پوسٹ کرنے کی تاریخ:
23 OCT 2026 3:14PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کےمرکزی وزیر مملکت(( آزادانہ چارج ) اور وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ مشن کرم یوگی حکمرانی میں ضوابط پر مبنی نظام سے کردار پر مبنی طریقۂ کار کی جانب بنیادی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کا مقصد سرکاری ملازمین میں ایسی صلاحیتیں پیدا کرنا ہے جو انہیں اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دینے کے قابل بنائیں۔
لکھنؤ میں سادھنا شرنکھلا 2026 کی تیسری علاقائی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ صلاحیت سازی کمیشن کا تصور وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے پیش کیا تھا، جنہوں نے 2014 میں عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد حکمرانی میں اصلاحات کے سلسلے کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سول سروسز میں تبدیلی کے لیے صلاحیت سازی مرکزی اہمیت رکھتی ہے، جس کا حتمی مقصد حکمرانی اور عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا ہے۔ انہوں نے اتر پردیش میں ان انتظامی اصلاحات کے مؤثر نفاذ کے لیے یوگی حکومت کی ستائش بھی کی۔
صلاحیت سازی کمیشن نے حکومت اتر پردیش کے اشتراک سے 23 اور 24 اکتوبر کو دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں شمالی خطے کی آٹھ ریاستوں اور چار مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔ اس ورکشاپ میں سرکاری تربیتی اداروں کو جدید اور صلاحیتوں پر مبنی اداروں میں تبدیل کرنے کے طریقوں پر غور و خوض کیا جا رہا ہے، تاکہ سرکاری اہلکاروں کی صلاحیت سازی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اس ورکشاپ میں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ جناب یوگی آدتیہ ناتھ کی موجودگی نے تقریب کو رونق بخشی۔ پروگرام میں صلاحیت سازی کمیشن کی چیئرپرسن ایس رادھا چوہان، کمیشن کی رکن الکا متل، حکومتِ اتر پردیش کے چیف سکریٹری ششی پرکاش گوئل، روپام کے ڈائریکٹر جنرل دیوراج، ڈائریکٹر گیلونگ کے علاوہ اتر پردیش حکومت کے سینئر عہدیداران اور مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں 2014 میں شروع ہونے والے انتظامی اصلاحات کے سفر کا مقصد طریقۂ کار کو آسان، عوامی اعتماد کو مضبوط کرنا اور حکمرانی کو زیادہ قابل رسائی بنانا رہا ہے۔ سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے لیے گزٹیڈ افسران کی توثیق کی شرط ختم کرنے اور بعض سرکاری تقرریوں کے عمل میں انٹرویو کا سلسلہ بند کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات شہریوں پر اعتماد اور عوامی انتظامیہ میں منصفانہ طرز عمل کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے روزگار میلوں، مرکزی عوامی شکایات کے ازالے اور نگرانی کے نظام (سی پی جی آر اے ایم ایس) اور ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹس کو بھی ایسی اصلاحات کی مثالوں کے طور پر پیش کیا، جنہوں نے طریقۂ کار کو آسان بنانے کے ساتھ عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر کیا ہے۔
سی پی جی آر اے ایم ایس کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ عوامی شکایات کے سالانہ اندراجات کی تعداد 2014 میں تقریباً دو لاکھ تھی، جو بڑھ کر تقریباً 25 لاکھ ہو گئی ہے۔ یہ صورت حال شکایات کے ازالے کے نظام پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ تقریباً 95 سے 97 فیصد شکایات کا مقررہ مدت کے اندر ازالہ کیے جانے کے باعث شہری اب اپنی شکایات پر تیزی سےجواب ملنے کی توقع کرنے لگے ہیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل لائف سرٹیفکیٹس کا بھی ذکر کیا، جن میں بائیو میٹرک شناخت اور چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجیز کا استعمال شامل ہے۔ ان سہولتوں نے پنشن یافتگان کے لیے ضابطوں کی تکمیل کو آسان بنایا ہے اور پیچیدہ فزیکل کارروائیوں کی ضرورت کو کم کیا ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ صلاحیت سازی کمیشن اصلاحات کے اس سفر میں ایک اہم ادارہ جاتی پہل کی حیثیت رکھتا ہے۔ صلاحیت سازی کے ذریعے سرکاری ملازمین کو معمول کی فائلوں کی کارروائی تک محدود رہنے کے بجائے اپنی ذمہ داریاں مؤثر طریقے سے انجام دینے کے لیے درکار صلاحیتیں پیدا کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ایسی سرکاری خدمات کو تشکیل دینا ہے جو ذمہ داریاں سنبھالنے، بدلتی ہوئی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھالنے اور حکمرانی میں ٹھوس بہتری لانے کی صلاحیت رکھتی ہو۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سرکاری تربیتی اداروں کو اس تبدیلی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کرنا چاہیے۔ یہ ادارے روایتی طور پر ادارہ جاتی علم اور تجربے کے محافظ رہے ہیں، تاہم اب انہیں روایتی تربیتی پروگراموں کے انعقاد سے آگے بڑھ کر ایسے صلاحیت سازی کے اداروں میں تبدیل ہونے کی ضرورت ہے، جو حکومت کی ضروریات کے مطابق درکار صلاحیتوں کو منظم انداز میں پورا کر سکیں۔
