نوجوانوں کے امور اور کھیل کود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کھیل-کود  اور تعلیم کی وزارتوں نے کھیلوں میں دیانت داری کی اقداراسکول کی ہر جماعت تک پہنچانے کے لیے یونیسکو کے ساتھ تاریخی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے


کھیلوں میں نمایاں کامیابی  کے لئے اعلی کارکردگی کے ساتھ ساتھ دیانت داری ضروری ہے: ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 3:23PM by PIB Delhi

نوجوانوں کے امور اور کھیل-کود کے وزیر  ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ اور مرکزی وزیرتعلیم جناب پرہلاد جوشی نے بدھ کے روز کھیلوں اور تعلیم کوایک ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت پر زور دیاجسے کھیلو بھارت پالیسی 2025 میں بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں نوجوانوں کے امور ا ور کھیل-کود کی وزارت، وزارت تعلیم اور یونیسکو نے ’اسکول کی ہر جماعت میں کھیلوں کی اقدار‘ کے عنوان سے تیار کردہ تربیتی مواد کے ذریعے ہندوستان بھر  میں اسکولوں کی تمام جماعتوں میں کھیلوں کی شفافیت اور دیانت داری کی اقدار کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی ایک یادداشت کا تبادلہ کیا۔

اس مفاہمت کی یادداشت کا تبادلہ یہاں ہندوستان کی ڈوپنگ کی روک تھام سے متعلق قومی ایجنسی (ناڈا) کے زیراہتمام ’صاف ستھرے کھیل‘ سے متعلق قومی کانکلیو میں کیا گیا۔ اس پہل کا مقصد تعلیم، کھیلوں اور کلاس روم کی روزمرہ کی سرگرمیوں کے ذریعے بچوں میں احترام، دیانت داری اور منصفانہ طرز عمل جیسی اقدار کوسرایت  کرنا ہے۔ اس تربیتی مواد کے ویڈیو ماڈیول 13 ہندوستانی  زبانوں میں دستیاب کرائے جائیں گے، تاکہ ملک بھر کے طلبہ تک رسائی حاصل کی جا سکے اور کھیلوں کے ایک مضبوط اور زیادہ منصفانہ نظام کو فروغ دیا جا سکے۔

ڈاکٹر منسکھ مانڈویہ اور جناب پرہلاد جوشی کے علاوہ اس کانکلیو میں جنوبی ایشیا کے لیے یونیسکو کے علاقائی دفتر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ٹم کرٹس، وزارت تعلیم کے اسکولی تعلیم کے محکمے کے سکریٹری جناب  ٹی کے انل کمار، نوجوانوں کے امور اور کھیل-کود کے سکریٹری جناب ہری رنجن راؤ اور ناڈا کے ڈائریکٹر جنرل جناب  اننت کمار بھی موجود تھے۔ منگل کے روز یونیسکو کے ڈوپنگ کی روک تھام سے متعلق کنونشنوں کے قانونی اجلاس میں شرکت کرنے والے بین الاقوامی مندوبین نے بھی اس کانکلیو میں شرکت کی۔ ہندوستان کے بین الاقوامی نیزہ باپھنکنے والے کھلاڑی سچن یادو نے بھی اس کانکلیو میں حصہ لیا۔

ڈاکٹر مانڈویہ نے وزارت تعلیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک وزیراعظم جناب نریندر مودی کے وژن کے مطابق کھیلوں اور تعلیم کو ساتھ ساتھ لے کر چلنے کے تئیں حکومت ہند کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ کھیل-کود کے وزیر نے کہا، ’’کھیلوں میں نمایاں کامیابی کے لئے  اعلیٰ کارکردگی اور دیانت داری کا ساتھ ساتھ چلنا ضروری ہے۔ کھیلوں میں کامیابی کے لیے صلاحیت، نظم و ضبط اور سخت محنت لازمی ہیں، لیکن دیانت داری، منصفانہ طرزِ عمل اور ساکھ بھی اتنی ہی اہم ہیں۔‘‘ انہوں نے ہندوستان کے بڑھتے ہوئے کھیلوں کے عزم کے ساتھ ساتھ صاف ستھرے کھیل کے بارے میں بیداری کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں نے ایشیائی کھیلوں اور ایشیائی پیرا کھیلوں، دونوں میں ہندوستان کے چوتھے مقام پر رہنے کا بھی ذکر کیا، جو ہندوستانی کھیلوں کی بڑھتی ہوئی طاقت اور بلند حوصلے کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم، ممنوعہ ادویات کے استعمال کا مسئلہ اب بھی سنگین تشویش کا باعث ہے، جس سے نمٹنے کے لیے تعلیم،بچاؤ، جانچ اور قوانین کے نفاذ کے شعبوں میں مسلسل کوششیں درکار ہیں۔ ڈاکٹر مانڈویہ نے مزید کہا، ’’26-2025 کے دوران، ہندوستان کی ڈوپنگ کی روک تھام سے متعلق قومی ایجنسی نے 7,000 سے زیادہ جانچیں کیں اور تعلیم و بیداری کے 350 سے زائد اجلاس منعقد کیے، جن سے 27,000 شرکا ء مستفید ہوئے۔‘‘

انہوں نے کہا، ’’گاندھی نگر میں نیشنل فارینسک سائنس یونیورسٹی اور حیدرآباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹیکل ایجوکیشن اینڈ ریسرچ میں اضافی غذائی اشیا کی جانچ کی سہولتیں بھی انجانے میں ممنوعہ ادویات کے استعمال کے معاملات کی روک تھام میں مدد دیتی ہیں، جب کہ ناڈا کے اندر تحقیقات کے نظام کو عالمی طریقۂ کار کے مطابق مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ ڈوپنگ کی روک تھام سے متعلق قومی قانون اسی سال نافذ ہوا ہے اور حکومت ڈوپنگ سے متعلق سرگرمیوں کو جرم قرار دینے کی دفعات پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی تیاری بھی کر رہی ہے۔‘‘

وزیرتعلیم جناب  پرہلاد جوشی نے کہا کہ یہ مفاہمت کی یادداشت تعلیم اور کھیلوں کے درمیان طویل عرصے سے موجود خلاء  کو پر کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تعلیمی میدان میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ ہمیشہ کھیلوں میں حصہ نہیں لیتے۔ انہوں نے  زمینی سطح پر کھیلوں کے مواقع کو فروغ دینے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بہتر راستے ہموار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

جناب  جوشی نے کہا، ’’یہ مفاہمت کی یادداشت تعلیم اور کھیلوں کے درمیان تعلق کو مضبوط بنانے کی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس کی ایک طویل عرصے سے کمی محسوس کی جا رہی تھی۔ اس پہل کے ذریعے ہم اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کھیلوں کی اقدار ہر بچے کے تعلیمی تجربے کا لازمی حصہ بن جائیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ اب بچوں کو صاف ستھرے کھیل اور اس سے وابستہ اقدار کے بارے میں تعلیم دی جا رہی ہے۔ اس تربیتی مواد کے ذریعے متعارف کرائی جانے والی اقدار کو اسکول جماعتوں کی حدود سے آگے بڑھ کر معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچنا چاہیے۔ کھیلوں کی اقدار کو تعلیم کا حصہ بنا کر ہم ذمہ دار شہریوں کی پرورش کرنے اور کم عمری ہی سے منصفانہ طرز عمل اور دیانت داری کی ثقافت کو فروغ دینے میں مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

ڈاکٹر ٹم کرٹس نے اس مفاہمت کی یادداشت کو ہندوستان کے ساتھ یونیسکو کی شراکت داری کا ایک نیا باب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ذریعے لاکھوں نوجوانوں تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ ایک ایسا نمونہ پیش کر سکتی ہے جس سے دوسرے ممالک بھی سیکھ سکتے ہیں۔ آسٹریلیائی شہری ڈاکٹر کرٹس نے کہا، ’’اسکول جماعت میں موجود ہر بچہ یہ سیکھ سکتا ہے کہ قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے کھیلنے کا کیا مطلب ہے۔ اس تربیتی مواد کے ذریعے ہم تعلیم اور کھیلوں میں تین بنیادی اقدار : احترام، دیانت داری اور منصفانہ طرز عمل کو شامل کیا جا رہا ہے۔‘‘

ڈاکٹر کرٹس نے مزید کہا، ’’یہ تربیتی مواد مختلف خیالات اور عملی وسائل فراہم کرتا ہے، لیکن اساتذہ ہی ان اقدار کو عملی شکل دیتے ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اسکول کے میدان میں کیا ہوتا ہے اور بچے روزمرہ کے حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتے ہیں۔ ان اقدار کا اصل امتحان یہ ہے کہ آیا بچے اس وقت بھی منصفانہ انداز میں کھیلتے ہیں جب کوئی انہیں دیکھ نہیں رہا ہوتا۔ ہم کم عمری ہی سے بچوں میں اسی قسم کی دیانت داری کو پروان چڑھانا چاہتے ہیں۔‘‘

*****

ش ح۔ م ش۔ س ہ ب

U. No-6828

 


(ریلیز آئی ڈی: 2329581) وزیٹر کاؤنٹر : 7