جل شکتی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 جل جیون مشن 2.0 کے تحت ڈی ڈی ڈبلیو ایس نے پینے کے پانی کے دیہی انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے قومی سطح کی تربیت دینے والوں کی تربیت کا انعقاد کیا


نچلی سطح پر قیادت اور گاؤں کے پانی کی فراہمی کے نظام کے پائیدار بندوبست کو مضبوط بنانے کے لیے کہانی پر مبنی صلاحیت سازی پیکیج شروع

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 8:04PM by PIB Delhi

وزارت جل شکتی کے محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی (ڈی ڈی ڈبلیو ایس) نے آج نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں جل جیون مشن (جے جے ایم) 2.0 کے تحت ریاستی سطح کے ٹرینرز کے لیے قومی سطح کی ٹریننگ آف ٹرینرز (ٹی او ٹی) پروگرام کا انعقاد کیا۔اس پروگرام میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے ریاستی دیہی ترقیاتی اداروں (ایس آئی آر ڈیز)، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ محکموں (پی ایچ ای ڈیز)، دیہی ترقیاتی اداروں اور دیگر اہم متعلقہ فریقوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کا مقصد بڑے پیمانے پر کمیونٹی تربیت اور ادارہ جاتی ترقی کے لیے صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے، تاکہ ملک بھر میں پینے کے پانی کی دیہی خدمات کو پائیدار بنیادوں پر جاری رکھا جا سکے۔

تربیتی پروگرام میں حال ہی میں تیار کیے گئے جل جیون مشن 2.0 کے صلاحیت سازی پیکیج پر توجہ مرکوز کی گئی، جس میں 8 ماڈیول شامل ہیں۔ اس پیکیج کا عنوان ’’دی اسٹوری آف پانی پور: دیہی پینے کے پانی کی فراہمی کے انتظام سے متعلق کہانی پر مبنی خود سیکھنے کی ہینڈ بک‘‘ اور ’’ٹرینر کی سہولت کاری سے متعلق مینوئل‘‘ ہے۔ یہ پیکیج گرام پنچایت کے نمائندوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی)، سُجلم شکتی گروپوں اور دیہی پینے کے پانی کی خدمات کے انتظام اور پائیداری سے وابستہ دیگر نچلی سطح کے اداروں کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

کلیدی خطاب کرتے ہوئے نیشنل جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے کہا کہ دیہی پینے کے پانی کے نظام کی طویل مدتی پائیداری بنیادی طور پر کمیونٹی کی ملکیت اور ادارہ جاتی ذمہ داری پر منحصر ہے۔ آج تیار کیے جا رہے پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کا مقصد آئندہ کئی دہائیوں تک دیہی برادریوں کی خدمت کرنا ہے، اس لیے ابتدا ہی سے گرام پنچایتوں، وی ڈبلیو ایس سی اور کمیونٹی گروپوں کی فعال شرکت ضروری ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ وکست بھارت 2047 کے وژن کو حاصل کرنے کے لیے نہ صرف بنیادی ڈھانچہ تیار کرنا ہوگا بلکہ مضبوط مقامی اداروں کے ذریعے اس کے مؤثر آپریشن اور دیکھ بھال کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششیں بھی کرنا ہوں گی۔

کئی ریاستوں میں خدمات کی فراہمی میں بہتری کی ابھرتی ہوئی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب سون نے گاؤں کی سطح کے اداروں کو پانی کی فراہمی کے نظام کے بتدریج بہتر ہوتے سروس معیار اور پائیدار انتظام کے لیے تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ پنچایت نمائندوں اور کمیونٹی اداروں میں ملکیت کا مضبوط احساس پیدا کیا جائے، تاکہ پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کو کمیونٹی کا اثاثہ سمجھا جائے اور اس کا اجتماعی طور پر تحفظ اور دیکھ بھال کی جائے۔

 

جناب سون کی تقریر میں جل جیون مشن کو گرام پنچایت ڈیولپمنٹ منصوبوں (جی پی ڈی پی)، پنچایتی راج اداروں، راشٹریہ گرام سوراج ابھیان (آر جی ایس اے) اور 16ویں مالیاتی کمیشن کی مشروط گرانٹس اور وی بی-جی رام جی کے ساتھ مربوط کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انہوں نے ریاستوں پر زور دیا کہ پنچایت نمائندوں کو دستیاب مالی وسائل اور منصوبہ بندی کے ذرائع سے واقف کرایا جائے، تاکہ پانی کے ذرائع کی پائیداری، آپریشن و دیکھ ریکھ کی ضروریات اور مقامی سطح پر پینے کے پانی کی ترجیحات کو ترقیاتی منصوبوں میں مناسب طور پر شامل کیا جا سکے۔

جناب سون نے دیہی پانی کی فراہمی کے نظام کو طویل مدت تک فعال رکھنے کے لیے صارفین سے چارجز کی وصولی، مالی پائیداری، پانی کے ذرائع کا تحفظ اور کمیونٹی کی نگرانی کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

تربیتی پروگرام کو ادارہ جاتی شکل دینے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے ریاستوں سے کہا کہ صلاحیت سازی کے ماڈیولز کو موجودہ دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے تربیتی نظام میں شامل کیا جائے، تاکہ مشن کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی سیکھنے اور صلاحیت سازی کا عمل جاری رہے اور دیہی پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کے لیے ایک مستقل معاون نظام کا حصہ بن جائے۔

محکمہ پینے کے پانی اور صفائی ستھرائی کی جوائنٹ سکریٹری محترمہ سواتی مینا نائک نے مشن کی طویل مدتی کامیابی کو یقینی بنانے میں صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں نمایاں سرمایہ کاری کی جا رہی ہے، لیکن ان اثاثوں کی پائیداری باخبر کمیونٹی اور باصلاحیت مقامی اداروں پر منحصر ہے، جو وقت کے ساتھ پینے کے پانی کے نظام کو مؤثر طریقے سے چلانے، اس کی دیکھ بھال اور انتظام کرنے کے قابل ہوں۔

تربیت کے مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد محض تکنیکی معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ تربیت دینے والوں کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ پیچیدہ تصورات کو گاؤں کی کمیونٹی تک آسان، عملی اور قابل فہم انداز میں پہنچا سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے تیار کیے گئے ماڈیولز میں سیکھنے کے عمل کو زیادہ دلچسپ اور مؤثر بنانے کے لیے کہانی سنانے، لوک ابلاغ کے طریقوں، رول پلے، کمیونٹی سے رابطے اور گیمیفیکیشن تکنیکوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا حتمی مقصد صلاحیت سازی کے ذریعے دیہی پینے کے پانی کے نظام کے کمیونٹی کی قیادت میں انتظام کو مضبوط بنانا ہے۔ گاؤں کی سطح کے اداروں سے توقع ہے کہ وہ پانی کی تقسیم، آپریشن و مینٹیننس، صارفین سے چارجز کی وصولی اور انتظام، شکایات کے ازالے، نظام کی فعالیت کی نگرانی اور خدمات میں بہتری کے منصوبوں میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کریں گے۔

 

محترمہ نائک نے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ڈیش بورڈز کے ذریعے شفافیت اور معلومات تک مساوی رسائی کی اہمیت پر بھی زور دیا، جس سے شہریوں، گرام پنچایتوں اور اعلیٰ انتظامی سطحوں کو پروگرام سے متعلق معلومات یکساں طور پر دستیاب ہو سکیں گی اور وہ دیہی پانی کے انتظام میں زیادہ مؤثر طریقے سے حصہ لے سکیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ وسیع تر تربیتی پروگرام کے تحت تقریباً 54 لاکھ متعلقہ فریقوں کو شامل کرنے کی تجویز ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے اپیل کی کہ بروقت عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط معلومات کی ترسیل کے نظام اور تربیتی ایکو سسٹم قائم کیے جائیں۔

محترمہ مینا نے سُجلم بھارت اور مختلف سطحوں پر قائم ڈیش بورڈز جیسے اقدامات کے ذریعے ٹیکنالوجی پر مبنی انتظام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو شفافیت، جوابدہی اور باخبر فیصلہ سازی کے مؤثر ذرائع کے طور پر استعمال کیا جانا چاہیے، تاکہ گرام پنچایتیں اور شہری خدمات کی فراہمی کی فعال نگرانی اور اسے بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

انہوں نے سُجلم شکتی گروپس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام خواتین کی قیادت، کمیونٹی کو متحرک کرنے اور روزگار و ذریعہ معاش کے مواقع بڑھانے کے ساتھ ساتھ نچلی سطح پر پینے کے پانی کے انتظام کو مضبوط بنانے کے لیے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔

 

اختتامی کلمات میں نیشنل جل جیون مشن کے ایڈیشنل سکریٹری اور مشن ڈائریکٹر جناب کمل کشور سون نے زور دیا کہ دیہی پینے کے پانی کی خدمات کی طویل مدتی پائیداری کمیونٹی کی ملکیت، پانی کے ذمہ دارانہ استعمال اور پانی کی فراہمی کے نظام کے مؤثر مقامی انتظام پر منحصر ہے۔ انہوں نے آئندہ نسلوں کے لیے پینے کے پانی کے ذرائع کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ریاستوں سے اپیل کی کہ صلاحیت سازی کے اقدام کے ایک لازمی حصے کے طور پر کمیونٹی کو پانی کے تحفظ، پانی کے ذرائع کی پائیداری اور پانی کے دانش مندانہ استعمال کے بارے میں بیدار کیا جائے۔

جناب سون نے کہا کہ صارفین سے وصول کی جانے والی رقم کو محض مالیاتی نظام کے طور پر نہیں بلکہ دیہی برادریوں میں اپنے پینے کے پانی کے نظام کے تئیں ذمہ داری اور ملکیت کا احساس پیدا کرنے کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ پانی کو قدرتی وسائل اور پینے کے پانی کی خدمات کی فراہمی کے درمیان فرق واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صارفین کی جانب سے دی جانے والی رقم سے کمیونٹی کو گھروں تک محفوظ پینے کا پانی پہنچانے میں ہونے والی سرمایہ کاری، آپریشن اور مینٹیننس کی کوششوں کو سمجھنے اور ان خدمات کو برقرار رکھنے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے میں مدد ملتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ گاؤں کے پینے کے پانی کی فراہمی کے نظام کے روزمرہ آپریشن اور انتظام میں پنچایتوں کو قائدانہ کردار ادا کرنا چاہیے، تاہم بڑے پیمانے پر مرمت اور تکنیکی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کی تکنیکی معاونت بدستور ضروری رہے گی۔ گھروں تک نل کے پانی کے کنکشن سے عزت نفس، سہولت اور پینے کے پانی تک مساوی رسائی پر پڑنے والے تبدیلی کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں تربیتی پروگراموں کے نفاذ کے دوران کمیونٹی کی ملکیت، رویے میں تبدیلی، پانی کے تحفظ اور ادارہ جاتی ذمہ داری کے اہم پیغامات کو آگے بڑھایا جائے۔

 

نیشنل جل جیون مشن (این جے جے ایم) کے وسائل سے وابستہ ماہرین، جن میں ڈائریکٹر، ڈپٹی سکریٹری، ڈپٹی ایڈوائزر اور این پی ایم یو کے ارکان شامل ہیں، نے کہانی پر مبنی خود سیکھنے کی ہینڈ بک اور ٹرینر کی سہولت کاری سے متعلق مینوئل متعارف کرایا اور تربیت فراہم کی۔ ’’پانی پور‘‘ نامی فرضی گاؤں کے گرد تیار کیے گئے اس تربیتی پیکیج میں باہم مربوط آٹھ ماڈیول شامل ہیں، جن میں گاؤں کے پانی کی فراہمی کے نظام، پانی کے ذرائع کی پائیداری، پانی کا معیار، ادارہ جاتی انتظامات، آپریشن و مینٹیننس، ڈیجیٹل گورننس، کمیونٹی کی ملکیت اور پائیدار ’’سُجَل گاؤں‘‘ کی ترقی جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ ماڈیول شراکتی انداز میں سیکھنے کو فروغ دینے اور کمیونٹی کو معلومات کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنے میں مدد دینے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔

شراکت دار اداروں یونیسیف اور یو این او پی ایس کے نمائندوں نے فیلڈ میں اپنے تجربات، اہم امور اور ٹرینرز کی تیاری اور نچلی سطح پر مؤثر تربیت کے انعقاد سے متعلق عملی طریقہ کار سے آگاہ کیا۔ اس دوران مقررہ ماڈیول کے مواد پر عمل کرنے اور ریاستی دیہی ترقیاتی اداروں (ایس آئی آر ڈیز) کے ساتھ تال میل پر بھی زور دیا گیا۔ انہوں نے یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ جن ریاستوں میں وہ کام کر رہے ہیں، وہاں ریاستی پبلک ہیلتھ انجینئرنگ/دیہی پانی کی فراہمی کے محکموں کو ریاستی اور ضلعی سطح کی تربیت فراہم کرنے میں معاونت کی جائے گی۔

قومی سطح کی ٹریننگ آف ٹرینرز جل جیون مشن 2.0 کے تحت صلاحیت سازی کے نظام کو عملی شکل دینے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ اسٹیٹ ماسٹر ٹرینرز کا مضبوط نیٹ ورک تیار کرکے اور انہیں معیاری تربیتی وسائل سے لیس کرکے مشن کا مقصد گرام پنچایتوں، گاؤں کی پانی و صفائی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) اور کمیونٹی اداروں کو مضبوط بنانا، کمیونٹی کی ملکیت کے احساس کو گہرا کرنا اور ملک بھر میں دیہی پینے کے پانی کے بنیادی ڈھانچے اور خدمات کی پائیداری کو یقینی بنانا ہے۔

************

ش ح ۔   م  د ۔  م  ص

(U :  6616)


(ریلیز آئی ڈی: 2327678) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी