پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 4:55PM by PIB Delhi
خصوصی مہم 6.0 کے تحت پونے کا آگرکر تحقیقی ادارہ (اے آر آئی) اپنے احاطے میں نامیاتی کچرے کے سائنسی انتظام، غذائی اجزا کی ریسائیکلنگ اور سرسبز مقامات کی پائیدار دیکھ بھال کو فروغ دے رہا ہے۔ ادارہ گرے ہوئے پتوں اور باغیچے کے کچرے سے ہر سال تقریباً 6,000 کلوگرام نامیاتی کھاد تیار کرتا ہے اور اسے اپنے باغات میں استعمال کرتا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے نامیاتی کچرے کو مٹی کی زرخیزی بڑھانے والے قیمتی مادے میں تبدیل کیا جاتا ہے، وسائل کے تحفظ کو فروغ ملتا ہے اور نامیاتی مادے اور غذائی اجزا کو دوبارہ مٹی میں شامل کرکے مدور معیشت کے اصولوں کے عملی اطلاق کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔
شکل 1: آگرکر تحقیقی ادارے کے احاطے میں گرے ہوئے پتے اور کھجور کے پتے گل سڑ کر نامیاتی مادے کی صورت میں دوبارہ مٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔
آگرکر تحقیقی ادارے میں گرے ہوئے پتے اور باغیچے سے حاصل ہونے والے دیگر نامیاتی فضلے کو جمع کرکے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کچلا جاتا ہے اور ادارے کے اندر ہی نامیاتی کھاد تیار کرنے کے لیے مخصوص گڑھے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ہوا کو بہتر بنانے اور بہت چھوٹے جانداروں کے ذریعے گلنے سڑنے کے عمل کو تیز کرنے کے لیے اس اشیاء کو ہر ہفتے الٹ پلٹ کیا جاتا ہے۔ تقریباً تین سے چار ماہ بعد تیار ہونے والی پختہ نامیاتی کھاد نکال کر ادارے کے باغات میں استعمال کی جاتی ہے۔ کھاد بنانے کے اس عمل کے دوران چھوٹے جاندار پیچیدہ نامیاتی مادوں کو توڑ کر نسبتاً مستحکم نامیاتی مادے میں تبدیل کر دیتے ہیں۔
شکل 2: پونے کے آگرکر تحقیقی ادارے میں کھاد تیار کرنے کے گڑھے، جہاں گرے ہوئے پتوں اور باغیچے کے نامیاتی فضلے سے ادارے کے اندر ہی کھاد تیار کی جاتی ہے۔
آگرکر تحقیقی ادارے میں باغبانی کے لیے 80 فیصد نامیاتی کھاد اور 20 فیصد مٹی پر مشتمل ملاوٹ کو استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے مٹی کی ساخت بہتر بنانے، پانی جذب کرکے اسے محفوظ رکھنے کی صلاحیت بڑھانے، مٹی میں نامیاتی مادے کی مقدار میں اضافہ کرنے اور پودوں کو غذائی اجزا کی دستیابی یقینی بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ہر سال نامیاتی کھاد کی تیاری اور اسے ادارے کے احاطے میں ہی استعمال کرنے سے مقامی طور پر دستیاب نامیاتی وسائل کو کارآمد طریقے سے دوبارہ بروئے کار لایا جاتا ہے اور باغبانی کے لیے باہر سے خریدے جانے والے سامان کی ضرورت کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے باغیچے کے کچرے کی اس مقدار میں بھی کمی آتی ہے جسے ٹھکانے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے اور ادارے کے احاطے میں وسائل کے زیادہ مؤثر استعمال کو فروغ ملتا ہے۔ احاطے میں ہی کھاد تیار کرنے سے کچرے کی نقل و حمل کی ضرورت اور اسے کچرا بھرنے کی جگہوں پر ٹھکانے لگانے سے پیدا ہونے والے ماحولیاتی اثرات میں بھی کمی آ سکتی ہے۔
