زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
22 OCT 2026 9:50PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر برائے زراعت و کسانوں کی بہبود اور دیہی ترقی جناب شیوراج سنگھ چوہان نے آج ہریانہ کے کرنال ضلع کے تاریخی قصبے تاروڑی سے ملک گیر ’کھیت بچاؤ ابھیان‘ کا باضابطہ اِفتتاح کیا۔ مہم کے حصے کے طور پر منعقدہ ایک انٹرایکٹو کسان چوپال کے دوران، انھوں نے کسانوں کے ساتھ براہ راست گفت و شنید کی اور زور دیا کہ زرعی برادری کی خدمت ان کا سب سے بڑا فرض ہے۔ جناب چوہان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت اور رہ نمائی میں، کسانوں اور کھیتی باڑی کے وقار، عزت اور خودداری کا تحفظ مرکزی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہریانہ کے وزیرِ زراعت جناب شیام سنگھ رانا، مقامی قانون ساز، انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (آئی سی اے آر) اور نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (این ڈی آر آئی) کے سینئر زرعی سائنس دان، اور بڑی تعداد میں ترقی پسند کسانوں نے اس پروگرام میں شرکت کی۔

گفت و شنید کا آغاز کرتے ہوئے، جناب چوہان نے کہا کہ وہ خود کو ایک اعلیٰ عہدے پر فائز رہ نما نہیں بلکہ کسانوں کا خادم اور خود ایک پرعزم کسان سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا، ”یہ پگڑی کسانوں کی عزت اور خودداری کی علامت ہے، اور میں اسے کبھی جھکنے نہیں دوں گا۔ وقت کی ضرورت ہے کہ جدید طریقوں اور روایتی حکمت کو اس طرح یکجا کیا جائے جو ہماری مٹی کی حفاظت کرے اور کسانوں کی آمدنی میں بھی اضافہ کرے۔“
کھاد ڈالتے وقت مٹی کی صحت کے کارڈز پر عمل کریں، نہ کہ بھیڑ چال پر
کیمیائی کھادوں کے بے جا استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، جناب چوہان نے واضح کیا کہ کھیت بچاؤ ابھیان کا مقصد کھادوں کی اندھا دھند مخالفت کرنا نہیں بلکہ ان کے متوازن اور سائنسی استعمال کو فروغ دینا ہے۔ ضرورت سے زیادہ استعمال کے نتائج کی وضاحت کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ جس طرح طبی ضرورت کے بغیر کیلشیم سپلیمنٹس لینا جسم کو نقصان پہنچا سکتا ہے، اسی طرح غیر ضروری طور پر کیمیائی کھادوں کا استعمال مٹی کی زرخیزی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ انھوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ کھاد کے استعمال میں مسابقتی اور نقالی کے طریقوں سے گریز کریں۔ انھوں نے کہا، ”اگر رام لال کھاد کے چار تھیلے استعمال کرتا ہے، تو شیام لال کو ساڑھے چار تھیلے استعمال کرنے پر مجبور محسوس نہیں کرنا چاہیے۔ کسانوں کو دوسروں کی نقل کرنے کے اس رجحان سے آزاد ہونا چاہیے۔ پہلے، مٹی کی صحت کے کارڈ کے ذریعے مٹی کا جائزہ لیں اور پھر اس کی اصل ضروریات کے مطابق متوازن غذائیت فراہم کریں۔“ انھوں نے مزید کہا کہ ایسا نقطہ نظر کاشتکاری کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد دے گا جب کہ آئندہ نسلوں کے لیے مٹی کی صحت کی حفاظت بھی کرے گا۔

کم از کم ایک ایکڑ پر قدرتی کھیتی باڑی شروع کریں اور مقررہ طریقوں پر عمل کریں
قدرتی کھیتی باڑی کے بارے میں کسانوں کے خدشات کو دور کرتے ہوئے، جناب چوہان نے اپنے فارم پر سبزیوں، پھلوں اور دیگر فصلوں کی کاشت کا اپنا ذاتی تجربہ شیئر کیا، جہاں وہ قدرتی کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ قدرتی کھیتی باڑی سائنسی طور پر مناسب طریقوں سے کی جائے تو اچھے نتائج دے سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جیوا امرت، گھن جیوا امرت اور بیجا امرت کی صحیح مقدار اور بروقت استعمال اس کی کام یابی کے لیے اہم ہیں۔ جناب چوہان نے تین سے پانچ ایکڑ زمین رکھنے والے کسانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ صرف ایک ایکڑ پر قدرتی کھیتی باڑی اپنا کر شروع کریں اور اپنی باقی زمین پر اسے وسعت دینے سے پہلے مکمل عمل سیکھیں۔ انھوں نے کہا کہ جب کسان خود فوائد دیکھیں گے، تو دوسروں کو بھی اس عمل کی پیروی کرنے کی ترغیب ملے گی۔ انھوں نے زور دیا کہ قدرتی کھیتی باڑی کو ایک غیر قابل عمل تجویز کے طور پر مسترد نہیں کیا جانا چاہیے، اور مزید کہا کہ کسان اس عمل کو صحیح طریقے سے اپنا کر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
دیسی مویشیوں اور جنس کے لحاظ سے چھانٹی شدہ سیمن ٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال
چوپال کے دوران کسانوں نے دیسی مویشیوں کی نسلوں کے تحفظ، ان کے دودھ کی بازاری قیمت اور جدید افزائش نسل کی ٹیکنالوجیز کے بارے میں سوالات اٹھائے جو جنس کے لحاظ سے چھانٹی شدہ سیمن کے ذریعے مادہ بچھڑوں کی پیداوار کے امکانات کو بڑھاتی ہیں۔ ان مسائل پر زرعی سائنس دانوں کی موجودگی میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ بتایا گیا کہ حکومت ایسی ٹیکنالوجیز کو مزید وسیع پیمانے پر توثیق کرنے اور کسانوں کو سستی قیمتوں پر قابل رسائی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ اس بحث میں دیسی گایوں کے دودھ کے لیے بہتر بازاری قیمتیں حاصل کرنے کی ضرورت اور قدرتی کھیتی باڑی میں گائے کے گوبر اور گائے کے پیشاب کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔
جناب چوہان نے پرالی کے انتظام پر ہریانہ کے کسانوں کی ستائش کی
جناب چوہان نے فصلوں کی باقیات کے انتظام کے بارے میں بڑھتی ہوئی بیداری اور اس سال ریاست میں پرالی جلانے کے واقعات میں نمایاں کمی کی اطلاع پر ہریانہ کے کسانوں کی ستائش کی۔ پچھلے برسوں میں اس عرصے کی خصوصیت بننے والے دھند اور دھوئیں کو یاد کرتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ہریانہ کے کسانوں نے یہ دکھایا ہے کہ فصلوں کی باقیات کے انتظام کے طریقوں اور سپر سیڈرز جیسی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ماحول کی حفاظت میں کس طرح مدد کر سکتا ہے۔ انھوں نے ان کوششوں کو ملک کے باقی حصوں کے لیے ایک مثال قرار دیا، اور اس پیش رفت کا سہرا کسانوں، عوام اور حکومت کے اجتماعی عزم کو دیا۔

کسان چوپال کا مرکز میدان سے عملی حل پر
تاروڑی میں کسان چوپال نے کسانوں کے لیے اپنے روزمرہ کے زرعی طریقوں سے پیدا ہونے والے مسائل کو اٹھانے اور وزیر اور زرعی ماہرین کے ساتھ براہ راست سائنسی حل پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر کام کیا۔ جناب چوہان نے کسانوں کو یقین دلایا کہ وزارتِ زراعت ان کی تجاویز اور ضروریات پر عمل کرے گی اور ان کے خدشات کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔ اس گفت و شنید نے مہم کے متوازن کھاد کے استعمال، قدرتی کھیتی باڑی، بہتر مویشی پروری اور پائیدار زرعی طریقوں پر توجہ کو تقویت دی تاکہ مٹی کی صحت کی حفاظت کی جا سکے اور کسانوں کی روزی روٹی کو مضبوط کیا جا سکے۔
***
(ش ح - ع ا)
U.No. 6545