زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
28 OCT 2026 2:27PM by PIB Delhi
وزارتِ زراعت و کسانوں کی فلاح و بہبود اپنے دونوں محکموں کے ذریعے 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک ملک بھر میں ’کھیْت بچاؤ ابھیان – ربیع 2026‘ مہم چلا رہی ہے۔ اس مہم کا بنیادی مقصد دیہات میں بیداری پروگراموں کے ذریعے کسانوں تک جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی اور سرکاری اسکیموں سے متعلق معلومات براہِ راست پہنچانا ہے۔ اس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کو اپنانے کے ذریعے ربیع کی فصلوں کے بہتر انتظام اور زرعی پیداوار میں اضافے کے بارے میں بھی بیداری پیدا کرنا ہے۔ یہ مہم ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر کے لیے زراعت کو فروغ دینے اور کسانوں کی خوش حالی یقینی بنانے کی جانب ایک اہم پہل ہے۔
اس مہم کے تحت ’لیب سے کھیت تک‘ کے تصور کو عملی شکل دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے زرعی سائنس دان کسانوں کے کھیتوں کا دورہ کر رہے ہیں اور انہیں جدید سائنسی طریقوں، تحقیق پر مبنی معلومات اور عملی رہنمائی سے آگاہ کر رہے ہیں، تاکہ زرعی طریقوں کو بہتر بنانے اور پیداوار میں اضافہ کرنے میں مدد مل سکے۔

ملک گیر مہم کے ایک حصے کے طور پر کرشی وگیان کیندر (کے وی کے)، اجوا، دہلی بھی 22 اکتوبر سے 30 نومبر 2026 تک دہلی کے دیہی علاقوں کے مختلف گاؤں میں خصوصی بیداری پروگرام منعقد کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے قومی راجدھانی خطہ دہلی کے جنوب مغربی، شمال مغربی اور شمالی اضلاع میں 25 مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے۔ ان پروگراموں کے ذریعے کسانوں اور زرعی ماہرین کے درمیان براہِ راست بات چیت کو فروغ دیا جا رہا ہے، جس سے کسانوں کو اپنی زرعی ضروریات کے مطابق سائنسی رہنمائی اور معلومات حاصل کرنے میں مدد مل رہی ہے۔
اس مہم کے تحت تشکیل دی گئی ہر ٹیم میں متعلقہ شعبوں کے چار سے پانچ ماہرین، سائنس دان، مختلف محکموں کے افسران اور اختراعی کسان شامل ہیں۔ نئی دہلی کے پُوسا میں واقع بھارتی زرعی تحقیقاتی ادارے (آئی اے آر آئی) کے سینئر سائنس دان بھی ان پروگراموں میں حصہ لے رہے ہیں اور کسانوں کے ساتھ جدید ترین زرعی ٹیکنالوجی اور سائنسی معلومات کا اشتراک کر رہے ہیں۔ یہ ٹیمیں کسانوں کو متعلقہ معلومات فراہم کرکے اور بہتر زرعی طریقے اپنانے کی ترغیب دے کر زرعی تحقیق اور کھیتوں میں اس کے عملی استعمال کے درمیان موجود خلیج کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔


اس مہم کے تحت کرشی وگیان کیندر، اجوا، دہلی نے 27 اکتوبر 2026 کو قاضی پور گاؤں میں بیداری پروگرام منعقد کیا۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کو مٹی کی صحت کے تحفظ، آنے والے ربیع کے موسم کے لیے زرعی کام بروقت انجام دینے، کھادوں کے متوازن استعمال اور قدرتی کاشت کاری کے طریقے اپنانے کی اہمیت سے آگاہ کرنا تھا۔ پروگرام کے دوران کرشی وگیان کیندر کے سائنس دانوں نے مٹی کی زرخیزی برقرار رکھنے، ضروری زرعی کام صحیح وقت پر انجام دینے اور کھادوں سمیت دیگر زرعی وسائل کو سائنسی طریقے سے اور حقیقی ضرورت کے مطابق استعمال کرنے کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ مٹی کی صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے کھادوں کا متوازن استعمال کیا جائے اور زرعی وسائل کو مؤثر طریقے سے بروئے کار لایا جائے۔ کسانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ زرعی وسائل کے استعمال کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلے کریں، تاکہ مٹی کی پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ پائیدار زرعی طریقوں کو بھی فروغ دیا جا سکے۔
آنے والے ربیع کے موسم کو مدنظر رکھتے ہوئے کسانوں کو گندم کی بہتر اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام، فصلوں کے انتظام کے موزوں طریقوں اور کھادوں کے متوازن استعمال کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔ انہیں سرسوں کی فصل کی باقاعدگی سے نگرانی کرنے، اہم کیڑوں اور بیماریوں کی ابتدائی مرحلے میں شناخت کرنے اور ان کے تدارک کے لیے مناسب اقدامات اپنانے کی اہمیت سے بھی آگاہ کیا گیا۔ ان طریقوں کا مقصد کسانوں کو فصلوں کے ممکنہ نقصان سے بچانے، فصلوں کی صحت برقرار رکھنے اور بہتر پیداوار حاصل کرنے میں مدد دینا ہے۔ پروگرام کے دوران فراہم کی گئی سائنسی رہنمائی کا مقصد کسانوں کو فصلوں کی ضروریات کے مطابق مناسب انتظامی تدابیر اپنانے اور زرعی وسائل استعمال کرنے کے ذریعے ربیع کے موسم کے لیے بہتر تیاری میں مدد فراہم کرنا تھا۔
پروگرام میں قدرتی کاشت کاری سمیت پائیدار زرعی طریقے اپنانے، قدرتی وسائل کے تحفظ اور مٹی کی صحت برقرار رکھنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔ کسانوں کو ترغیب دی گئی کہ وہ دستیاب زرعی وسائل کا دانش مندی سے استعمال کریں اور ماحول دوست زرعی ٹیکنالوجیز اپنائیں۔ اس بات پر زور دیا گیا کہ ایسے طریقوں کو فروغ دیا جائے جو طویل مدت تک مٹی کی زرخیزی برقرار رکھنے، وسائل کے مؤثر استعمال کو بہتر بنانے اور پائیدار زرعی پیداوار میں اضافے میں معاون ہوں۔ کسانوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے اس مہم کا مقصد سائنسی طریقۂ کاشت کے بارے میں بیداری کو مستحکم کرنا اور گاؤں کی سطح پر پائیدار زرعی طریقوں کو عملی طور پر اپنانے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
****
ش ح۔ ا ک۔ خ م
U.NO.6827