پوسٹ کرنے کی تاریخ:
26 OCT 2026 3:07PM by PIB Delhi
بہت سے طلبہ کے لیے معیاری اعلیٰ تعلیم تک رسائی روشن مستقبل کی جانب ایک اہم قدم ہوتی ہے۔ تاہم، محروم طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے سماجی امتیاز اور مالی تنگی تعلیمی اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹیں بن سکتی ہیں۔ درج فہرست ذات (ایس سی) سے تعلق رکھنے والی26 سالہ پوسٹ گریجویٹ طالبہ محترمہ یُکتی کی داستان اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ حکومت کی جانب سے ہدف پر مبنی معاونت کس طرح تعلیمی خوابوں کو مواقع میں بدلنے میں مدد دے سکتی ہے۔
بچپن ہی سے یُکتی کو ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور سماجی محرومی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے خاندان کو مسلسل مالی مشکلات بھی درپیش رہیں، کیونکہ ان کے والد ہی خاندان کے واحد کفیل تھے اور کم تنخواہ والی ملازمت کرتے تھے۔ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود، پیشہ ورانہ رکاوٹوں اور سماجی تعصب کے باعث ان کے والد کو ملازمت میں آگے بڑھنے کے محدود مواقع ملے، جس کے نتیجے میں خاندان کے وسائل محدود رہے۔ اس کے باوجود یُکتی کے والدین نے ان کی تعلیم کو ترجیح دی اور انہیں اپنے عزائم پورے کرنے کی ترغیب دی۔ مالی تحفظ کا کوئی متبادل ذریعہ نہ ہونے کے باعث، یُکتی نے اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے سرکاری اسکولوں اور عوامی وظائف پر انحصار کیا۔
یُکتی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور تحقیق و علمی ترقی سے وابستہ ایک بامقصد پیشہ ورانہ زندگی تعمیر کرنے کی خواہش رکھتی تھیں۔ تاہم، بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم کے لیے درکار بھاری اخراجات ان کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ نظر آتے تھے۔ ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں2024–2023 کے دوران حکومتِ ہند کی قومی اوور سیز اسکالر شپ اسکیم (این او ایس)کے تحت مالی معاونت حاصل ہوئی۔ اس وظیفے کے تحت ان کی تعلیمی فیس ادا کی گئی اور انہیں سالانہ 9,900 پاؤنڈ بطور خرچِ گزران فراہم کیے گئے۔ اس معاونت نے انہیں بیرونِ ملک معیاری تعلیم حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا، جو بصورتِ دیگر مالی اعتبار سے ان کی دسترس سے باہر تھی۔

اس وظیفے نے یُکتی اور ان کے خاندان پر مالی بوجھ کو نمایاں طور پر کم کیا اور انہیں اپنی تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی پر توجہ مرکوز کرنے کے قابل بنایا۔ بیرونِ ملک اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے باعث اگرچہ اخراجات کا انتظام کرنا بدستور ایک چیلنج رہا، تاہم اس مالی معاونت نے ان کے تعلیمی سفر کے دوران ضروری سہارا فراہم کیا۔ اس وظیفے کے لیے انتخاب نے یُکتی کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ کیا، ان کی تعلیمی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور اس یقین کو مستحکم کیا کہ وہ بین الاقوامی سطح کے مسابقتی تعلیمی ماحول میں اپنی جگہ بنانے کی اہل ہیں۔
بیرونِ ملک تعلیم کے دوران یُکتی کو بین الاقوامی تجربہ حاصل ہوا اور انھوں نے اعلیٰ علمی معلومات و مہارتیں حاصل کیں، جن سے ان کے پیشہ ورانہ امکانات بہتر ہوئے۔ اس کے بعد انھوں نے ہندوستان میں نجی شعبے میں قدم رکھا، جہاں انہیں پیشہ ورانہ مواقع حاصل ہوئے اور وہ معاشی خودمختاری کی جانب گامزن ہوئیں۔ اگرچہ ان کی آمدنی میں اضافے کے بارے میں کوئی مخصوص معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان کی تعلیمی کامیابیاں اور پیشہ ورانہ ملازمت کا حصول ان کی امنگوں کی تکمیل کی جانب اہم پیش رفت ہے۔
یُکتی کا سفر تعلیمی شمولیت کو فروغ دینے اور درج فہرست ذاتوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے قابل بنانے میں قومی اوور سیز اسکالر شپ اسکیم کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔ تعلیمی فیس اور اخراجاتِ گزران کے لیے مالی معاونت فراہم کرکے یہ اسکیم مستحق طلبہ کو معاشی رکاوٹوں پر قابو پانے، اپنے افق کو وسیع کرنے اور پیشہ ورانہ ترقی کی راہیں ہموار کرنے میں مدد دیتی ہے۔ یُکتی کا تجربہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکومتی معاونت، خاندان کی حوصلہ افزائی اور ذاتی عزم مل کر کس طرح تعلیمی امنگوں کو حقیقی مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔
**********
) ش ح –ک ا-ش ت)
U.No. 6700