مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 4:13PM by PIB Delhi
بھارت کی ٹیلی مواصلاتی ضابطہ کار اتھارٹی (ٹی آر اے آئی) نے آج ‘ایپ پر مبنی مقررہ اوقات میں ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات (اے ایل ٹی ڈی) کے لیے اجازت نامے کے نظام’ سے متعلق سفارشات جاری کی ہیں۔
نشریات کے بدلتے ہوئے منظرنامے کے پیش نظر، اطلاعات و نشریات کی وزارت نے ٹی آر اے آئی ایکٹ1997 کی دفعہ 11(1)(a) کے تحت 15 دسمبر 2025 کو ٹی آر اے آئی کو ایک معاملہ بھیجا تھا، جس میں مفت اشتہارات کے ذریعے معاونت یافتہ سلسلہ وار نشریاتی ٹیلی ویژن (فاسٹ) خدمات کے لیے ایسا ضابطہ جاتی نظام وضع کرنے اور اس کی سفارش کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جو یکساں اصولوں، مواد کے تئیں جواب دہی اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
ٹی آر اے آئی نے ایسی خدمات کا جائزہ لیا اور مشاہدہ کیا کہ کئی ایپلی کیشنز مقررہ نظام الاوقات کے مطابق چلنے والے خطی ٹیلی ویژن چینلوں کو یکجا کرکے صارفین تک پہنچاتی ہیں۔ یہ خدمات ٹیلی ویژن سیٹوں اور دیگر آلات میں پہلے سے نصب ایپلی کیشنز، موبائل فون اور اسمارٹ ٹی وی پر نصب کی جانے والی ایپلی کیشنز، یا ویب براؤزر کے ذریعے استعمال کی جانے والی ویب پر مبنی ایپلی کیشنز کی صورت میں دستیاب ہیں۔ مربوط ٹیلی ویژن کے ذریعے خدمات کی فراہمی کے وسیع دائرے کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان خدمات کو عمومی طور پر ‘ایپ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات (اے ایل ٹی ڈی)’ کا نام دیا گیا ہے، جن میں فاسٹ خدمات بھی شامل ہیں۔
چنانچہ اتھارٹی نے 6 اپریل2026 کو ‘ایپ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات (اے ایل ٹی ڈی)، بشمول مفت اشتہارات کے ذریعے معاونت یافتہ سلسلہ وار نشریاتی ٹیلی ویژن (فاسٹ) خدمات، کے لیے ضابطہ جاتی نظام کی تشکیل’ کے عنوان سے مشاورتی پیپر جاری کیا اور متعلقہ فریقوں سے آراء طلب کیں۔ اس کے جواب میں207 تبصرے اور 11 جوابی تبصرے موصول ہوئے، جنہیں ٹی آر اے آئی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔ مشاورتی عمل کے ایک حصے کے طور پر، 10 جون 2026 کو کھلی مشاورتی نشست منعقد کی گئی، جس میں متعلقہ فریقوں کو زیرِ مشاورت امور پر اپنی آراءپیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا۔
متعلقہ فریقوں سے موصول ہونے والی آرا اور جوابی تبصرے ، کھلی مشاورتی نشست کے دوران حاصل ہونے والی تجاویز اور اپنے تجزیے کی بنیاد پر اتھارٹی نے ‘ایپ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات (اے ایل ٹی ڈی) کے لیے اجازت نامے کے نظام’ سے متعلق اپنی سفارشات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ ان سفارشات کا مقصد انٹرنیٹ کے ذریعے خطی ٹیلی ویژن چینلوں کی ترسیل کے لیے ایک ایسا پالیسی نظام قائم کرنا ہے جس میں ضابطہ جاتی پابندیاں کم سے کم ہوں اور جو مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اختراع، کاروبار کرنے میں آسانی، صارفین کے تحفظ اور ضابطہ جاتی امور میں یقین دہانی کو فروغ دینا بھی ان سفارشات کا مقصد ہے۔ یہ سفارشات 21 فروری2025 کو جاری کردہ اتھارٹی کی ان سفارشات پر مبنی ہیں اور ان کی تکمیل کرتی ہیں، جو ‘ٹیلی مواصلات ایکٹ،2023 کے تحت نشریاتی خدمات کی فراہمی کے لیے خدمات سے متعلق اجازت ناموں کا نظام’ کے موضوع پر پیش کی گئی تھیں۔
