عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے نے عوامی تحفظ اور دیہی ترقی میں ٹیکنالوجی کے استعمال سے حکمرانی کے موضوع پر 22ویں قومی ای-گورننس ویبینار کا انعقاد کیا


ٹی آر آئی این ای ٹی آر اے اور پنچایت ترقیاتی اشاریہ، مصنوعی ذہانت پر مبنی عقدت مندوں کی سلامتی اور اعداد و شمار پر مبنی دیہی حکمرانی کی عکاسی کرتے ہیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 5:25PM by PIB Delhi

انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے محکمے(ڈی اے آرپی جی) نے 23 اکتوبر 2026 کو 22ویں قومی ای-گورننس ویبینار(این ای جی ڈبلیو) کا انعقاد کیا۔ اس ویبینار کی صدارت محکمہ انتظامی اصلاحات اور عوامی شکایات کے جوائنٹ سکریٹری جناب اویناش کمار مشرا نے کی۔ اس میں مرکزی وزارتوں، ریاستی حکومتوں، اضلاع، مقامی اداروں اور مندروں و زیارت گاہوں کے انتظامی اداروں کے افسران نے شرکت کی اور ٹیکنالوجی کے ذریعے حکمرانی کو مؤثر بنانے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال کیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261023172715_16717c.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image002_20261023172719_780536.jpg

ویبینار میں قومی ای-گورننس ایوارڈز 2026 کے تحت گولڈ ایوارڈ حاصل کرنے والے دو اقدامات پر روشنی ڈالی گئی۔ ان میں پہلا اقدام ’ ٹی آر آئی این ای ٹی آر اے یعنی تری نیترا‘ ہے، جو مدھیہ پردیش کے اجین میں مہاکالیشور مندر سمیت مہاکال رودراساگر مربوط ترقیاتی علاقے (ایم آر آئی ڈی اے) کے لیے مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو نگرانی کا نظام ہے۔ دوسری پہل پنچایتی راج کی وزارت کی قیادت میں شروع کیا گیا ’پنچایت ترقیاتی اشاریہ‘ (پی اے آئی) ہے، جو وکست بھارت کے لیے اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی کو فروغ دیتا ہے۔ ان اقدامات نے واضح کیا کہ مصنوعی ذہانت سے لیس نگرانی اور اعداد و شمار کے تجزیے کے ذریعے عوامی تحفظ کو بہتر بنانے، کارکردگی پر نظر رکھنے اور شواہد کی بنیاد پر منصوبہ بندی کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔

نیشنل ای-گورننس ویبینار سیریز ای-گورننس کے شعبے میں ایوارڈ یافتہ اقدامات کو عام کرنے اور انہیں اپنانے کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر بھی نافذ کرنے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ ریاستی، ضلعی اور مقامی اداروں کی سطح پر ان اقدامات کے نفاذ خصوصی طورپر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔

تری نیترا – مصنوعی ذہانت پر مبنی ویڈیو نگرانی کا نظام:

اجین کے شری مہاکالیشور مندر کے منتظم جناب پرتم کوشک (آئی اے ایس) نے تری نیترا کوپیش کیا، جسے اجین اسمارٹ سٹی لمیٹڈ اور شری مہاکالیشور مندر انتظامی کمیٹی کے اشتراک سے مہاکال رودراساگر مربوط ترقیاتی علاقے(ایم آر آئی ڈی اے) کے لیے نافذ کیا گیا ہے۔ اس پہل میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کے نگرانی کے نظام کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھال کر وسعت دی گئی ہے، تاکہ مہاکالیشور مندر اور اس کے آس پاس کے علاقے میں یاتریوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نپٹا جا سکے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261023172750_9a6bf3.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261023172758_bb52f2.jpg

تری نیترا میں 450 سے زیادہ مصنوعی ذہانت سے لیس کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ یہ نظام ایک مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے ذریعے ویڈیو تجزیے، چہرے کی شناخت اور ہجوم کی پیش گوئی پر مبنی نگرانی کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام حقیقی وقت میں نگرانی، ہجوم کی نقل و حرکت کے انتظام اور ہنگامی حالات میں ردعمل کو مربوط بنانے میں مدد کرتا ہے۔ منصوبے کی تفصیلات کے مطابق، ہنگامی حالات میں ردعمل کا وقت 15 سے 20 منٹ سے کم ہو کر پانچ منٹ سے بھی کم رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ، گمشدہ افراد کے 552 معاملات حل کیے گئے، گم شدہ 53 اشیا برآمد کی گئیں، چوری کے 10 واقعات کو بروقت ناکام بنایا گیا اور پولیس کے سات مقدمات میں ویڈیو شواہد فراہم کیے گئے۔

یہ پہل ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے مذہبی مقامات پر جانے والے عقیدت مندوں کی سلامتی کو بہتر بنانے اور زیادہ تعداد میں لوگوں کی آمد والے مذہبی مقامات اور عوامی اجتماعات کے انتظام کے لیے ایک مؤثر نمونہ پیش کرتی ہے، جسے مستقبل میں دیگر مقامات پر بھی اپنایا اور وسعت دی جا سکتی ہے۔

پنچایت ترقیاتی اشاریہ – وکست بھارت کے لیے اعداد و شمار پر مبنی حکمرانی

قومی اطلاعاتی مرکز(این آئی سی) کی سینئر ڈائریکٹر(آئی ٹی)محترمہ سنیتا جین نے پنچایت ترقیاتی اشاریہ(پی اے آئی)کو پیش کیا۔ یہ پنچایتی راج  کی وزارت کا تیار کردہ اعداد و شمار پر مبنی ایک نظام ہے، جس کے ذریعے مقامی سطح پر پائیدار ترقی کے اہداف (ایل ایس ڈی جی) کے نو موضوعاتی شعبوں میں گرام پنچایتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پنچایت ترقیاتی اشاریہ معیاری اشاریوں، مربوط اعداد و شمار، توثیق کے طریقۂ کار، تجزیاتی ڈیش بورڈز اور پنچایت اسکور کارڈز کا استعمال کرتے ہوئے ترقیاتی نتائج کا جائزہ لیتا ہے اور ان ترجیحی شعبوں کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261023172824_4995be.jpghttps://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261023172832_81eaab.jpg

پنچایت ترقیاتی اشاریہ(پی اے آئی)پر پیش کی گئی تفصیلات میں اعداد و شمار پر مبنی دیہی حکمرانی کو فروغ دینے میں اس کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔ یہ اشاریہ ترقی کے نو موضوعاتی شعبوں میں 150 اشاریوں اور 230 اعداد و شمار کے نکات کی مدد سے خامیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان کے ازالے کے لیے ہدف پر مبنی اقدامات کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے ذریعے گاؤں، بلاک، ضلع، ریاست اور مرکزی سطح پر کام کرنے والے افسران ترجیحات کا تعین کر سکتے ہیں، ذمہ داریاں سونپ سکتے ہیں اور پیش رفت کی نگرانی کر سکتے ہیں۔ محض درجہ بندی کی مشق کے بجائے اسے ترقیاتی رپورٹ کارڈ کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ پنچایت ترقیاتی اشاریے کا پورٹل تقریباً 2.6 لاکھ گرام پنچایتوں کا احاطہ کرتا ہے، جس سے شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور زیادہ ہدفی و پائیدار دیہی ترقی کو فروغ ملتا ہے۔

ویبینار میں اس بات کو اجاگر کیا گیا کہ دونوں اقدامات حکمرانی کے مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی اور اعداد و شمار کا استعمال کرتے ہیں۔ ایک جانب بڑے زیارتی اور مذہبی مقامات پر تحفظ اور ہجوم کے انتظام کو مضبوط بناتے ہیں، تو دوسری جانب نچلی سطح پر شفاف، قابلِ پیمائش اور شواہد پر مبنی ترقی کو فروغ دیتے ہیں۔ اس اجلاس میں 360 سے زیادہ افسران نے شرکت کی۔

میٹنگ کے اختتام پر مقررین کی گراں قدر خدمات اور افسران و متعلقہ فریقوں کی فعال شرکت کو سراہا گیا۔ شرکا کی حوصلہ افزائی کی گئی کہ وہ پیش کیے گئے طریقوں کو اپنے اپنے دائرۂ اختیار میں اپنانے اور نافذ کرنے کے امکانات پر غور کریں۔

 

***

ش ح۔ م ع ن- ت ع

U.NO.6585


(ریلیز آئی ڈی: 2327552) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी