سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

ڈی ایس ٹی کا ای ایس ٹی آئی سی سیشن میں خود مختار نظاموں، طبعی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے ذریعے سائنس اور اختراعات میں  رونما ہونے والی تبدیلیوں پر تبادلۂ خیال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 OCT 2026 12:16PM by PIB Delhi

نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقدہ ایمرجنگ سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن کانکلیو (ایسٹک) 2026 کے دوران خود مختار نظاموں، طبعی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس سے متعلق اجلاس میں ممتاز ماہرین نے اس بات پر غور و خوض کیا کہ مستقبل قریب میں یہ شعبے سائنسی تحقیق اور تکنیکی اختراعات کو کس طرح تبدیل کریں گے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے (ڈی ایس ٹی) کے سکریٹری پروفیسر امیش وی واگھمارے نے اجلاس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ ’’خود مختار نظاموں، طبعی مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کو فروغ دینے اور سائنسی تصورات کو ایسے حل میں تبدیل کرنے کے لیے، جو معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کریں، صنعت، تعلیمی اداروں، محققین، نئے کاروباری اداروں اور ٹیکنالوجی کے صارفین کے درمیان تعاون نہایت اہم ہے۔‘‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجی کے شعبوں میں پیش رفت کے لیے صارفین، ماہرینِ تعلیم، محققین اور صنعت کے نمائندوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیق کو ایسے عملی استعمالات میں تبدیل کرنے کے لیے ان سب کے درمیان باہمی رابطہ خاص طور پر اہم ہے، جن سے معاشرے کو فائدہ پہنچ سکے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے محکمے کے بین الشعبہ جاتی سائبر-طبعی نظاموں سے متعلق قومی مشن کو اجاگر کرتے ہوئے، پروفیسر واگھمارے نے کہا کہ ملک بھر کے 25 ممتاز تعلیمی اداروں میں ٹیکنالوجی کے اختراعی مراکز قائم کیے گئے ہیں۔ یہ مراکز تعلیمی اداروں، صنعت اور نئے کاروباری اداروں کے درمیان رابطے اور تعاون کو فروغ دیتے ہیں، تاکہ تجربہ گاہوں میں سامنے آنے والے خیالات کو عملی شکل دے کر بازار تک پہنچایا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ اس مشن کا پہلا مرحلہ دسمبر 2027 میں مکمل ہونا طے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں مقررین اور شرکاء کے درمیان ہونے والی گفتگو اور ان کی آرا سے مشن کے دوسرے مرحلے کے منصوبوں کی تشکیل میں مدد ملے گی۔

اس اجلاس میں کلیدی خطاب، مدعو ماہرین کے خطابات اور ایک پینل مباحثہ شامل تھا، جس میں صنعت، تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں اور نئے کاروباری اداروں کے نمائندوں نے اپنے خیالات پیش کیے۔ پروفیسر واگھمارے نے مختلف متعلقہ فریقوں کے تجربات اور بصیرت سے استفادہ کرنے کے لیے فعال شرکت اور تبادلۂ خیال کی حوصلہ افزائی کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر ابھئے کرندیکر نے کہا کہ طبعی مصنوعی ذہانت محض مصنوعی ذہانت کا چیلنج نہیں، بلکہ نظامی انجینئرنگ کا چیلنج بھی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ذہین طبعی نظاموں کی کامیاب کارکردگی کا انحصار کئی باہم مربوط اجزا پر ہوتا ہے، جن میں قابلِ اعتماد حسّاس آلات، مؤثر محرکات، حقیقی وقت میں حساب و عمل کاری، مضبوط نظامِ ضبط کے الگوریتھم، کم تاخیر والی مواصلات اور توانائی کی بچت کرنے والے ہارڈویئر شامل ہیں۔

پروفیسر کرندیکر نے کہا کہ طبعی مصنوعی ذہانت کے نظام مکالماتی مصنوعی ذہانت کے آلات سے مختلف ہوتے ہیں، کیونکہ کارخانوں میں کام کرنے والے روبوٹس یا خود مختار گاڑیوں سے متعلق غلطیوں کے فوری طور پر حقیقی دنیا میں فیزیکل نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس لیے اس شعبے میں تحقیق اور ترقی کے دوران قابلِ اعتماد کارکردگی، تصدیق، تحفظ، سلامتی اور اعتماد کو مرکزی اہمیت حاصل رہنی چاہیے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارت کو نظامی انجینئرنگ، الیکٹرانکس، صنعت کاری، ایمبیڈڈ نظاموں، ڈیزائن، ٹیلی مواصلات اور سافٹ ویئر کے شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر خود مختار نظام تیار کرنے کا موقع حاصل ہے۔ روبوٹکس، خود مختار گاڑیوں اور دیگر سائبر-طبعی نظاموں میں پہلے سے موجود صلاحیتوں کے ساتھ ذہانت اور جدید الگوریتھم کو یکجا کرنے سے زیادہ قابلِ اعتماد، محفوظ اور بھروسے مند خود مختار ٹیکنالوجیز تیار کی جا سکتی ہیں۔

پروفیسر کرندیکر نے فیزیکل اے آئی کی بین الشعبہ جاتی نوعیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ اس شعبے میں پیش رفت کے لیے ایمبیڈڈ نظاموں، مصنوعی ذہانت کے ماڈلز اور الگوریتھم پر کام کرنے والے ماہرین کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود مختار نظاموں کے شعبے میں تحقیق کے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے یہ باہمی تعاون اہم ثابت ہوگا۔

ایک مخصوص قومی پہل کے امکان کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر کرندیکر نے بتایا کہ متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے دوران طبعی مصنوعی ذہانت کے لیے ایک مخصوص مشن شروع کرنے کی تجویز پر غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بین الشعبہ جاتی سائبر-طبعی نظاموں سے متعلق قومی مشن کے اگلے مرحلے میں اس شعبے کو شامل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، جس کے لیے موجودہ مشن کے تحت فروغ پانے والی صلاحیتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

یہ اجلاس ایسٹک 2026 کا حصہ تھا، جس کا انعقاد 27 سے 29 اکتوبر تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جا رہا ہے۔ اس کانکلیو میں سائنس، ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعت سے وابستہ متعلقہ فریق ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں، تاکہ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اختراعات پر تبادلۂ خیال کیا جا سکے۔

سیشن 6 میں شرکت کرنے والی دیگر اہم شخصیات میں ایڈورب ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کے چیئرمین جناب جلال اے دانی؛ آئی آئی ٹی حیدرآباد کی پروفیسر پی راج لکشمی؛ آئی آئی ٹی دہلی کے جناب آشوتوش دت شرما اور ڈاکٹر روہن پال؛ آئی آئی ٹی اندور کے پروفیسر سنتوش کے وشوکرما؛ مائیکروسافٹ انڈیا کی سابق چیف ٹیکنالوجی افسر ڈاکٹر روہنی سریواتسوا؛ روبوٹکس ریسرچ سینٹر اور کوہلی سینٹر فار انٹیلی جنٹ سسٹمز کے پروفیسر کے مادھو کرشنا؛ ایکس ٹیرا روبوٹکس کے جناب آدتیہ پرتاپ راجوت؛ ڈی ٹاؤن روبوٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے جناب مانس اپادھیائے اور اوٹونومی ڈاٹ آئی او کے جناب ریتوکر وجے شامل تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔رک)

U. No.6893


(ریلیز آئی ڈی: 2329954) وزیٹر کاؤنٹر : 10