چونکہ ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ عوامی انٹرنیٹ یا دیگر آئی پی پر مبنی نیٹ ورک کے ذریعے خطی ٹیلی ویژن چینلوں کو یکجا کرکے ان کی ترسیل کرتی ہے اور انٹرنیٹ سے منسلک مختلف آلات پر صارفین کو روایتی ٹیلی ویژن ترسیلی پلیٹ فارم جیسا تجربہ فراہم کرتی ہے، اس لیے اتھارٹی نے سفارش کی ہے کہ ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ کو ٹیلی مواصلات ایکٹ،2023 کی دفعہ 3(1)(a) کے تحت نشریاتی خدمات کے اجازت ناموں کے نظام میں ‘ٹیلی ویژن چینلوں کی ترسیل کی خدمات’ کے ذیلی زمرے کے طور پر متعارف کرایا جائے۔ سفارشات میں اجازت نامہ جاری کرنے اور ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ فراہم کرنے کے لیے شرائط و ضوابط کا تعین کرتے ہوئے اجازت نامے کا ایک باقاعدہ نظام بھی تجویز کیا گیا ہے۔ مزید برآں، ان میں اہم متعلقہ فریقوں، مثلاً اصل آلات تیار کرنے والوں (او ای ایم)، آپریٹنگ سسٹم (او ایس) فراہم کرنے والوں اور ٹیلی ویژن چینلوں کے نشریاتی اداروں یا مواد کے مالکان کے لیے ذمہ داریاں مقرر کرنے، صارفین کے تحفظ کے اقدامات کرنے اور ٹیلی ویژن کے ناظرین کی پیمائش کے نظام میں اے ایل ٹی ڈی کے ناظرین کو بھی شامل کرنے کی تجاویز دی گئی ہیں، تاکہ خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل سے متعلق تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا جا سکے۔
سفارشات کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
- ‘ٹیلی مواصلات ایکٹ،2023’ کی دفعہ 3(1)(a) کے تحت ‘ایپ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات (اے ایل ٹی ڈی)’ متعارف کرانے کی سفارش کی گئی ہے۔
- ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ کی تعریف ایسے نظام کے طور پر کی گئی ہے جس کے تحت مرکزی حکومت سے منظور شدہ خطی ٹیلی ویژن چینلوں، بشمول ‘انٹرنیٹ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن چینلوں’ (منظور شدہ نام اور نشان کے ساتھ)، کو یکجا کیا جائے۔ اس میں اے ایل ٹی ڈی ایپ فراہم کرنے والے کے اپنے پلیٹ فارم کے چینل بھی شامل ہوں گے۔ ان چینلوں کو عوامی انٹرنیٹ یا دیگر آئی پی پر مبنی نیٹ ورک کے ذریعے ایپلی کیشنز، ویب سائٹس یا صارفین کے لیے بنائے گئے اسی طرح کے دیگر ذرائع سے انٹرنیٹ سے منسلک آلات پر صارفین تک پہنچایا جائے گا۔ اس کے ساتھ حسبِ ضرورت اضافی خدمات بھی فراہم کی جا سکتی ہیں، جن میں طلب کے مطابق صوتی و بصری مواد شامل ہے یا شامل نہیں بھی ہو سکتا ہے۔
- اس خدمت کے دائرے میں بھارت میں صارفین کے لیے ایسی ایپلی کیشنز کی تیاری، ان کا نفاذ اور انتظام شامل ہوگا۔ تاہم، نشریاتی اداروں کے اپنے ایسے پلیٹ فارم اس کے دائرے سے باہر ہوں گے جو صرف اپنے چینل یا اپنی ذیلی کمپنی یا اصل کمپنی کے چینل نشر کرتے ہیں۔ اسی طرح سماجی ذرائع ابلاغ کے پلیٹ فارموں پر براہِ راست نشر کیے جانے والے پروگرام بھی اس میں شامل نہیں ہوں گے۔
- ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ کے اجازت نامے سے متعلق شرائط و ضوابط کو ‘ٹیلی مواصلات ایکٹ،2023’ کی دفعہ 56 کے تحت قواعد کی صورت میں نوٹیفائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اجازت نامہ جاری کرنے، چینلوں کے اندراج اور رپورٹ پیش کرنے کے عمل کو آن لائن پورٹل کے ذریعے انجام دینے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
- ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ فراہم کرنے کے لیے اجازت نامہ حاصل کرنے اور اجازت نامے سے متعلق نافذ العمل ضابطہ جاتی نظام کی پابندی کرنے کی بنیادی ذمہ داری ایپلی کیشن فراہم کرنے والے ادارے پر عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- اس خدمت کے لیے کم پابندیوں پر مبنی اجازت نامے کا نظام تجویز کیا گیا ہے، جس کے تحت خدمات کا دائرۂ کار پورے ملک پر محیط ہوگا۔ اجازت نامے کی ابتدائی مدت 20 سال ہوگی، جس میں ہر بار 10 سال کی توسیع کی جا سکے گی۔ درخواست کی کارروائی کی فیس10,000 روپے اور ایک مرتبہ ادا کی جانے والی داخلہ فیس1 لاکھ روپےمقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اجازت نامے کی کوئی فیس، بینک ضمانت یا ضمانتی رقم نہیں لی جائے گی۔
- اجازت نامہ جاری کرنے کے تفصیلی شرائط و ضوابط کے ساتھ ساتھ ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ پر لاگو عمومی اور مخصوص شرائط و ضوابط بھی تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ شرائط نشریاتی خدمات کے اجازت ناموں کے نظام سے متعلق ٹی آر اے آئی کی سفارشات کے مطابق ہیں، تاہم ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ کی ایپلی کیشن پر مبنی اور کم بنیادی ڈھانچے کی ضرورت والی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان میں مناسب تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
- اطلاعات و نشریات کی وزارت کو ‘اے ایل ٹی ڈی ایپلی کیشنز کا مرکزی ذخیرہ’ قائم رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اصل آلات تیار کرنے والے اداروں (او ای ایم)، بشمول ٹیلی ویژن تیار کرنے والوں اورآپریریٹنگ سسٹم (او ایس فراہم کرنے والوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے آلات اور ایپلی کیشنز کے ذخیروں کے ذریعے صرف منظور شدہ اے ایل ٹی ڈی ایپلی کیشنز ہی دستیاب ہوں۔ ان اداروں کو مقررہ نمونے کے مطابق ہر سال تعمیل کی رپورٹ بھی وزارت کو پیش کرنا ہوگی۔
- پہلے سے اجازت یافتہ یا منظور شدہ ٹیلی ویژن چینلوں کے علاوہ، ‘انٹرنیٹ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن چینلوں’ کے سادہ اندراج کے لیے بھی ایک نظام تجویز کیا گیا ہے۔
- ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ فراہم کرنے والے مجاز ادارے کے لیے لازم ہوگا کہ وہ صرف ایسے ٹیلی ویژن چینلوں کی ترسیل کرے جنہیں مرکزی حکومت سے اجازت یا منظوری حاصل ہو یا جن کا باقاعدہ اندراج کیا گیا ہو اور جن کی اجازت، منظوری یا اندراج مؤثر ہو۔
- ‘اے ایل ٹی ڈی سروس’ سے متعلق صارفین کی شکایات وصول کرنے اور ان کے ازالے کے لیے ایپلی کیشن فراہم کرنے والے ادارے کو بنیادی رابطہ کار مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- اے ایل ٹی ڈی ایپلی کیشنز کے ذریعے نشر کیے جانے والے ٹیلی ویژن چینلوں کے ناظرین کی تعداد کو ٹیلی ویژن کے ناظرین کی پیمائش کے نظام میں شامل کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، مجاز اے ایل ٹی ڈی ایپلی کیشن فراہم کرنے والوں کو ‘ٹی وی درجہ بندی پالیسی،2026’ کے مطابق، ناظرین کی تعداد سے متعلق شناخت ظاہر نہ کرنے والے اعداد و شمار وقتاً فوقتاً شائع کرنے کی اجازت دینے کی سفارش کی گئی ہے۔
ان سفارشات کا مقصد ایسا سازگار اجازت نامہ نظام فراہم کرنا ہے جو انٹرنیٹ پر مبنی خطی ٹیلی ویژن کی ترسیل کی خدمات کی منظم ترقی کو فروغ دے۔
یہ سفارشات ٹی آر اے آئی کی ویب سائٹ (www.trai.gov.in) پر دستیاب ہیں۔ کسی بھی وضاحت یا مزید معلومات کے لیے ٹی آر اے آئی کی مشیر (نشریاتی و کیبل خدمات) ڈاکٹر دیپالی شرما سے ٹیلی فون نمبر +91-11-20907774پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
**********
) ش ح –ک ا-ش ت)
U.No. 6705