پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 4:41PM by PIB Delhi
وزارتِ سماجی انصاف و تفویضِ اختیارات کے تحت منشیات کی طلب میں کمی کے لیے قومی لائحۂ عمل (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت منشیات کے استعمال سے متاثرہ افراد کی روک تھام، علاج اور بحالی پر مسلسل توجہ دی جا رہی ہے۔
آسام کے ضلع کریم گنج کے گاؤں جلال نگر کے رہائشی 30 سالہ راہل شرما (بدلا ہوا نام) کی کہانی اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ بروقت مدد، ہمدردانہ دیکھ بھال اور بحالی کی جامع سہولتوں کے ذریعے افراد کو مشکلات پر قابو پانے اور صحت مند و خود کفیل زندگی کی طرف بڑھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
والد کے انتقال کے بعد راہل کو خاندانی ذمہ داریاں سنبھالنے کے لیے کم عمری میں ہی تعلیم چھوڑنی پڑی۔ مالی مشکلات، ذہنی پریشانی اور محدود مواقع نے رفتہ رفتہ ان کی صحت اور زندگی کو متاثر کیا۔ عارضی سکون کی تلاش میں انہوں نے دوستوں کی صحبت میں منشیات کا استعمال شروع کر دیا اور بالآخر اس کے عادی ہو گئے۔
اس لت نے ان کی صحت، کام کرنے کی صلاحیت اور اہلِ خانہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا۔ مالی تنگی، سماجی بدنامی اور قریب میں بحالی کی سہولتیں دستیاب نہ ہونے کے باعث ان کی مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ ان تمام چیلنجوں کے باوجود راہل اپنی زندگی دوبارہ سنوارنے اور اپنا ٹرانسپورٹ کاروبار قائم کرنے کا خواب پورا کرنے کے خواہش مند تھے۔
راہل کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں آسام کے کریم گنج میں ادارے ووڈوچی کے زیرِ انتظام منشیات سے چھٹکارے اور بحالی کے مرکز (ڈی ڈی اے سی) کے ذریعے این اے پی ڈی ڈی آر کے تحت مدد ملی۔ ڈاکٹروں، مشیروں اور سینٹر کے عملے کی رہنمائی میں انہوں نے سینٹرمیں رہ کر بحالی کا علاج کرایا۔ اس دوران انہیں طبی علاج، انفرادی اور اجتماعی مشاورت، خاندانی مشاورت، ادراکی و رویّاتی علاج (سی بی ٹی)، بارہ مراحل پر مبنی علاج، یوگا اور مراقبے کی سہولتیں فراہم کی گئیں۔
ان جامع سہولتوں نے ان کی صحت یابی میں مدد دی، انہیں صحت مند عادات اپنانے اور خود اعتمادی بحال کرنے کے قابل بنایا۔ خاندانی مشاورت اور معاشرے میں دوبارہ گھلنے ملنے کے لیے فراہم کی گئی مدد سے انہیں اپنے تعلقات بہتر بنانے اور ایک مستحکم مستقبل کی تیاری میں بھی مدد ملی۔

مسلسل تعاون اور پختہ عزم کے ساتھ راہل نے رفتہ رفتہ اپنی زندگی پر قابو پایا اور اپنی کوششوں کو مفید کاموں کی طرف موڑ دیا۔ آج وہ اپنا چھوٹا ٹرانسپورٹ کاروبار چلا رہے ہیں اور پہلے کے مقابلے میں زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ آمدنی میں اضافے سے ان کی مالی حالت مستحکم ہوئی ہے اور وہ اپنے خاندان کی بہتر کفالت کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان کی زندگی کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ علاج، بحالی اور مسلسل تعاون کی سہولتیں ملنے سے افراد منشیات کی لت پر قابو پا سکتے ہیں اور نئے اعتماد کے ساتھ اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
راہل کو فراہم کی گئی مدد اس بات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے کہ منشیات کی لت سے نمٹنے کے لیے جامع بحالی ضروری ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف نشے کی لت بلکہ اس سے وابستہ سماجی اور معاشی مشکلات کو بھی دور کرنے میں مدد ملتی ہے۔ این اے پی ڈی ڈی آر کے تحت مختلف اقدامات کے ذریعے وزارت منشیات سے چھٹکارے کی خدمات تک رسائی بہتر بنانے، صحت یابی کو فروغ دینے اور منشیات کے استعمال سے متاثرہ افراد کو دوبارہ معاشرے کا حصہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ راہل کا تجربہ اس بات کو واضح کرتا ہے کہ مناسب دیکھ بھال اور مسلسل تعاون سے افراد اپنی زندگی دوبارہ سنوار سکتے ہیں، روزگار بحال کر سکتے ہیں اور زیادہ محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔
وزارت منشیات کی لت سے نمٹنے اور صحت مند و زیادہ جامع معاشرے کے فروغ کے لیے مسلسل بیداری پیدا کرنے، بروقت مداخلت، علاج تک رسائی اور برادری کی سطح پر تعاون کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔
*****
(ش ح ۔رک)
U. No.6714