پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 4:00PM by PIB Delhi
مکمل کیے گئے چند بڑے پروجیکٹس
- پروجیکٹ – ’’بکسر تھرمل پاور پروجیکٹ [1320 میگاواٹ]‘‘ (13756.56 کروڑ روپے) بجلی کی وزارت کا پروجیکٹ ہے، جسے 12 ستمبر2026 کو کمیشن کیا گیا ۔ (افتتاح 14 ستمبر2026 کو کیا گیا۔)
- پروجیکٹ – ’’دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے، مرحلہ اوّل، پیکیج-اوّل، جسّور کھیڑی سے این ایچ-کے ایم پی ایکسپریس وے پر روہتک-پانی پت روڈ این ایچ-709 کے قریب گاؤں روکھِی پانی کے جنکشن تک، کلومیٹر 0000 سے کلومیٹر 34000 تک‘‘ (2429.9 کروڑ روپے) سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کا پروجیکٹ ہے، جسے 4 نومبر2025 کو کمیشن کیا گیا۔ (افتتاح 17 جولائی 2026 کو کیا گیا۔
- پروجیکٹ – ’’این ایم ڈی سی سلری پائپ لائن پروجیکٹ، مرحلہ اوّل ‘‘ (5427 کروڑ روپے) فولاد کی وزارت کا پروجیکٹ ہے، جسے 26 ستمبر 2026 کو کمیشن کیا گیا۔ (افتتاح 27 ستمبر 2026 کو کیا گیا۔)
پی اے آئی ایم اے این اے پورٹل کے تحت حال ہی میں شامل کیے گئے چند پروجیکٹس
- پروجیکٹ – ’’گجرات ریاست میں این ایچ-754 کے کے دھولاویرا-ماؤوانا-واؤوا-سانتل پور سیکشن کے پیکیج- II کے کلومیٹر 170300 سے کلومیٹر 277254 تک سڑک کو پختہ شولڈر کے ساتھ دو لین والی سڑک میں اپ گریڈ کرنا، ای پی سی موڈ کے تحت‘‘ (575.07 کروڑ روپے)، وزارتِ سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کا پروجیکٹ ہے۔
- پروجیکٹ – ’’765/400/220 کے وی فتح گڑھ-II پی ایس میں 2 سنکرونس کنڈینسر (سنکرونس) یونٹس کی تنصیب‘‘ (1157 کروڑ روپے)، بجلی کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
- پروجیکٹ – ’’کرشن گری آر ای زیڈ مرحلہ اوّل کے انضمام کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم‘‘ (7627 کروڑ روپے)، بجلی کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
- پروجیکٹ – ’’بھاڈلا-III، رام گڑھ پی ایس اور کانپور (پی جی) میں توسیع‘‘ (1015 کروڑ روپے)، بجلی کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
- پروجیکٹ – ’’بی او ٹی کی بنیاد پر ملٹی پرپز برتھ (ایم پی بی) کو میکانائز کرنا‘‘ (630.67 کروڑ روپے)، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
- پروجیکٹ – ’’ہوسور-اومالور 147 کلومیٹر کا امبریلا ورک پی بی57/2019-20/این آر ‘‘ (1839.32 کروڑ روپے)، ریلوے کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
پریس ریلیز
شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت اپنے پی اے آئی ایم اے این اے پلیٹ فارم کے ذریعے مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی نگرانی کو مسلسل مستحکم بنا رہی ہے۔ اس سے مختلف وزارتوں میں پروجیکٹوں کی بہتر نگرانی، بروقت جائزے اور اعداد و شمار پر مبنی فیصلہ سازی ممکن ہو رہی ہے۔ ستمبر 2026 تک یہ پورٹل 37.56 لاکھ کروڑ روپے مالیت کے 1853 بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کی نگرانی کر رہا ہے۔
|
اہم نکات
- ستمبر 2026 تک، 17 مرکزی وزارتوں اورمحکموں کے تحت مجموعی طور پر 37.56 لاکھ کروڑ روپے کی تازہ ترین لاگت والے بنیادی ڈھانچے کے 1853 جاری پروجیکٹوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان پروجیکٹوں پر اب تک 17.73 لاکھ کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو پروجیکٹوں کی کل لاگت کا تقریباً 47.21 فیصد ہے۔ یہ پروجیکٹوں پر عمل درآمد میں مسلسل پیش رفت کی عکاسی کرتا ہے۔
- پروجیکٹوں کی ایک بڑی تعداد عمل درآمد کے اعلیٰ مراحل میں پہنچ چکی ہے۔ 654 پروجیکٹوں (تقریباً 35 فیصد) میں 80 فیصد سے زیادہ طبعی پیش رفت حاصل کی جا چکی ہے، جبکہ 338 پروجیکٹوں (تقریباً 18 فیصد) میں مالی تکمیل 80 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ عمل درآمد کے ابتدائی اور اعلیٰ مراحل میں پروجیکٹوں کی متوازن تعداد موجود ہے۔
- بنیادی ڈھانچے کے 1853 جاری پروجیکٹوں میں سے 780 میگا پروجیکٹس ہیں، جن کی لاگت 1000 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ ہے، جبکہ 1073 بڑے پروجیکٹس ایسے ہیں جن کی لاگت 1000 کروڑ روپے سے کم ہے۔
- اقتصادی امور کے محکمے (ڈی ای اے) کی ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے میں جاری پروجیکٹوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس شعبے کے تحت 1320 پروجیکٹس زیرِ عمل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 20.07 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ یہ رابطہ جاتی بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو دی جانے والی ترجیح کو نمایاں کرتا ہے۔
|
- طبعی اور مالی پیش رفت عمومی طور پر ایک دوسرے کے متوازی ہے۔ بڑی تعداد میں پروجیکٹس ابتدائی مرحلے (0–20 فیصد) اور ترقی کے اعلیٰ مرحلے (81–100 فیصد) میں ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جہاں ایک طرف نئے پروجیکٹس شروع کیے گئے ہیں، وہیں دوسری طرف بہت سے پروجیکٹس تکمیل کے قریب ہیں۔ اگرچہ 81–100 فیصد کی حد میں طبعی پیش رفت مالی پیش رفت سے زیادہ ہے، تاہم ابتدائی مراحل میں مالی پیش رفت نسبتاً زیادہ ہے، جو پروجیکٹوں پر عمل درآمد کے دوران ابتدائی طور پر اخراجات کیے جانے کے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔
2۔ وزارتوں/محکموں کے لحاظ سے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں پیش رفت
- سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کے تحت سب سے زیادہ پروجیکٹس ہیں۔ اس کے تحت 974 پروجیکٹس ہیں، جو کل 1853 پروجیکٹوں کا 53 فیصد ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 9.46 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو 37.56 لاکھ کروڑ روپے کی کل پروجیکٹ جاتی لاگت کا 25 فیصد ہے۔ یہ قومی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں اس وزارت کے مرکزی رول کو اجاگر کرتا ہے۔
- ریلوے کی وزارت کے تحت 284 پروجیکٹس جاری ہیں، جو کل پروجیکٹوں کا 15 فیصد ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 7.21 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو کل پروجیکٹ جاتی لاگت کا 19 فیصد ہے۔
- کوئلہ کی وزارت کے تحت 121 پروجیکٹس جاری ہیں، جو کل پروجیکٹوں کا 6 فیصد ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت 2.22 لاکھ کروڑ روپے ہے، جو کل لاگت کا 6 فیصد ہے۔
- پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت، بجلی کی وزارت ، ہاؤسنگ و شہری امور اور محکمہ آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا کے احیا کی وزارت بالترتیب 115، 106، 49 اور 35 پروجیکٹوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ ان پروجیکٹوں کی متعلقہ لاگت بالترتیب 4.30 لاکھ کروڑ روپے، 6.40 لاکھ کروڑ روپے، 3.41 لاکھ کروڑ روپے اور 1.95 لاکھ کروڑ روپے ہے۔
- باقی 169 پروجیکٹس (9 فیصد)، جن کی مجموعی لاگت 2.62 لاکھ کروڑ روپے (7 فیصد) ہے، مختلف وزارتوں/محکموں کے تحت ہیں۔ ان میں اعلیٰ تعلیم، شہری ہوا بازی، فولاد، ٹیلی مواصلات، محنت و روزگار، بندرگاہیں، جہاز رانی و آبی گزرگاہیں، صحت و خاندانی بہبود، کانکنی، صنعت و اندرونی تجارت کے فروغ کا محکمہ اور کھیل شامل ہیں۔ (تفصیل کے لئے ضمیمہ اوّل ملاحظہ کریں)
3۔ مکمل شدہ پروجیکٹس اور پورٹل پر شامل کیے گئے پروجیکٹس
3.1 ستمبر 2026 کے دوران شروع کیے گئے نمایاں پروجیکٹوں میں درج ذیل شامل ہیں:
- پروجیکٹ – ’’بکسر تھرمل پاور پروجیکٹ [1320 میگاواٹ]‘‘ (13756.56 کروڑ روپے)، وزارتِ بجلی کا پروجیکٹ ۔
- پروجیکٹ – ’’دہلی-امرتسر-کٹرا ایکسپریس وے، مرحلہ اوّل، پیکیج-اوّل، این ایچ-کے ایم پی ایکسپریس وے پر جسّور کھیڑی سے روہتک-پانی پت روڈ، این ایچ-709 کے قریب گاؤں روکھِی پانی کے جنکشن تک، کلومیٹر 0000 سے کلومیٹر 34000 تک‘‘ (2429.9 کروڑ روپے)، سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت کا پروجیکٹ ۔
- پروجیکٹ – ’’این ایم ڈی سی سلری پائپ لائن پروجیکٹ، مرحلہ اوّل‘‘ (5427 کروڑ روپے)، وزارتِ فولاد کا پروجیکٹ ۔
3.2 ستمبر 2026 کے دوران پی اے آئی ایم اے این اے کے تحت نگرانی کے لیے مزید 83 پروجیکٹس شامل کیے گئے۔ ان میں سے 57 پروجیکٹس ریلوے کی وزارت ، 16 سڑک نقل و حمل اور شاہراہوں کی وزارت ، 7 بجلی کی وزارت ، 2 بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت اور 1 کوئلہ کی وزارت سے تعلق رکھتے ہیں۔ حال ہی میں شروع کیے گئے چند پروجیکٹوں کی تفصیلات درج ذیل ہیں:
- پروجیکٹ – ’’گجرات میں این ایچ-754 کے کے دھولاویرا-ماؤوانا-واؤوا-سانتل پور سیکشن کے پیکیج-II میں کلومیٹر 170300 سے کلومیٹر 277254 تک سڑک کو پختہ شولڈر کے ساتھ دو لین والی سڑک میں اپ گریڈ کرنا، ای پی سی موڈ کے تحت‘‘ (575.07 کروڑ روپے)، سڑک نقل و حمل و شاہراہوں کی وزارت کا پروجیکٹ ہے ۔
- پروجیکٹ – ’’765/400/220 کے وی فتح گڑھ-II پی ایس میں 2 سنکرونس کنڈینسر (سنکرونس) یونٹس کی تنصیب‘‘ (1157 کروڑ روپے)، ’’کرشن گری آر ای زیڈ مرحلہ اوّل کے انضمام کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم‘‘ (7627 کروڑ روپے) اور ’’بھاڈلا-III، رام گڑھ پی ایس اور کانپور (پی جی) میں توسیع‘‘ (1015 کروڑ روپے)، بجلی کی وزارت کے پروجیکٹس ہیں ۔
- پروجیکٹ – ’’بی او ٹی کی بنیاد پر ملٹی پرپز برتھ (ایم پی بی) کو میکانائز کرنا‘‘ (630.67 کروڑ روپے)، بندرگاہوں، جہاز رانی و آبی گزرگاہوں کی وزارت کا پروجیکٹ ہے ۔ ( جس کاافتتاح 21 اگست2026 کو کیا گیا۔)
- پروجیکٹ – ’’ہوسور-اومالور 147 کلومیٹر امبریلا ورک پی بی57/2019-20/این آر ‘‘ (1839.32 کروڑ روپے)، ریلوے کی وزارت کا پروجیکٹ ہے۔
4۔ شعبہ وار (اقتصادی امور کے محکمے کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق) بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں پیش رفت
اقتصادی امور کے محکمے کی بنیادی ڈھانچے کے ذیلی شعبوں سے متعلق ہم آہنگ ماسٹر لسٹ (ایچ ایم ایل) کی بنیاد پر، بنیادی ڈھانچے کے 1853 جاری پروجیکٹوں کو تجزیے کے لیے چھ زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے: نقل و حمل و لاجسٹکس، توانائی، پانی و صفائی ستھرائی، مواصلات، سماجی و تجارتی بنیادی ڈھانچہ اور دیگر۔ ’’دیگر‘‘ زمرے میں کوئلہ، فولاد، دھاتوں و کانکنی اور تعمیرات جیسے شعبوں کے پروجیکٹس شامل ہیں، تاہم یہ زمرہ ایچ ایم ایل کا حصہ نہیں ہے۔ نقل و حمل و لاجسٹکس کے شعبے میں پروجیکٹوں کی سب سے زیادہ تعداد شامل ہے، جس کے تحت 1320 پروجیکٹس ہیں، جو کل پروجیکٹوں کا 71.2 فیصد ہیں۔ اس کے بعد توانائی کا شعبہ ہے، جس میں 225 پروجیکٹس (12.1 فیصد) شامل ہیں۔ یہ دونوں زمرے مجموعی طور پر زیرِ نگرانی پروجیکٹوں کا 83.4 فیصد اور پروجیکٹوں کی نظرثانی شدہ مجموعی لاگت کا تقریباً 82.9 فیصد ہیں۔ ایچ ایم ایل کے زمروں میں پانی و صفائی ستھرائی کے شعبے میں مجموعی اخراجات اور پروجیکٹ جاتی لاگت کا تناسب سب سے زیادہ، یعنی 70.81 فیصد ہے۔ اس کے بعد نقل و حمل و لاجسٹکس (54.49 فیصد) اور مواصلات (48.66 فیصد) کے شعبے ہیں۔ سماجی و تجارتی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبوں میں یہ تناسب بالترتیب 41.72 فیصد اور 39.58 فیصد ہے، جبکہ ’’دیگر‘‘ زمرے میں یہ 30.67 فیصد ہے۔
4.1 نقل و حمل و لاجسٹکس کا زمرہ
نقل و حمل و لاجسٹکس سب سے بڑا زمرہ ہے، جس میں 20.07 لاکھ کروڑ روپے کی لاگت کے 1320 پروجیکٹس شامل ہیں۔ یہ زیرِ نگرانی پروجیکٹوں کا 71.2 فیصد اور کل پروجیکٹ جاتی لاگت کا تقریباً 51.02 فیصد ہے۔ اس زمرے میں سڑکیں و شاہراہیں، ریلوے، شہری عوامی نقل و حمل، ہوا بازی و ہوا بازی کا بنیادی ڈھانچہ، جہاز رانی اور لاجسٹکس کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں، جو رابطوں کو مضبوط بنانے اور اقتصادی انضمام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
سڑکوں و شاہراہوں کے شعبے میں 974 پروجیکٹس شامل ہیں، جو اس زمرے کے 73.8 فیصد ہیں، جبکہ ریلوے کے شعبے میں 286 پروجیکٹس ہیں۔ یہ دونوں ذیلی شعبے مل کر اس زمرے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کا تقریباً 83.3 فیصد ہیں۔ مجموعی طور پر 1023890 کروڑ روپے کے اخراجات پروجیکٹ جاتی لاگت کا 51.03 فیصد ہیں۔ ذیلی شعبوں میں جہاز رانی کے شعبے میں اخراجات کا تناسب سب سے زیادہ، یعنی 63.37 فیصد ہے، جس کے بعد لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کا تناسب 56.36 فیصد ہے۔ ریلوے، ہوا بازی و ہوا بازی کا بنیادی ڈھانچہ، شہری عوامی نقل و حمل اور سڑکوں و شاہراہوں کے شعبوں میں اخراجات کے تناسب بالترتیب 50.28 فیصد، 51.48 فیصد، 48.95 فیصد اور 52.13 فیصد ہیں۔
|
نقل و حمل اور لاجسٹکس کے زمرے میں شامل منصوبوں کا شعبہ کے لحاظ سے جائزہ
|
|
نمبر شمار
|
سب سیکٹر کا نام
|
پروجیکٹوں کی تعداد
|
پروجیکٹس کی لاگت (روپے کروڑ میں)
|
اخراجات (روپے کروڑ میں)
|
لاگت کے فیصد کے طور پر اخراجات
|
|
1
|
سڑکیں اور شاہراہیں
|
974
|
946094
|
493224
|
52.13%
|
|
2
|
ریلوے
|
286
|
725731
|
364893
|
50.28%
|
|
3
|
شہری عوامی نقل و حمل
|
29
|
302200
|
147915
|
48.95%
|
|
4
|
ہوابازی اور ہوابازی کا بنیادی ڈھانچہ
|
25
|
23141
|
11913
|
51.48%
|
|
5
|
جہاز رانی
|
5
|
8703
|
5515
|
63.37%
|
|
6
|
لاجسٹکس کا بنیادی ڈھانچہ
|
1
|
763
|
430
|
56.36%
|
|
کل
|
1320
|
2006632
|
1023890
|
51.03%
|
ان 1320 پروجیکٹوں میں سے 504 پروجیکٹس (38.2 فیصد) طبعی پیش رفت کے 81–100 فیصد والے مرحلے میں ہیں، جبکہ 280 پروجیکٹس (21.2 فیصد) 0–20 فیصد والے مرحلے میں ہیں۔ مالی پیش رفت کے لحاظ سے 236 پروجیکٹس (18.0 فیصد) 81–100 فیصد کے مرحلے میں ہیں اور 270 پروجیکٹس (20.4 فیصد) 0–20 فیصد کے مرحلے میں ہیں۔ مالی پیش رفت کے اسی مرحلے کے مقابلے میں طبعی پیش رفت کے اعلیٰ مرحلے میں پروجیکٹوں کی زیادہ تعداد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ ہر پروجیکٹس کی طبعی تکمیل، اخراجات، باقی ماندہ کاموں اور اسے شروع کرنے کی تیاری کا ایک ساتھ جائزہ لیا جائے۔
3.10 توانائی
توانائی کے زمرے میں 11.04 لاکھ کروڑ روپے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کے 225 پروجیکٹس شامل ہیں، جو نظرثانی شدہ مجموعی پروجیکٹ جاتی لاگت کا تقریباً 29.4 فیصد ہے۔ اس زمرے میں چار ذیلی شعبے شامل ہیں: تیل و گیس، ترسیل و تقسیم، بجلی کی پیداوار اور توانائی کا ذخیرہ۔ تیل و گیس کے شعبے میں پروجیکٹوں کی تعداد سب سے زیادہ، یعنی 102 ہے، جبکہ بجلی کی پیداوار کے شعبے میں 38 پروجیکٹس ہیں، جن کی مجموعی لاگت 427249 کروڑ روپے ہے، جو سب سے زیادہ ہے۔ مجموعی اخراجات 436858 کروڑ روپے ہیں، جو پروجیکٹ جاتی لاگت کا 39.58 فیصد ہیں۔ توانائی کے ذخیرے کے شعبے میں اخراجات کا تناسب سب سے زیادہ، یعنی 81.79 فیصد ہے، جس کے بعد تیل و گیس کے شعبے کا تناسب 50.13 فیصد ہے۔ بجلی کی پیداوار اور ترسیل و تقسیم کے شعبوں میں یہ تناسب بالترتیب 32.62 فیصد اور 29.54 فیصد ہے۔
|
توانائی کے منصوبوں کا سیکٹر کے لحاظ سئ جائزہ
|
|
نمبر شمار
|
سب سیکٹر کا نام
|
پروجیکٹوں کی تعداد
|
پروجیکٹس کی لاگت (روپے کروڑ میں)
|
اخراجات (روپے کروڑ میں)
|
لاگت کے فیصد کے طور پر اخراجات
|
|
1
|
تیل اور گیس
|
102
|
400700
|
200901
|
50.13%
|
|
2
|
ترسیل اور تقسیم
|
72
|
247018
|
72966
|
29.54%
|
|
3
|
بجلی کی پیداوار
|
38
|
427249
|
139375
|
32.62%
|
|
4
|
توانائی کا ذخیرہ
|
13
|
28874
|
23616
|
81.79%
|
|
|
کل
|
225
|
1103841
|
436858
|
39.58%
|
3.11 پانی اور صفائی ستھرائی
پانی اور صفائی ستھرائی کے زمرے میں 198837 کروڑ روپے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کے 50 پروجیکٹس شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر 140791 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ نظرثانی شدہ لاگت کے مقابلے میں اخراجات کا تناسب 70.81 فیصد ہے، جو ایچ ایم ایل کے تمام زمروں میں سب سے زیادہ ہے۔ آبی وسائل کے شعبے میں 27 پروجیکٹس شامل ہیں، جن کی پروجیکٹ جاتی لاگت 190927 کروڑ روپے ہے اور اخراجات کا تناسب 71.32 فیصد ہے۔ باقی 23 پروجیکٹس فضلہ و پانی کے شعبے سے متعلق ہیں، جن کی پروجیکٹ جاتی لاگت 7910 کروڑ روپے ہے اور اخراجات کا تناسب 58.39 فیصد ہے۔ اس زمرے کے زیادہ تر پروجیکٹس طبعی اور مالی پیش رفت کے 81–100 فیصد والے مرحلے میں ہیں۔
|
پانی اور صفائی ستھرائی کا شعبہ کے لحاظ سے جائزہ
|
|
|
نمبر شمار
|
سب سیکٹر کا نام
|
پروجیکٹوں کی تعداد
|
پروجیکٹس کی لاگت (روپے کروڑ میں)
|
اخراجات (روپے کروڑ میں)
|
لاگت کے فیصد کے طور پر اخراجات
|
|
1
|
آبی وسائل
|
27
|
190927
|
136172
|
71.32%
|
|
2
|
فضلہ اور پانی
|
23
|
7910
|
4619
|
58.39%
|
|
کل
|
50
|
198837
|
140791
|
70.81%
|
| |
|
|
|
|
|
|
3.12 مواصلات
مواصلات کے زمرے میں ٹیلی مواصلات کے 31 پروجیکٹس شامل ہیں، جن کی مجموعی لاگت 133708 کروڑ روپے ہے۔ ان پروجیکٹوں پر اب تک مجموعی طور پر 65064 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو پروجیکٹ جاتی لاگت کا 48.66 فیصد ہے۔ یہ پروجیکٹس مواصلاتی بنیادی ڈھانچے اور ڈیجیٹل رابطوں کو مضبوط بنانے میں معاون ہیں۔ طبعی اور مالی پیش رفت سے متعلق چارٹ اس زمرے میں پروجیکٹوں کے پہلے اور آخری مرحلے میں نسبتاً زیادہ مرکوز ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔
3.5 سماجی و تجارتی بنیادی ڈھانچہ
سماجی و تجارتی بنیادی ڈھانچے کے زمرے میں 95348 کروڑ روپے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کے 79 پروجیکٹس شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر 39782 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو پروجیکٹ جاتی لاگت کا 41.72 فیصد ہے۔ اس زمرے میں تعلیم، صحت کی دیکھ بھال، رئیل اسٹیٹ اور سیاحت، مہمان نوازی و تندرستی کے شعبے شامل ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں 32 پروجیکٹس شامل ہیں اور ذیلی شعبوں میں اخراجات کا تناسب سب سے زیادہ، یعنی 61.24 فیصد ہے۔ اس کے بعد سیاحت، مہمان نوازی و تندرستی کا شعبہ ہے، جہاں یہ تناسب 55.57 فیصد ہے۔ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں 31 پروجیکٹس ہیں اور اخراجات کا تناسب 41.29 فیصد ہے، جبکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں 15 پروجیکٹس شامل ہیں اور اخراجات کا تناسب 35.93 فیصد ہے۔ طبعی اور مالی پیش رفت کی پانچ مختلف حدود میں پروجیکٹوں کی تقسیم سے اس زمرے میں عمل درآمد کے مختلف مراحل کا جائزہ لینے میں مدد ملتی ہے۔ اس زمرے میں بھی یہی رجحان دیکھا گیا ہے، کیونکہ زیادہ تر پروجیکٹس پیش رفت کی پہلی یا آخری حد میں شامل ہیں۔
|
سماجی اور تجارتی پروجیکٹوں کا سیکٹر کے لحاظ سے جائزہ
|
|
نمبر شمار
|
سب سیکٹر کا نام
|
پروجیکٹوں کی تعداد
|
پروجیکٹس کی لاگت (روپے کروڑ میں)
|
اخراجات (روپے کروڑ میں)
|
لاگت کے فیصد کے طور پر اخراجات
|
|
1
|
تعلیم
|
32
|
15774
|
9659
|
61.24%
|
|
2
|
صحت کی دیکھ بھال
|
31
|
24040
|
9926
|
41.29%
|
|
3
|
رئیل اسٹیٹ
|
15
|
54296
|
19509
|
35.93%
|
|
4
|
سیاحت، مہمان نوازی اور فلاح و بہبود
|
1
|
1238
|
688
|
55.57%
|
|
کل
|
79
|
95348
|
39782
|
41.72%
|
3.6 دیگر
’’دیگر‘‘ کے زمرے میں 217438 کروڑ روپے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کے 148 پروجیکٹس شامل ہیں، جن پر مجموعی طور پر 66679 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں، جو پروجیکٹ جاتی لاگت کا 30.67 فیصد ہے۔ اس زمرے میں کوئلہ کے(115 پروجیکٹس )، فولاد کے (23 پروجیکٹس )، دھاتیں و کانکنی کے (8 پروجیکٹس ) اور تعمیرات کے (2 پروجیکٹس ) شامل ہیں۔
کوئلہ اس زمرے کا سب سے بڑا شعبہ ہے، جس میں 182780 کروڑ روپے کی پروجیکٹ جاتی لاگت کے 115 پروجیکٹس شامل ہیں۔ اس شعبے میں اخراجات کا تناسب 27.50 فیصد ہے، جو مجموعی زمرے کے تناسب کو متاثر کرتا ہے۔ فولاد کے شعبے میں اخراجات کا تناسب 42.02 فیصد، دھاتوں و کانکنی میں 55.35 فیصد اور تعمیرات میں 36.15 فیصد ہے۔
|
دیگر کا شعبہ کےلحاظ سے جائزہ
|
|
نمبر شمار
|
سب سیکٹر کا نام
|
پروجیکٹوں کی تعداد
|
پروجیکٹس کی لاگت (روپے کروڑ میں)
|
اخراجات (روپے کروڑ میں)
|
لاگت کے فیصد کے طور پر اخراجات
|
|
1
|
کوئلہ
|
115
|
182780
|
50267
|
27.50%
|
|
2
|
اسٹیل
|
23
|
19501
|
8195
|
42.02%
|
|
3
|
دھاتیں اور کان کنی
|
8
|
14258
|
7892
|
55.35%
|
|
4
|
تعمیرات
|
2
|
899
|
325
|
36.15%
|
|
کل
|
148
|
217438
|
66679
|
30.67%
|
5۔ پریس ریلیز کی اگلی تاریخ: اکتوبر 2026 کے مہینے کی فلیش رپورٹ 25 نومبر 2026 کو جاری کی جائے گی۔
نوٹ:
- اس پریس ریلیز میں مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں (150 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ لاگت والے) سے متعلق شماریات و پروگرام کےنفاذ کی وزارت کی ستمبر 2026 کی فلیش رپورٹ کے اہم نکات کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ https://paimana-proj.mospi.gov.in پر یا ذیل میں دیے گئے کیو آر کوڈ کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔ تمام مقامات پر لاگت کے اعداد و شمار سے مراد تازہ ترین دستیاب لاگت ہے۔
- پی اے آئی ایم اے این اے کے پروجیکٹوں کی نگرانی کے انٹرفیس کا نام تبدیل کرکے پی اے آئی ایم اے این اے-پروج (پی اے آئی ایم اے این اے-پروج) رکھ دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اسے پی اے آئی ایم اے این اے کہا جاتا تھا۔ مزید برآں، جولائی 2026 میں شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارتِ کی جانب سے شروع کیا گیا پی اے آئی ایم اے این اے - سی آر آئی پی (مرکزی بنیادی ڈھانچہ جاتی پروجیکٹوں کا ذخیرہ) بنیادی ڈیٹا ذخیرے/ان پٹ لیئر کے طور پر کام کرتا ہے۔ تقریباً 80 فیصد ڈیٹا پی اے آئی ایم اے این اے - سی آر آئی پی پورٹل پر اے پی آئی کے ذریعے اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ پورٹل بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں کے قومی مرکزی ذخیرے کے طور پر کام کرتا ہے اور بنیادی ڈھانچے کی نگرانی میں یکسانیت لانے اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے باخبر فیصلہ سازی میں معاونت فراہم کرتا ہے۔
- فلیش رپورٹ میں اقتصادی امور کے محکمے کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہم آہنگ ماسٹر لسٹ (ایچ ایم ایل) کے منتخب زمروں اور ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ معلومات متعلقہ لائن وزارتوں/محکموں کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہیں۔ اس رپورٹ میں ایچ ایم ایل کا مکمل احاطہ نہیں کیا گیا ہے، اس لیے اس کی تشریح رپورٹ کے دائرۂ کار اور فراہم کردہ اعداد و شمار کے تناظر میں کی جانی چاہیے۔
ضمیمہ اوّل
مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں وزارتوں اورمحکموں کے لحاظ سے پیش رفت
|
S. No
|
Ministry/ Department
|
Project Count (number)
|
Project Cost
(₹ Lakh cr.)
|
Cumulative Expenditure (₹ Lakh cr.)
|
Expenditure as
% of Cost
|
|
1
|
Ministry of Road Transport & Highways
|
974
|
9.46
|
4.93
|
52.13%
|
|
2
|
Ministry of Railways
|
284
|
7.21
|
3.62
|
50.27%
|
|
3
|
Ministry of Coal
|
121
|
2.22
|
0.58
|
26.22%
|
|
4
|
Ministry of Petroleum & Natural Gas
|
115
|
4.30
|
2.25
|
52.26%
|
|
5
|
Ministry of Power
|
106
|
6.40
|
2.07
|
32.34%
|
|
6
|
Ministry of Housing & Urban Affairs
|
49
|
3.41
|
1.68
|
49.34%
|
|
7
|
Department of Water Resources River Development & GR
|
35
|
1.95
|
1.38
|
70.69%
|
|
8
|
Department of Telecommunications
|
31
|
1.34
|
0.65
|
48.66%
|
|
9
|
Department of Higher Education
|
31
|
0.15
|
0.09
|
59.25%
|
|
10
|
Ministry of Steel
|
26
|
0.22
|
0.09
|
39.33%
|
|
11
|
Ministry of Civil Aviation
|
25
|
0.23
|
0.12
|
51.48%
|
|
12
|
Ministry of Health & Family Welfare
|
22
|
0.22
|
0.09
|
40.24%
|
|
13
|
Department for Promotion of Industry & Internal Trade
|
12
|
0.21
|
0.03
|
14.24%
|
|
14
|
Ministry of Labour and Employment
|
9
|
0.02
|
0.01
|
50.37%
|
|
15
|
Ministry of Ports Shipping and Waterways
|
6
|
0.10
|
0.06
|
62.40%
|
|
16
|
Ministry of Mines
|
6
|
0.12
|
0.08
|
62.08%
|
|
17
|
Department of Sports
|
1
|
0.01
|
0.01
|
100.00%
|
|
|
Grand Total
|
1853
|
37.56
|
17.73
|
47.21%
|
ضمیمہ دوم
مرکزی شعبے کے بنیادی ڈھانچے کے پروجیکٹوں میں زمرہ کے لحاظ سے پیش رفت (اقتصادی امور کے محکمے کی بنیادی ڈھانچے سے متعلق ہم آہنگ ماسٹر لسٹ کے مطابق)
|
S. No
|
HML Category
|
Project Count
(Number)
|
Project Cost
(₹ Lakh cr.)
|
Cumulative Expenditure
(₹ Lakh cr.)
|
Expenditure as
% of Cost
|
|
1
|
Transport & Logistics
|
1320
|
20.07
|
10.24
|
51.03%
|
|
2
|
Energy
|
225
|
11.04
|
4.37
|
39.59%
|
|
3
|
Water & Sanitation
|
50
|
1.99
|
1.41
|
70.91%
|
|
4
|
Social & Commercial
|
79
|
0.95
|
0.39
|
40.90%
|
|
5
|
Communication
|
31
|
1.34
|
0.65
|
48.61%
|
|
6
|
Others
|
148
|
2.17
|
0.67
|
30.81%
|
|
|
Total
|
1853
|
37.56
|
17.73
|
47.21%
|
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔م م ع۔ن م۔
U-6740