی پر مبنی نگہداشت فراہم کی جانی چاہیے، تاکہ علاج کے لیے آنے والے افراد کو تشدد، دھمکی اور تذلیل سے محفوظ رکھا جا سکے۔

محترمہ کندھر نے آیوش  کی وزارت کے ساتھ رابطے کی تجویز پیش کی، جس سے بحالی کی خدمات میں صحت و تندرستی کے مناسب روایتی طریقوں کو شامل کرنے کے حوالے سے تبادلۂ خیال کی راہیں کھل سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروگرام کی دستاویز بندی اور محتاط منصوبہ بندی کے تحت تیار کردہ آزمائشی منصوبوں کے ذریعے منتخب اقدامات کا جائزہ لینے سے متعلقہ وزارتوں کو ان طریقوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے کے امکان کا تعین کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح کا تعاون مشترکہ رہنما اصولوں، عملے کی تربیت، زیرِ علاج افراد کی شرکت اور معیار کے ضوابط کی تیاری میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے، جبکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ شواہد پر مبنی طبی نگہداشت علاج کا بنیادی حصہ برقرار رہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261029170423_45213b.jpg

سوسائٹی فار پروموشن آف یوتھ اینڈ ماسز(ایس پی وائی ایم) کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ مرکز میں زیرِ علاج افراد نے روزمرہ کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے اپنے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ کس طرح منظم معمولات، صحت و تندرستی سے متعلق سرگرمیاں اور معاون ماحول ان کی صحت یابی کے سفر کا حصہ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بات چیت سے یہ اہمیت اجاگر ہوئی کہ منشیات پر انحصار کے ساتھ ساتھ صحت یابی سے وابستہ جسمانی، نفسیاتی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹنا بھی ضروری ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261029170430_52bca5.jpg

ایس پی وائی ایم  کے عہدیدار نے بتایا کہ مرکز میں بحالی کے مجموعی ماحول کے حصے کے طور پر یوگا، یوگا نِدرا، ایکیوپریشر، مالش، مٹی کے ذریعے علاج اور ایپسوم سالٹ تھراپی جیسی صحت و تندرستی کی سرگرمیاں شامل ہیں۔ عہدیدار نے کہا کہ ان سرگرمیوں سے زیرِ علاج افراد کو ذہنی دباؤ پر قابو پانے، صحت مند معمولات برقرار رکھنے اور مجموعی طور پر بہتر محسوس کرنے میں مدد ملی ہے۔

عہدیدار نے کہا کہ ان طریقوں کا مقصد مناسب طبی علاج، پیشہ ورانہ مشاورت اور طبی نگرانی میں منشیات سے نجات  حاصل کرنے کے عمل کا متبادل بننا نہیں، بلکہ ان کی معاونت کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صحت یابی میں مدد دینے کے حوالے سے ان طریقوں کی حفاظت اور مؤثریت کا تعین کرنے کے لیے منظم جائزے اور جانچ کی ضرورت ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس طریقۂ کار کا مقصد پیشہ ورانہ معاونت کو ایسی منظم سرگرمیوں کے ساتھ یکجا کرکے مرکز میں زیرِ علاج افراد کی مجموعی صحت و تندرستی کو بہتر بنانا ہے، جو صحت مند عادات، جذباتی استقامت اور خود اعتمادی کی بحالی کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261029170437_92d3ee.jpg

عہدیدار نے بتایا کہ رائے والا مرکز میں زیرِ علاج افراد کو روزمرہ کے معمولات میں حصہ لینے، اپنی پریشانیوں کا اظہار کرنے اور اجتماعی سرگرمیوں میں تعاون کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے، دیگر زیرِ علاج افراد کی مدد کرنے اور مشترکہ ذمہ داریاں نبھانے میں حصہ لینے سے ان میں احساسِ وابستگی اور باہمی احترام کو فروغ دینے میں مدد ملتی ہے۔

ایس پی وائی ایم کے عہدیدار نے بتایا کہ مرکز میں زیرِ علاج افراد کو روزمرہ کے معمولات، کھانےپینے، مینیو اور تفریحی سرگرمیوں کے بارے میں اپنی پسند کا اظہار کرنے کی بھی ترغیب دی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مل جل کر کھانا کھانے اور اجتماعی طور پر بات چیت کرنے سے تعلقات استوار کرنے اور برادری کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں۔

عہدیدار نے مزید کہا کہ اس طریقۂ کار میں اس بات کو تسلیم کیا گیا ہے کہ بحالی کا عمل انفرادی وقار کے احترام، صبر وبرداشت اورہمدردانہ نگہداشت پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بحالی کے عمل میں زیرِ علاج افراد کو اپنی رائے دینے کا موقع فراہم کرنے سے ایک ایسا معاون ماحول تشکیل پاتا ہے جو صحت یابی کے عمل میں بامعنی شرکت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261029170452_dd5cad.jpg

رائے والا مرکز کا تجربہ اس بات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتا ہے کہ کس طرح طبی علاج، مشاورت، صحت و تندرستی سے متعلق سرگرمیوں اور زیرِ علاج افراد کی شرکت کو ایک منظم بحالی پروگرام کے تحت یکجا کیا جا سکتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261029170500_b10e42.jpg

ایسی خدمات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے انفرادی ضروریات کے مطابق بحالی کے منصوبے، مرکز میں زیرِ علاج افراد سے باقاعدگی سے آرا حاصل کرنا، شکایات کے ازالے کے خفیہ طریقۂ کار، اہلِ خانہ کی زیادہ سے زیادہ شمولیت، مرکز سے رخصت ہونے کی منصوبہ بندی، برادری میں دوبارہ انضمام اور مرکز سے فارغ ہونے کے بعد مسلسل معاونت جیسے اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں۔ عملے کو پیشہ ورانہ، ہمدردانہ اور محفوظ نگہداشت فراہم کرنے کے لیے تربیت دینا بھی اہم ہوگا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261029170509_16d4d9.jpg

منظم نگرانی اور آزادانہ جائزے کے ذریعے علاج میں شرکت، نفسیاتی صحت و تندرستی اور طویل مدتی صحت یابی کے نتائج کا اندازہ لگانے میں مدد مل سکتی ہے۔ صحت و تندرستی سے متعلق مخصوص اقدامات یا بحالی کے طریقوں کو وسیع پیمانے پر اپنانے کی سفارش کرنے سے پہلے ایسے شواہد کا حصول ضروری ہوگا۔

***

) ش ح – م م ع-ت ا)

U.No.6911


(ریلیز آئی ڈی: 2330145) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil