دیہی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب شو راج سنگھ چوہان نے وی بی-جی رام جی کے لیے جدید سکیورٹی خصوصیات سے لیس این ایم ایم ایس ایپ کا بہتر ورژن لانچ کیا


آئی آئی ٹی مدراس کے تعاون سے تیار کردہ نئے ورژن سے حاضری کی تصدیق کا نظام مضبوط ہوگا، مزدوروں کی اجرت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا اور نیٹ ورک کنیکٹیویٹی کے مسائل کو حل کرنے میں مدد ملے گی

وی بی-جی رام جی کے تحت تقریباً 46 کروڑ یوم کار پیدا کیے گئے؛ 10.997 کروڑ فارمر آئی ڈی بنائی گئیں، جس سے ہندوستان دسمبر 2027 کے مقررہ ہدف سے پہلے 11 کروڑ کے سنگ میل کے قریب پہنچ گیا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 6:59PM by PIB Delhi

زراعت اور کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی کے مرکزی وزیر جناب شو راج سنگھ چوہان نے آج وی بی-جی رام جی کے تحت مزدوروں کی حاضری درج کرنے کے لیے نیشنل موبائل مانیٹرنگ سسٹم (این ایم ایم ایس) ایپ کا جدید سکیورٹی خصوصیات سے لیس بہتر ورژن لانچ کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی مدراس اور متعلقہ تکنیکی ایجنسیوں کے تعاون سے تیار کردہ اس اپ گریڈ شدہ ورژن میں ڈیوائس کی سطح پر زیادہ مضبوط سکیورٹی، مصنوعی ذہانت پر مبنی تصدیق اور ایپ میں چھیڑ چھاڑ اور فرضی حاضری کو روکنے کے حفاظتی انتظامات شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں نیٹ ورک کنیکٹیویٹی نہ ہونے والے علاقوں میں آف لائن حاضری درج کرنے کی سہولت اور تصدیق کے عمل میں مشکلات کا سامنا کرنے والے حقیقی مزدوروں کے لیے استثنائی طریقۂ کار بھی فراہم کیا گیا ہے۔

نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ حکومت کی ترجیح دیہی مزدوروں کے لیے روزگار کو یقینی بنانا، ان کی اجرتوں کا تحفظ کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ سرکاری فنڈز شفاف طریقے سے اور مقررہ مقاصد کے لیے استعمال ہوں۔ انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے جواب دہی کو مضبوط بنایا جانا چاہیے، لیکن کنیکٹیویٹی یا تکنیکی مسائل کی وجہ سے حقیقی مزدوروں کو ان کے جائز حقوق سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے۔ اس موقع پر دیہی ترقی کے سکریٹری روہت کنسل، جوائنٹ سکریٹری روہنی آر بھجی بھاکرے اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔

 

وی بی-جی رام جی کے تحت تقریباً 46 کروڑ یوم کار پیدا کیے گئے

 

جناب چوہان نے کہا کہ ملک بھر میں ترقی یافتہ دیہات کی تعمیر کی کوششوں کے ساتھ وکست بھارت کے وژن کو بھی آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یکم جولائی 2026 سے تمام دیہی علاقوں میں نافذ کی گئی وی بی-جی رام جی اسکیم کے ذریعے دیہی خاندانوں کو روزگار کی مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ اسکیم کی پیش رفت کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ 2.41 لاکھ سے زیادہ گرام پنچایتوں میں 31.23 لاکھ کاموں کے مقامات پر کام کیا گیا ہے۔ روزگار کی طلب کے مطابق 2.89 کروڑ دیہی خاندانوں سے تعلق رکھنے والے 3.65 کروڑ سے زیادہ مزدوروں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب تک تقریباً 46 کروڑ یوم کار پیدا کیے جا چکے ہیں، جن میں سے تقریباً 40 کروڑ یوم کار کا اندراج چہرے کی شناخت کے ذریعے کیا گیا ہے۔ مرکز نے مالی سال 2026-27 کے لیے اس اسکیم کے تحت 95,692 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔ ریاستوں کے حصے کو شامل کرنے کے بعد مجموعی مالی گنجائش 1.51 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ہو جاتی ہے۔ پہلی قسط کے طور پر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو 26,126 کروڑ روپے کی ابتدائی منظوری پہلے ہی جاری کی جا چکی ہے۔

