صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
azadi ka amrit mahotsav

صدرِ جمہوریہ ہند کی رائے پور میں ’نوکھائی‘ تہوار کے موقع پر ’سیوا سمان پرو‘ اور ’یووا پربودھن‘ میں شرکت


خوراک کا احترام کرنا، کسانوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے: صدرجمہوریہ دروپدی مرمو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 6:21PM by PIB Delhi

صدرِ جمہوریہ ہند، محترمہ دروپدی مرمو نے آج 22 اکتوبر 2026کو چھتیس گڑھ کے شہر رائے پور میں ’نوکھائی‘ تہوار کے موقع پر منعقدہ ’سیوا سمان پرو‘ اور ’یووا پربودھن‘ کی تقریبات میں شرکت کی۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ ’نوکھائی ملن سماروہ‘ محض ایک ثقافتی جشن نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری شاندار روایات، سماجی ہم آہنگی اور اتحاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔ ایسے مواقع ہمیں اپنی جڑوں سے دوبارہ جڑنے، اپنے ثقافتی ورثے پر فخر کرنے اور زندگی کی اقدار کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ ’نوکھائی‘ تہوار ہماری زرعی روایات کا جشن، فطرت کے تئیں تشکر کا اظہار اور اجتماعی جذبے کی عکاسی ہے۔ یہ تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوراک محض بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ یہ ہمارے کسانوں کی محنت، ’مادرِ زمین‘ کی سخاوت اور فطرت کے انمول تحفوں کی علامت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خوراک کا احترام کرنا، کسانوں کی خدمات کا اعتراف کرنا اور اپنے قدرتی وسائل کا تحفظ کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

بڑی تعداد میں موجود نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے صدرجمہوریہ نے کہا کہ حالات اور چیلنجز مختلف ہو سکتے ہیں، لیکن نوجوانوں میں جدت لانے، کچھ بہتر تخلیق کرنے اور اپنی منفرد شناخت قائم کرنے کا گہرا جذبہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب نوجوان اپنی انفرادی کوششوں کو اجتماعی اور قومی اہداف سے ہم آہنگ کرتے ہیں، تو وہ ملک کی ترقی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ بڑے خواب دیکھیں، اپنے افق کو وسیع کریں، کردار کے اعلیٰ ترین معیارات کو برقرار رکھیں اور معاشرے اور قوم کی خدمت کو اپنی کوششوں کا مرکز بنائیں۔ انہوں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ہر کام ایمانداری، دیانتداری اور حساسیت کے ساتھ انجام دیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قوم کی تعمیر محض بڑے فیصلوں سے نہیں ہوتی، بلکہ لاکھوں شہریوں کی چھوٹی چھوٹی مخلصانہ کوششوں سے بھی ہوتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علم کے ساتھ عاجزی، عزم کے ساتھ اخلاقی اقدار، اور کامیابی کے ساتھ خدمت کے جذبے کو یکجا کریں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ خوبیاں وکست بھارت کے وژن میں ان کے کردار کو مزید مستحکم کریں گی۔

صدر جمہوریہ نے نوکھائی ملن سماروہ میں خواتین کی بڑی تعداد میں شرکت پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک 2047 تک وکست بھارت کے ہدف کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے خواتین کی مساوی شرکت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے تمام خواتین سے اپیل کی کہ وہ ملک اور معاشرے کے معاملات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ جب خواتین ترقی کرتی ہیں، تو اس کے فوائد نہ صرف انہیں یا ان کے خاندان کو، بلکہ پورے معاشرے اور قوم کو حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے مردوں، بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی بہنوں اور بیٹیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کریں جس میں وہ بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کا احترام محض الفاظ تک محدود نہیں رہنا چاہیے؛ بلکہ یہ ان کے رویے، سوچ اور روزمرہ کے برتاؤ میں بھی جھلکنا چاہیے۔

صدر جمہوریہ نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی کوششوں اور نوجوانوں کے اپنے مضبوط ارادے کی بدولت، چھتیس گڑھ کے نوجوان نکسل ازم کی راہ چھوڑ کر قومی دھارے میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب دہشت کے اندھیرے کی جگہ ترقی کی روشنی لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی نہ صرف نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کا باعث بن رہی ہے، بلکہ اس سے ریاست اور ملک کی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو رہی ہے۔

***

(ش ح۔اص)

UR No 6527


(ریلیز آئی ڈی: 2326941) وزیٹر کاؤنٹر : 7