پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 4:42PM by PIB Delhi
جل شکتی کی وزارت کے پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ نے آج کثیر لسانی ’سوجل گرام سمواد‘ کے بارہویں ایڈیشن کا اہتمام کیا۔ اس پروگرام نے گرام پنچایت کے نمائندوں اور مقامی برادریوں کے ساتھ دیہی پینے کے پانی کے نظام کی دیکھ بھال اور انتظام کے بارے میں براہِ راست تبادلۂ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس سے جل جیون مشن 2.0 کے تحت پانی کے انتظام میں برادریوں کی قیادت کو فروغ دینے کے حکومت کے عزم کو مزید تقویت ملتی ہے۔
اس کی صدارت محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے کی۔ اس موقع پر قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون اور محکمے کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

اپنے افتتاحی خطاب میں محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے سکریٹری جناب اشوک کے کے مینا نے 73ویں آئینی ترمیم کے منصوبے کے مطابق مقامی سطح پر پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی خدمات کے انتظام میں گرام پنچایتوں کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے گرام پنچایتوں کو مضبوط بنانے کی اہمیت اجاگر کی تاکہ وہ دیکھ بھال اور انتظام کی ذمہ داریاں سنبھال سکیں، ’جل سیوا آکلن‘ اور ’سوچھ سیوا آکلن‘ کے ذریعے باقاعدگی سے جائزہ لے سکیں، خدمات میں موجود خامیوں کی نشاندہی کر سکیں اور خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لیے عملی منصوبے تیار کر سکیں۔
انہوں نے پنچایتوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ گاؤں کے آبی فراہمی کے نظام کو طویل مدت تک پائیدار بنانے کے لیے سولہویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس کا مؤثر استعمال کریں اور صارفین سے فیس وصول کرنے کے طریقۂ کار کو فروغ دیں۔ انہوں نے بامعنی مکالمے اور دیہی برادریوں کے درمیان باہمی سیکھنے کے عمل کو آسان بنانے کے لیے مقامی زبانوں میں اس مکالمے کے انعقاد کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
سوجل گرام سمواد کے بارہویں ایڈیشن میں پانچ گرام پنچایتوں کے صدر مقامات والے گاؤں میں زمینی سطح پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس ورچوئل ڈائیلاگ کے پروگرام میں گرام پنچایتوں کے نمائندوں، گاؤں کے پانی اور صفائی ستھرائی کی کمیٹیوں کے اراکین، مقامی برادریوں کے افراد، جل سہیا، آنگن واڑی کارکنوں، طلبہ، خود امدادی گروپوں اور گرام پنچایتوں کے محاذی کارکنوں سمیت مختلف طبقات کے افراد نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ جل جیون مشن کے ریاستی مشن ڈائریکٹرز، ضلع کلکٹروں، ضلع مجسٹریٹوں، ڈپٹی کمشنروں، ضلع آبی اور صفائی ستھرائی مشن کے افسران اور ریاستوں کے سینئر افسران بھی شریک ہوئے۔ کثیر لسانی مکالمے میں دیہی علاقوں میں پانی کی پائیدار خدمات کی فراہمی کے اہم پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی گئی، جن میں آبی فراہمی کی اسکیموں کا بلا تعطل چلنا، مقامی آپریٹروں کی ہنرمندی میں اضافہ، پانی کے معیار اور جراثیم سے پاک کرنے کے اقدامات، دیکھ بھال اور انتظام میں برادریوں کی شرکت، صارفین سے فیس وصول کرنے اور مختلف اسکیموں کو باہم مربوط کرنے کے ذریعے مالی پائیداری، پینے کے پانی کے ذرائع کا تحفظ، جل ارپن اور پینے کے پانی کی قابلِ اعتماد خدمات کے صحت، تعلیم، خواتین کو بااختیار بنانے اور مقامی روزگار پر وسیع تر اثرات شامل ہیں۔
گرام پنچایتوں کے تاثرات
گرام پنچایت: گھلیان، ضلع کانگڑا، ہماچل پردیش
اس بات چیت کے دوران گرام پنچایت گھالیان کے نمائندوں نے ہندی میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جل جیون مشن کے نفاذ سے پہلے گاؤں کے لوگ اپنی پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ تر بورویلوں اور پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرتے تھے۔ آج دشوار گزار پہاڑی علاقے اور مختلف بلندیوں کے باوجود گرام پنچایت کے تحت آنے والے تمام چھ گاؤں میں باقاعدگی سے پینے کے پانی کی فراہمی ہو رہی ہے۔ مقامی برادری کے افراد نے بتایا کہ پانی کے معیار کی نگرانی کے لیے تربیت یافتہ خواتین فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے ماہ میں دو مرتبہ پانی کی جانچ کرتی ہیں۔ اس جانچ میں پی ایچ، گدلاپن، ٹی ڈی ایس، سختی اور کلورین جیسے پیمانوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

کانگڑا کے ڈپٹی کمشنر جناب ہیم راج بیروا اور ہماچل پردیش کے ریاستی آبی و صفائی ستھرائی مشن نے ریاست میں پینے کے پانی کی ہمہ گیر فراہمی کے حصول کو اجاگر کیا اور پانی کے معیار کی نگرانی اور ’جل سیوا آکلن‘ کے نفاذ میں خواتین کی شرکت کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا۔

پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے محکمہ کے سکریٹری نے زور دیا کہ اگرچہ خدمات کی فراہمی اطمینان بخش طریقے سے جاری ہے، تاہم مرحلہ وار صلاحیت سازی اور ادارہ جاتی استحکام کے ذریعے دیکھ بھال اور انتظام کی زیادہ ذمہ داریاں بتدریج گرام پنچایتوں کو سونپی جانی چاہئیں۔ انہوں نے صارفین سے فیس وصول کرنے، مقامی سطح پر مالی انتظام اور دیہی آبی اثاثوں پر برادریوں کی ملکیت کو یقینی بنانے کے لیے نظام قائم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
گرام پنچایت: اٹور، ضلع: مغربی سنگھ بھوم، جھارکھنڈ
اس بات چیت کےدوران گرام پنچایت کے نمائندوں اور مقامی برادری کے افراد نے ہندی اور ہو، دونوں زبانوں میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جل جیون مشن سے پہلے خواتین اور لڑکیوں کو ہینڈ پمپوں، کنوؤں، ندی نالوں اور پانی کے دیگر روایتی ذرائع سے پانی لانے میں خاصا وقت صرف کرنا پڑتا تھا۔ اب گھروں میں نل کے ذریعے پانی کے کنکشن دستیاب ہونے سے پینے کا پانی جمع کرنے کی تگ ودو میں نمایاں کمی آئی ہے۔ گرام پنچایت نے بتایا کہ ہر ماہ 62 روپے صارف فیس وصول کی جا رہی ہے، جبکہ جل سہیا اور گاؤں کے پانی و صفائی ستھرائی کی کمیٹی کے اراکین ان گھرانوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں جنہوں نے ابھی تک یہ فیس ادا کرنا شروع نہیں کی ہے۔

مغربی سنگھ بھوم کے ڈپٹی کمشنر جناب منیش کمار نے بتایا کہ تمام اسکولوں اور آنگن واڑی مراکز کو نل کے ذریعے پانی کی فراہمی سے جوڑ دیا گیا ہے اور پانی کے معیار کی باقاعدگی سے جانچ کی جاتی ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ اس امنگوں والے ضلع میں پینے کے پانی کی خدمات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ضلعی معدنیاتی فاؤنڈیشن (ڈی ایم ایف) کے وسائل سے استفادہ کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ جل سہایہ کے لیے ترغیبات، سکھی سمواد پروگرام اور شکایات کے ازالے کے لیے ایک مخصوص نظام جیسی پہل بھی شروع کی گئی ہیں۔

