پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 6:55PM by PIB Delhi
انیسویں اربن موبلٹی انڈیا (یو ایم آئی) کانفرنس اور نمائش 2026 کا آج اڈیشہ کے بھونیشور میں مرکزی وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ اور شہری امور جناب ٹوکھن ساہو نے افتتاح کیا۔ دو روزہ کانفرنس 23 اور 24 اکتوبر 2026 کو ہوٹل مے فیئر سینکچوری میں منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کا اہتمام حکومت ہند کی وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور نے انسٹی ٹیوٹ آف اربن ٹرانسپورٹ (بھارت) کے ذریعے حکومت اڈیشہ کے تعاون سے کیا ہے۔

افتتاحی اجلاس میں اڈیشہ حکومت کے وزیر برائے ہاؤسنگ اور شہری ترقی ڈاکٹر کرشنا چندر مہاپاترا، اڈیشہ حکومت کی چیف سکریٹری محترمہ انو گرگ، وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور کے محکمہ شہری ترقی کے سکریٹری جناب ستندر سنگھ اور اڈیشہ حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ اور شہری ترقی کی ایڈیشنل چیف سکریٹری محترمہ اوشا پادھی نے شرکت کی۔ کانفرنس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینیئر عہدیداروں، قومی اور بین الاقوامی ماہرین، پالیسی سازوں، میٹرو ریل کمپنیوں کے نمائندوں، ٹرانسپورٹ اداروں، صنعت سے وابستہ ماہرین اور ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی۔
اس کانفرنس کا اہتمام ’’ڈیجیٹل دور میں شہری رسائی اور رہائش پذیری‘‘ کے موضوع کے تحت کیا جا رہا ہے۔ اس میں ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے ذریعے شہری رسائی، مربوط ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے اور شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ کانفرنس میں پائیدار اور کم کاربن اخراج والی عوامی ٹرانسپورٹ، نقل و حمل کے مختلف ذرائع کے درمیان بلا رکاوٹ رابطے، سفر کے پہلے اور آخری مرحلے تک رسائی، ٹریفک جام اور اخراج میں کمی، نیز شہروں کو زیادہ قابل رسائی، جامع اور رہنے کے لیے بہتر بنانے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے کردار پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے۔

اربن موبلٹی انڈیا کانفرنس، قومی شہری ٹرانسپورٹ پالیسی (این یو ٹی پی) 2006 کے تحت وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور کا ایک سالانہ اقدام ہے۔ اس پالیسی میں ریاستی اور شہری سطحوں پر صلاحیت سازی اور مساوی و پائیدار شہری ٹرانسپورٹ نظاموں کی ترقی پر زور دیا گیا ہے۔ یہ کانفرنس شہری نقل و حرکت کے شعبے میں قومی اور بین الاقوامی بہترین طور طریقوں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور اختراعی حل کے تبادلے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت برائے ہاؤسنگ اور شہری امور جناب ٹوکھن ساہو نے کہا کہ اربن موبلٹی انڈیا کانفرنس شہری ٹرانسپورٹ کے مستقبل کی تشکیل کے لیے ایک اہم قومی پلیٹ فارم بن کر ابھری ہے۔ اس سال کے موضوع ”ڈیجیٹل دور میں شہری رسائی اور رہنے کے لیے موزوں ماحول“ کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہری ترقی میں حقیقی پیش رفت کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ خواتین، بچوں، بزرگ شہریوں اور معذور افراد سمیت شہری شہر کے اندر کتنی حفاظت، سہولت اور خودمختاری کے ساتھ سفر کر سکتے ہیں۔
جناب ساہو نے وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں میٹرو ریل کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی نمایاں توسیع پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان میں فعال میٹرو نیٹ ورک 2014 میں 248 کلومیٹر سے بڑھ کر 26 شہروں میں 1,185 کلومیٹر سے زیادہ ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مزید 998 کلومیٹر طویل میٹرو لائنوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو نیٹ ورک کی توسیع کے ساتھ نیشنل کامن موبلٹی کارڈ، کیو آر کوڈ پر مبنی ٹکٹنگ اور پی ایم ای بس سیوا جیسی پہلیں شہری نقل و حرکت کو تبدیل کر رہی ہیں اور عوامی ٹرانسپورٹ کو زیادہ قابل رسائی اور پائیدار بنا رہی ہیں۔
حکومت اڈیشہ کی کوششوں کی ستائش کرتے ہوئے جناب ساہو نے ریاست کی ”اما بس“ خدمات کو جدید اور ٹیکنالوجی سے لیس عوامی ٹرانسپورٹ کی ایک مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ موثر اور جامع شہری نقل و حرکت، وکست بھارت 2047 کے وژن کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ کانفرنس ہندوستانی شہروں کو زیادہ قابل رسائی، جامع اور ماحولیات کے لحاظ سے پائیدار بنانے کے لیے اختراعی حل پیش کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔
اڈیشہ حکومت کے محکمہ ہاؤسنگ اور شہری ترقی کے معزز وزیر ڈاکٹر کرشنا چندر مہاپاترا نے یو ایم آئی کانفرنس میں مندوبین اور حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”شہری نقل و حرکت محض آمد و رفت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد ہمارے شہریوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانا اور ہمارے شہروں کو زیادہ قابل رسائی، جامع اور پائیدار بنانا ہے۔ اڈیشہ کے شہر جیسے جیسے ترقی کر رہے ہیں، ہماری توجہ محفوظ، قابل اعتماد، کفایتی اور عوام کی ضروریات پر مبنی عوامی ٹرانسپورٹ نظام تیار کرنے پر مرکوز ہے، جو شہریوں کی روزمرہ ضروریات کو پورا کریں۔ اما بس اور اما ای رائیڈ جیسی پہلوں کے ذریعے ہم شہری نقل و حرکت کو سبھی کے لیے زیادہ آسان اور قابل رسائی بنانے کی سمت میں بامعنی اقدامات کر رہے ہیں، جن میں طلبہ، ملازمت پیشہ افراد، خواتین اور دیگر مسافر شامل ہیں۔ اربن موبلٹی انڈیا کانفرنس 2026 ریاستوں اور شہری ٹرانسپورٹ کے ماہرین کو خیالات کے تبادلے، بہترین طور طریقوں کو مشترک کرنے اور اپنے شہروں کے مستقبل کے لیے اختراعی حل تلاش کرنے کا ایک قیمتی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ہم ان تجربات سے سیکھنے اور پائیدار شہری ترقی نیز وکست بھارت 2047 کے وژن کے حصول کے لیے اپنی اجتماعی کوششوں کو مضبوط بنانے کے منتظر ہیں۔ بہتر نقل و حرکت، بہتر زندگی محض ایک وژن نہیں، بلکہ ایسے شہروں کی تعمیر کا عہد ہے جہاں ہر شہری آسانی، تحفظ اور وقار کے ساتھ سفر کر سکے۔“
اس موقع پر اڈیشہ کی چیف سکریٹری محترمہ انو گرگ نے کہا، ”اڈیشہ آٹھ ایس پر مبنی طریقۂ کار کے ذریعے شہری نقل و حرکت کو تبدیل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ اس میں خدمات تک رسائی اور خدمات کی قابل اعتمادی، اسمارٹ موبلٹی، پائیداری، نظام، تحفظ، بلا رکاوٹ رابطہ، شمولیت اور اطمینان شامل ہیں۔ تقریباً 800 بسوں کے ذریعے آٹھ شہروں کو خدمات فراہم کرتے ہوئے سی آر یو ٹی ڈیجیٹل ٹکٹنگ، خواتین ڈرائیوروں کی زیادہ شمولیت اور مسافروں کی سہولت میں بہتری کے ذریعے عوامی ٹرانسپورٹ کو مضبوط بنا رہا ہے۔ الیکٹرک گاڑیوں کے بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے ساتھ ہماری توجہ ایک مربوط، جامع اور پائیدار نقل و حرکت کا نظام تیار کرنے پر ہے، جو عوامی ٹرانسپورٹ کو سبھی کے لیے زیادہ محفوظ، اسمارٹ اور قابل رسائی بنائے۔“
اس سے قبل، معزز شخصیات اور مندوبین کا خیرمقدم کرتے ہوئے وزارت ہاؤسنگ اور شہری امور کے محکمہ شہری ترقی کے سکریٹری جناب ستندر سنگھ نے کہا کہ بھونیشور میں پہلی مرتبہ منعقد ہونے والی اربن موبلٹی انڈیا کانفرنس، 2008 میں اپنے آغاز کے بعد سے شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہترین طور طریقوں کے تبادلے اور درپیش چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک اہم بین الاقوامی پلیٹ فارم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

جناب ستندر سنگھ نے بتایا کہ دو روزہ کانفرنس میں ہندوستان اور بیرون ملک سے تقریباً 1500 مندوبین کی شرکت متوقع ہے۔ کانفرنس میں تکنیکی اجلاس، گول میز مباحثے اور تحقیقی سمپوزیم شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مباحثوں سے ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شہری آبادی کے لیے موثر، پائیدار اور اعلیٰ معیار کی شہری ٹرانسپورٹ خدمات فراہم کرنے سے متعلق پالیسیوں اور حکمت عملیوں کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
شہری ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجیز اور بہترین طور طریقوں پر نمائش
کانفرنس کے حصے کے طور پر ہندوستان اور بیرون ملک شہری ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہترین طور طریقوں، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، خدمات اور نقل و حرکت کے اختراعی حل کو پیش کرنے والی ایک نمائش کا افتتاح جناب ٹوکھن ساہو نے ڈاکٹر کرشنا چندر مہاپاترا اور دیگر معزز شخصیات کی موجودگی میں کیا۔
اس نمائش میں مجموعی طور پر 28 نمائش کنندگان حصہ لے رہے ہیں، جن میں حکومت اڈیشہ، میٹرو ریل کمپنیوں، سرکاری شعبے کی تنظیموں اور نجی شعبے کے اداروں کے نمائندے شامل ہیں۔ یہ نمائش تکنیکی ترقیات کو پیش کرنے اور پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کے حل سے متعلق معلومات اور تجربات کے تبادلے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
تکنیکی اجلاس اور مباحثے
کانفرنس کے پہلے دن ایک کانکلیو اجلاس، ایک تکنیکی اجلاس، تین گول میز مباحثے اور جامع علاقائی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی پر ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ ان مباحثوں میں شہری رسائی اور رہنے کے لیے موزوں ماحول کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا گورننس، ادارہ جاتی اصلاحات اور پائیدار ٹرانسپورٹ نظاموں کے کردار کا احاطہ کیا گیا۔
”ڈیجیٹل دور میں رہنے کے لیے موزوں ماحول، نقل و حرکت اور رسائی“ کے موضوع پر منعقدہ کانکلیو اجلاس میں جامع، باہم مربوط اور اعلیٰ معیار کے شہری ماحول کی تشکیل میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی۔ مباحثوں میں ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع کے ذریعے جسمانی نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل رابطے کے ان امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا جن سے جسمانی سفر کی ضرورت کم کی جا سکتی ہے۔ اجلاس میں بزرگوں اور معذور افراد کے لیے شہری بنیادی ڈھانچے کی رسائی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ مباحثوں میں ایسے ڈیجیٹل حل کو فروغ دینے پر زور دیا گیا جنہیں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے، نیز شہری نقل و حرکت کے نظاموں میں تحفظ، رازداری، رسائی اور شمولیت کو یکجا کرنے کی اہمیت اجاگر کی گئی۔
”ڈیٹا گورننس اور ذہین ٹرانسپورٹ“ کے موضوع پر تکنیکی اجلاس میں جدید ٹرانسپورٹ نظاموں کے انتظام کے لیے قابل اعتماد حقیقی وقت کے ڈیٹا، مشترکہ معیارات اور ڈیٹا کی سلامتی کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مباحثوں میں ٹریفک کے انتظام، تحفظ میں بہتری اور ٹرانسپورٹ کے موثر آپریشن کے لیے کیمروں، سینسرز، جی پی ایس اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کا احاطہ کیا گیا۔ اجلاس میں ڈیٹا کی رازداری، مختلف نظاموں کے درمیان باہمی مطابقت، سرکاری اور نجی شعبوں کے درمیان ڈیٹا کے تبادلے اور ہندوستانی شہروں کے لیے مربوط نقل و حرکت کے پلیٹ فارم تیار کرنے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
”صنفی ضروریات کے مطابق شہری منصوبہ بندی کو ادارہ جاتی شکل دینا“ کے موضوع پر گول میز مباحثے میں شہری منصوبہ بندی کے فریم ورک، بلدیاتی ضوابط، بجٹ اور ادارہ جاتی عمل میں صنفی ضروریات کے مطابق طریقۂ کار کو شامل کرنے پر غور کیا گیا۔ مباحثوں میں خواتین اور کمزور طبقات کی نقل و حرکت سے متعلق ضروریات کو اجاگر کیا گیا۔ صنف کی بنیاد پر الگ الگ ڈیٹا جمع کرنے اور ماسٹر پلان، ٹینڈرز اور ترقیاتی ضوابط میں جامع نقل و حرکت سے متعلق دفعات شامل کرنے پر زور دیا گیا۔
”بس نظاموں کو جدید بنانا — خصوصی مقصد کی کمپنیوں (ایس پی وی) اور پی ایم ای بس سیوا اسکیم کا کردار: سی آر یو ٹی سے حاصل ہونے والے اسباق“ کے موضوع پر گول میز اجلاس میں مخصوص خصوصی مقصد کی کمپنیوں اور ٹیکنالوجی پر مبنی ٹرانسپورٹ انتظام کے ذریعے شہری بس خدمات کو بہتر بنانے کے طریقوں کا جائزہ لیا گیا۔ مباحثوں میں پی ایم ای بس سیوا اسکیم اور اڈیشہ کے کیپٹل ریجن اربن ٹرانسپورٹ (سی آر یو ٹی) کے جدید اور جامع بس نظام چلانے کے تجربات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ اجلاس میں بس آپریشن کو جدید بنانے اور ٹرانسپورٹ کے مختلف ذرائع کو مربوط کرنے میں شہروں کو درپیش چیلنجوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
”ٹرانسپورٹ، فضائی معیار اور صحت عامہ — کم اخراج والے علاقوں کی پالیسی کے ذریعے صاف ہوا کے اقدامات کو مؤثر بنانا“ کے موضوع پر گول میز اجلاس میں ہندوستانی شہروں میں ٹرانسپورٹ سے پیدا ہونے والی آلودگی کو کم کرنے اور صحت عامہ کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی۔ مباحثوں میں کم اخراج والے علاقوں (ایل ای زیڈ) کے ذریعے صاف ستھری گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی اور نقصان دہ اخراج سے متاثر ہونے کے امکانات کو کم کرنے کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ایسے علاقوں کو نافذ کرنے کے لیے قانونی، ادارہ جاتی، مالی اور تکنیکی تقاضوں کے ساتھ ساتھ قومی کم اخراج والے علاقوں کی حکمت عملی تیار کرنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
”جامع علاقائی نقل و حرکت کی منصوبہ بندی“ کے موضوع پر خصوصی اجلاس میں شہری اور علاقائی عوامی ٹرانسپورٹ خدمات کو مربوط کرنے کے سلسلے میں اڈیشہ کے سی آر یو ٹی کے تجربات کو اجاگر کیا گیا۔ مباحثوں میں اما بس/مو بس برانڈ کے تحت چلنے والی بس خدمات اور اما ای رائیڈ جیسی معاون خدمات کا احاطہ کیا گیا۔ اجلاس میں بھونیشور، کٹک، کھوردھا، پوری، رورکیلا، سمبل پور اور برہم پور کے درمیان علاقائی ٹرانسپورٹ کے انضمام کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ مربوط ٹکٹنگ، ٹیکنالوجی پر مبنی آپریشنز اور پھیلتے ہوئے شہری علاقوں میں بلا رکاوٹ اور پائیدار نقل و حرکت فراہم کرنے کے چیلنجوں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
تحقیقی سمپوزیم اور دوسرے دن کا پروگرام
کانفرنس کے حصے کے طور پر ایک تحقیقی سمپوزیم بھی منعقد کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد نوجوان محققین اور پی ایچ ڈی کے طلبہ کو اپنے تحقیقی کام پیش کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ہم مرتبہ ماہرین کے جائزے کے بعد مجموعی طور پر 46 تحقیقی مقالے منتخب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 20 مقالے امیدوار پیش کریں گے، جبکہ باقی 26 مقالے پوسٹر پریزنٹیشن کے ذریعے پیش کیے جائیں گے۔ جیوری کے ذریعے منتخب کیے جانے والے تین بہترین تحقیقی مقالوں میں سے ہر ایک کو 25,000 روپے کا نقد انعام دیا جائے گا۔ اپنے تحقیقی کام پیش کرنے والے تمام شرکاء کو اسناد بھی پیش کی جائیں گی۔
کانفرنس کے دوسرے دن، 24 اکتوبر 2026 کو، ٹرانزٹ پر مبنی ترقی، عوام کو مرکز میں رکھ کر سڑکوں کی منصوبہ بندی، رویوں میں تبدیلی اور عوامی ابلاغ، ذہین اور محفوظ نقل و حرکت، نیز ریل پر مبنی مربوط شہری ترقی جیسے موضوعات پر مباحثے ہوں گے۔
کانفرنس کا اختتام ایک اختتامی اجلاس کے ساتھ ہوگا، جس میں مختلف زمروں میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی ریاستوں، شہروں اور ٹرانسپورٹ تنظیموں کو ”شہری ٹرانسپورٹ میں عمدگی/ بہترین طور طریقوں کے منصوبوں“ کے اعزازات پیش کیے جائیں گے۔ مرکزی وزیر برائے ہاؤسنگ اور شہری امور و بجلی جناب منوہر لال اختتامی خطاب کریں گے اور اڈیشہ کے وزیر برائے ہاؤسنگ اور شہری ترقی ڈاکٹر کرشنا چندر مہاپاترا کے ساتھ مل کر اعزازات پیش کریں گے۔
انیسویں اربن موبلٹی انڈیا کانفرنس اور نمائش کے بعد نیشنل اربن کانکلیو 2026 منعقد ہوگا، جو 24 اور 25 اکتوبر 2026 کو بھونیشور میں اسی مقام پر منعقد ہونا طے ہے۔
************
ش ح۔ ف ش ع
U: 6597