امور داخلہ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے دہلی میں جمنا ندی کے احیا سے متعلق 8,941 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور سنگِ بنیاد رکھا


دہلی میں ہماری حکومت بنتے ہی وزیر اعظم جناب نریندر مودی نےجمناکو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے دہلی حکومت کے سامنے حکمت عملی پیش کی؛ اب تک اس منصوبے کے تحت 40 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے

گزشتہ 30 برسوں سے سابقہ حکومتوں نے دہلی کے گندے پانی کوجمنامیں بہنے دیا اور ڈیری فارموں سے روزانہ 2,000 ٹن گوبرجمنامیں پھینکا جاتا رہا

مرکز اور دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش میں ہماری حکومتوں نے مشترکہ طور پر تینوں ریاستوں کے لیے ایک لائحۂ عمل تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ہم 2029 تک جمناکو صاف کر دیں گے

ہم ایک ایسی دہلی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں گھر خوب صورت ہوں، پانی صاف ہو، سڑکیں صاف ستھری ہوں، کچرے کے پہاڑ نہ ہوں اورجمناکی صفائی کے بعد یہ دریا یہاں سے سنگم تک کے راستے میں لوگوں کو اپنی برکتوں سے نواز سکے

سابقہ حکومت نے کچرے کے پہاڑوں کے نام پر سیاست کی، جبکہ ہماری حکومت نے ان پہاڑوں کو ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ دو سال میں ان کچرے کے پہاڑوں کی جگہ باغات تیار ہو جائیں گے

دہلی میں ریکھا گپتا حکومت نے مودی حکومت کی مدد سے 2.17 کروڑ میٹرک ٹن کچرا صاف کیا ہے اور 100 ایکڑ زمین کو کچرے سے نجات دلائی ہے۔

ملک بھر کی ریاستوں میں ہماری حکومتیں مسلسل منتخب ہو رہی ہیں، جس سے ہمارے مخالفین کو تکلیف ہو رہی ہے۔ اسی لیے وہ ای وی ایم اور ووٹ چوری کے الزامات لگارہے ہیں

پورا ملک اپوزیشن پارٹیوں کو سمجھتا ہے اور ان کی حقیقت جان چکا ہے۔ ووٹ چوری کے نام پر شور مچا کر اپوزیشن پارٹیاں دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں

اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کر رہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 برسوں تک اس کی حکومت کبھی نہیں بنے گی

جہاں کہیں بھی اپوزیشن انتخاب ہارتی ہے، وہاں اسے الیکشن کمیشن درست نہیں لگتا، عوام اپوزیشن کے دوہرے معیار کو سمجھ چکی ہیں

اگر عدالتیں اپوزیشن کے حق میں فیصلہ دیں تو عدالتیں اچھی ہیں، لیکن اگر وہ اس کے خلاف فیصلہ دیں تو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 22 OCT 2026 5:08PM by PIB Delhi

امور داخلہ اور  امداد باہمی کے وزیر جناب امت شاہ نے آج دہلی میں جمناکی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے مالیت کے منصوبوں کا افتتاح کیا اور ان کا سنگِ بنیاد رکھا۔ اس موقع پر دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر جناب ترنجیت سنگھ سندھو اور وزیر اعلیٰ محترمہ ریکھا گپتا سمیت کئی دیگر معزز شخصیات بھی موجود تھیں۔

مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج یہاں جمناکی صفائی کے لیے تقریباً 9,000 کروڑ روپے مالیت کے اہم منصوبوں کا افتتاح کیا گیا اور ان کا سنگِ بنیاد رکھا گیا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے دہلی میں ہماری پارٹی کی حکومت بنتے ہی ایک اہم اجلاس طلب کیا اورجمناکو آلودگی سے پاک بنانے کا اپنا تصور دہلی حکومت اور وزارتِ داخلہ کے سامنے پیش کیا۔ اتنے کم وقت میں ہم 40 فیصد سے زیادہ کامیابی حاصل کر چکے ہیں۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ گزشتہ 30 برسوں سے سابقہ حکومتوں نے دہلی کے سیور کے گندے پانی کوجمنامیں بہنے دیا اور ڈیری فارموں سے روزانہ 2,000 ٹن گوبرجمنامیں پھینکا جاتا رہا۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب اتر پردیش اور ہریانہ میں اہم اپوزیشن پارٹی کی اتحادی جماعتوں کی حکومتیں تھیں۔ اس دوران ہریانہ سے صنعتی فضلہ ملا پانی اور اتر پردیش سے بھی گندا پانی جمنامیں آتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ آج مرکز کے ساتھ ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش میں بھی ہماری پارٹی کی حکومتیں ہیں۔ ان چاروں ریاستوں میں ہماری حکومتوں نے مشترکہ طور پر اتر پردیش، ہریانہ اور دہلی کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحۂ عمل تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ہم 2029 تک جمناکو صاف کر دیں گے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہم ایک ایسی دہلی تعمیر کرنا چاہتے ہیں جہاں گھر خوب صورت ہوں، پانی صاف ہو، سڑکیں صاف ستھری ہوں، کچرے کے پہاڑ نہ ہوں اورجمناکی صفائی کے بعد یہ دریا یہاں سے سنگم تک کے راستے میں لوگوں کو اپنی برکتوں سے نواز سکے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے اس کام کو پختہ عزم کے ساتھ اپنے ہاتھ میں لیا ہے اور آج اس عزم کا ایک بہت بڑا حصہ پورا ہو رہا ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج یہاں 10 منصوبوں کا افتتاح کیا گیا اور 33 منصوبوں کا آغاز کیا گیا۔ مجموعی طور پر 8,941 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کی گئی اسکیموں کے ذریعے کئی لاکھ لیٹر پانی کو صاف کرکےجمنامیں چھوڑا جائے گا۔ آج یہاں دہلی کے مختلف علاقوں سے متعلق منصوبوں کا افتتاح کیا گیا، جبکہ موجودہ ایس ٹی پی  کو جدید بنانے اور نئے ایس ٹی پیز کی تنصیب کے لیے سنگِ بنیاد بھی رکھا گیا۔ آج یہاں ایک غیر مرکزی  ایس ٹی پی  پمپنگ اسٹیشن بھی قائم کیا گیا ہے اور گھروں کو سیورلائنوں سے جوڑنے کا کام شروع ہو گیا ہے۔ ہم سیور نظام کی بحالی، گندے پانی کے اخراج کو روکنے کے لیے نالیوں کو مرکزی نظام سے جوڑنے اور نکاسیٔ آب کے کام کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ہم مئی 2029 سے پہلے ہی جمناکو آلودگی سے پاک کر دیں گے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ کچھ سیاسی جماعتیں صرف بہانے بنانے کی سیاست کرتی ہیں۔ دہلی میں سابقہ حکومتیں یہ بہانہ بناتی تھیں کہ انہیں کوئی مدد نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے ہر دعوے کا جواب ہمارے پاس ہے، لیکن یہ جواب انہیں پنجاب میں ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد دیا جائے گا۔ دہلی کی سابقہ حکومت نے احتجاج کے نام پر اقتدار حاصل کرنے اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کچرے کے پہاڑوں کے نام پر سیاست کی، جبکہ ہماری حکومت نے ان کچرے کے پہاڑوں کو ختم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ دو سال میں ان کچرے کے پہاڑوں کی جگہ باغات تیار ہو جائیں گے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ دہلی میں ریکھا گپتا حکومت نے مرکز کی مودی حکومت کی مدد سے 2.17 کروڑ میٹرک ٹن کچرا صاف کیا ہے اور 100 ایکڑ زمین کو کچرے سے نجات دلائی ہے ۔ اوکھلا اور بھلسوا میں کچرے کے پہاڑوں کی اونچائی 30 سے 40 میٹر تک کم کی گئی ہے، جبکہ غازی پور میں ان کی اونچائی 10 سے 15 میٹر تک گھٹ گئی ہے۔ سابقہ حکومت نےجمناکی صفائی کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ ہماری حکومت نے آج سرائے کالے خان اور آئی ٹی او میں اسیتا ایسٹ، بنسیرا اور واسودیو گھاٹ جیسے عالمی معیار کے منصوبے مکمل کیے ہیں۔ ہم نے دہلی کے ہر گھر کو سیور   کنکشن فراہم کرنے کے لیے تین سالہ لائحۂ عمل تیار کیا ہے، تاکہ گندے پانی کی نکاسی ممکن ہو سکے۔ ہم یہ بھی یقینی بنائیں گے کہ ہر گھر تک صاف پینے کا پانی پہنچے۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ آج دہلی میں ایک الگ ہی کھیل کھیلا جا رہا ہے، کیونکہ ملک بھر کی ریاستوں میں ہماری حکومتیں مسلسل منتخب ہو رہی ہیں۔ اس سے ہمارے مخالفین کو تکلیف ہو رہی ہے، اسی لیے وہ ووٹ چوری کا بہانہ بنا رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ ہماری پارٹی عوام کے ووٹوں سے نہیں بلکہ ووٹ چوری کرکے اقتدار میں آتی ہے۔ پورا ملک اپوزیشن جماعتوں اور ان کی سیاست کو سمجھتا ہے اور ان کی حقیقت جان چکا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ووٹ چوری کے نام پر شور مچا کر اپوزیشن جماعتیں دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم اور کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کی پارٹی کی حکومت 30 سال تک قائم رہے گی، تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہو رہی ہے، ورنہ امت شاہ کو یہ بات کیسے معلوم ہوتی۔ جناب شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان موجود رہتے ہیں، انہیں ہر چھ ماہ بعد بیرونِ ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کر رہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 برسوں تک اس کی حکومت کبھی نہیں بنے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ حال ہی میں کیرالہ میں انہی ووٹر فہرستوں، الیکشن کمیشن اور ای وی ایم کے ساتھ انتخابات ہوئے اور انتخاب جیتنے کے بعد اپوزیشن نے حلف اٹھایا اور اب وہ الیکشن کمیشن کی تعریف کر رہی ہے۔ جب اپوزیشن تلنگانہ میں جیتی تھی، تب بھی الیکشن کمیشن اچھا تھا اور ووٹر فہرست بھی درست تھی۔ جب وہ ہماچل میں جیتی تھی، تب بھی الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرست درست تھے۔ تمل ناڈو میں جب اس کی حمایت یافتہ پارٹی نے انتخاب جیتا، تب بھی الیکشن کمیشن اور ووٹر فہرست درست تھے۔ جناب شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جہاں کہیں بھی انتخاب ہارتی ہے، وہاں اسے الیکشن کمیشن درست نہیں لگتا۔ اگر عدالتیں اپوزیشن کے حق میں فیصلہ دیں تو عدالتیں اچھی ہیں، لیکن اگر اس کے خلاف فیصلہ دیں تو عدالتیں درست نہیں رہتیں۔ جناب شاہ نے کہا کہ اپوزیشن کے یہ دوہرے معیار نہیں چلیں گے اور عوام اب یہ سب کچھ سمجھ چکی ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن کچھ پڑوسی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں احتجاج کرنے سے عوام کے فیصلے کو مسترد نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام اپوزیشن کو دیکھ بھی رہے ہیں اور اس کی حقیقت کو سمجھ بھی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم جناب نریندر مودی تک، ہمارے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہتے ہیں، ان کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لیے دن رات کام کرتے ہیں۔ اگر ہم جمناکی مثال دیکھیں تو اہم اپوزیشن پارٹی اور دیگر جماعتوں کی سابقہ حکومتوں نے دہلی میں 30 سال تک حکومت کی، لیکن جمناکے لیے کچھ نہیں کیا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں ہماری حکومت کو یمنوتری سے سنگم تک پور ی جمناکی صفائی کا نیک موقع ملنے جا رہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اپوزیشن اس طرح کی سیاسی چالبازیوں اور ہجوم جمع کرکے  ملک کے عوام کے فیصلے کو مسترد نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات جیتنے ہیں تو عوام کے درمیان جا کر ان کی تکالیف اور پریشانیوں کو سمجھنا چاہیے؛ دھرنوں اور احتجاج سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ جہاں کہیں بھی آپ منتخب ہوئے ہیں، وہاں عوام کے دکھ، درد، مشکلات اور بدانتظامی کو دور کرنے کے لیے اسکیمیں لائیں اور کام کریں، ورنہ جو تھوڑا بہت وجود باقی ہے، وہ بھی ختم ہو جائے گا۔

جناب امت شاہ نے کہا کہ پنجاب حکومت کی قیادت میں جس طرح پنجاب میں منشیات کا کاروبار پھلا پھولا ہے، اس کے پیش نظر پنجاب کے عوام نے اب فیصلہ کر لیا ہے کہ اس بار وہاں ہماری پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ بہانے بنانے کی سیاست زیادہ دیر تک نہیں چلتی؛ کامیابی کے لیے نتائج پیش کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ دہلی میں انتخاب ہار گئے اور اب پنجاب میں ڈیرہ جما کر بیٹھ گئے ہیں، یہاں تک کہ وہاں کے وزیر اعلیٰ کو بھی کام نہیں کرنے دے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم 2029 تک پنجاب میں منشیات کے کاروبار کا خاتمہ کر دیں گے۔

***

ش ح۔ش ب۔ م ذ

U N-6498


(ریلیز آئی ڈی: 2326746) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , Gujarati , Odia , Tamil