 

 

فرضی حاضری پر قابو پانے کے لیے چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کا بہتر نظام

 

مرکزی وزیر نے کہا کہ فرضی حاضری درج کرنے اور دوسرے افراد کے نام پر اجرت کا دعویٰ کرنے سے متعلق شکایات کے پیش نظر تصدیق کے زیادہ مضبوط اقدامات ضروری ہو گئے تھے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے مارچ 2026 میں این ایم ایم ایس ایپ میں چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق کا نظام متعارف کرایا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالہ، اڈیشہ، تمل ناڈو، تلنگانہ، چھتیس گڑھ، راجستھان اور اتراکھنڈ نے کام کی جگہوں پر چہرے کی شناخت کے ذریعے حاضری درج کرنے کا 100 فیصد ہدف حاصل کر لیا ہے۔ اس نظام سے کسی دوسرے شخص کی شناخت اختیار کرکے حاضری درج کرنے اور فرضی اندراجات کے امکانات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایپ کا تازہ ترین ورژن ستمبر 2026 کے آخری ہفتے میں جاری کی گئی سکیورٹی اپ ڈیٹ کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ سائبر سکیورٹی کو ٹیکنالوجی میں نقب لگانے کی بدلتی ہوئی کوششوں کے ساتھ ہم آہنگ رکھنے کے لیے اس میں مسلسل بہتری لانا ضروری ہے۔ اپ گریڈ شدہ ایپ میں گوگل پلے انٹیگریٹی کو شامل کرنے کے ساتھ ڈیوائس کی سطح پر سکیورٹی کی جانچ، ڈیٹا کی محفوظ ترسیل، ایپ کی نقل تیار کرنے اور اس میں چھیڑ چھاڑ کو روکنے کے حفاظتی اقدامات اور لائیونیس ڈیٹیکشن کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ ان خصوصیات کا مقصد اس بات کی تصدیق کرنا ہے کہ کیمرے کے سامنے موجود شخص حقیقی اور زندہ مزدور ہے، نہ کہ کوئی فرضی تصویر یا پرانی فوٹوگراف۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی چہرے کی تصدیق کے نظام کو بھی بہتر بنایا گیا ہے تاکہ مختلف ریاستوں اور جغرافیائی خطوں کے درمیان پائے جانے والے فرق کو مدنظر رکھا جا سکے۔

 

 

حقیقی مزدوروں کے تحفظ کے لیے آف لائن حاضری اور استثنائی طریقۂ کار

 

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تکنیکی حفاظتی اقدامات کی وجہ سے مزدوروں کے حقوق متاثر نہیں ہونے چاہئیں، جناب چوہان نے کہا کہ نیٹ ورک کنیکٹیویٹی کی کمی یا تکنیکی دشواریوں کے سبب کسی بھی حقیقی مزدور کو روزگار یا اجرت سے محروم نہیں ہونا چاہیے۔ جہاں کام کی جگہ پر نیٹ ورک کنیکٹیویٹی دستیاب نہ ہو، وہاں مقررہ طریقۂ کار کے مطابق آف لائن حاضری درج کی جا سکتی ہے۔ حاضری رجسٹر بند ہونے کے بعد، جب ڈیوائس نیٹ ورک کی سہولت والے علاقے میں پہنچے گی تو حاضری کا ڈیٹا اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔ چہرے کی شناخت کے ذریعے تصدیق میں بزرگ مزدوروں یا معذور افراد کو ناکامی کا سامنا ہونے یا موبائل ڈیوائس میں تکنیکی مسائل پیدا ہونے کی صورت میں ایک مجاز استثنائی طریقۂ کار بھی دستیاب ہے۔ ایسے معاملات میں میٹ (کام کی نگرانی کرنے والا اہلکار) یا فیلڈ ورکر مقررہ طریقۂ کار کے تحت درخواست جمع کرا سکتا ہے۔

