سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

آئی سی جی ای بی نئی دہلی نے ای ایس ٹی آئی سی 2026 کی افتتاحی تقریب سے قبل تعارفی پروگرام کا انعقادکیا، نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات میں بھارت کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 26 OCT 2026 11:31AM by PIB Delhi

بین الاقوامی مرکز برائے جینیاتی انجینئرنگ اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی (آئی سی جی ای بی)، نئی دہلی نے ابھرتی ہوئی سائنس و ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق کانکلیو (ای ایس ٹی آئی سی 2026) کے تعارفی پروگرام سے قبل ایک تقریب منعقد کیا ۔ اس موقع پر نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات کے موضوع پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس میں بھارت میں سائنسی تحقیق، حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور اختراع کو آگے بڑھانے میں ان شعبوں کی انقلابی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا۔

اس تقریب میں نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر گوبردھن داس مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے۔ دیگر ممتاز شخصیات میں محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی (ڈی بی ٹی) کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے، ڈی بی ٹی کے سائنس دان-ایچ ڈاکٹر دھننجے کمار تیواری اور آئی سی جی ای بی، نئی دہلی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رمیش وی سونتی شامل تھے۔

ڈاکٹر رمیش وی سونتی نے ای ایس ٹی آئی سی 2026 کا اجمالی تعارف پیش کیا، جس کا انعقاد نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں کیا جائے گا۔ نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر سونتی نے بتایا کہ محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی ای ایس ٹی آئی سی 2026 میں ’’نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات‘‘ کے موضوع پر ایک نشست کا اہتمام کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ابھرتے ہوئے شعبے زندگی کے تقریباً ہر پہلو سے تعلق رکھتے ہیں اور سائنسی ترقی کے لیے وسیع امکانات فراہم کرتے ہیں۔

نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات پر منعقدہ نشست میں پیچیدہ حیاتیاتی نظاموں کو سمجھنے اور مختلف شعبوں کے علم کو یکجا کرکے حیاتیاتی عمل کو مخصوص مقاصد کے لیے وضع کرنے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ان کے استعمال سے صحت کی دیکھ بھال، زراعت، صنعتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں پیش رفت ممکن ہے۔ یہ ابھرتے ہوئے شعبے اختراعات کو تیز کرنے، حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی نئے حل تیار کرنے اور عالمی حیاتیاتی معیشت میں بھارت کی پوزیشن مضبوط بنانے کے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔

اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر دھننجے کمار تیواری، منیجنگ ڈائریکٹر، بائرک اور سائنس دان-ایچ، محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی نے نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات کی انقلابی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور صحت کی دیکھ بھال، حیاتیاتی تیاری اور حیاتیاتی ڈیزائن کے شعبوں میں ان کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے حیاتیاتی تحقیق کو تیز کرنے میں مصنوعی ذہانت کے کردار کو بھی نمایاں کیا اور کہا کہ بایو ای تھری پالیسی بھارت کے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

اپنے خطاب میں محکمۂ حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش ایس گوکھلے نے شرکا کا خیرمقدم کیا اور اختراع اور سماجی ترقی کو آگے بڑھانے میں سائنس کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا۔ پینسلین کی دریافت اور بڑے پیمانے پر اس کی تیاری کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سائنسی دریافتوں کے حقیقی اثرات اسی وقت سامنے آتے ہیں جب انہیں وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال حل میں تبدیل کرکے معاشرے تک پہنچایا جاتا ہے۔ انہوں نے اختراع کے ایک مؤثر ذریعہ کے طور پر حیاتیات کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حیاتیاتی ٹیکنالوجی اپنے دوسرے انقلابی دور میں داخل ہو رہی ہے، جس میں انسانی ترقی کے متعدد پہلوؤں کو نئی شکل دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے تحقیق، ترقی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے توسیع کے عمل کو مضبوط بنا کر تجربہ گاہوں میں ہونے والی دریافتوں کو عملی استعمال میں لانے کی رفتار تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مہمانِ خصوصی اور نیتی آیوگ کے رکن پروفیسر گوبردھن داس نے بھارت کی بڑھتی ہوئی سائنسی صلاحیتوں اور قومی ترقی کو آگے بڑھانے، اختراعی نظام کو مضبوط بنانے اور عالمی سطح پر ابھرنے والے نئے چیلنجوں سے نمٹنے میں حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے وسیع امکانات کو اجاگر کیا۔ وزیرِ اعظم کے پیش کردہ وژن کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بھارت کے مستقبل کی تشکیل میں حیاتیات، سائنس اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا۔ پروفیسر داس نے بھارت کے عالمی سطح پر حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے ایک سرکردہ ملک کے طور پر ابھرنے کی صلاحیت پر بھی اعتماد ظاہر کیا اور بنیادی تحقیق کو عملی استعمال میں لانے کی اہمیت اجاگر کی۔ کووِڈ-19 کی ویکسینوں کی تیاری کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حیاتیات کے بنیادی شعبے میں ہونے والی تحقیق کس طرح زندگی بچانے والی اختراعات کا ذریعہ بن سکتی ہے اور صحتِ عامہ کے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے میں مدد دے سکتی ہے۔

ای ایس ٹی آئی سی 2026 کے انعقاد سے قبل منعقد ہونے والے اس تعارفی پروگرام نے بھارت کے تحقیقی اور اختراعی مقاصد کو آگے بڑھانے میں سائنس کے ابھرتے ہوئے شعبوں کے کردار پر تبادلۂ خیال کے لیے راہ ہموار کی۔

ای ایس ٹی آئی سی 2026 کے بارے میں

ابھرتی ہوئی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق کانکلیو (ای ایس ٹی آئی سی 2026) ایک اہم قومی پلیٹ فارم ہے، جس کا اہتمام حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر کی رہنمائی میں سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کر رہی ہے۔ اس کانکلیو کا انعقاد 27 سے 29 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں طے ہے۔ اس کا مقصد ممتاز سائنس دانوں، پالیسی سازوں، صنعت کے قائدین، محققین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اختراع کرنے والوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے، تاکہ سائنسی میدان میں ہونے والی اہم پیش رفت کو پیش کیا جا سکے، مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا جا سکے اور تحقیقی نتائج کو مؤثر ٹیکنالوجی میں تبدیل کرنے کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔

نظامی حیاتیات اور مصنوعی حیاتیات، جدید مینوفیکچرنگ، توانائی کی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور جدید طبی نگہداشت سمیت 12 اہم موضوعاتی شعبوں کا احاطہ کرنے والے اس کانکلیو کا مقصد 2047 تک وِکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں مدد کے لیے بھارت کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے نظام کو مضبوط بنانا ہے۔

جدید ترین تحقیق، سائنسی تعاون اور صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے مسلسل عزم کے ساتھ، آئی سی جی ای بی نئی دہلی حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی ترقی اور عالمی سائنس و ٹیکنالوجی میں بھارت کے تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔

آئی سی جی ای بی، نئی دہلی کے بارے میں

بین الاقوامی مرکز برائے جینیاتی انجینئرنگ اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی (آئی سی جی ای بی)، نئی دہلی، علومِ حیات کے شعبے میں تحقیق اور تربیت کا ایک ممتاز مرکز ہے۔ یہاں کے تحقیقی پروگراموں میں متعدی امراض، ویکسین اور تشخیصی طریقوں، نباتاتی حیاتیاتی ٹیکنالوجی، حیاتیاتی توانائی، حیاتیاتی معلوماتیات اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی کے دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ سائنسی تحقیق، صلاحیت سازی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے آئی سی جی ای بی انسانی فلاح و بہبود اور پائیدار ترقی کے لیے حیاتیاتی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

 

*****

 (ش ح ۔رک)

U. No.6681


(ریلیز آئی ڈی: 2328353) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati