پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 3:17PM by PIB Delhi
مدھیہ پردیش حکومت کے ماہی پروری کے محکمے نے حکومتِ ہند کے ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی محکمہ (ایم او ایف اے ایچ ڈی) اور نیشنل فشریز ڈیولپمنٹ بورڈ (این ایف ڈی بی) کے اشتراک سے 23 اکتوبر 2026 کو بھوپال میں ماہی پروری کے سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کی کانکلیو 2026 کا انعقاد کیا، جس کا مقصد اندرونِ ملک ماہی پروری کے شعبے میں سرمایہ کاری، پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن اور برآمدات کے مواقع کو فروغ دینا تھا۔
اس کانکلیو میں مدھیہ پردیش کے معزز وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو، مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ، وزیر مملکت برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے محکمۂ بہبودِ ماہی گیر و ترقیِ ماہی پروری کے وزیر جناب نارائن سنگھ پوار نے شرکت کی۔ ان کے علاوہ، حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلاش لیکھی اور حکومتِ مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری جناب اشوک برنوال بھی موجود تھے۔ اس پروگرام میں ملک اور بیرونِ ملک سے سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان، مچھلی پالنے والے کسانوں اور کاروباری افراد کے ساتھ ساتھ مرکزی و ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران اور ماہی پروری کے شعبے سے وابستہ دیگر متعلقہ فریقوں نے بھی شرکت کی۔


اس کانکلیو میں پورے مدھیہ پردیش سے سرمایہ کار، برآمد کنندگان، ماہی گیر، 1,000 سے زائد مچھلی پالنے والے کسان، ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیاں، فش فارمر پروڈیوسر آرگنائزیشنز (ایف ایف پی او)، کاروباری افراد، اسٹارٹ اَپس، پروسیسنگ سے وابستہ ادارے، مالیاتی ادارے، تحقیقی تنظیمیں اور ماہی پروری کی ویلیو چین سے وابستہ دیگر متعلقہ فریق ایک ساتھ جمع ہوئے۔
2024-25 میں ہندوستان میں مچھلی کی پیداوار 197.75 لاکھ میٹرک ٹن (ایم ٹی) تک پہنچ گئی، جس میں اندرونِ ملک ماہی پروری کا حصہ 151.60 لاکھ میٹرک ٹن رہا، جو ملک کی مجموعی مچھلی کی پیداوار کا تقریباً تین چوتھائی حصہ ہے۔ 2025-26 میں ہندوستان کی سمندری خوراک (سی فوڈ) کی برآمدات کی مالیت 73,890 کروڑ روپے رہی۔ اس کانکلیو کا بنیادی مقصد پیداوار کی اس بنیاد کو پروسیسنگ، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے، معیار کی یقین دہانی، منڈیوں تک رسائی اور برآمدات سے منسلک کرنا تھا۔
حکومتِ ہند کے مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ’مدھیہ پردیش ماہی پروری سرمایہ کاری اور برآمدات کے رہنما خطوط 2026‘ اور ’اندرونِ ملک ریاستوں کی برآمدی صلاحیت کے لیے معیاری عملی طریقۂ کار (ایس او پی)‘ جاری کیے۔ ان کا مقصد ہیچریوں، مچھلی کے بیج اور چارے، آبی ذخائر اور کیج کے ذریعے ماہی پروری، آبی جانداروں کی صحت، پروسیسنگ، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس، ویلیو ایڈیشن اور منڈیوں کی ترقی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ مرکزی حکومت نے مدھیہ پردیش کو ’آبی ذخائر پر مبنی ماہی پروری کلسٹر‘کے طور پر نوٹیفائی کیا ہے۔
اس پروگرام میں ’مربوط کیج کلچر یونٹس‘ کا ورچوئل افتتاح کیا گیا اور مدھیہ پردیش میں آبی ذخائر (ریزروائرز) اور ’امرت سرووروں‘ کی مربوط ترقی کے لیے انتظامی منظوری حوالے کی گئی۔
پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا(پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت، مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ نے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ کو ریاست میں آبی ذخائر کی مربوط ترقی کے لیے انتظامی منظوری سونپی۔ یہ منظوری مرکزی بجٹ 2026–27 کے اعلان کے تحت دی گئی ہے۔ اس اقدام کے تحت ریاست میں 8755.60 لاکھ روپے کی منظور شدہ منصوبہ جاتی لاگت سے 49 آبی ذخائر اور 69 لاکھ روپے کی منظور شدہ منصوبہ جاتی لاگت سے 5 امرت سرووروں کو ترقی دی جائے گی۔

اس اقدام کا مقصد آبی ذخائر میں ماہی پروری کے امکانات سے استفادہ کرنا، مچھلی کی پیداوار اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، ذریعۂ معاش اور روزگار کے مواقع پیدا کرنا، نیز ریاست میں ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی سماجی و اقتصادی حالت کو بہتر بنانا ہے۔
حکومتِ ہند کے مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج جناب راجیو رنجن سنگھ اور مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ماہی پروری سے متعلق مختلف اقدامات کے مستفیدین میں اسناد تقسیم کیں۔ ان میں ماہی پروری کے لیے کسان کریڈٹ کارڈ(کے سی سی)، ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیاں، ماہی پروری سے متعلق اسٹارٹ اَپس اور ’پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) کے تحت ’کارکردگی پر مبنی گرانٹ نِشپادن انودان شامل ہیں۔

مدھیہ پردیش کے معزز وزیر اعلیٰ ڈاکٹر موہن یادو نے ماہی پروری کے شعبے میں سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، صنعتی ترقی اور برآمدات کو فروغ دینے کے بڑھتے ہوئے امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس شعبے میں سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان، کاروباری افراد اور اسٹارٹ اَپس کی بڑھتی ہوئی شراکت داری کا ذکر کیا۔ آبی وسائل کے انتظام پر زور دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ڈھائی برسوں میں ریاست کی آب پاشی کی صلاحیت بڑھ کر 60 لاکھ ہیکٹر ہو گئی ہے، اور ریاستی حکومت کا ہدف اپنی میعاد کے اختتام تک اسے 100 لاکھ ہیکٹر تک پہنچانا ہے۔ انہوں نے کین-بیتوا اور پاروتی-کالی سندھ-چمبل دریاؤں کو آپس میں جوڑنے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے پانی کی دستیابی بڑھانے اور ماہی پروری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے آبی ذخائر کی ترقی اور روایتی آبی ذرائع کے تحفظ کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
انہوں نے تین اہم اقدامات کا اعلان کیا: پہلا، ماہی پروری کو غذائی مصنوعات کی پروسیسنگ کی صنعت سے منسلک کرنا، تاکہ پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، پیکیجنگ، کولڈ چین کے بنیادی ڈھانچے اور تقسیم کے نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ دوسرا، ایم ایس ایم ای کے نظام کے تحت ماہی پروری کے کاروباری اداروں کو مدد اور مراعات فراہم کرنا، جس میں زمین اور دیگر سہولیات کی فراہمی بھی شامل ہے۔ تیسرا، ’مدھیہ پردیش ماہی پروری پالیسی 2026‘ کا آغاز کرنا، جس کے تحت ماہی پروری کے کاروباری اداروں کو زمین مختص کرنے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان اقدامات کا مقصد سرمایہ کاری کو راغب کرنا، روزگار پیدا کرنا اور ریاست میں ماہی پروری اور آبی زراعت کے امکانات کو پوری طرح بروئے کار لانا ہے۔
حکومتِ ہند کے مرکزی وزیر برائے ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور پنچایتی راج، جناب راجیو رنجن سنگھ نے بتایا کہ ہندوستان 130 ممالک کو مچھلی برآمد کرتا ہے۔ تاہم، ان ریاستوں میں مچھلی کی پیداوار میں 147 فیصد اضافے کے باوجود، مجموعی ماہی پروری کی برآمدات میں اندرونِ ملک ریاستوں کا حصہ صرف 2 فیصد ہے۔ انہوں نے سائنسی طریقوں سے کیج کلچر اور پین کلچر (پنجرے اور باڑے میں مچھلی پالنے)کے ذریعے آبی ذخائر اور بڑے تالابوں کو ترقی دینے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور مچھلی پالنے والے کسانوں کو سرمایہ کاروں، پروسیسنگ کرنے والوں اور برآمد کنندگان سے جوڑنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ’مدھیہ پردیش ماہی پروری سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ کی پالیسی 2026‘ کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار پیدا کرنے اور آمدنی بڑھانے کے لیے ماہی پروری کو ایک صنعت کے طور پر تسلیم کرکے اسے ترقی دینا ضروری ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی منڈیوں کی طلب پوری کرنے کے لیے معیاری مچھلی کی پیداوار، مؤثر لاجسٹکس، ویلیو ایڈیشن، ’ریڈی ٹو کُک‘ (پکانے کے لیے تیار) مصنوعات اور قابلِ اعتماد سپلائی چین کی اہمیت پر زور دیا۔ برآمدات میں مسابقت برقرار رکھنے کے لیے ٹریسیبلٹی (مصنوعات کے ماخذ اور نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی صلاحیت) کو ضروری قرار دیتے ہوئے انہوں نے ’نیشنل فریم ورک فار ایکواکلچر ٹریسیبلٹی 2025‘ اور ’نیشنل فشریز ڈیجیٹل پلیٹ فارم‘ کا ذکر کیا، جو آبی زراعت کی ویلیو چین میں ڈیجیٹل دستاویزات کے نظام کو معاونت فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایم پی ای ڈی اے ، یعنی میرین پروڈکٹس ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی، اندرونِ ملک ریاستوں کے برآمد کنندگان کو منڈی سے متعلق معلومات فراہم کرکے تعاون کرے گی۔
برآمدات کو فروغ دینے کے لیے پانچ ترجیحی اقدامات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے درج ذیل تجاویز دیں: برآمدات کے لیے موزوں میٹھے پانی کی مچھلیوں کی اقسام اور ہدفی منڈیوں کی نشاندہی کرنا؛ مچھلی جمع کرنے کے مراکز اور بڑے پیمانے پر پروسیسنگ مراکز قائم کرنا؛ کسانوں، کوآپریٹو سوسائٹیوں، سرمایہ کاروں اور برآمد کنندگان کے درمیان شراکت داری کو مضبوط بنانا؛ ابتدا ہی سے معیار کی تصدیق اور ٹریسیبلٹی کو یقینی بنانا؛ نیز بین الاقوامی خریداروں کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنا اور برآمدات کے واضح اہداف مقرر کرنا۔
انہوں نے متعلقہ فریقوں سے کانکلیو میں جاری کردہ ایس او پیز (معیاری عملی طریقۂ کار) پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ یہ طریقۂ کار مچھلی کے بیج ذخیرہ کرنے اور پیداوار سے لے کر برآمدات کے تقاضوں تک، پوری ویلیو چین کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومت اور صنعت سے وابستہ متعلقہ فریقوں سے باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنے کی اپیل کی، تاکہ مدھیہ پردیش کو ہندوستان کی اندرونِ ملک ماہی پروری کی برآمدات میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر قائم کیا جا سکے۔
حکومتِ ہند کی وزارتِ ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری اور وزارتِ پنچایتی راج کے وزیر مملکت پروفیسر ایس۔ پی۔ سنگھ بگھیل نے مدھیہ پردیش میں اندرونِ ملک ماہی پروری کے وسیع امکانات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کا وسیع دریائی نظام، آبی ذخائر اور پانی کا موزوں معیار ماہی پروری کی ترقی کے لیے بہترین مواقع فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے بڑے پیمانے پر کیج کلچر (پنجرے میں مچھلی پالنے)کے لیے اندرا ساگر آبی ذخیرے کی صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ایک لاکھ کیجز کی ترقی ملک کے لیے ایک منفرد مثال بن سکتی ہے۔
وزیر موصوف نے بتایا کہ 2019 میں ماہی پروری کے ایک علیحدہ محکمہ کے قیام سے اس شعبے کی ترقی میں تیزی آئی ہے اور اس کی ترقی کے نقطۂ نظر کو تقویت ملی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اندرونِ ملک ماہی پروری، جو ہندوستان کی مجموعی مچھلی کی پیداوار کا تقریباً 75 فیصد حصہ ہے، سرمایہ کاری، برآمدات اور ذریعۂ معاش کے مواقع پیدا کرنے کے وسیع امکانات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے ماہی پروری کے شعبے کی ترقی کے اگلے مرحلے کو آگے بڑھانے میں اندرونِ ملک ریاستوں، بالخصوص مدھیہ پردیش، اتر پردیش، راجستھان، بہار اور چھتیس گڑھ کے اہم کردار کو اجاگر کیا۔
حکومتِ مدھیہ پردیش کے محکمۂ بہبودِ ماہی گیر و ترقیِ ماہی پروری کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)جناب نارائن سنگھ پنوَار نے ریاستی حکومت کی ان کوششوں پر روشنی ڈالی جن کا مقصد ماہی پروری کو محض ذریعۂ معاش کی سرگرمی سے تبدیل کرکے ایک ایسے ترقی پر مبنی شعبے میں بدلنا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، کاروباری سرگرمیوں، روزگار اور بہتر آمدنی سے تقویت حاصل کرے۔ اسی سمت میں ’انٹیگریٹڈ فشریز انڈسٹری پالیسی 2026‘مربوط ماہی پروری صنعتی پالیسی 2026 کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد آبی وسائل کے بہتر استعمال اور موزوں اضلاع میں جدید کیج کلچر کو بڑے پیمانے پر فروغ دے کر مچھلی کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے۔
سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کو مقامی فوائد میں تبدیل کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیداوار میں اضافے سے ماہی گیر خاندانوں کی آمدنی بڑھے گی اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ حکومتِ ہند کے تعاون سے سردار سروور، اندرا ساگر اور وندھیاواسنی کلسٹر تیار کیے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، دیگر اضلاع میں بھی کامیاب ماڈلز کو دہرانے اور پیداوار سے لے کر بازار تک ایک مربوط نظام قائم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ایک سہولت کار اور شراکت دار کے طور پر کام کرے گا، جو سرمایہ کاروں، مچھلی پالنے والوں اور ماہی گیر برادریوں کو آپس میں جوڑے گا، تاکہ زمینی سطح پر قابلِ عمل سرمایہ کاری ممکن ہو سکے۔ سرمایہ کاروں اور کاروباری افراد کو مدھیہ پردیش کی ’ان لینڈ بلیو اکانومی‘میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے انہوں نے پیداوار بڑھانے، سرمایہ کاری کو راغب کرنے، روزگار پیدا کرنے اور ماہی گیر خاندانوں کی خوش حالی یقینی بنانے کے تئیں ریاست کے عزم کا اعادہ کیا۔
حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری کے سکریٹری ڈاکٹر ابھلکش لکھی نے اندرونِ ملک ماہی پروری میں برآمدات کے وسیع امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پینگاسیئس اور تلاپیا جیسی میٹھے پانی کی مچھلیاں فی الحال سمندری غذائی مصنوعات کی مجموعی برآمدات کا صرف 2 فیصد ہیں، اور اگلے پانچ برسوں میں اس حصے کو بڑھا کر 10 فیصد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں آبی ذخائر، تالابوں، جھیلوں اور دریاؤں کو بروئے کار لا کر، نیز بنیادی ڈھانچے، کولڈ چین، سرٹیفکیشن اور برآمدی منڈیوں تک رسائی میں سرمایہ کاری کرکے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ڈاکٹر لکھی نے اندرونِ ملک مچھلیوں کی برآمدات کو آسان بنانے کے لیے حکومتِ ہند کی جانب سے ایم پی ای ڈی اے کے تعاون سے تیار کیے گئے ’معیاری عملی طریقۂ کار‘ (ایس او پی) کے بارے میں بھی بتایا۔ ’مدھیہ پردیش ماہی پروری سرمایہ کاری اور کاروباری فروغ پالیسی 2026‘ کو بھی ایک اہم پہل قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے پانچ برسوں میں ریاستی حکومتوں کے تعاون سے ’پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت کلسٹر پر مبنی طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ اس سے اندرونِ ملک مچھلیوں اور سمندری غذائی مصنوعات کے لیے تربیت، ویلیو ایڈیشن، پیکیجنگ، برانڈنگ اور برآمدی لاجسٹکس کو فروغ ملے گا۔
حکومتِ مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری جناب اشوک برنوال نے ’بلیو ریولوشن کے تحت ماہی پروری کی جدید تکنیکوں کو اپناتے ہوئے ریاست میں مچھلی کی پیداوار کو اگلے دو سے تین برسوں میں 4.5 لاکھ ٹن سے بڑھا کر 10 سے 11 لاکھ ٹن تک پہنچانے کے ایک پُرعزم منصوبے پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے بتایا کہ اس توسیع سے ماہی پروری کے شعبے میں سالانہ تقریباً 5,000 کروڑ روپے کی اضافی آمدنی ہو سکتی ہے، جس سے کم از کم 50,000 افراد کو فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ شعبہ اب محض ذریعۂ معاش کا ایک معاون وسیلہ نہیں رہا، بلکہ سرمایہ کاری اور کل وقتی روزگار کا ایک اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے سرمایہ کاروں اور صنعت سے وابستہ افراد کو دعوت دی کہ وہ مچھلیوں کی برآمدات، پروسیسنگ اور بیک ورڈ لنکیج (سپلائی چین) کی ترقی کے لیے مدھیہ پردیش کے ساتھ شراکت داری کریں۔

کانکلیو میں اس ضرورت کو اجاگر کیا گیا کہ ماہی پروری کے شعبے کو محض پیداوار پر مرکوز نقطۂ نظر تک محدود رکھنے کے بجائے ایک مربوط ویلیو چین کی جانب بڑھایا جائے، جو پیداوار کو پروسیسنگ، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ اور منڈیوں سے منسلک کرے۔ کولڈ چین کے بہتر رابطے، معیار کے مؤثر ضوابط، سرٹیفکیشن اور لاجسٹکس کے نظام کو مضبوط بنا کر اندرونِ ملک مچھلیوں کی مصنوعات کو وسیع تر ملکی اور بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
توقع ہے کہ ان مباحثوں اور اقدامات سے مرکزی و ریاستی حکومتوں، سرمایہ کاروں، برآمد کنندگان، مالیاتی اداروں، تحقیقی تنظیموں، ماہی پروری کی کوآپریٹو سوسائٹیوں اور کاروباری افراد کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا۔ اس طرح مدھیہ پردیش میں اندرونِ ملک ماہی پروری کی صلاحیت کو سرمایہ کاری کے مواقع، مضبوط ویلیو چین اور ماہی گیروں نیز مچھلی پالنے والے کسانوں کے لیے ذریعۂ معاش کے بہتر مواقع میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
پس منظر نوٹ
- مدھیہ پردیش میں اندرونِ ملک آبی رقبہ 4.50 لاکھ ہیکٹر ہے، جس میں 3.75 لاکھ ہیکٹر آبی ذخائر شامل ہیں، جو اندرونِ ملک ماہی پروری اور آبی زراعت کے لیے پیداوار کی ایک وسیع بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ریاست میں پیدا ہونے والی مچھلیوں کی اہم اقسام روہو، کٹلا، مریگل، تلپیا، پنگاسیئس، کامن کارپ اور گراس کارپ ہیں۔
- پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) کے تحت، حکومتِ ہند کے محکمۂ ماہی پروری نے مدھیہ پردیش کے لیے مجموعی طور پر 910.81 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبوں کو منظوری دی ہے، جس میں مرکزی حکومت کا حصہ 305.50 کروڑ روپے ہے، اور منظور شدہ مرکزی حصے میں سے 301.27 کروڑ روپے جاری کیے جا چکے ہیں، جو تقریباً 98.61 فیصد ہے۔ اس کے نتیجے میں مدھیہ پردیش میں مچھلی کی پیداوار 2019-20 میں 2.00 لاکھ میٹرک ٹن سے بڑھ کر 2024-25 میں 4.45 لاکھ میٹرک ٹن ہو گئی، جو تقریباً 123 فیصد اضافہ ہے۔
- پی ایم ایم ایس وائی کے تحت پیداوار سے متعلق منظور شدہ اہم اقدامات میں 78 ہیچریاں، 1,157 آر اے ایس (آر اے ایس) اور بایوفلاک یونٹس، تالابوں کے رقبے میں 5,700 ہیکٹر سے زیادہ کا اضافہ اور ایک مربوط ایکواپارک شامل ہیں۔
- بجٹ اعلان 2026-27 کے تحت، مدھیہ پردیش میں 49 آبی ذخائر اور 5 امرت سروورز کی مربوط ترقی کے لیے 88.25 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کو منظوری دی گئی ہے۔ مدھیہ پردیش نے ہلالی آبی ذخیرے میں 316 کیجز قائم کیے ہیں، جسے آبی ذخائر پر مبنی ماہی پروری کے کلسٹر کے طور پر نوٹیفائی کیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے دوران افتتاح کیے جانے والے مربوط کیج کلچر یونٹس مچھلی کی منصوبہ بند پیداوار اور مارکیٹنگ کو مزید فروغ دیں گے۔
- فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)کے تحت مدھیہ پردیش میں پانچ منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے: (i) ماہی پروری کا تربیتی مرکز، جس کی لاگت 5.00 کروڑ روپے ہے، (ii) کولڈ اسٹوریج، جس کی لاگت 1.21 کروڑ روپے ہے، (iii) دو اختراعی منصوبے، جن کی لاگت 0.44 کروڑ روپے ہے، اور (iv) بیماریوں کی تشخیص کے لیے لیبارٹری کا قیام، جس کی لاگت 0.27 کروڑ روپے ہے۔ اب تک پانچ منصوبوں میں سے ماہی پروری کے تربیتی مرکز سے متعلق ایک منصوبے پر کام جاری ہے، جبکہ باقی چار منصوبوں پر کام شروع ہونا ابھی باقی ہے۔
***
ش ح۔ ک ا۔ ش ب ن
U.NO.6580