کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے لیختن اشتاین کے موروثی ولی عہد شہزادہ الویس سے ملاقات کی


بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے امکانات پر تبادلۂ خیال

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 28 OCT 2026 1:47PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت جناب پیوش گوئل نے 28 اکتوبر 2026 کو بھارت کے سرکاری دورے پر آئے لیختن اشتاین کے موروثی ولی عہد عالی مرتبت شہزادہ الویس سے خیرسگالی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بھارت اور لیختن اشتاین کے درمیان اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے اور بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

جناب گوئل نے بھارت کی مضبوط اقتصادی بنیادوں، اصلاحات کے مسلسل جاری عمل اور مینوفیکچرنگ کے بڑھتے ہوئے امکانات کو اجاگر کیا، جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کاروبار کرنے میں آسانی پیدا کرنے، ضابطہ جاتی طریقۂ کار کو آسان بنانے، ڈیجیٹل طرزِ حکمرانی کو مستحکم کرنے اور کاروبار کے لیے ایک مستحکم، شفاف اور مسابقتی ماحول تشکیل دینے کے سلسلے میں حکومت کی مسلسل کوششوں پر زور دیا۔

بھارت میں سرمایہ کاری کے رجحانات اس کے اقتصادی امکانات پر بین الاقوامی اعتماد میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ مالی سال 2014-15 سے مالی سال 2025-26 کے دوران براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی مجموعی آمد 843 ارب امریکی ڈالر رہی، جبکہ مالی سال 2025-26 میں یہ ریکارڈ 94.53 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی، جو سرمایہ کاری کے ایک اہم مرکز کے طور پر بھارت کی بڑھتی ہوئی کشش کو ظاہر کرتی ہے۔ بھارت میں نئے کاروباری اداروں کا ایک متحرک نظام بھی موجود ہے، جہاں 2.50 لاکھ نئے کاروباری ادارے 770 سے زیادہ اضلاع اور 56 صنعتوں میں 25.42 لاکھ سے زائد روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں سے 52 فیصد نئے کاروباری ادارے بڑے شہروں سے باہر واقع ہیں۔

جناب گوئل نے بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کے تحت دستیاب مواقع کو اجاگر کیا، جو یکم اکتوبر 2025 سے نافذ العمل ہے۔ اس معاہدے کے تحت یورپی آزاد تجارتی ایسوسی ایشن کے رکن ممالک نے 15 سال کے دوران بھارت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 100 ارب امریکی ڈالر کا اضافہ کرنے اور 10 لاکھ براہِ راست روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سہولت فراہم کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ معاہدہ اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عمل کو طویل مدتی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت، ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری اور بھارت میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

جناب گوئل نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت بین الاقوامی کاروباری اداروں کو ایک بڑی اور مسلسل ترقی کرتی ہوئی ملکی منڈی، ہنرمند افرادی قوت، مسابقتی صنعتی نظام اور وسعت پذیر عالمی سپلائی چین سے وابستہ ہونے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے لیختن اشتاین کی کمپنیوں کو بھارت میں دستیاب مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دی، جن میں صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون، تحقیق و ترقی اور بھارتی سپلائرز نیز مائیکرو، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے ساتھ زیادہ گہرے اشتراک کے امکانات شامل ہیں۔

مذاکرات کے دوران درست پیمائش پر مبنی انجینئرنگ، جدید مینوفیکچرنگ، صنعتی ٹیکنالوجیز اور اختراع جیسے شعبوں میں صنعتی تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ان شعبوں میں زیادہ تعاون سے ٹیکنالوجی کو اپنانے کے عمل کو فروغ دینے، صنعتی روابط کو مضبوط بنانے اور دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کے لیے باہمی مفاد کے مواقع پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں، 7 اکتوبر 2026 کو، بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے کی پہلی سالگرہ کے موقع پر نئی دہلی میں بھارت-ای ایف ٹی اے خوشحالی سربراہی اجلاس منعقد ہوا۔ لیختن اشتاین کے وزیر داخلہ، اقتصادی امور اور کھیل جناب ہیوبرٹ بوخیل نے لیختن اشتاین کے کاروباری اداروں کے نمائندوں کے ساتھ اس اجلاس میں شرکت کی۔

اس ملاقات میں سرمایہ کاری کے بہاؤ کو مضبوط بنانے اور تجارتی روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے بھارت-ای ایف ٹی اے تجارتی و اقتصادی شراکت داری معاہدے سے فائدہ اٹھانے میں مشترکہ دلچسپی کا اعادہ کیا گیا۔ بھارت کی توجہ بدستور اس بات پر مرکوز ہے کہ معاہدے کے ذریعے پیدا ہونے والے مواقع کو ٹھوس اقتصادی نتائج میں تبدیل کیا جائے، جن میں سرمایہ کاری میں اضافہ، مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا، ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون اور معیاری روزگار کے مواقع پیدا کرنا شامل ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔رک)

U. No.6822


(ریلیز آئی ڈی: 2329444) وزیٹر کاؤنٹر : 12