سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

بلیک ہول کی گردش کا ،  اس کے گرد موجود مادّے سے خارج ہونے والی روشنی کی ٹمٹماہٹ پر اثرات کا انکشاف

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 4:54PM by PIB Delhi

سائنس دانوں نے ایک اہم طریقۂ کار کا پتا لگایا ہے، جو اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ تیزی سے گردش کرنے والے بلیک ہولز کے گرد موجود مادّہ، جسے مادّے کا  الحاقی  قرص  ( ایکریشن ڈسک ) بھی کہا جاتا ہے، کیوں تیزی سے اتار چڑھاؤ والی ایکس - ریز خارج کر سکتا ہے۔

اس تحقیق میں ایک ایسے واحد طبعی طریقۂ کار پر توجہ مرکوز کی گئی ہے  ، جو مختلف تعدد ( فریکوینسیز )  پر ایکس  - ریز کی ٹمٹماہٹ پیدا کر سکتا ہے۔ اس سے ان غیر معمولی فلکیاتی اجسام کے نظریاتی نمونوں میں غیر یقینی اور بے ترتیبی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

بلیک ہول کائنات کا سب سے زیادہ کثیف جسم ( آبجیکٹ )  ہے۔ اس کی کششِ ثقل اتنی شدید ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی۔ بلیک ہول اپنے محور کے گرد گردش بھی کر سکتا ہے۔ اس کی شدید کششِ ثقل کی وجہ سے جو مادّہ اس کی طرف کھنچتا ہے، اسے مادّے کا بہاؤ کہا جاتا ہے۔ یہ مادّہ تیز رفتاری سے اندر کی طرف گرتا ہے اور اس عمل کے دوران غیر حرارتی تابکاری پیدا ہوتی ہے۔

اس تابکاری کی چمک میں اکثر تقریباً باقاعدہ وقفوں سے تبدیلیاں آتی ہیں، جنہیں نیم دوریاتی ارتعاشات  (  کیو پی اوز )  کہا جاتا ہے۔ بلیک ہول کے ایکس - رے والے دوہرے نظاموں میں  ، ان ارتعاشات کی تعدد ( فریکوینسی )  ایک سیکنڈ میں ایک چکر سے بھی کم سے لے کر کئی سو چکروں تک ہو سکتی ہے۔

اس سے پہلے کی تحقیقات میں یا تو کم تعدد والے ارتعاشات کی وضاحت کی جا سکتی تھی، یا پھر زیادہ تعدد والے ارتعاشات کو سمجھانے کے لیے دیگر غیر معمولی طبعی عمل کا سہارا لینا پڑتا تھا۔

اس خلاء  کو پُر کرنے کے لیے،  حکومت ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی  کے ایک خودمختار ادارے، آریہ بھٹہ تحقیقی ادارہ برائے مشاہداتی علوم ( آریہ بھٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف آبزرویشنل سائنس – اے آر آئی ای ایس )  کے سائنس دانوں نے یہ وضاحت کرنے کا کام اپنے ہاتھ میں لیا کہ گردش کرتے ہوئے بلیک ہول کے گرد مادّے کے الحاقی صدموں ( ایکریشن شاکس )  سے ارتعاشات کیسے پیدا ہوتے ہیں، جو تعدد کی اس وسیع  رینج  کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے بلیک ہولز کے  گرد  لیس دار مادّے کے بہاؤ کے رویّے کا نمونہ تیار کرنے کے لیے اے آر آئی ای ایس کے عددی اور نظری فلکی طبیعیات کے گروپ کے تیار کردہ کمپیوٹر سیمولیشن کا استعمال کیا۔ اس تحقیق میں پولینڈ کے نکولس کوپرنیکس فلکیاتی مرکز اور ایم جے پی روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی کے سائنس دان بھی شامل تھے۔ اس کام کی قیادت اے آر آئی ای ایس  کے جناب سَنِت دیب ناتھ اور ڈاکٹر اندرانیل چٹو پادھیائے نے کی۔

اس سیمو لیشن میں مادّے کی حرکت کا مطالعہ کیا گیا، جب کہ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ توانائی، کمیت اور مومینٹم جیسی اہم طبعی مقداریں محفوظ رہیں۔ اس سے محققین کو یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ تیز رفتار سے حرکت کرنے والے مادّے کے بہاؤ کا رویّہ کیسا ہوتا ہے اور اس کے ارتعاشات بلیک ہولز سے خارج ہونے والی تابکاری میں مشاہدہ کی جانے والی تبدیلیوں کو کیسے جنم دیتے ہیں۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image001_20261023165451_c169f8.jpg

شکل   :  ماڈل اے  91.2 کے لیے دو مختلف  ( الفا 0.01    ، 0.035  )   قدروں  پر ضیائی شدت میں وقت کے ساتھ ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے متعلقہ  پاور ڈینسٹی اسپیکٹرم   (  پی ڈی ایس )  کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں بلیک ہول کی کمیت  10 ایم  فرض کی گئی ہے۔

 

ان کے تحقیقی نتائج حال ہی میں جریدے  ’ جرنل آف ہائی انرجی ایسٹرو فزکس ‘  ( جے ایچ ای اے پی )  میں شائع ہوئے ہیں۔ محققین نے پایا کہ جب مادّے کے الحاقی بہاؤ کی  چپچپاہٹ  ایک مخصوص حد سے بڑھ جاتی ہے تو قرص  ( ڈسک ) میں موجود معمول کے مطابق مستحکم  شاک  غیر مستحکم ہو جاتا ہے اور اس میں ارتعاشات پیدا ہونے لگتے ہیں۔ مادّے کے  الحاقی  ڈسک  میں پیدا ہونے والے یہ ارتعاشات خارج ہونے والی تابکاری میں باقاعدہ تبدیلیاں پیدا کر سکتے ہیں، جو روشنی کی تقریباً دوریاتی ( پیریوڈِک ) ٹمٹماہٹ کی صورت میں دکھائی دیتی ہیں۔ اس مظہر کو نیم دوریاتی ارتعاشات  (  کیو پی اوز )  کہا جاتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بلیک ہول کی محوری گردش اس کے گرد شاک  کی حرکت اور نیم دوریاتی ارتعاشات کی  فریکوینسی  پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ آہستہ گردش کرنے والے بلیک ہولز میں چپچپاہٹ ، ارتعاش کرنے والے  شاک  کی اوسط پوزیشن کو بلیک ہول سے مزید دور دھکیل دیتی ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر کم  فریکوینسی والے نیم دوریاتی ارتعاشات ( کوسی – پیریوڈِک اوسیلیشنز )  پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے برعکس، تیزی سے گردش کرنے والے بلیک ہولز  شاک  کو اپنی طرف، یعنی اپنے زیادہ قریب کھینچتے ہیں، جس سے نیم دوریاتی ارتعاشات تعدد کی کہیں زیادہ وسیع حدود میں پیدا ہوتے ہیں۔ بہت تیزی سے گردش کرنے والے بلیک ہولز کے لیے پیش گوئی کی گئی ہے کہ ان ارتعاشات کی تعدد 100 ہرٹز سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، بشرطیکہ بلیک ہول کی کمیت سورج کی کمیت سے تقریباً دس گنا ہو۔ یہ تعدد بلیک ہول کے ایکس - رے والے دوہرے نظاموں میں مشاہدہ کی جانے والی تیز تعدد کی تبدیلیوں سے مشابہ ہے۔

سیمو لیشن  سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بلیک ہول کی گردش جتنی تیز ہوتی جاتی ہے،  شاک  اس کے اتنا ہی قریب آتا جاتا ہے اور اس کے ارتعاشات بھی زیادہ نمایاں ہو جاتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تحقیق میں نیم دوریاتی ارتعاشات کی تعدد اور تعدد کے لحاظ سے فوٹون کے بہاؤ کی شدت میں تبدیلی کی شرح، یعنی فوٹون اشاریے، کے درمیان ایک واضح تعلق بھی سامنے آیا ہے۔ اس سے گردش کرنے والے بلیک ہولز کے گرد موجود توانائی سے بھرپور ماحول کو سمجھنے کے لیے ایک اور مفید اشارہ ملتا ہے۔

ان نتائج سے اس بات کی واضح طبعی توجیہ ملتی ہے کہ ایکس -  رے والے دوہرے نظاموں میں تیزی سے گردش کرنے والے بلیک ہولز زیادہ تعدد والے نیم دوریاتی ارتعاشات کیوں پیدا کر سکتے ہیں۔ محققین کے مطابق، یہ پہلا عددی مطالعہ ہے  ، جس میں اندرونی رگڑ یا  چپچپاہٹ  کی موجودگی میں مادّے کے الحاقی  بہاؤ  ( ایکریشن فلو ) کی نقل تیار کی گئی ہے اور اس میں اضافیت کے اصولوں کے مطابق سیال کی حرکیاتی خصوصیات سے متعلق مساوات کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ سیمو لیشن  انتہائی حقیقت سے قریب تر صورتِ حال میں ظاہر کرتا ہے کہ بلیک ہول کی گردش نیم دوریاتی ارتعاشات  ( کیو پی واز ) کی  فریکوینسی  کو کس طرح متاثر کر سکتی ہے۔

یہ نتائج سائنس دانوں کو ان نظاموں سے خارج ہونے والی ایکس -  رے میں مشاہدہ کی جانے والی تیز رفتار تبدیلیوں کی وجہ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

اشاعت کا  لنک :

https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S2214404826001059

 

..................................................... ...................................................

) ش ح –  م م-  ع ا )

U.No. 6584


(ریلیز آئی ڈی: 2327490) وزیٹر کاؤنٹر : 9
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी