PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

حقیقت نما ٹیکنالوجیز


حقیقی اور مجازی دنیا کا امتزاج

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 11:33AM by PIB Delhi

 

حقیقت نما ٹیکنالوجیز بھارت کے تعلیمی، صنعتی اور تخلیقی شعبوں میں تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہیں۔ اطلاعات و نشریات کی وزارت، ممبئی میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی) جیسے اقدامات کے ذریعے حرکت پذیر تصاویر(اینیمیشن)، بصری اثرات(ویژول ایفیکٹس)، کھیلوں(گیمنگ)، کامکس اور ایکسٹینڈڈ ریئلٹی (اے وی جی سی-ایکس آر) کے شعبوں کو فروغ دے رہی ہے۔ نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس کے طور پر قائم آئی آئی سی ٹی، تخلیقی تعلیم، ہنرمندی اور اختراع کو مستحکم بنانے کے لیے گوگل، میٹا، ایڈوب اور نیٹ فلکس سمیت عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کر رہا ہے۔ اس شعبے کے فروغ کے لیے مزید اقدامات کرتے ہوئے، مرکزی بجٹ 2026-27 میں ملک بھر کے 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں اے وی جی سی مواد تخلیق کرنے کی تجربہ گاہیں قائم کرنے کے لیے 250 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

 

ڈیجیٹل ترقی سے حقیقت نما تجربات تک: بھارت کی ترقی کا اگلا قدم

گزشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت نے ایک مضبوط ڈیجیٹل نظام قائم کیا ہے، جس نے ٹیکنالوجی کے ساتھ روزمرہ کے تعاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ یو پی آئی، آدھار، ڈیجی لاکر، اُمنگ اور بھاشنی جیسے پلیٹ فارموں نے خدمات اور معلومات تک رسائی کو وسیع کیا ہے۔ جیسے جیسے ڈیجیٹل پلیٹ فارم زیادہ عام ہوتے جا رہے ہیں، اگلا موقع ان تعاملات کو مزید باہمی، بصری اور تجرباتی بنانے کا ہے۔ مصنوعی ذہانت، تیز رفتار رابطہ کاری اور کمپیوٹنگ کے شعبوں میں تیز رفتار پیش رفت اس تبدیلی کو ممکن بنا رہی ہے، جس کے نتیجے میں لوگ محض ڈیجیٹل خدمات تک رسائی حاصل کرنے کے بجائے ان سے براہ راست تجربہ حاصل کر سکیں گے۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: بھارت کا ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے بھارت میں تبدیلی

اس ابھرتے ہوئے دور کی تشکیل میں حقیقی اور مجازی دنیا کو یکجا کرنے والی ٹیکنالوجیز اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز ڈیجیٹل مواد کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ لوگ اس سے حقیقی دنیا کی طرح تجربہ حاصل کر سکیں۔ ورچوئل رئیلٹی ، آگمینٹڈ رئیلٹی ، مکسڈ رئیلٹی اور 360 درجے کے تجربات ایسے باہمی تعامل پر مبنی ماحول تشکیل دے سکتے ہیں، جہاں صارفین ڈیجیٹل مواد سے نئے انداز میں جڑ سکیں۔ یہ ٹیکنالوجیز مجازی مشقوں کے ذریعے تعلیم، عملی تربیت کے ذریعے صحت کی دیکھ بھال اور مجازی سیر و سیاحت کے ذریعے سیاحت کے شعبوں میں نمایاں تبدیلی لا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، ثقافت، کھیل، تفریح، خوردہ تجارت اور دیگر شعبوں میں بھی زیادہ دلچسپ اور مؤثر تجربات فراہم کر سکتی ہیں۔ اس طرح، یہ ٹیکنالوجیز بھارت کے موجودہ ڈیجیٹل نظام کے اثرات کو روایتی اسکرینوں پر مبنی تعاملات سے آگے بڑھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس موقع کی وسعت کا اندازہ ہندوستان میں حقیقت نما ٹیکنالوجیز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی منڈی سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس شعبے نے 2023 میں 1,259.5 ملین امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کی، اور توقع ہے کہ 2030 تک اس کی مالیت بڑھ کر 7,818.7 ملین امریکی ڈالر ہو جائے گی۔ اس دوران مرکب سالانہ شرحِ نمو 29.8 فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ توقع ہے کہ ڈیجیٹل نظام، متوسط طبقے کی بڑھتی ہوئی تعداد اور برقی تجارت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بدولت ہندوستان ایشیا بحرالکاہل خطے میں سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی منڈی بن جائے گا۔یہ ترقی ہندوستان کے لیے ایک بڑے بازار کی حیثیت سے آگے بڑھ کر حقیقت نما ٹیکنالوجیز کا عالمی مرکز بننے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ تحقیق، نئے کاروباری اداروں، ہنرمند افرادی قوت، مواد کی تیاری اور مقامی ٹیکنالوجیز کے فروغ کے لیے صلاحیتیں پیدا کرکے ہندوستان حقیقت نما تجربات کی اگلی نسل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی پوزیشن مزید مستحکم بنا سکتا ہے۔

تخلیقی اذہان، سائنس کو فروغ، ٹیکنالوجی کو تقویت

بھارت میں ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق کانکلیو ایسٹک-2026  کا دوسرا ایڈیشن 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہوگا۔۔ اس تقریب کا انعقاد‘‘ اذہان، سائنس کو فروغ، ٹیکنالوجی کو تقویت’’ کے موضوع کے تحت کیا جائے گا۔ سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے زیراہتمام منعقد ہونے والے ای ایس ٹی آئی سی-2026 میں مختلف وزارتیں، محققین، اختراع کار، صنعت کے قائدین، جدید ٹیکنالوجی پر کام کرنے والے نئے کاروباری ادارے اور عالمی ماہرین شرکت کریں گے تاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ابھرتے ہوئے شعبوں کو آگے بڑھایا جا سکے۔ اس کانکلیو میں 12 موضوعاتی شعبے شامل ہوں گے، جن میں حقیقت نما ٹیکنالوجیز: جنریٹیو ایکس آر اور مکانی کمپیوٹنگ بھی شامل ہیں۔ اس تقریب میں عمومی اجلاس، تکنیکی مباحثے اور نمائشیں منعقد کی جائیں گی۔ ایجنڈے کی مزید تفصیلات کے لیے: ESTIC 2026 پر کلک کریں ۔

 

حقیقت نما ٹیکنالوجیز کو سمجھنا

حقیقت نما ٹیکنالوجیز ایسی ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہیں جو باہمی تعامل، دلچسپی اور حقیقت سے قریب تر ڈیجیٹل تجربات فراہم کرتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز حقیقی اور ڈیجیٹل دنیا کو یکجا کر سکتی ہیں۔ ان کی مدد سے صارفین ڈیجیٹل مواد کے ساتھ اس انداز میں تعامل کر سکتے ہیں جو زیادہ فطری اور تجربے پر مبنی محسوس ہوتا ہے۔ صارفین ڈیجیٹل اشیا کے ساتھ تعامل کرنے کے علاوہ مصنوعی طور پر پیدا کی گئی صورتحال پر ردعمل بھی ظاہر کر سکتے ہیں۔ روایتی ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ کے برعکس، یہ ٹیکنالوجیز حواسِ خمسہ میں سے متعدد حواس کو متحرک کر سکتی ہیں اور کسی ماحول میں موجودگی کا زیادہ گہرا احساس پیدا کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی طالب علم اسکرین پر صرف خاکے دیکھنے کے بجائے ایک مجازی تجربہ گاہ میں مختلف چیزوں کا مشاہدہ اور تجربہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح، کوئی سیاح کسی تاریخی مقام پر حقیقی طور پر جانے سے پہلے اس کی مجازی سیر کر سکتا ہے۔ حقیقت نما ٹیکنالوجیز کی تین سب سے عام اقسام مجازی حقیقت (وی آر)، افزوده حقیقت (اے آر) اور مخلوط حقیقت (ایم آر) ہیں۔ ان تمام ٹیکنالوجیز کو مجموعی طور پر اکثر توسیعی حقیقت (ایکس آر) کہا جاتا ہے۔

توسیعی حقیقت (ایکس آر)

توسیعی حقیقت سے مراد ایسی ٹیکنالوجیز ہیں جو کمپیوٹر نظاموں اور پہننے کے قابل آلات کے ذریعے حقیقی اور ڈیجیٹل ماحول کو یکجا کرتی ہیں۔ یہ ٹیکنالوجیز انسانوں اور ڈیجیٹل مواد کے درمیان مختلف سطحوں پر باہمی تعامل ممکن بناتی ہیں۔ توسیعی حقیقت میں مجازی حقیقت (وی آر)، افزوده حقیقت (اے آر) اور مخلوط حقیقت (ایم آر) شامل ہیں۔

  • مجازی حقیقت (وی آر): یہ ایک مکمل طور پر ڈیجیٹل ماحول تخلیق کرتی ہے، جو صارف کو اپنے احاطے میں لے لیتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر دیکھنے اور سننے کی حِس کو بروئے کار لا کر ماحول میں حقیقی طور پر موجود ہونے کا گہرا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ صارف خصوصی آلات کی مدد سے اس مصنوعی ماحول کی سیر کر سکتے ہیں اور اس کے ساتھ تعامل بھی کر سکتے ہیں۔
  • افزوده حقیقت (اے آر): یہ صارف کے موجودہ حقیقی ماحول میں ڈیجیٹل معلومات کا اضافہ کرتی ہے۔ اس میں حقیقی دنیا کا ماحول نظر آتا رہتا ہے، جبکہ دیکھنے اور سننے کی حِس کے ذریعے ڈیجیٹل معلومات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، افزوده حقیقت حقیقی دنیا کے منظر پر راستوں کی نشان دہی، معلومات یا ڈیجیٹل اشیا دکھا سکتی ہے۔
  • مخلوط حقیقت (ایم آر): یہ ایک ایسے باہمی تعامل پر مبنی ماحول میں حقیقی اور ڈیجیٹل دنیا کو یکجا کرتی ہے، جہاں ڈیجیٹل اشیا حقیقی ماحول کے ساتھ تعامل کر سکتی ہیں۔ اس میں دیکھنے اور سننے کی حِس کو بروئے کار لاتے ہوئے صارفین ڈیجیٹل اشیا کو اس طرح دیکھ اور ان کے ساتھ تعامل کر سکتے ہیں، گویا وہ حقیقی ماحول ہی کا حصہ ہوں۔

 

دیگر متعلقہ ٹیکنالوجیز، مثلاً 360 درجے کی ویڈیو اور لمس کا احساس پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی بھی حقیقت نما ٹیکنالوجیز کے وسیع تر نظام کا حصہ ہیں۔ 360 درجے کی ویڈیو صارفین کو کسی منظر کو ہر سمت سے دیکھنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ صارفین دیکھنے کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں اور ریکارڈ کیے گئے ماحول کے مختلف حصوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔ لمس کا احساس پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ارتعاش، دباؤ یا دیگر جسمانی احساسات کے ذریعے لمس پر مبنی ردِعمل فراہم کرتی ہے۔ یہ مجازی یا باہمی تعامل پر مبنی تجربات کے دوران جسمانی احساسات کی نقل کرکے ڈیجیٹل تعاملات کو زیادہ حقیقت سے قریب تر بنا سکتی ہے۔

تجربے کی دنیا میں قدم: بھارت میں حقیقت نماٹیکنالوجیز کا استعمال

تعلیم

آئی آئی ٹی مدراس کے محققین دیہی اسکولوں کے لیے افزوده حقیقت اور مجازی حقیقت پر مبنی تعلیمی حل تیار کر رہے ہیں۔ اس اقدام میں ثانوی سطح کے طلبہ کے لیے تدریس اور سیکھنے کے عمل کو بہتر بنانے کی غرض سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد مجازی حقیقت پر مبنی ایسے ماحول تیار کرنا ہے، جہاں طلبہ باہمی تعامل پر مبنی تجربات کے ذریعے تاریخ، سماجی علوم، سائنس اور زبانوں جیسے مضامین کا مطالعہ کر سکیں۔

یہ ٹیکنالوجیز جماعت میں تعلیم حاصل کرنے کے عمل کو مزید دلچسپ بنا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر، افزوده حقیقت پر مبنی ایک موبائل ایپلی کیشن متحرک تصاویر، باہمی تعامل پر مبنی نقشوں اور تاریخی دستاویزات کے ذریعے ہندوستان کی 500 سالہ تاریخ کو اس طرح پیش کر سکتی ہے کہ طلبہ اسے جیتا جاگتا محسوس کریں۔ اسی طرح، مجازی حقیقت پر مبنی نقلی تجربات طلبہ کو نظام شمسی کی سیر کرنے یا سہ جہتی نمونوں کے ذریعے انسانی جسم کا مطالعہ کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ مجرد تصورات کو دیکھنے اور سمجھنے میں آسانی پیدا کرکے، یہ طریقۂ کار تعلیمی عمل کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں اور طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے تیار کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

تاریخی ورثہ اور سیاحت

حکومت بھارت کے ثقافتی ورثے تک رسائی کو آسان اور اسے مزید دلچسپ بنانے کے لیے توسیعی حقیقت (ایکس آر) اور دیگر ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہی ہے۔ ثقافت کی وزارت نے عجائب گھروں میں آنے والے افراد کے تجربات کو بہتر بنانے اور وہاں موجود مجموعوں سے متعلق معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے ڈیجیٹل ذرائع اپنائے ہیں۔ ان میں سے ایک جتن سافٹ ویئر ہے، جو عجائب گھروں میں محفوظ نوادرات اور ان کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل شکل دینے میں مدد کرتا ہے۔ اب تک جتن کے ذریعے قومی سطح کے آٹھ عجائب گھروں اور محکمۂ آثارِ قدیمہ کے دو عجائب گھروں کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی ہے۔ ان کے مجموعے میوزیمز آف انڈیا کے ڈیجیٹل ذخیرے کے ذریعے دستیاب ہیں، جس سے لوگ آن لائن بھارت کے ثقافتی ورثے کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

اس ڈیجیٹل بنیاد کو مزید وسعت دیتے ہوئے، عجائب گھر آنے والوں کے لیے باہمی تعامل پر مبنی تجربات بھی متعارف کرا رہے ہیں۔ کولکاتا کے انڈین میوزیم نے گیلریوں کی سیر کو مزید دلچسپ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی باہمی تعامل کی سہولتیں اور افزوده حقیقت کے ذرائع متعارف کرائے ہیں۔ اس نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے ثقافتی ورثے کو پیش کرنے والی ایک مجازی نمائش کے لیے گوگل آرٹس اینڈ کلچر کے ساتھ بھی اشتراک کیا ہے۔ اسی طرح، کرناٹک کے ہَمپی اور بہار کے نالندہ میں محکمۂ آثارِ قدیمہ کے عجائب گھر اپنے مجموعوں کی موبائل فون کے ذریعے مجازی سیر کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے لوگ نوادرات کو ڈیجیٹل ذرائع سے دیکھ اور ان کے بارے میں جان سکتے ہیں، جس سے عجائب گھروں کی حدود سے باہر بھی ثقافتی تجربات زیادہ دلچسپ اور قابلِ رسائی بن جاتے ہیں۔کولکاتا کے انڈین میوزیم کی مجازی سیر کے لیے یہاں کلک کریں

حکمرانی اور بنیادی ڈھانچہ

حقیقت نما ٹیکنالوجیز بھارت میں بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی اور انتظام کے طریقۂ کار کو بھی نئی شکل دے رہی ہیں۔ محکمۂ مواصلات نے ‘‘سنگم: ڈیجیٹل ٹوئن’’پہل شروع کی ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے کی بہتر منصوبہ بندی کے لیے ڈیجیٹل ٹوئن ٹیکنالوجی کو فائیو جی، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی) اور مصنوعی ذہانت کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل ٹوئن کے ذریعے نقشہ سازی پہلے ہی شہری منصوبہ بندی میں معاون ثابت ہو رہی ہے، جس کی ایک مثال وارانسی کا شہری سہ جہتی مکانی منصوبہ بندی کا منصوبہ ہے۔ بھارت کا ہدف ہے کہ 2035 تک بڑے شہری مراکز کے لیے قومی ڈیجیٹل ٹوئن تیار کیا جائے، جس کے تحت شہروں کے ڈیجیٹل عکس بنائے جائیں گے تاکہ شہری منصوبہ بندی اور انتظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔

 

ڈیجیٹل ٹوئن کیا ہے؟

ڈیجیٹل ٹوئن کسی حقیقی شے، نظام یا مقام کا مجازی نمونہ ہوتا ہے۔ اس میں حقیقی دنیا سے حاصل کردہ معلومات استعمال کرکے حالات اور طرزعمل کی عکاسی کی جاتی ہے، جس سے صارفین صورتحال کی نگرانی کر سکتے ہیں اور ممکنہ تبدیلیوں کو ڈیجیٹل طور پر آزما سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، کسی مشین کا ڈیجیٹل نمونہ ممکنہ خرابیوں کی نشان دہی کرنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ کسی شہر کا ڈیجیٹل نمونہ منصوبہ سازوں کو بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر عمل درآمد سے پہلے ان کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔اس کی ایک مثال محکمۂ مواصلات (ڈی او ٹی) کی جانب سے انڈیا موبائل کانگریس 2025 میں پیش کیا گیا موبیلٹی ڈیجیٹل ٹوئن ہے۔ اس میں ٹیلی مواصلات سے حاصل کردہ نقل و حرکت کے اعداد و شمار استعمال کرکے یہ تجزیہ کیا جاتا ہے کہ لوگ مختلف علاقوں میں کس طرح سفر کرتے اور نقل و حرکت کرتے ہیں۔ دہلی کے وسنت کنج اور سینٹرل وسٹا میں کیے گئے عملی مظاہروں کے دوران آمدورفت کے معمولات کا جائزہ لیا گیا اور میٹرو اسٹیشنوں کے زیر رسائی علاقوں کا تعین کرنے میں مدد ملی۔ ایودھیا میں نقل و حرکت سے متعلق اعداد و شمار کے ذریعے سیاحوں کی آمدورفت، سفر کے ذرائع اور قیام کے معمولات کا مطالعہ کیا گیا۔ ان معلومات سے متعلقہ حکام کو آمدورفت کے رابطوں کی منصوبہ بندی، سیاحتی بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور منصوبوں کو حتمی شکل دینے سے پہلے زیادہ باخبر فیصلے کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

 

تخلیقی معیشت اور تفریح

حقیقت نما ٹیکنالوجی، بھارت کے ذرائع ابلاغ اور تفریحی شعبے کا ایک تیزی سے ترقی کرتا ہوا حصہ ہے، جس کا تعلق حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، کھیلوں، مزاحیہ کہانیوں اور توسیعی حقیقت (اے وی جی سی-ایکس آر) کے نظام سے گہرا ہے۔ ایک آزاد رپورٹ کے مطابق، بھارت میں کھیلوں کی صنعت کا حجم 2024 میں 3.8 ارب امریکی ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2028-29 تک 9.2 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو اس ابھرتی ہوئی معیشت کے وسیع امکانات کو ظاہر کرتا ہے۔ ویوز(ڈبلیو اے وی ای ایس) سر براہی اجلاس  جیسے قومی پلیٹ فارم بھی بھارت کی تخلیقی صلاحیتوں اور حقیقت نما ٹیکنالوجیز ذرائع ابلاغ کی مہارتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

حقیقت نماٹیکنالوجی کو فروغ دینا: بھارت کے اہم اقدامات

حقیقت نماٹیکنالوجی کو حکومت کے وسیع تر اے وی جی سی-ایکس آر نظام کے تحت فروغ دیا جا رہا ہے۔ اس نظام میں حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، گیمنگ، مزاحیہ کہانیاں اور توسیعی حقیقت کے شعبے شامل ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے لیے بھارت کی پالیسی معاونت کسی الگ تھلگ اسکیم کے بجائے ایک وسیع اور مربوط کوشش کا حصہ ہے۔اے وی جی سی-ایکس آر انقلاب کو فروغ دینے کے بارے میں مزید پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اے وی جی سی-ایکس آر کے فروغ کے لیے ٹاسک فورس

اطلاعات و نشریات کی وزارت نے اپریل 2022 میں اے وی جی سی کے فروغ کے لیے ٹاسک فورس تشکیل دی۔ اس میں حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، گیمنگ اور مزاحیہ کہانیوں (اے وی جی سی) کی صنعت، تعلیمی اداروں اور حکومت کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ ٹاسک فورس اس شعبے کی ترقی اور توسیع کو مستحکم بنانے کے لیے مشترکہ اور مربوط کوششوں کا پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ اس کے کام کا لائحہ عمل تین بنیادی اصولوں پر مبنی ہے، جن میں سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان اشتراک، مختلف وزارتوں کے درمیان تال میل اور شعبے کی ترقی کے لیے مربوط طریقۂ کار شامل ہیں۔

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی)

ٹاسک فورس کی سفارش پر حکومت نے اے وی جی سی-ایکس آر شعبے کے لیے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کی غرض سے نیشنل سینٹر آف ایکسی لینس (این سی او ای) قائم کیا۔ اسی اقدام کے تحت 2025 میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی) قائم کیا گیا۔ مارچ 2026 تک، آئی آئی سی ٹی نے اے وی جی سی-ایکس آر شعبے کے مختلف میدانوں میں 18 کورس شروع کیے ہیں، جن میں 135 سے زائد طلبہ داخلہ لے چکے ہیں۔

جینیسیس (جنریشن-نیکسٹ سپورٹ فار انوویٹیو اسٹارٹ اپس)

درجہ دوم اور درجہ سوم کے شہروں میں نئے کاروباری اداروں کے ماحول کو فروغ دینے کے لیے الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت نے جینیسیس اسکیم کو منظوری دی۔ 2022 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد پانچ سال کے دوران تقریباً 1,600 ٹیکنالوجی پر مبنی نئے کاروباری اداروں کی مدد کرنا ہے۔ اس میں حقیقت نماٹیکنالوجیز، مثلاً افزوده حقیقت (اے آر)، مجازی حقیقت (وی آر) اور مکانی کمپیوٹنگ پر کام کرنے والے نئے کاروباری ادارے بھی شامل ہیں۔ وزارت کے اسٹارٹ اپ ہب کے ذریعے یہ اسکیم فی الحال اے آر/وی آر کے 84 نئے کاروباری اداروں کی مدد کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، ملک بھر میں 106 کاروباری اداروں کی معاونت کرنے والے مراکز(انکیوبیٹر) کو بھی مدد فراہم کر رہی ہے۔

 

اے وی جی سی مواد تخلیق کرنے کی تجربہ گاہیں

مرکزی بجٹ 2026-27 کے تحت حکومت نے 15,000 ثانوی اسکولوں اور 500 کالجوں میں حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، گیمنگ اور مزاحیہ کہانیوں (اے وی جی سی) سے متعلق مواد تخلیق کرنے کی تجربہ گاہیں قائم کرنے کے لیے 250 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ان تجربہ گاہوں کی منصوبہ بندی، تال میل اور نفاذ کی ذمہ داری ممبئی کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کری ایٹو ٹیکنالوجیز (آئی آئی سی ٹی) کو سونپی جائے گی۔ ان تجربہ گاہوں کا مقصد طلبہ کو حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، کھیلوں(گیمنگ ) اور ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کے شعبوں میں عملی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے۔ ان کے ذریعے طلبہ کو تخلیقی خیالات کو عملی شکل دینے اور صنعت میں رائج آلات اور ٹیکنالوجیز کے استعمال کا عملی تجربہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوان صلاحیتوں کو پروان چڑھانا اور بھارت کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی تخلیقی معیشت میں ابھرتے ہوئے روزگار کے مواقع کے لیے طلبہ کو تیار کرنا ہے۔

ویو ایکس (ڈبلیو اے وی ای ایکس)

ویو ایکس، اطلاعات و نشریات کی وزارت کی جانب سے شروع کیا گیا ذرائع ابلاغ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئے کاروباری اداروں کو تیز رفتار ترقی دینے اور ان کی معاونت کرنے کا(انکیوبیٹر) ایک خصوصی پروگرام ہے۔ یہ اے وی جی سی-ایکس آر اور ذرائع ابلاغ کی دیگر ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں کام کرنے والے نئے کاروباری اداروں کی مدد کرتا ہے۔ ویو ایکس کا مقصد ان اداروں کو اپنی ٹیکنالوجی مستحکم بنانے، بازار میں پیش کرنے کے لیے تیار حل وضع کرنے اور عالمی سطح پر مواقع تلاش کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

 

اے وی جی سی-ایکس آر کی ترقی میں بھارت کی سرکردہ ریاستیں

  • کرناٹک کی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 3.0 کے تحت ہنرمندی کی ترقی، بنیادی ڈھانچے، فلم و مواد کی تیاری کے لیے مالی امداد اور اے وی جی سی-ایکس آر کمپنیوں کو مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ ریاست میں کٹوین اے وی جی سی فنڈ بھی کام کر رہا ہے، جس کا مجموعی سرمایہ 20 کروڑ روپے ہے۔ اس فنڈ کے ذریعے اے وی جی سی اور اس سے متعلقہ شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔
  • مہاراشٹر کی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 2025 کے لیے 3,268 کروڑ روپے کا مالی منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جب کہ اس کا طویل مدتی وژن 2050 تک محیط ہے۔ اس پالیسی کے تحت حکومتی تعاون اور بنیادی ڈھانچے کی فراہمی کے ذریعے ریاست میں اے وی جی سی-ایکس آر کے نظام کو وسعت دینے کے لیے ایک مخصوص لائحۂ عمل فراہم کیا گیا ہے۔
  • تلنگانہ کی 2016 کی امیج (آی ایم اے جی ای) پالیسی کے تحت حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات(وی ایف ایکس )، گیمنگ  اور مزاحیہ کہانیوں کے شعبوں کے لیے ایک مخصوص لائحۂ عمل تیار کیا گیا، جس کا مرکز حیدرآباد کا امیج ٹاور ہے۔ اس شعبے میں 150 سے زائد اے وی جی سی/بصری اثرات کی کمپنیاں، کھیلوں اور حرکت پذیر تصاویر کی 140 سے زائد کمپنیاں اور 30,000 براہ راست روزگار کے مواقع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس آف انڈیا (ایس ٹی پی آئی)-امیج کے ذریعے 100 نئے کاروباری اداروں کو اس نظام سے منسلک کیا گیا ہے۔ اس شعبے کو مواد کی تیاری کے بنیادی ڈھانچے، تربیت اور عالمی سطح پر کلاؤڈ سہولتوں تک رسائی کے ذریعے تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔
  • تمل ناڈو کی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 2026 کا ہدف ہے کہ 2030 تک 200 سے زائد نئے کاروباری ادارے قائم ہوں، تقریباً 2 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور بھارت کی اے وی جی سی-ایکس آر مارکیٹ میں ریاست کا حصہ 20 فیصد تک پہنچ جائے۔ اس پالیسی کے تحت چنئی میں ‘‘ایلکاٹ ویان اے وی جی سی-ایکس آرسینٹر آف ایکسی لینس’’ کے قیام اور اسے مرکزی مرکز کے طور قائم کرنےاورکوئمبٹور،مدورئی،تروچیراپلی،سیلم اورترو نیل ویلی کےعلاقوں میں اس سےمنسلک ذیلی مراکز قائم کرنےکےلیےبھی مدد فراہم کی جائے گی۔
  • کیرالہ کی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 2024 میں خصوصی مہارت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنے پر خاص توجہ دی گئی ہے۔ اس میں صنعت کی ضروریات کے مطابق ملازمتوں کے کردار متعین کرنے، اساتذہ کی تربیت اور اسکولوں سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک مجازی حقیقت (وی آر)، افزوده حقیقت (اے آر)، کھیلوں، بصری اثرات اور ڈیجیٹل آرٹ سے متعلق کورس شروع کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس مشن کا مقصد 2029 تک اے وی جی سی-ایکس آر صنعت میں 50,000 نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہے، جو علم پر مبنی خوش حال معیشت کو فروغ دینے کے لیے کیرالہ کے عزم کو مستحکم کرتا ہے۔
  • مدھیہ پردیش کی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 2025 میں سینٹر آف ایکسی لینس، اے وی جی سی-ایکس آر تجربہ گاہوں اور مخصوص ہنرمندی کی تربیت کو سرمایہ کاری کی مراعات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اس پالیسی کے تحت سرمایہ جاتی سرمایہ کاری، روزگار کی فراہمی، مواد کی تیاری کے اخراجات، معیار کی تصدیق اور تخلیقی و اختراعی حقوق کی تخلیق کے لیے بھی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
  • اتر پردیش، نوئیڈا بین الاقوامی ہوائی اڈے اور مجوزہ بین الاقوامی فلم سٹی کے قریب جیور میں اے وی جی سی-ایکس آر پارک تیار کر رہا ہے۔ اس پارک میں اینیمیشن، بصری اثرات (وی ایف ایکس)، گیمنگ، موشن کیپچر، مجازی پروڈکشن اور توسیعی حقیقت (ایکس آر) سے متعلق سہولتیں یکجا کی جائیں گی۔ اس کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، نئے کاروباری اداروں کی معاونت کرنا، ہنرمند افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ریاست کی ڈیجیٹل تخلیقی معیشت کو مستحکم بنانا ہے۔
  • راجستھان نے ریاستی بجٹ 2024-25 میں اپنی اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی 2024 کا اعلان کیا، جس کا مقصد حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، گیمنگ، مزاحیہ کہانیوں اور حقیقت نماٹیکنالوجیز کے نظام کو مستحکم بنانا ہے۔ اس پالیسی کے تحت اہل حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات، اے آر اور وی آر منصوبوں کے لیے 50 لاکھ روپے تک اور اہل کھیلوں کی تیاری کے منصوبوں کے لیے 1 کروڑ روپے تک کی مالی مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔
  • گجرات حکومت کی مخصوص پہل کے ذریعے خود کو اے وی جی سی-ایکس آر کے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھارنے کی سمت میں سرگرم عمل ہے۔ ریاست ایک جامع اے وی جی سی-ایکس آر پالیسی تیار کرنے کے آخری مراحل میں ہے، جس میں بنیادی ڈھانچے، ہنرمندی کی تربیت اور نئے کاروباری اداروں کی مدد پر توجہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ریاست میں پہلے ہی ایک مضبوط تعلیمی بنیاد موجود ہے، جہاں 16 اداروں میں حرکت پذیر تصاویر، بصری اثرات (وی ایف ایکس )اور کھیلوں سے متعلق کورس پڑھائے جاتے ہیں۔ اس طرح اس شعبے کے لیے تربیت یافتہ افرادی قوت کی فراہمی کا ایک مستحکم نظام موجود ہے۔

 

آئندہ کا لائحہ عمل

حقیقت نما ٹیکنالوجیز محض تفریح کا ایک نیا ذریعہ نہیں ہیں، بلکہ یہ ہندوستان کی تخلیقی معیشت، نظام تعلیم اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے ایک اہم حکمت عملی بھی ہیں۔ قومی اور ریاستی سطح پر مربوط کوششوں کے ذریعے ہندوستان اپنے اے وی جی سی-ایکس آر نظام کو مضبوط بنا رہا ہے اور اس طرح وہ حقیقت نما مواد اور اختراع کے عالمی مرکز کے طور پر ابھرنے کی بہتر پوزیشن میں ہے۔ تخلیقی صلاحیتوں اور جدید ترین ٹیکنالوجی کا یہ امتزاج وکست بھارت 2047 کے تصور سے پوری طرح ہم آہنگ ہے، جس کے تحت ٹیکنالوجی کے میدان میں بااختیار اور خود کفیل ہندوستان ابھرتے ہوئے شعبوں میں عالمی قیادت کرے گا۔

حوالہ جات:

اطلاعات و نشریات کی وزارت

ثقافت کی وزارت

مواصلات کی وزارت

 

دیگر

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیےیہاں کلک کریں

******

 

( ش ح ۔ ش آ ۔ م ا )

Urdu.No-6692

 


(ریلیز آئی ڈی: 2328579) وزیٹر کاؤنٹر : 12