ایک منظم لائحۂ عمل ان اداروں کو ادارہ جاتی نظم و نسق اور تدریسی عملے کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے، نصاب اور تدریسی طریقوں کو بہتر کرنے، شراکت داریوں کو فروغ دینے، ٹیکنالوجی اپنانے اور اپنی سرگرمیوں کے نتائج کا جائزہ لینے میں مددفراہم کر سکتا ہے۔ وقت کے ساتھ اس عمل کے ذریعے ادارے مخصوص شعبوں میں مہارت حاصل کر سکیں گے اور سنٹرل آف ایکسلینس(امتیازی مرکز) کے طور پر ابھر سکیں گے۔
روایت، ٹیکنالوجی اور ٹھوس نتائج کے اصولوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ یہ تینوں عناصر مشن کرم یوگی کے تحت صلاحیت سازی کو مضبوط بنانے کے لیے ایک عملی سمت فراہم کرتے ہیں۔ تربیتی ادارے اپنے پاس موجود علم اور ادارہ جاتی تجربے کے ذریعے روایت کی نمائندگی کرتے ہیں؛ آئی گوٹ کرم یوگی بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی پر مبنی تعلیم کو ممکن بناتا ہے؛ جبکہ انسانی وسائل کے انتظام کے نظام افسران کی صلاحیتوں کو ان کے پیشہ ورانہ سفر اور تعیناتی سے مربوط کر سکتے ہیں۔
ان عناصر کو یکجا کرنے سے حکومت کو کسی عہدے کے لیے درکار صلاحیتوں کو افسر کی حاصل کردہ تربیت اور اس کے بعد سونپی جانے والی ذمہ داریوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جس سے ضوابط پر مبنی نظام سے کردار پر مبنی طریقۂ کار کی جانب تبدیلی کو عملی شکل ملے گی۔
وزیر موصوف نے صلاحیت سازی کے اقدامات پر عمل درآمد میں بہتر کارکردگی کے لیے اتر پردیش کو مبارک باد دی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے 19 لاکھ سے زیادہ افسران اور ملازمین نے آئی گوٹ(آئی جی او ٹی) کرم یوگی پر اندراج کرایا ہے، جس سے قومی سطح پر تقریباً 1.7 کروڑ افراد کی شرکت میں تعاون حاصل ہوا ہے۔
انہوں نے اتر پردیش کے تربیت حاصل کرنے والوں میں یوگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کورسوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا بھی ذکر کیا اور اسے اس بات کی نمایاں مثال قرار دیا کہ روایتی علم اور جدید ٹیکنالوجی کس طرح ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے ریاستی انتظامیہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی کارکردگی دیگر ریاستوں کے لیے بھی ترغیب کا باعث بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یو این این اے ٹی آئی(یونائیٹڈ نیو ایج نیشنل ٹریننگ انیشی ایٹو)میں اتر پردیش کے تعاون کو بھی سراہا۔ یہ پہل تربیتی اداروں کو باہمی طور پرمربوط کرتی ہے تاکہ اشتراک، وسائل کے تبادلے اور حکومت کی صلاحیت سازی سے متعلق ضروریات کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔
اپنے خطاب کے دوران پیش کیے گئے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتر پردیش کے 370 سے زیادہ تربیتی ادارے اس پہل میں شامل ہو چکے ہیں، جبکہ قومی سطح پر ایسے اداروں کی تعداد تقریباً 110 ہے۔ انہوں نے کہا کہ تربیتی اداروں کا ایک مضبوط نیٹ ورک ریاستوں کے درمیان مہارتوں اور بہتر حکمرانی کے طریقوں کے تبادلے میں مددگار ثابت ہوگا۔
وزیر موصوف نے کہا کہ صلاحیت سازی کے اقدامات کی کامیابی کا حتمی پیمانہ زمینی سطح پر ان کے اثرات ہونے چاہئیں، نہ کہ محض منعقد کیے گئے تربیتی پروگراموں یا تربیت حاصل کرنے والے افسران کی تعداد۔ ان اقدامات کی افادیت کا اظہار ترقی یافتہ صلاحیتوں، پروان چڑھنے والی ادارہ جاتی قیادت اور حکومتی کارکردگی میں حاصل ہونے والی بہتری سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تربیتی اداروں کو بتدریج تعلیم و تعلم، رہنمائی اور قیادت کی نشوونما کے مراکز کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ اس مقصد کے لیے انہیں شہریوں پر مرکوز حکمرانی کے اپنے ہدف کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی اداروں، صنعت اور عملی تجربہ رکھنے والے ماہرین کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بہتر حکمرانی کے اقدامات میں تعاون کے لیے اتر پردیش کی ستائش بھی کی۔ انہوں نے بہتر حکمرانی کے اشاریے میں ریاست کی شرکت اور مؤثر انتظامی طریقوں کو عام کرنے کے لیے علاقائی سطح پر کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا-انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی قیادت میں اتر پردیش بہتر حکمرانی کے مؤثر طریقوں کو دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں تک پہنچانے اور ان کے تبادلے کے لیے ایک مثال بن کر ابھرے گا۔
وزیر موصوف نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حمایت اور اتر پردیش میں سادھنا شرنکھلا ورکشاپ کے انعقاد میں سہولت فراہم کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ایک ساتھ لانے کا موقع فراہم کیا، تاکہ سرکاری تربیتی اداروں میں تبدیلی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور مؤثر، جواب دہ اور شہریوں پر مرکوز حکمرانی فراہم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی صلاحیتوں کو بہتربنایا جا سکے۔




***
ش ح۔ م ع ن- ت ع
U.NO.6576