بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی درجے کی صنعتوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے اپنے پروگرام ’من کی بات‘ میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے کی کامیابیوں کو اجاگر کرتے ہوئے کاریگروں کے حوصلے بڑھائے


’کھادی خاندان‘ سے وابستہ لاکھوں کاریگروں کی جانب سے کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا

وزیر اعظم کی اپیل نے کھادی کو ایک نئی شناخت دی ہے اور دیسی (سودیشی) مصنوعات پر عوام کے اعتماد کو مزید مستحکم کیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 25 OCT 2026 9:50PM by PIB Delhi

بہت چھوٹی، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی وزارت ، حکومتِ ہند کے تحت کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم نے اپنے پروگرام ’من کی بات‘ کی 139ویں قسط میں کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت میں ہونے والے اضافے کو نمایاں کیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے تہواروں کے موسم میں مقامی کاریگروں کی تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دیں۔ جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم کی اس حوصلہ افزائی سے کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے سے وابستہ ملک بھر کے لاکھوں کاریگروں، بُنکروں، دست کاروں اور دیہی صنعت کاروں کو وقار کا احساس، آگے بڑھنے کا حوصلہ اور نئی توانائی ملی ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے کھادی اور دیہی صنعتوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کے نتیجے میں یہ شعبہ اپنی روایتی شناخت سے آگے بڑھ کر روزگار کے مواقع پیدا کرنے، خواتین کو بااختیار بنانے، دیہی معیشت کو مستحکم کرنے اور خود کفیل ہندوستان کی تعمیر میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم کی ترغیب سے کھادی آج نہ صرف ملک کے ثقافتی ورثے کی علامت بن گئی ہے، بلکہ جدید ہندوستان کے اعتماد و خود اعتمادی کی ترجمان بھی ہے۔ یہ سودیشی جذبے اور معاشی بااختیاری کی علامت کے طور پر اپنی نمایاں شناخت قائم کر چکی ہے۔

وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن (کے وی آئی سی) کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا، ’’آج ’من کی بات‘ کی قسط میں کھادی اور دیہی صنعتوں کا ذکر ہمارے لیے بے حد فخر کا لمحہ ہے، کیونکہ اسی کے ساتھ ’من کی بات‘ کے 12 سال بھی مکمل ہو رہے ہیں۔ 3اکتوبر 2014 کو اسی پلیٹ فارم سے وزیر اعظم نے عوام سے کھادی خریدنے کی اپیل کی تھی، جس سے اسے ایک نئی شناخت ملی۔ اس کے بعد سے وہ مسلسل کھادی اور سودیشی مصنوعات کی خریداری کی حوصلہ افزائی کرتے رہے ہیں۔ گاندھی جینتی کے موقع پر ایک ہی دن میں کھادی کی فروخت 28 کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کی بات کو اجاگر کرکے انہوں نے کھادی سے وابستہ لاکھوں کاریگروں، بالخصوص خواتین کے حوصلے مزید بلند کیے ہیں۔ کے وی آئی سی اور ملک بھر کے تمام کھادی کاریگر عزت مآب وزیر اعظم کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ ہم عہد کرتے ہیں کہ معیار، جدت طرازی اور نوجوان نسل کو اس شعبے سے جوڑنے پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے ’ووکل فار لوکل‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے ان کے تصور کو مزید مستحکم کریں گے۔‘‘’من کی بات‘ کی یہ قسط خاص اہمیت کی حامل تھی، کیونکہ اس کے ساتھ اس پروگرام کے 12 سال مکمل ہوئے، جس کا آغاز 3 اکتوبر 2014 کو وجے دشمی کے موقع پر ہوا تھا۔

جناب گوئل نے یاد دلایا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ’من کی بات‘ کے ذریعے متعدد مواقع پر کھادی کی حصولیابیوں کا ذکر کیا ہے اور ملک کے شہریوں سے کھادی کی مصنوعات خریدنے کی اپیل کی ہے۔ 3 اکتوبر 2014 کو ’من کی بات‘ کی پہلی قسط میں، جو گاندھی جینتی کے موقع پر نشر ہوئی تھی، وزیر اعظم نے کم از کم ایک کھادی مصنوعات خریدنے کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل کے اگلے ہی دن، 4 اکتوبر 2014 کو، کھادی اور دیہی صنعتوں کے کمیشن کے مرکزی فروخت مرکز پر ریکارڈ فروخت درج کی گئی۔ اس کے بعد 26 ستمبر 2021 کو ’من کی بات‘ کی 81ویں قسط، 25 ستمبر 2022 اور 24 ستمبر 2023 کو کی گئی ایسی ہی اپیلوں کے نتیجے میں، کناٹ پلیس میں واقع کھادی بھون میں 2 اکتوبر 2022 کو 1.34 کروڑ روپے کی ریکارڈ فروخت ہوئی، جب کہ 2 اکتوبر 2023 کو فروخت کا یہ اعداد و شمار 1.52 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا۔ 28 ستمبر 2025 کو نشر ہونے والی ’من کی بات‘ کی 126ویں قسط میں وزیر اعظم نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ 2 اکتوبر کو کم از کم ایک کھادی مصنوعات خریدیں اور اس کی دیسی شناخت پر فخر کریں۔ اس کے بعد 25 اکتوبر 2026 کو نشر ہونے والی 139ویں قسط میں انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ گاندھی جینتی کے موقع پر ایک ہی دن میں کھادی اور دیہی صنعتوں کی مصنوعات کی فروخت 28 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی۔ انہوں نے عوام سے تہواروں کے موسم میں مقامی مصنوعات خریدنے کی اپیل بھی کی۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب منوج گوئل نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش سوچ اور پالیسیوں کے نتیجے میں کھادی اور دیہی صنعتوں کے شعبے نے غیرمعمولی ترقی کی ہے۔ مالی سال 2025-26 میں اس شعبے کا کاروبار 1.87 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا، جب کہ اس کے ذریعے 2.04 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کیا گیا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل قریب میں یہ شعبہ 2.51 لاکھ کروڑ روپے کے کاروباری ہدف کو بھی حاصل کر لے گا۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 (ش ح ۔ش ب۔ع ن)

U. No. 6674


(ریلیز آئی ڈی: 2328328) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Kannada