PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

زرعی شمسی توانائی


ہندوستان کےکھیتوں کوتوانائی فراہم کرنا،پائیدارمستقبل کی تعمیرکرنا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 23 OCT 2026 11:24AM by PIB Delhi

زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے سنگم پر ایک اختراعی طریقۂ کار موجود ہے، جو زرعی زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ زرعی شمسی توانائی کے نظام میں ایک ہی زمین پر فصلوں کی کاشت کے ساتھ شمسی توانائی بھی پیدا کی جاتی ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع متنوع بنانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو صاف توانائی کی جانب منتقل کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار اور شمسی بجلی کو یکجا کرنے کا یہ طریقہ زمین کے مؤثر استعمال، کھیتی باڑی کو زیادہ مستحکم بنانے اور دیہی علاقوں میں پائیدار خوشحالی کے فروغ کی جانب ایک امید افزا راستہ فراہم کرتا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

زرعی کھیتوں کے لیے شمسی توانائی اور صاف ستھرے مستقبل کی جانب پیش قدمی

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image003_20261023112907_0d7e5f.jpg

 

زراعت ہندوستان کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ملک کی تقریباً 46.1 فیصد آبادی کے لیے ذریعۂ معاش کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں کی مجموعی افزودگی کی قیمت 2025-26 میں بڑھ کر 52.08 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔ اس اہم شعبے کو مستحکم رکھنے کے لیے آب پاشی اور کھیتی باڑی کے دیگر کاموں کے لیے قابلِ اعتماد اور سستی توانائی کی ضرورت ہے۔ شمسی توانائی ان روزمرہ ضروریات کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کو صاف توانائی کی جانب منتقل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ مزید پڑھنے کے لیے کلک کریں: ہندوستانی زراعت اور اس سے متعلقہ شعبوں کا نیا دور

ہندوستان کی وسیع زرعی اراضی میں شمسی توانائی کو کھیتی باڑی کے ساتھ مربوط کرنے کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ 2023-24 کے زمینی استعمال کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کا رپورٹ شدہ رقبہ 306.96 ملین ہیکٹیئر ہے، جس میں سے تقریباً 55 فیصد زرعی اراضی پر مشتمل ہے۔ خالص زیرِ کاشت رقبہ 138.99 ملین ہیکٹیئر ہے، جب کہ مجموعی فصلوں کا رقبہ 217.88 ملین ہیکٹیئر ہے۔ زمین کا یہ وسیع رقبہ زرعی پیداوار کے ساتھ ساتھ شمسی بجلی پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔ کسان شمسی توانائی سے آب پاشی کے پمپ چلا سکتے ہیں، روایتی بجلی پر انحصار کم کر سکتے ہیں اور اضافی بجلی کو برقی گرڈ میں فراہم کرکے ممکنہ طور پر اضافی آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر، شمسی توانائی سے چلنے والے آب پاشی کے پمپ دن کے وقت فصلوں کو پانی فراہم کر سکتے ہیں اور اس طرح ڈیزل سے چلنے والے متبادل ذرائع پر انحصار کم ہو سکتا ہے۔

زرعی شمسی توانائی کا نظام اس انضمام کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ایک ہی زمین پر فصلوں کی کاشت اور شمسی بجلی کی پیداوار کو یکجا کرتا ہے۔ فصلوں کی قطاروں کے اوپر یا ان کے درمیان شمسی پینل نصب کیے جاتے ہیں، جن سے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی بھی جاری رکھی جا سکتی ہے۔ فصل کی نوعیت، شمسی پینلوں کے ڈیزائن اور مقامی حالات کے لحاظ سے، جزوی سایہ مٹی کی نمی کے ضیاع کو کم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ یہ طریقۂ کار زمین کے زیادہ مؤثر استعمال، زرعی آمدنی کے ذرائع میں تنوع اور غذائی و توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ تحقیق، عملی مظاہروں اور پالیسی سازی کے ذریعے ہندوستان مختلف زرعی حالات کے مطابق زرعی شمسی توانائی کے نظام کو ڈھالنے کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ یہ نظام کسانوں کے ذریعۂ معاش کو ہندوستان کے وسیع تر قابلِ تجدید توانائی کے اہداف سے ہم آہنگ کرنے کا ایک امید افزا راستہ فراہم کرتا ہے۔

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image004_20261023112921_55e5ac.jpg

 

ساتویں عالمی زرعی شمسی توانائی کانفرنس 21 سے 23 اکتوبر 2026 تک نئی دہلی میں منعقد ہو رہی ہے۔ ’’عالمی جنوب کو توانائی فراہم کرنا‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی یہ کانفرنس شمسی توانائی اور زراعت کے انضمام کو فروغ دینے کے لیے ایک عالمی پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ صنعت، تحقیق، پالیسی سازی اور مالیات کے شعبوں سے وابستہ متعلقہ فریقوں کو ایک جگہ جمع کرنے والی اس کانفرنس میں زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں ابھرتے ہوئے مواقع پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے، تاکہ زمین کے مؤثر استعمال کو فروغ دیا جا سکے، زراعت میں پائیداری کو مستحکم بنایا جا سکے اور کم کاربن والی معیشت کی جانب منتقلی میں مدد مل سکے۔

ساتویں عالمی زرعی شمسی توانائی کانفرنس کے بارے میں مزید پڑھیں

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

زرعی شمسی توانائی: زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے درمیان ہم آہنگی

 

 

زرعی شمسی توانائی، جسے ایگری سولر یا دوہرے استعمال والی شمسی توانائی بھی کہا جاتا ہے، زمین کے مؤثر استعمال کو زیادہ سے زیادہ بنانے، فصلوں کو سایہ فراہم کرنے اور کسانوں کے لیے اضافی فوائد پیدا کرنے میں مدد دیتی ہے۔

زرعی شمسی توانائی کے نظام کا ڈیزائن اور طریقۂ کار

زرعی شمسی توانائی کا نظام مقامی زرعی حالات کے مطابق زرعی ڈھانچے اور شمسی توانائی کے تنصیبی نظام کو یکجا کرتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کئی اہم عناصر کے ذریعے کام کرتی ہے:

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image005_20261023112941_bcd024.jpg

 

  • - بلند شمسی ڈھانچے: شمسی پینلوں کو براہِ راست زمین پر نصب کرنے کے بجائے ایسے بلند ڈھانچوں پر لگایا جاتا ہے، جن سے نیچے موجود فصلوں تک سورج کی روشنی اور بارش کا پانی پہنچ سکے۔ زراعت کے لیے نصب کیے جانے والے یہ بلند شمسی پینل کسانوں کو ان کے نیچے زرعی مشینری اور آلات باآسانی لے جانے اور استعمال کرنے کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔
  • - جزوی سایہ: شمسی پینل سایہ فراہم کرتے ہیں، جس سے فصلوں کو شدید گرمی سے بچانے اور مٹی سے پانی کے تبخیر کے عمل کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح خصوصاً گرم اور خشک علاقوں میںپودوں کی نشوونما کے لیے نسبتاً ٹھنڈا اور مستحکم ماحول پیدا ہوتا ہے۔
  • - زمین کی دوہری پیداواری صلاحیت: زرعی شمسی توانائی کا نظام فصلوں کی کاشت یا مویشی پالنے کے ساتھ شمسی بجلی کی پیداوار کو یکجا کرکے زمین کے استعمال کو زیادہ مؤثر بناتا ہے۔ اس سے کھیتی باڑی کے کاموں کے لیے بجلی فراہم ہوتی ہے اور اضافی بجلی  کو،برقی گرڈ  میں فروخت کرکے آمدنی کا ایک اضافی ذریعہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

 

ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی

اگست 2025 تک ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی کے 36 منصوبے فعال تھے، جن کی نصب شدہ صلاحیت 37.54 میگاواٹ تھی، جب کہ 10 آزمائشی منصوبوں پر کام جاری تھا۔ یہ منصوبے مختلف زرعی و موسمی خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں بلند شمسی ڈھانچے، پینلوں کے درمیان خالی جگہوں پر کاشت کاری اور شمسی پینلوں کو سورج کی سمت کے مطابق گھمانے والے نظام شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات زرعی پیداوار کے ساتھ شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے ہندوستان کے بدلتے ہوئے طریقۂ کار کی عکاسی کرتے ہیں۔

ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی کے امکانات

ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ اندازوں کے مطابق، ملک میں اس نظام کے ذریعے شمسی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت 3,000 گیگاواٹ سے لے کر تقریباً 14,000 گیگاواٹ تک ہو سکتی ہے۔ یہ اعداد و شمار زراعت اور قابلِ تجدید توانائی کے امتزاج سے پیدا ہونے والے وسیع مواقع کو نمایاں کرتے ہیں۔ زرعی شمسی توانائی کے نظام سے کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کا موقع بھی مل سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں، سالانہ آمدنی تقریباً 60,000 روپے فی ایکڑ سے بڑھ کر ایک لاکھ روپے فی ایکڑ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image006_20261023113002_f74aae.png

 

 

زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کے امکانات

 

  • - زمین کی صلاحیت: جغرافیائی معلوماتی نظام پر مبنی قومی جائزے میں ماحولیاتی، زرعی اور تکنیکی معیار کو مدِنظر رکھتے ہوئے 4.735 کروڑ ہیکٹیئر ایسی ’’محدود زرعی اراضی‘‘ کی نشاندہی کی گئی ہے جو زرعی شمسی توانائی کے نظام کے لیے موزوں قرار دی گئی ہے۔ یہ جائزہ محتاط اندازے پر مبنی ہے اور ایسی اراضی کی نشاندہی کرتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
  • - فصلوں کی مطابقت: پھلوں، سبزیوں، مصالحہ جات اور دواؤں میں استعمال ہونے والے پودوں کی کاشت شمسی توانائی کے تنصیبی نظام کے ساتھ کرنے کے امکانات روشن ہیں۔
  • - زیادہ امکانات والی ریاستیں: مہاراشٹر، راجستھان، آندھرا پردیش، مدھیہ پردیش، کرناٹک اور اتر پردیش میں زرعی شمسی توانائی کے فروغ کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ان ریاستوں میں مشترکہ طور پر ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی تخمینہ شدہ صلاحیت کا تقریباً 50 فیصد حصہ موجود ہے۔ اس کی اہم وجوہات میں زرعی اراضی کی دستیابی، شمسی توانائی کے وافر وسائل اور سازگار زرعی و موسمی حالات شامل ہیں۔
  • - درمیانے درجے کے امکانات: اوڈیشہ، تمل ناڈو، کیرالہ، تلنگانہ، بہار اور مغربی بنگال میں زرعی شمسی توانائی کے فروغ کے درمیانے درجے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔
  • - سب سے زیادہ سازگار خطے: جنوبی، مغربی اور وسطی ہندوستان میں شمسی تابکاری، زمین کی دستیابی اور باغبانی کی وسیع سرگرمیوں کا امتزاج بڑے پیمانے پر زرعی شمسی توانائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے سب سے زیادہ سازگار حالات فراہم کرتا ہے۔

زرعی شمسی توانائی کے نظام کی ترقی کے لیے حکومتی اقدامات

حکومتِ ہند نے ملک بھر میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کو اپنانے اور اس کے فروغ کے لیے پالیسی سازی، تحقیق، ٹیکنالوجی کی ترقی اور عملی نفاذ کے سلسلے میں متعدد اقدامات کیے ہیں۔

  • پردھان منتری کسان اُرجا سرکشا ایوم اُتھان مہابھیان (پی ایم کُسم): فروری 2019 میں شروع کی گئی اس اسکیم کا مقصد زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دینا، ڈیزل پر انحصار کم کرنا اور کسانوں کو اپنی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس اسکیم کے تحت تقریباً 34,422 کروڑ روپے کی مرکزی مالی امداد کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ یہ اسکیم غیر مرکزی سطح پر شمسی بجلی کی پیداوار اور زرعی پمپوں کو شمسی توانائی سے چلانے کی سہولت بھی فراہم کرتی ہے، جس سے کھیتی باڑی کے ساتھ شمسی توانائی کو مربوط کرنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ پی ایم کُسم اسکیم
  • زرعی شمسی توانائی کے لیے  اعلیٰ درجہ کا مرکز :نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف سولر انرجی نے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ کے انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اشتراک سے زرعی شمسی توانائی کے شعبے میں تحقیق، عملی مظاہروں اور صلاحیت سازی کے لیے ایک اعلیٰ سطح کا مرکزقائم کیا ہے۔ اس مرکز نے متعدد آزمائشی منصوبے شروع کیے ہیں، جن میں انڈین ایگریکلچرل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں قائم کیا گیا 100 کلوواٹ صلاحیت کا زرعی شمسی توانائی کا نظام بھی شامل ہے۔

 

ہندوستان  کا  زرعی شمسی توانائی سے متعلق  اتحاد ( آئی اے اے )

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/oct/image007_20261023113042_1b9e89.jpg

نیشنل سولر انرجی فیڈریشن آف انڈیا (NSEFI) کی سرپرستی میں قائم انڈیا ایگری وولٹائکس الائنس (IAA) ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو شمسی توانائی کی پیداوار اور زراعت کے لیے زمین کے دوہرے استعمال کو فروغ دیتا ہے۔ 2023 میں قائم ہونے والے اس اتحاد کے ارکان کی تعداد بڑھ کر 40 سے زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ اتحاد زرعی شمسی توانائی کے نظام کو فروغ دینے کے لیے سرکاری وزارتوں اور صنعتی شعبے کے متعلقہ فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے پالیسی سازی کی حمایت، تحقیق اور عملی سطح پر اقدامات کو آگے بڑھاتا ہے۔ یہ اتحاد معلوماتی و علمی وسائل تیار کرتا ہے، آزمائشی منصوبوں کو فروغ دیتا ہے اور ایسے کاروباری نمونوں کی تشکیل میں مدد کرتا ہے جنہیں بڑے پیمانے پر اپنایا جا سکے۔ ان کوششوں کا مقصد زمین کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ، کسانوں کی آمدنی کے ذرائع میں تنوع اور دیہی علاقوں میں توانائی تک رسائی کو مستحکم بنانا ہے۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

ریاستی سطح پر مخصوص اقدامات

کئی ریاستیں مقامی ضروریات کے مطابق مخصوص اسکیموں کے ذریعے زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں۔

  • مکھیہ منتری سور کرشی واہنی یوجنا 2.0، مہاراشٹر: اس اسکیم کے تحت سرکاری اور نجی زمین کے تقریباً 35,000 ایکڑ رقبے پر 16,000 میگاواٹ صلاحیت کے شمسی توانائی کے منصوبوں کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کو فروغ دیا جا رہا ہے، تاکہ زرعی صارفین کو بجلی کی فراہمی میں مدد مل سکے۔
  • کسان سوریودے یوجنا، گجرات: اس اسکیم کا مقصد کسانوں کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی کے استعمال کو وسعت دینا ہے۔ اس کے تحت زرعی سرگرمیوں کے لیے دن کے وقت بجلی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے، جس کے مطابق مرحلہ وار شمسی اور توانائی پیدا کرنے والے دیگر غیر روایتی ذرائع کے بجلی گھر شروع کرکے روزانہ صبح 5 بجے سے رات 9 بجے تک، یعنی 16 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
  • سوریہ ریتھا اسکیم، کرناٹک: اس اسکیم کے تحت شمسی توانائی سے چلنے والے آب پاشی کے پمپوں کو فروغ دیا جا رہا ہے اور کسانوں کو اضافی بجلی فروخت کرکے آمدنی حاصل کرنے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ شمسی پمپ فصلوں کی آب پاشی کے لیے توانائی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیزل سے چلنے والے پمپوں پر انحصار کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

حکومتِ ہند، ریاستی حکومتوں کے اشتراک سے، پالیسی اقدامات اور مخصوص پروگراموں کے ذریعے زراعت میں شمسی توانائی کے استعمال کو آگے بڑھا رہی ہے۔ ان کوششوں سے ہندوستان میں زرعی شمسی توانائی کے نظام کو فروغ مل رہا ہے اور ایک ہی جگہ شمسی بجلی کی پیداوار اور زرعی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

 

زراعت اور صاف توانائی کے امتزاج سے خوشحالی کی راہیں

زرعی شمسی توانائی ہندوستان کو ماحولیاتی پائیداری کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ زرعی ذریعۂ معاش کو مستحکم بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔ غذائی اجناس کی پیداوار کو قابل تجدید توانائی کی پیداوار کے ساتھ یکجا کرکے زمین کے زیادہ مؤثر استعمال، موزوں حالات میں پانی کے تحفظ اور مالی استحکام میں اضافے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ پی ایم کُسم سمیت حکومتِ ہند کے مختلف اقدامات اور زرعی شمسی توانائی کے نظام کو وسعت دینے کے لیے مجوزہ تدابیر اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ دیہی ترقی کو صاف توانائی کے اہداف سے مربوط کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس نظام کے نفاذ میں توسیع کے ساتھ مقامی حالات کے مطابق موزوں ڈیزائن، سائنسی تحقیق اور کسانوں کی شمولیت اہم ہوں گے، تاکہ زرعی پیداوار اور توانائی کی ضروریات کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔ یہ طریقۂ کار ہندوستان کے لیے زیادہ مستحکم اور پائیدار مستقبل کی تعمیر میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

حوالہ جات

 

Ministry of New and Renewable Energy

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2237890&lang=1&reg=3&utm_source

https://mnre.gov.in/en/physical-progress/

https://mnre.gov.in/en/pradhan-mantri-kisan-urja-suraksha-evam-utthaan-mahabhiyaan-pm-kusum/?utm_source

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2237890&reg=48&lang=2

https://sansad.in/getFile/lsapps/loksabhaquestions/annex/188/AS47_Vp3e5K.pdf?source=lsapps

 

 

Department of Agriculture and Farmers Welfare

https://agriwelfare.gov.in/Documents/DAFW_AnnualReport_2025_26_En.pdf

 

Government of Maharashtra

https://energy.maharashtra.gov.in/en/scheme/mukhyamantri-saur-krushi-vahini-yojana-2-0/?utm_source

https://lokbhavan.maharashtra.gov.in/en/09-12-2024-governor-addresses-the-session-of-state-legislature/?utm_source

 

Government of Gujarat

https://guj-epd.gujarat.gov.in/Home/BlogDetailsPage/55

 

Government of Karnataka

https://mgired.karnataka.gov.in/4/solar-technology/en

 

The Energy and Resources Institute(TERI)

https://teriin.org/sites/default/files/files/AgriPV-Potenital-in-India.pdf

https://www.teriin.org/policy-brief/agri-photovoltaics-potential-india-pathways-sustainable-energy-food-solutions

 

India Agrivoltaics Alliance

https://indiaagripv.org/assets/publications/GIZ-AGRIVOLTAICS-IN-INDIA-Overview-of-Projects.pdf

 

India Brand Equity Foundation

Agrivoltaics in India: Solar Power Meets Farming

 

US Department of Energy

https://www.energy.gov/cmei/systems/agrivoltaics-solar-and-agriculture-co-location

Agri-Voltaics

************

ش ح ۔ع و۔م ش ۔

(6559)


(ریلیز آئی ڈی: 2327224) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati