PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

بھارت کا توانائی کے شعبے میں سفر: پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور توانائی کے تحفظ کو  مستحکم  بنانا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 AUG 2026 3:30PM by PIB Delhi

بھارت میں توانائی کی صورتِ حال

بھارت میں توانائی کا شعبہ بڑھتی ہوئی مانگ  کو پورا کرنے، توانائی کے تحفظ کو مستحکم بنانے اور صاف ستھرے مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس تبدیلی میں قابلِ تجدید توانائی،  نیو کلیائی توانائی، پٹرولیم، قدرتی گیس، کوئلہ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔

حکومتی پالیسیوں کی معاونت، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، ملکی پیداوار، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں توسیع اور توانائی تک وسیع تر رسائی اس تبدیلی کو نئی سمت دے رہی ہیں۔ بھارت ایک طرف  غیر فوسل توانائی کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کر رہا ہے، تو دوسری  طرف ملکی توانائی کے وسائل کو مضبوط بنانے اور مستقبل کے لیے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے پر بھی توجہ دے رہا ہے۔

اعداد و شمار ایک نظر میں:

  • بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت: جولائی 2026 میں تقریباً 552 گیگاواٹ، جو 2014 میں 249 گیگاواٹ تھی۔
  • غیر فوسل توانائی کی صلاحیت: 31 جولائی 2026 تک 300.50 گیگاواٹ، جو بجلی کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت کا 54 فیصد سے زیادہ ہے۔
  • عالمی درجہ بندی: قابلِ تجدید توانائی کی نصب شدہ صلاحیت کے لحاظ سے بھارت دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔

کوئلے کے ذریعے توانائی کی یقینی فراہمی  کو مستحکم کرنا

کوئلہ بدستور بھارت کے توانائی اور بجلی کی فراہمی میں اہم رول  ادا کر رہا ہے۔ یہ ملک کی بنیادی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد پورا کرتا ہے اور بجلی کی مجموعی پیداوار میں 70 فیصد سے زیادہ کا تعاون دیتا ہے۔ بھارت میں کوئلے کے ذخائر تقریباً 4,00,715 ملین ٹن ہیں اور وہ دنیا میں کوئلے کا دوسرا سب سے بڑا پیدا کنندہ اور صارف ہے۔

  • کوئلے کی پیداوار: بھارت میں مالی سال 2024-25 کے دوران 1,047.52 ملین ٹن اور مالی سال 2025-26 میں 1,040.08 ملین ٹن کوئلہ پیدا کیا گیا، جبکہ مالی سال 2014-15 میں یہ پیداوار 609.18 ملین ٹن تھی۔
  • کیپٹیو اور تجارتی کان کنی: مالی سال 2025-26 میں کیپٹیو اور تجارتی کانوں سے کوئلے کی پیداوار بڑھ کر 210.46 ملین ٹن ہو گئی، جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10.22 فیصد زیادہ ہے۔
  • درآمدات پر انحصار میں کمی: تھرمل پاور پلانٹس کے لیے کوئلے کی درآمد مالی سال 2024-25 کے 62.5 ملین ٹن سے گھٹ کر مالی سال 2025-26 میں 45.4 ملین ٹن رہ گئی، جو تقریباً 27.4 فیصد کی کمی ہے۔

سطح سے قریب  کوئلے اور لگنائٹ کی گیسی فکیشن کے منصوبوں کا فروغ (2026)

حکومت نے مئی 2026 میں سطحی کوئلے اور لگنائٹ کی گیسی فکیشن کو فروغ دینے کے لیے 37,500 کروڑ روپے کی اسکیم منظور کی۔

  • اس اسکیم کے تحت تقریباً 75 ملین ٹن سالانہ(ایم ٹی پی اے)کوئلے کے استعمال کی توقع ہے، جس سے 2030 تک کوئلے اور لگنائٹ کی 100 ملین ٹن گیسی فکیشن کے قومی ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔
  • اس اسکیم سے 2.5 سے 3 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری متحرک ہونے کی توقع ہے۔
  • 25 منصوبوں کے ذریعے تقریباً 50,000 براہِ راست اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

شمسی توانائی: صلاحیت میں اضافہ اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک رسائی

بھارت میں نصب شدہ شمسی توانائی کی صلاحیت 31 جولائی 2026 تک بڑھ کر 164.59 گیگاواٹ ہو گئی، جو 2014 میں محض 2.8 گیگاواٹ تھی۔ اب شمسی توانائی بھارت کی قابلِ تجدید توانائی کی مجموعی صلاحیت کا سب سے بڑا حصہ ہے۔ 2025 میں بھارت شمسی توانائی کی صلاحیت میں اضافے کے لحاظ سے دنیا کی دوسری سب سے بڑی منڈی بن گیا۔ اس دوران بھارت نے شمسی توانائی کی صلاحیت میں 37 گیگاواٹ سے زیادہ کا اضافہ کیا، جبکہ امریکہ میں یہ اضافہ 34 گیگاواٹ رہا۔

 

پی ایم۔سوریہ گھر: مفت بجلی یوجنا

فروری 2024 میں ایک کروڑ کنبوں ں کے لیے 75,021 کروڑ روپے کے مجموعی بجٹ کے ساتھ اس اسکیم کا آغاز کیا گیا۔

  • ملک بھر میں چھتوں پر شمسی توانائی کے نظام نصب ہونے سے اب تک 51.58 لاکھ گھرانے مستفید ہو رہے ہیں (12 اگست 2026 تک)۔
  • مستفیدین کو تقریباً 28,024 کروڑ روپے کی سبسڈی منتقل کی جا چکی ہے۔
  • تقریباً 19 لاکھ گھرانوں کو اب بجلی کے بل صفر موصول ہو رہے ہیں۔
  • اس اسکیم کے تحت اب تک مجموعی طور پر 14.8 گیگاواٹ کی چھتوں پر نصب شمسی توانائی کی صلاحیت کو فعال کیا جا چکا ہے۔

پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا

حکومت نے 31 جولائی 2026 کو پردھان منتری سوریہ سروور یوجنا(پی ایم- ایس ایس وائی) کو 5,070 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی۔ اس اسکیم کے تحت توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام سے لیس تیرتے ہوئے شمسی فوٹو وولٹک منصوبے تیار کیے جائیں گے، جس سے بھارت میں شمسی توانائی کے فروغ کو ایک نئی جہت ملے گی۔

  • ہدف: 5,000 میگاواٹ کے تیرتے ہوئے شمسی فوٹو وولٹک منصوبے قائم کرنا۔
  • ان منصوبوں کے ساتھ کم از کم دو گھنٹے کی مدت کے لیے توانائی ذخیرہ کرنے کے مشترکہ نظام نصب کیے جائیں گے، جن کی مجموعی صلاحیت 10,000 میگاواٹ فی گھنٹہ ہوگی۔
  • ان منصوبوں کو مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک منظوری دی جائے گی۔

 بادی توانائی کی پیداوار

بادی توانائی بھارت میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کا ایک اہم ستون ہے۔ نصب شدہ ہ  بادی توانائی کی صلاحیت کے لحاظ سے بھارت دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ اس شعبے میں ہر سال صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ملکی مینوفیکچرنگ کو بھی فروغ مل رہا ہے۔

  • نصب شدہ صلاحیت: 31 جولائی 2026 تک 58.14 گیگاواٹ۔
  • بھارت نے مالی سال 2025-26 میں 6.05 گیگاواٹ ہوائی توانائی کی صلاحیت کا اضافہ کیا، جو اب تک کسی ایک سال میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے اور مالی سال 2024-25 کے مقابلے میں 46 فیصد زیادہ ہے۔
  • تقریباً 28 گیگاواٹ کی اضافی  بادی توانائی کی صلاحیت کے منصوبوں پر عمل درآمد جاری ہے۔
  • مارچ 2026 تک بادی ٹربائنوں کی مینوفیکچرنگ صلاحیت بڑھ کر تقریباً 24 گیگاواٹ ہو گئی، جو 2014 میں 10 گیگاواٹ تھی۔ اس شعبے میں اہم اجزا کی 70 سے 80 فیصد تک مقامی سطح پر تیاری کی جا رہی ہے۔
  • مرکزی کابینہ نے 19 جون 2024 کو ایک گیگاواٹ کے آف شور ونڈ انرجی منصوبوں کے لیے 7,453 کروڑ روپے کی وی جی ایف (وائبلٹی گیپ فنڈنگ) اسکیم کو منظوری دی۔

حیاتیاتی توانائی

31 جولائی 2026 تک حیاتیاتی بجلی کی پیداواری صلاحیت 11.75 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔ کمپریسڈ بایو گیس (CBG) کے شعبے میں بھی توسیع ہوئی ہے۔ 13 اگست 2026 تک سی بی جی/بایو سی این جی کے 1,929 پلانٹ درج کیے جا چکے تھے، جن میں سے 217 پلانٹ فعال ہو چکے ہیں، جبکہ 357 زیرِ تعمیر ہیں۔

  • بایوماس سے مشترکہ بجلی اور حرارت کی پیداوار: 31 جولائی 2026 تک گنے کے پھوگ پر مبنی بجلی کی صلاحیت 9,821.32 میگاواٹ اور گنے کے پھوگ کے علاوہ دیگر ذرائع پر مبنی صلاحیت 1,048.84 میگاواٹ تھی۔
  • فضلے سے توانائی کی پیداوار: 31 جولائی 2026 تک بجلی کے گرڈ سے منسلک فضلے سے توانائی پیدا کرنے والے پلانٹس کی صلاحیت 324.24 میگاواٹ تھی۔ گرڈ سے غیر منسلک پلانٹس نے مزید 554.16 میگاواٹ کی صلاحیت فراہم کی۔
  • قومی حیاتیاتی توانائی پروگرام: اس پروگرام کے تحت فضلے سے توانائی، بایوماس اور بایو گیس کے منصوبوں کو مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے پہلے مرحلے کا دورانیہ مالی سال 2021-22 سے مالی سال 2025-26 تک تھا، جس کے لیے 858 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے۔

