پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 4:00PM by PIB Delhi
متعلقہ فریقوں کی ضروریات کے تئیں زیادہ حساسیت اور بہتر ردِ عمل
|
اہم جھلکیاں:
- اے ایس یو ایس ای 28-2027 سروے اپریل ، 2027 ء سے مارچ ، 2028 ء تک کرانے کی تجویز ہے، تاکہ سروے کی مدت کو مالی سال کے مطابق رکھا جا سکے۔
- غیر کارپوریٹ شعبے کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے سروے میں پالیسی سے متعلق نئے سوالات شامل کیے جائیں گے۔
- خواتین کاروباریوں کو درپیش صنفی بنیادوں پر مخصوص رکاوٹوں سے متعلق معلومات پہلی بار جمع کی جائیں گی۔
- اداروں میں سرمایہ کاری کے رجحان کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے ایک نیا سوال شامل کیا گیا ہے۔
- متعلقہ وزارتوں اور معلومات استعمال کرنے والے دیگر فریقوں کی ضروریات کو سروے میں شامل کیا جائے گا، تاکہ اے ایس یو ایس ای کا نظام غیر کارپوریٹ شعبے کی بدلتی ہوئی ساخت کے مطابق متعلقہ، درست اور ضروریات کے تئیں جواب دہ رہے۔
- گزشتہ سروے میں اپنائے گئے طریقۂ کار کے مطابق، اے ایس یو ایس ای 28-2027 کے نمونے کے انتخاب کے منصوبے میں شریک ریاستوں کے ذریعے ضلعی سطح کے تخمینے تیار کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
|
غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبہ بھارتی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ روزگار کی فراہمی اور مجموعی اضافۂ قدر میں نمایاں تعاون کرتا ہے، بڑی تعداد میں لوگوں کے لیے ذریعۂ معاش فراہم کرتا ہے اور کارپوریٹ شعبے کے ساتھ اپنے روابط کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دیتا ہے۔ اس شعبے کے ادارے مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان کے حجم، تنظیمی ڈھانچے اور کام کرنے کے حالات میں کافی فرق پایا جاتا ہے۔ اس لیے ان کے عملی پہلوؤں اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق قابلِ اعتماد اور بروقت معلومات حاصل کرنا ضروری ہے، تاکہ اس شعبے کی ساخت اور کارکردگی کو سمجھا جا سکے اور اس کی متنوع ضروریات کو پورا کرنے والی پالیسیاں وضع کی جا سکیں۔
قومی شماریاتی دفتر ( نیشنل اسٹیٹسٹکس آفس - این ایس او ) ، شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت ( ایم او ایس پی آئی ) کے تحت، 2021-22 ء سے غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کا سالانہ سروے ( اینوئل سروے آف اَن اِن کارپوریٹیڈ سیکٹر انٹر پرائزز - اے ایس یو ایس ای ) کرایا جا رہا ہے، تاکہ معیشت کے اس اہم شعبے کے بارے میں جامع شماریاتی معلومات جمع کی جا سکیں۔ اس سروے کے ذریعے غیر کارپوریٹ اداروں کی خصوصیات اور معاشی سرگرمیوں سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہیں، جو معاشی تجزیے، پالیسی سازی اور قومی حسابات کی تیاری کے لیے اعداد و شمار کی دستیابی میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔
اے ایس یو ایس ای کی ترقی میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مسلسل رابطے اور معلومات کی ابھرتی ہوئی ضروریات کے جائزے کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں وزارت نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں معلومات کے صارفین کی کانفرنسوں کا انعقاد، متعلقہ وزارتوں کے ساتھ باقاعدہ مشاورت اور سروے کے مختلف تکنیکی پہلوؤں پر ماہرین کے گروپوں کے ساتھ تبادلۂ خیال شامل ہیں۔
جاری اے ایس یو ایس ای 2026 کے دوران ، بھی مختلف فورموں کے ذریعے متعلقہ فریقوں سے تجاویز اور معلومات سے متعلق ضروریات موصول ہوئی ہیں۔ ان تجاویز اور معلومات کے ساتھ ساتھ سروے کی ضروریات کے بارے میں قومی شماریاتی دفتر ( این ایس او ) کے داخلی جائزے کی بنیاد پر اے ایس یو ایس ای 2027-28 ء کے سوال نامے میں مجوزہ تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ان مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد ، سروے کو پالیسی کے نقطۂ نظر سے مزید مؤثر بنانا ہے، جب کہ غیر کارپوریٹ غیر زرعی شعبے سے متعلق سرکاری اعداد و شمار کے ایک اہم ذریعے کے طور پر اس کے کردار کو برقرار رکھنا بھی ہے۔
اے ایس یو ایس ای 2027-28 ء میں مجوزہ اہم تبدیلیاں
- پہلی بار ایسے سوالات شامل کیے جائیں گے ، جن کے ذریعے خواتین کاروباریوں کو اپنے ادارے چلانے اور ان کا انتظام کرنے میں درپیش صنفی بنیادوں پر مخصوص رکاوٹوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جائیں گی۔ ان سوالات کا مقصد غیر کارپوریٹ شعبے میں خواتین کاروباریوں کو درپیش مشکلات سے متعلق معلومات کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔
اس طرح کی معلومات خواتین کی زیرِ قیادت چلنے والے کاروباری اداروں کو درپیش رکاوٹوں کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں اور ان عوامل کا جائزہ لینے کے لیے ایک مفید شواہد کی بنیاد فراہم کر سکتی ہیں ، جو ان کے کاروباری امور کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے خواتین کاروباریوں کو درپیش مشکلات کا تجزیہ کرنے کے لیے ، اے ایس یو ایس ای کے ذریعے دستیاب معلومات کا دائرہ بھی وسیع ہوگا اور معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی شرکت سے متعلق پالیسی مباحثے میں بھی مدد ملے گی۔
- اداروں میں بجلی کے استعمال کے مختلف ذرائع سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے اضافی سوالات شامل کیے جائیں گے۔ اس سے غیر کارپوریٹ شعبے کے کاروباری اداروں میں توانائی کے استعمال کے طریقوں کی زیادہ جامع تصویر سامنے آئے گی۔ بجلی کے ذرائع سے متعلق معلومات، اعداد و شمار استعمال کرنے والوں کو یہ بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں کہ ادارے کن انتظامات کے تحت بجلی حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، مختلف سرگرمیوں سے وابستہ کاروباری اداروں کے کام کرنے کے ماحول کا تجزیہ کرنے میں بھی سہولت ملے گی۔ ان سوالات کی شمولیت سے اداروں کی عملی ( آپریشنل ) خصوصیات کے بارے میں اے ایس یو ایس ای کے ذریعے دستیاب معلومات کے دائرے کو مزید وسعت ملے گی۔
- غیر منقولہ اثاثوں کے بجائے مستقل اثاثوں میں سرمایہ کاری سے متعلق ایک نیا سوال شامل کیا جائے گا، جس کے ذریعے موجودہ سوال نامے میں شامل مدت سے زیادہ طویل عرصے کے دوران کی گئی سرمایہ کاری کی معلومات حاصل کی جائیں گی۔ اس تبدیلی کا مقصد ، اداروں میں سرمایہ کاری کے رجحان کی زیادہ وسیع تصویر پیش کرنا ہے۔ طویل مدت پر محیط معلومات سے موجودہ سوال میں شامل مدت سے آگے کی سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے میں مدد مل سکتی ہے، نیز اداروں کے سرمایہ کاری سے متعلق رویّے اور کاروباری امکانات کے بارے میں اضافی معلومات بھی حاصل ہو سکتی ہیں۔ اس سے غیر کارپوریٹ شعبے میں سرمایہ کاری کے رجحانات کو سمجھنے کے لیے اے ایس یو ایس ای کے اعداد و شمار کی تجزیاتی افادیت میں بھی اضافہ ہوگا۔
- کھڈی اور دست کاری کا شعبہ بھارتی غیر کارپوریٹ معیشت اور روایتی علم کے نظاموں کے سنگم پر واقع ہے۔ اس شعبے کے لیے شواہد پر مبنی پالیسی سازی کی غرض سے درست، تفصیلی اور قابلِ عمل اعداد و شمار کی دستیابی ناگزیر ہے۔ اسی تناظر میں، ٹیکسٹائل کی وزارت کی درخواست پر کھڈی، بجلی سے چلنے والی کھڈی اور دست کاری سے وابستہ اداروں کی شناخت کے لیے دو سوالات شامل کیے جائیں گے۔ ان مجوزہ سوالات کا مقصد سروے کے دائرے میں ان سرگرمیوں سے وابستہ اداروں کی شناخت کو آسان بنانا ہے۔
اس طرح کی معلومات کی دستیابی سے غیر کارپوریٹ شعبے کے ان حصوں کا تجزیہ کرنے کے امکانات بہتر ہوں گے اور متعلقہ وزارت کی معلومات سے متعلق مخصوص ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی۔ مجموعی طور پر، ان تبدیلیوں کا مقصد ، اے ایس یو ایس ای کو پالیسی کے نقطۂ نظر سے مزید مؤثر بنانا اور مختلف وزارتوں اور اعداد و شمار استعمال کرنے والے دیگر فریقوں کی معلوماتی ضروریات کے مطابق اس کی جواب دہی کو بہتر بنانا ہے۔
- سروے کے نظام الاوقات میں ایک اہم تبدیلی کے تحت، اے ایس یو ایس ای کے سروے کی مدت کو تقویمی سال ( جنوری تا دسمبر ) سے تبدیل کرکے مالی سال ( اپریل تا مارچ ) کے مطابق کیا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق، اے ایس یو ایس ای 2027-28 ء اپریل ، 2027 ء سے مارچ ، 2028 ء تک کرانے کی تجویز ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد ، سروے کی حوالہ جاتی مدت کو مالی سال کے مطابق بنانا ہے، جیسا کہ دیگر کاروباری اداروں سے متعلق سروے، مثلاً صنعتی اداروں کا سالانہ سروے ( اے ایس آئی ) اور رجسٹرڈ خدماتی شعبے کے اداروں کا سالانہ سروے ( اینوئل سروے آف اِن کارپوریٹیڈ سروسز سیکٹر انٹر پرائزز - اے ایس آئی ایس ایس ای ) وغیرہ میں کیا جاتا ہے۔ اس سے قومی حسابات کی تیاری کے لیے اے ایس یو ایس ای کے اعداد و شمار کی افادیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ توقع ہے کہ سروے کو مالی سال کے مطابق کرنے سے اس کی معلومات کو مالی سال کی بنیاد پر مرتب کیے جانے والے دیگر معاشی اعداد و شمار کے ساتھ ملا کر استعمال کرنا آسان ہو جائے گا۔
اس تبدیلی کے دوران سہ ماہی تخمینوں کی تیاری میں تسلسل برقرار رکھنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ جنوری تا مارچ ، 2027 ء کے سہ ماہی تخمینوں میں تعطل سے بچنے کے لیے اس سہ ماہی کے دوران بھی موجودہ اے ایس یو ایس ای 2026ء کے سوال نامے کے مطابق سروے کیا جائے گا۔ اس کے بعد اپریل ، 2027 ء میں اے ایس یو ایس ای 2027-28 ء کے تحت سروے کا نیا دور شروع ہوگا۔ اس انتظام کا مقصد ، سہ ماہی شماریاتی سلسلے میں تسلسل برقرار رکھتے ہوئے سروے کے نظرثانی شدہ نظام الاوقات کو اپنانے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
اے ایس یو ایس ای کے سابقہ ادوار میں سروے کے معیار، دائرۂ کار اور افادیت کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے اقدامات اے ایس یو ایس ای 2027-28 میں بھی جاری رہیں گے۔
ان اقدامات میں نمونے کے انتخاب کے نظرثانی شدہ طریقۂ کار کو شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت شریک ریاستوں کے ذریعے ضلعی سطح کے تخمینے تیار کیے جا سکیں گے؛ عالمی سطح پر تسلیم شدہ درجہ بندیوں کا استعمال؛ اور اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے تیز رفتار کمپیوٹر کی مدد سے ذاتی انٹرویو ( سی اے پی آئی ) پر مبنی نظاموں کا نفاذ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، اطلاعات و مواصلاتی ٹیکنالوجی ( آئی سی ٹی ) سے متعلق حصے کو پالیسی کے نقطۂ نظر سے مزید مؤثر بنایا گیا ہے، جس میں اداروں کی ای - کامرس بازار میں موجودگی اور ڈیجیٹل ادائیگی کے ذرائع، مثلاً یو پی آئی ( بشمول بھیم ) ، موبائل والیٹس اور پی او ایس آلات کے استعمال سے متعلق سوالات شامل ہیں۔ ان اقدامات سے معلومات کو منظم انداز میں جمع کرنے میں مدد ملتی ہے اور حاصل شدہ اعداد و شمار کی تجزیاتی افادیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
سروے میں حسبِ ضرورت متعلقہ فریقوں کی جانب سے سامنے آنے والی معلوماتی ضروریات کو بھی شامل کیا جاتا رہے گا اور نتائج کو غیر کارپوریٹ شعبے کے اداروں کے سہ ماہی بلیٹن ( کیو بی یو ایس ای ) کے ذریعے شائع کیا جاتا رہے گا۔ سہ ماہی تخمینوں کی مسلسل اشاعت سے غیر کارپوریٹ شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بروقت معلومات کی دستیابی میں مدد ملے گی۔
اے ایس یو ایس ای 2027-28 کے لیے اداروں سے متعلق تفصیلی سوال نامہ شماریات و پروگرام کے نفاذ کی وزارت ( ایم او ایس پی آئی ) کی سرکاری ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے، تاکہ پالیسی سازوں، متعلقہ وزارتوں، محققین، اعداد و شمار استعمال کرنے والوں اور دیگر دلچسپی رکھنے والے فریقوں سے تبصرے اور تجاویز طلب کی جا سکیں۔
مجوزہ سوال نامے پر تبصرے اور تجاویز مقررہ فارمیٹ میں 15 نومبر ، 2026 ء تک nssocpd.coord@mospi.gov.in اور tc.dpd@mospi.gov.in پر بھیجی جا سکتی ہیں۔ مسودہ سوال نامہ اور رائے دینے کے لیے مقررہ فارمیٹ وزارت کی ویب سائٹ پر فراہم کردہ لنک https://www.mospi.gov.in کے ذریعے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
متعلقہ فریقوں سے موصول ہونے والی تجاویز کی مدد سے وزارت مجوزہ معلوماتی ضروریات کا جائزہ لے سکے گی اور اے ایس یو ایس ای 2027-28 کی افادیت، جامعیت اور پالیسی سازی میں اس کے استعمال کو مزید بہتر بنا سکے گی۔
----------------------------
( ش ح ۔ م م ۔ ع ا )
U.No. 6706