 

 

اجرتوں کی ادائیگی سے قبل کثیر سطحی جانچ کا نظام

 

جناب چوہان نے وضاحت کی کہ صرف ایپ کے ذریعے حاضری درج کرنے سے اجرت کی ادائیگی خود بخود طے نہیں ہو جاتی۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ادائیگیاں حقیقی کام کے عوض ہی کی جائیں، کثیر سطحی تصدیقی نظام نافذ کیا گیا ہے۔ اس نظام میں مصنوعی ذہانت پر مبنی تصاویر کی تکرار کی شناخت کرنے والا ماڈیول شامل ہے، جو مشتبہ یا بار بار استعمال ہونے والی تصاویر کی نشاندہی کرتا ہے۔ ایسے اندراجات کا پتہ چلنے پر، ضروری جانچ مکمل ہونے تک اجرت کی فہرست اور فنڈ ٹرانسفر آرڈر (ایف ٹی او) خودکار طور پر روک دیے جاتے ہیں۔ الیکٹرانک میژرمنٹ بک (ای-ایم بی) میں کام کی جگہ پر انجام دیے گئے حقیقی کام کا ریکارڈ درج کیا جاتا ہے، جس کی پیمائش تکنیکی انجینئروں کے ذریعے موقع پر کی جاتی ہے۔ اجرت کی رقم کا تعین اسی پیمائش کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کے بعد مقررہ براہ راست منتقلیٔ فوائد (ڈی بی ٹی) کے طریقۂ کار کے تحت رقم براہ راست مزدوروں کے بینک کھاتوں میں منتقل کر دی جاتی ہے۔ اس نظام سے لین دین کا سراغ لگانا ممکن ہوتا ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ زمینی سطح پر کام کی صداقت کی تصدیق کے لیے اضلاع میں اچانک معائنہ کرنے والی ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔ سماجی آڈٹ اور عوامی سطح پر معلومات کی تشہیر کے طریقۂ کار بھی نافذ کیے گئے ہیں۔ ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ مشتبہ یا غیر مجاز ایپلی کیشن کے استعمال پر کڑی نظر رکھیں۔ ایسی ایپلی کیشنز کے غلط استعمال کا پتہ چلنے پر ریاستوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ڈیجیٹل شواہد جمع کریں اور متعلقہ قوانین کے تحت فوجداری کارروائی شروع کریں۔ جناب چوہان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضرورت مندوں کو روزگار فراہم کیا جائے گا، لیکن بدعنوانی اور بے ضابطگیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

 

مقررہ مدت سے پہلے فارمر آئی ڈی کی تعداد 11 کروڑ کے سنگ میل کے قریب

 

زرعی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے کے مقصد سے شروع کیے گئے ایک اور اہم اقدام کی پیش رفت سے متعلق معلومات دیتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ملک گیر فارمر آئی ڈی مہم تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ اس مہم کا مقصد زراعت میں ٹیکنالوجی کے استعمال کو وسعت دینا اور کسانوں کے لیے سرکاری اسکیموں تک رسائی کو زیادہ آسان بنانا ہے۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے مقرر کردہ ہدف کے مطابق، دسمبر 2027 تک 11 کروڑ فارمر آئی ڈی تیار کی جانی ہیں۔ ہندوستان میں اب تک 10 کروڑ 99 لاکھ 70 ہزار فارمر آئی ڈی تیار کی جا چکی ہیں۔ اس طرح مقررہ مدت سے ایک سال سے بھی زیادہ پہلے ملک 11 کروڑ کے سنگ میل سے صرف 30,000 آئی ڈیز کے فاصلے پر پہنچ گیا ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ یہ کامیابی ٹیکنالوجی پر مبنی زرعی خدمات کی فراہمی اور کسانوں کے لیے سرکاری اسکیموں تک آسان رسائی کو یقینی بنانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

*****

ش ح۔ ف ش ع

U: 6598


(ریلیز آئی ڈی: 2327749) وزیٹر کاؤنٹر : 5
یہ ریلیز پڑھیں: हिन्दी , English