آگرکر تحقیقی ادارہ تقریباً دو ایکڑ رقبے پر مشتمل باغات اور سرسبز مقامات کی دیکھ بھال کرتا ہے، جو پودوں کے تنوع، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ادارے کے احاطے کے ماحولیاتی معیار کو بہتر بنانے میں معاون ہیں۔ باغبانی کا شعبہ 100 سے زائد انواع کے تقریباً 308 درختوں، 39 انواع کے دواؤں کے پودوں، 2,300 آرائشی پودوں اور 800 موسمی پھولدار پودوں کے علاوہ مختلف اقسام کی سبزیوں کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ ادارے میں قائم آرکڈ گاہ آرکڈ کے مختلف انواع کے تحفظ اور نمائش میں معاون ہے، نیز پودوں کے تحفظ اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مخصوص سہولت فراہم کرتی ہے۔ مختلف اقسام کے درختوں، دواؤں کے پودوں اور آرائشی نباتات کی دیکھ بھال سے ادارے کے احاطے میں سرسبز ماحول کو مضبوط بنانے کے ساتھ پودوں کے تنوع اور ان کے تحفظ کے بارے میں بیداری کو بھی فروغ ملتا ہے۔
کچرے کو ٹھکانے لگانے سے متعلق اقدامات کے ساتھ ساتھ آگرکر تحقیقی ادارہ اپنے ’’6×6 غذائی باغبانی نمونے‘‘ کے ذریعے غذائیت کو مدنظر رکھتے ہوئے باغبانی کو فروغ دیتا ہے۔ 6×6 میٹر کے محدود رقبے کے لیے تیار کردہ یہ نمونہ فصلوں کی منظم منصوبہ بندی اور دستیاب جگہ کے مؤثر استعمال کے ذریعے 23 اقسام کی سبزیاں اگانے کا طریقہ پیش کرتا ہے۔ پانچ سے چھ افراد پر مشتمل خاندان کی غذائی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا یہ نمونہ واضح کرتا ہے کہ گھریلو باغبانی سے تازہ سبزیوں تک رسائی بہتر بنانے، غذا میں تنوع بڑھانے اور گھرانے کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کس طرح مدد مل سکتی ہے۔ مختلف اقسام کی سبزیوں کی منصوبہ بند کاشت سے زیادہ متنوع غذا کے حصول میں مدد مل سکتی ہے اور باہر سے سبزیاں خریدنے پر انحصار کم ہو سکتا ہے، تاہم اس کا دارومدار موسم اور حقیقی پیداوار پر ہوگا۔ اس نمونے کو شہری، نیم شہری اور دیہی آبادیوں میں بھی اپنایا جا سکتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں زمین محدود مقدار میں دستیاب ہو۔ اس طرح یہ محدود رقبے میں فصلوں کی سائنسی منصوبہ بندی، پائیدار باغبانی اور گھریلو غذائیت کو یکجا کرتا ہے۔
شکل 3: غذائیت بخش باغیچے کا نمونہ، جس میں فصلوں کی سائنسی منصوبہ بندی اور باغیچے کی جگہ کا مؤثر استعمال دکھایا گیا ہے۔
اے آر آئی کے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ نامیاتی کچرے کو ٹھکانے لگانے، مٹی کی بہتری، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور غذائیت بخش باغبانی کے لیے سائنسی طریقوں کو اپنا کر ادارے کے احاطے کو زیادہ صاف ستھرا اور سرسبز بنایا جا سکتا ہے۔ باغیچے کے فضلے کو کھاد میں تبدیل کرکے اور اس سے حاصل ہونے والی کھاد کو ادارے کے احاطے میں ہی دوبارہ استعمال کرکے، یہ ادارہ کچرے کی مقدار کم کرنے، غذائی اجزا کو دوبارہ کارآمد بنانے اور وسائل کے ذمہ دارانہ استعمال کو فروغ دیتا ہے۔
یہ کوششیں خصوصی مہم 6.0 کے مقاصد کو تقویت دیتی ہیں، کیونکہ ان کے ذریعے صفائی کے تصور کو محض کچرا ہٹانے تک محدود رکھنے کے بجائے وسائل کے سائنسی انتظام اور دوبارہ ان کے مفید استعمال تک وسعت دی گئی ہے۔ اے آر آئی کے یہ اقدامات اس امر کو اجاگر کرتے ہیں کہ سائنسی ادارے ماحولیاتی پائیداری کے اصولوں کو عملی جامہ پہنانے اور اداروں کے احاطوں میں ان پر عمل درآمد کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
*****
ش ح ۔ع ح۔ ر ب
U: 6582