پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 8:15PM by PIB Delhi
نوجوانوں اور کھیلوں کے امور کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے نے کھیل سفارت کاری کو مضبوط بنانے، نوجوان کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کے زیادہ مواقع فراہم کرنے اور کھیلوں کی ترقی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے میں بھارت-نیوزی لینڈ انڈر 20 رگبی سیریز کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ بہار کے راجگیر اسپورٹس کمپلیکس میں ’’کھیلوں کے ذریعے اتحاد کے 100 سال‘‘ کے اقدام کے تحت منعقد ہونے والی یہ سیریز بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے سو سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔
بھارت-نیوزی لینڈ انڈر 20 رگبی کی تاریخی سیریز منگل کو بہار کے راجگیر اسپورٹس کمپلیکس میں اختتام پذیر ہوئی۔ ’’کھیلوں کے ذریعے اتحاد کے 100 سال‘‘ کے اقدام کے تحت منعقد ہونے والی اس سیریز کو دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا گیا۔

اس تقریب میں بہار کے وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری، حکومتِ ہند کی نوجوانوں اور کھیلوں کے امور کی مرکزی وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے، حکومتِ بہار کی وزیر برائے کھیل اور نوجوانوں کے امور محترمہ شریاسی سنگھ، بھارت میں نیوزی لینڈ کے قائم مقام ہائی کمشنر جناب میٹ آئرس، بہار رگبی فٹ بال ایسوسی ایشن کے صدر اور بہار قانون ساز کونسل کے رکن جناب سنجے میوکھ، اور رگبی انڈیا کے صدر جناب راہل بوس نے شرکت کی۔
بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال
یہ سیریز ’’کھیلوں کے ذریعے اتحاد کے 100 سال‘‘ کے اقدام کا حصہ تھی، جو بھارت کے بین الاقوامی تعلقات اور ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے میں کھیلوں کے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ بھارت اور نیوزی لینڈ کے نوجوان کھلاڑیوں کو ایک ساتھ لانے والے اس تبادلے نے اجاگر کیا کہ کھیل کس طرح نرم سفارت کاری کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر کام کرتے ہوئے ممالک کے درمیان باہمی افہام و تفہیم، دوستی اور طویل مدتی تعاون کو فروغ دے سکتے ہیں۔
بھارت-نیوزی لینڈ انڈر 20 رگبی سیریز نے نوجوان کھلاڑیوں کو ایک ساتھ آنے کا موقع فراہم کیا
بھارت اور نیوزی لینڈ کی انڈر 20 مردوں اور خواتین کی ٹیموں کو ایک ساتھ لانے والی اس سیریز نے نوجوان کھلاڑیوں کو رگبی، مشترکہ تجربات اور ثقافتی تبادلے کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع فراہم کیا۔ پروگرام میں مشترکہ تربیتی نشستیں، ثقافتی میل جول اور رگبی سیونز کے چار انتہائی مسابقتی میچ شامل تھے۔ تاریخ میں پہلی بار دو ایسے میچ بھی کھیلے گئے جن میں دونوں ممالک کے قومی کھلاڑیوں نے مخلوط ٹیموں کی صورت میں ایک ساتھ کھیل کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں تیز رفتار اور سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے۔ کھیل کس طرح سرحدوں اور فاصلے کو مٹا سکتا ہے، اس کی اس سے بہتر مثال نہیں ہو سکتی۔