ان کوششوں کو سراہتے ہوئے محکمۂ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کے سکریٹری نے زور دیا کہ تمام اہل گاؤں کو سب سے پہلےایک گاؤں پر مبنی اسکیموں کے ذریعے پانی کی فراہمی کے دائرے میں لایا جانا چاہیے اور پی ایم-جن من اور ڈی اے جے جی یو اے جیسی پہل کے ذریعے پانی کی فراہمی سے محروم قبائلی بستیوں پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت شراکت داری کے امکانات تلاش کرنے اور آبی ذرائع سے پھیلنے والی بیماریوں سے متاثرہ حساس علاقوں میں اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے کی تجویز بھی پیش کی۔
گرام پنچایت: اَتھل، ضلع: دادرا اورنگر حویلی، دادرا اور نگر حویلی اور دمن و دیو
گاؤں کے نمائندوں کے ساتھ ہندی میں ہونے والی بات چیت کے دوران گرام پنچایت کے نمائندوں نے پائپ کے ذریعے پانی کی فراہمی کے صحتِ عامہ اور معیارِ زندگی پر مثبت اثرات کو اجاگر کیا۔ مقامی برادری کے افراد نے بتایا کہ صاف پینے کے پانی تک بہتر رسائی سے اسہال کی بیماریوں میں کمی آئی ہے۔ خود امدادی گروپوں سے وابستہ خواتین کو فیلڈ ٹیسٹنگ کٹس کے ذریعے پانی کے معیار کی جانچ کی تربیت دی گئی ہے، جبکہ طلبہ نے بتایا کہ اسکولوں میں پینے کے پانی کی سہولتیں بہتر ہوئی ہیں۔

ضلع پنچایت افسر جناب پنکج سنگھ پرمار نے بتایا کہ دیہی علاقوں میں پانی کی فراہمی کی خدمات کی نگرانی کو بہتر بنانے کے لیے ایس سی اے ڈی اے پر مبنی نظام سمیت ڈیجیٹل نگرانی کے نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تمام گھرانوں، اسکولوں، آنگن واڑی مراکز اور عوامی اداروں کو پانی کی فراہمی سے جوڑ دیا گیا ہے اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقے نے ’ہر گھر جل‘ کا اعلان کر دیا ہے۔

قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر نے ضلع انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ آبی اثاثوں کو باضابطہ طور پر گرام پنچایتوں کے حوالے کرنے کے لیے ’جل ارپن‘ کو فروغ دے اور پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی مقامی سطح پر منصوبہ بندی اور انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے ’ای-گرام سوراج‘ جیسے پلیٹ فارم سے استفادہ کرے۔
گرام پنچایت: سیلہاک، ضلع: کھاوزول، میزورم
اس تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے نمائندوں نے میزو زبان میں بتایا کہ جل جیون مشن سے پہلے گاؤں کے لوگ روزمرہ کی پینے کے پانی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے چشموں اور ندی نالوں پر انحصار کرتے تھے۔ اب گھروں میں نل کے کنکشن دستیاب ہونے سے صاف پینے کے پانی تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ گاؤں کے نمائندوں نے بتایا کہ ہر گھرانہ صارف فیس کے طور پر ماہانہ 150 روپے ادا کرتا ہے۔ مقامی برادری کی بھرپور شرکت سے یہ فیس باقاعدگی سے جمع کی جاتی ہے اور اسے دیکھ بھال و انتظام کی سرگرمیوں پر خرچ کیا جاتا ہے۔
گاؤں کے نمائندوں نے بتایا کہ آبی فراہمی کے نظام کو چلانے اور اس کی دیکھ بھال کی بنیادی ذمہ داری مقامی برادری ادا کرتی ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر محکمہ تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔

قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے زور دیا کہ پینے کے پانی کا بنیادی ڈھانچہ اور آبی ذرائع برادری کے قیمتی اثاثے ہیں اور ان کا تحفظ اجتماعی ذمہ داری کے طور پر جاری رہنا چاہیے۔ ضلع حکام کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ تمام گاؤں میں آبی ذرائع کے تحفظ، صارفین سے فیس کی وصولی اور مقامی برادری کی قیادت میں دیکھ بھال و انتظام کے طریقوں کو فروغ دیں۔
گرام پنچایت: ناتھا نیو ولیج، ضلع: زونہیبوٹو، ناگالینڈ
اس تبادلۂ خیال کے دوران گاؤں کے نمائندوں نے انگامی زبان میں بتایا کہ گاؤں نے جل جیون مشن کے تحت ثقلی نظام پر مبنی آبی فراہمی کی اسکیم کے ذریعے تمام گھرانوں کو نل کے کنکشن فراہم کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔ مقامی برادری کے افراد نے صاف پینے کے پانی تک رسائی بہتر بنانے میں مرکزی اور ریاستی اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی مدد کا اعتراف کیا۔ اسکیم کے فوائد اجاگر کرتے ہوئے گاؤں والوں نے پانی کی پمپنگ کے نظام، بجلی کی فراہمی میں تعطل اور دور دراز علاقوں میں آلات کی دیکھ بھال سے متعلق چیلنجوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ گفتگو میں آبی فراہمی کے نظام کی ضروریات کی نشاندہی اور اس میں بہتری کی منصوبہ بندی کے لیے گاؤں کی کونسل اور مقامی اداروں کی فعال شرکت کو اجاگر کیا گیا۔ مقامی برادری کے افراد نے پانی کے معیار کی باقاعدہ نگرانی اور مقامی سطح پر پانی کی جانچ کے انتظامات کو مسلسل برقرار رکھنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

زونہیبوٹو کے ضلع کلکٹر بی ہینوک بوچم نے بتایا کہ پانی اور صفائی ستھرائی کی کمیٹی فعال کردار ادا کر رہی ہے اور تمام اقدامات خود مقامی برادری کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ کے لیے گاؤں والوں نے آبی ذخائر کے بالائی علاقوں میں بڑے پیمانے پر شجرکاری بھی کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آبی ذرائع کے تحفظ اور ان کی بحالی کے لیے مقامی برادری کی اجتماعی کوششوں سے آبی تحفظ کو نمایاں طور پر تقویت ملی ہے اور گاؤں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔

گاؤں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر نے زور دیا کہ جل جیون مشن کے تحت تعمیر کیے گئے بنیادی ڈھانچے کے ساتھ آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی ضروری ہیں، تاکہ آئندہ 25 سے 30 برسوں تک پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ ضلع انتظامیہ کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ آبی ذرائع کے تحفظ اور ان کی بحالی سے متعلق سرگرمیوں کو گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں میں شامل کرے اور آبی ذرائع کی بحالی و حفاظت کے لیے دستیاب وسائل کو یکجا کرکے استعمال کرے۔
اپنے اختتامی خطاب میں قومی جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے اس بات کا اعادہ کیا کہ گرام پنچایتوں کو بااختیار بنانا جل جیون مشن 2.0 کی طویل مدتی کامیابی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پانی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری کے ساتھ آبی ذرائع کے پائیدار تحفظ، مقامی منصوبہ بندی، مختلف محکموں کی اسکیموں کے باہمی تال میل اور دستیاب مالی وسائل کے مؤثر استعمال پر بھی یکساں توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے زور دیا کہ گرام پنچایتوں اور ضلع انتظامیہ کو وی بی-جی رام جی، مالیاتی کمیشن کی گرانٹس، ریاستی مالی اعانت سے چلنے والے پروگراموں اور دیگر متعلقہ اسکیموں کے تحت دستیاب وسائل کو یکجا کرکے مربوط منصوبے تیار کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ وسائل کے اس باہمی تال میل سے آبی ذرائع کو مضبوط بنانے، پانی کے تحفظ، روایتی آبی ذخائر کی بحالی، گاؤں میں پانی کی فراہمی کے نظام کی دیکھ بھال و انتظام اور صفائی ستھرائی کی خدمات کی فراہمی میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنے اور کوششوں کی تکرار سے بچنے کے لیے گرام پنچایت ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ان وسائل کے مربوط استعمال کو یقینی بنائیں۔
آئندہ نسلوں کے لیے پینے کے پانی کے ذرائع کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے، انہوں نے ریاستوں، ضلع انتظامیہ اور گرام پنچایتوں پر زور دیا کہ وہ آبی ذرائع کے تحفظ کو ترجیح دیں، صارفین سے فیس وصول کرنے کے نظام کو ادارہ جاتی شکل دیں، مقامی برادریوں کی شرکت کو مضبوط بنائیں اور دیکھ بھال و انتظام کے پائیدار طریقوں کو فروغ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بہترین بنیادی ڈھانچہ بھی اسی وقت طویل مدتی فوائد فراہم کر سکتا ہے جب آبی ذرائع کا تحفظ کیا جائے اور ان کا پائیدار انتظام یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے گرام پنچایتوں، ضلع آبی و صفائی ستھرائی مشن، ریاستی حکام اور مقامی برادریوں کے افراد کی شرکت کو بھی سراہا، جن کے تجربات مختلف سماجی طبقات کی قیادت میں دیہی علاقوں میں پانی کے انتظام کے نظام کو مسلسل بہتر بنانے میں رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔
******
ش ح ۔ ع و ۔ م ا
UR No-6845