پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 OCT 2026 2:43PM by PIB Delhi
نئی دلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے) نے ہریانہ کے ضلع فریدآباد میں بزرگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بہتر بنانے کے لیے چلائے گئے آیوروید پر مبنی کمیونٹی پروگرام کے حوصلہ افزا نتائج پیش کیے ہیں۔ منصوبے کے نتائج کے مطابق، اس پروگرام کے بعد معیارِ زندگی، اگنی بَل اور ہڈیوں کی معدنی کثافت میں بہتری درج کی گئی۔ ذہنی صلاحیتوں کے جائزے میں بھی مثبت تبدیلیاں دیکھی گئیں، اس کے ساتھ سیروٹونن، ایسیٹائل کولین، ڈی ایچ ای اے اور وٹامن ڈی سمیت بعض حیاتیاتی اشاریوں میں بھی بہتری سامنے آئی۔ ان نتائج کو 24 اکتوبر کو اے آئی آئی اے میں منعقدہ ایک ورکشاپ میں پیش کیا گیا اور منصوبے کی رپورٹ ماہرین کی کمیٹی کو سونپ دی گئی۔
اے آئی آئی اے نے اپنی عوامی صحت کی پہل کے تحت ضلع فریدآباد میں تین ماہ کے دوران 60 سے 80 سال کی عمر کے 5,594 افراد کی صحت کی جانچ کی اور انہیں آیورویدک ادویات فراہم کیں۔ اس کے علاوہ، ڈیمنشیا پر مرکوز ایک الگ حصے کے تحت 200 مریضوں کی جانچ کی گئی اور چار ماہ تک انہیں آیوروید پر مبنی ادویات فراہم کی گئیں۔ ’’ہریانہ کے ضلع فریدآباد میں بزرگوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے فروغ کے لیے کمیونٹی پر مبنی آیورویدک اقدامات ‘‘ کے عنوان سے اس منصوبے کا مقصد کمیونٹی کی سطح پر آیوروید پر مبنی اقدامات کی افادیت کا مطالعہ کرنا اور صحت مند بڑھاپے کو فروغ دینے کے طریقوں کا جائزہ لینا تھا۔
ابتدائی جائزے میں بزرگ شرکا کو درپیش صحت کے کئی مسائل کی نشاندہی کی گئی۔ ان میں 67.73 فیصد شرکا میں بینائی سے متعلق مسائل، 43.05 فیصد میں جسمانی سرگرمی کی کمی اور 6.85 فیصد میں ذہنی صلاحیتوں میں کمی شامل تھی۔ دیگر مسائل میں بلند فشارِ خون، خون میں اتفاقی جانچ کے دوران گلوکوز کی بلند سطح، ہڈیوں کی معدنی صلاحیت میں کمی، قبض اور نیند سے متعلق مسائل شامل تھے۔
منصوبے کے پہلے حصے میں 60 روزہ اقدامات کے بعد معیارِ زندگی میں بہتری درج کی گئی۔ عالمی ادارۂ صحت کے معیارِ زندگی کے جائزے (ڈبلیو ایچ او کیو او ایل) میں مجموعی اسکور 292.0 سے بڑھ کر 326.3 ہو گیا۔ آیوروید کے ایک تصور اگنی بَل، جس کا تعلق ہاضمے اور جسم کے استحالہ جاتی افعال کی قوت سے ہے، کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کیے گئے تمام چھ پیمانوں میں بھی بہتری دیکھی گئی۔ اس کے علاوہ، ہڈیوں کی معدنی صلاحیت میں بھی بہتری درج کی گئی۔
منصوبے کے دوسرے حصے میں، جس میں ذہنی صلاحیتوں کی صحت پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، مختصر ذہنی حالت کے جائزے (ایم ایم ایس ای) کے اسکور میں بہتری آئی اور نتائج معمول کی سطح کی جانب بڑھے۔ چھ نکاتی ادراکی جائزے (6-سی آئی ٹی) سے بھی ذہنی صلاحیتوں کی کارکردگی میں بہتری کے آثار ظاہر ہوئے۔ اس حصے میں معیارِ زندگی کا اسکور 277.4 سے بڑھ کر 364.2 ہو گیا۔ اس کے علاوہ، سیروٹونن، ایسیٹائل کولین (اے سی ایچ)، ڈی ہائیڈرو ایپی اینڈروسٹیرون (ڈی ایچ ای اے) اور وٹامن ڈی کی سطح میں بھی بہتری درج کی گئی۔
یہ نتائج کمیونٹی کی سطح پر آیوروید پر مبنی اقدامات کی افادیت کے مزید مطالعے کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان نتائج کی توثیق اور ان اقدامات کی افادیت اور تحفظ کو ثابت کرنے کے لیے زیادہ وسیع سائنسی جائزے، تحفظ کی مسلسل نگرانی اور مزید مطالعات ضروری ہیں۔
وزارتِ آیوش کے مشیر ڈاکٹر کوستبھا اپادھیائے نے ورکشاپ میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ اے آئی آئی اے کے ڈائریکٹر پروفیسر (ویدیہ) پردیپ کمار پرجاپتی نے پروگرام کی صدارت کی۔ ڈاکٹر اپادھیائے نے بزرگوں کی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ان کے ساتھ بامعنی سماجی روابط کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے بزرگوں کو جسمانی اور ذہنی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا۔ اس کے علاوہ، انہوں نے صحت کے بہتر نتائج حاصل کرنے کے لیے اس طرح کی پہل میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔

پروفیسر (ویدیہ) پرجاپتی نے عوامی صحت کی پہل کی ٹیم کی کوششوں کو سراہا اور کمیونٹی کی سطح پر آیورویدک صحت خدمات کے تجربات کا منظم انداز میں مطالعہ کرنے اور ان کے نتائج کو وسیع پیمانے پر عام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے اس طرح کی پہل کو زیادہ سے زیادہ بزرگوں تک پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ڈائریکٹر نے مشترکہ خاندانی نظام کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ یہ نظام بزرگوں کی مناسب دیکھ بھال، مدد اور جذباتی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

نئی دلی کا آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید (اے آئی آئی اے)، حکومتِ ہند کی وزارتِ آیوش کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے۔ یہ ادارہ تعلیم، تحقیق، طبی خدمات اور عوامی صحت سے متعلق اقدامات کے ذریعے آیوروید کے فروغ اور ترقی کے لیے کام کرتا ہے۔
****
ش ح۔ ا ع خ۔ خ م
U.NO.6757