حکومتِ ہند کی نوجوانوں کے امور اور کھیلوں کی وزیر مملکت محترمہ رکشا کھڈسے نے کہا، ’’عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں بھارت کھیلوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنے روابط کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے اور اسے نرم سفارت کاری کے ایک مؤثر ذریعے کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ بھارت-نیوزی لینڈ انڈر 20 رگبی سیریز اس بات کی مثال ہے کہ کھیل کس طرح سرحدوں سے بالاتر ہوکر باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دے سکتے ہیں اور اتحاد و دوستی کے مشترکہ جذبے کے ذریعے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا سکتے ہیں۔ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر اس طرح کے تبادلے ظاہر کرتے ہیں کہ کھیلوں میں شراکت داری دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، ثقافتی مکالمے کو فروغ دینے اور مختلف ممالک کے نوجوانوں کے درمیان دیرپا روابط قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔‘‘
حکومتِ بہار کی وزیر برائے کھیل اور صنعت محترمہ شریاسی سنگھ نے کہا، ’’عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور بہار کے عزت مآب وزیر اعلیٰ جناب سمراٹ چودھری کی رہنمائی میں بہار کھیلوں کے نظام کو مضبوط بنانے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے زیادہ مواقع پیدا کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ راجگیر میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے کی مناسبت سے اس خصوصی رگبی تبادلے کی میزبانی کرنا بہار کے لیے باعثِ فخر ہے۔ کھیل لوگوں اور ثقافتوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتے ہیں۔ یہ سیریز دونوں ممالک کے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنے تجربات بانٹنے، ایک دوسرے سے سیکھنے اور دیرپا روابط قائم کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر کھیلوں میں تعاون اور ثقافتی افہام و تفہیم کو مزید تقویت ملتی ہے۔‘‘

رگبی انڈیا کے صدر جناب راہل بوس نے کہا، ’’بھارت-نیوزی لینڈ انڈر 20 رگبی سیریز محض کھیل تک محدود نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر نوجوان کھلاڑیوں کو ایک ساتھ لانا ان اقدار کی عکاسی کرتا ہے جو رگبی کو ایک خاص مقام عطا کرتی ہیں، یعنی باہمی احترام، ٹیم ورک اور دوستی۔ مخلوط ٹیموں کے میچ اس تبادلے کا ایک خاص اور بامعنی حصہ تھے، جن میں بھارت اور نیوزی لینڈ کے کھلاڑی ایک ہی ٹیم میں ساتھی بن کر کھیلے۔ ہمیں امید ہے کہ راجگیر میں قائم ہونے والے یہ روابط دیرپا ثابت ہوں گے اور رگبی انڈیا اور نیوزی لینڈ رگبی کے درمیان مستقبل میں مسلسل تعاون کی بنیاد بنیں گے۔‘‘
نیوزی لینڈ سے آنے والے وفد میں انڈر 20 مردوں کی ٹیم تاما توآ اور انڈر 20 خواتین کی ٹیم ہینے توآ شامل تھیں، جن میں ماوری برادری کے 24 نوجوان کھلاڑی شامل تھے۔ اس دورے کے ذریعے کھلاڑیوں کو بھارتی ثقافت سے روشناس ہونے اور اپنے بھارتی ہم منصبوں کے ساتھ اپنی روایات اور نقطہ ہائے نظر کا تبادلہ کرنے کا موقع ملا۔
رگبی کی ترقی کے لیے دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانا
یہ سیریز رگبی انڈیا اور نیوزی لینڈ رگبی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون کو بھی آگے بڑھاتی ہے۔ مئی 2026 میں رگبی انڈیا نے بھونیشور کے کلنگا اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ رگبی کے کوچنگ ماہرین کو مدعو کیا تھا، جہاں 35 بھارتی کوچوں کے لیے تربیتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد کوچنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور بھارت میں رگبی کے مسلسل فروغ میں مدد دینا تھا۔

بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلوں کے تعلقات کے سو سال مکمل ہونے کے موقع پر راجگیر میں منعقدہ یہ سیریز دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے، ثقافتی افہام و تفہیم کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے درمیان دیرپا روابط قائم کرنے میں کھیلوں کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کے بڑھتے ہوئے روابط میں کھیلوں کے اہم کردار کی بھی عکاسی کرتی ہے اور ظاہر کرتی ہے کہ کھیلوں کے مشترکہ تجربات کس طرح ممالک کے درمیان قربت پیدا کرنے اور عالمی کھیل برادری کو مزید مربوط بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
******
ش ح ۔ ع و ۔ م ا
UR No-6829