گوبردھن: فضلے کو توانائی کی ترقی  میں تبدیل کرنا

  • گیلوانائزنگ آرگینک بایو ایگرو ریسورسز دھن (گوبردھن) قومی سرکلر بایو انرجی اسکیم: حکومت نے 6 اگست 2026 کو اس اسکیم کو منظوری دی۔ مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2035-36 تک کے لیے 23,731 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
  • اس اسکیم کا مقصد ملک میں کمپریسڈ بایو گیس (سی بی جی) کی پیداوار کو تقریباً دس گنا بڑھانا اور ایک قومی گردشی حیاتیاتی معیشت کو فروغ دینا ہے۔عالمی شمسی تعاون

آبی توانائی

آبی توانائی قابلِ تجدید بجلی کا ایک اہم ذریعہ ہے، جو بجلی کی قابلِ اعتماد اور حسبِ ضرورت پیداوار فراہم کرتی ہے۔ شمسی اور ہوائی توانائی کی صلاحیت میں اضافے کے ساتھ یہ بجلی کے گرڈ کے استحکام کو برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہے۔( 31 جولائی 2026 تک) بڑے اور چھوٹے آبی بجلی گھروں سمیت آبی توانائی کی مجموعی پیداواری صلاحیت 57.24 گیگاواٹ ہو چکی ہے۔

چھوٹے آبی بجلی گھروں کی ترقی کی اسکیم

حکومت نے مارچ 2026 میں مالی سال 2026-27 سے مالی سال 2030-31 تک کے لیے چھوٹے آبی بجلی گھروں کی ترقی کی اسکیم کو منظوری دی، جس کے لیے 2,584.60 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

اس اسکیم کا مقصد 1 سے 25 میگاواٹ تک کی صلاحیت کے منصوبوں کے ذریعے چھوٹے آبی بجلی گھروں کی پیداواری صلاحیت میں تقریباً 1,500 میگاواٹ کا اضافہ کرنا ہے۔ اس کے تحت خاص طور پر پہاڑی اور شمال مشرقی علاقوں میں منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

سبز ہائیڈروجن

سبز ہائیڈروجن ایسے شعبوں کے لیے صاف ایندھن کے ایک اہم متبادل کے طور پر ابھراہے جہاں کاربن کے اخراج کو کم کرنا مشکل ہے۔ یہ توانائی کی فراہمی  کو یقینی بنانے  اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

قومی سبز ہائیڈروجن مشن

حکومت نے 2023 میں قومی سبز ہائیڈروجن مشن(این جی ایچ ایم)کا آغاز ایک جامع پروگرام کے طور پر کیا، جس کا مقصد سبز ہائیڈروجن کا ایک مضبوط نظام قائم کرنا اور اس شعبے میں موجود مواقع اور چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے منظم اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

  • جنوری 2023 میں منظور کیے گئے اس مشن کے لیے 19,744 کروڑ روپے مختص کیے گئے، جبکہ 2030 تک 50 لاکھ میٹرک ٹن سبز ہائیڈروجن کی پیداوار کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
  • پیداواری صلاحیت: فروری 2026 تک سبز ہائیڈروجن کی تقریباً 8,000 ٹن سالانہ پیداواری صلاحیت کے منصوبے شروع کیے جا چکے تھے۔
  • نقل و حمل: جولائی 2026 میں حکومت نے اس مشن کے تحت 21 راستوں  پر ہائیڈروجن سے چلنے والی 70 گاڑیوں کے لیے 12 آزمائشی منصوبوں کا آغاز کیا۔
  • بھارت کی پہلی دیسی ساختہ ہائیڈروجن فیول سیل سے چلنے والی ٹرین نے جولائی 2026 میں جند۔سونی پت ریلوے سیکشن پر خدمات شروع کیں۔

 نیو کلیائی توانائی مشن

گزشتہ دہائی کے دوران بھارت کے  نیو کلیائی توانائی کے شعبے میں نمایاں توسیع اور جدید کاری ہوئی ہے۔ صاف توانائی، دیسی ٹیکنالوجی اور بہترین کارکردگی پر توجہ دیتے ہوئے ملک نے اپنی موجودہ پیداواری صلاحیت کے ساتھ مستقبل میں اس شعبے کی توسیع کے امکانات کو بھی بڑھایا ہے۔

  • نصب شدہ صلاحیت: 31 جولائی 2026 تک بھارت کی نیو کلیائی بجلی کی نصب شدہ صلاحیت 8.78 گیگاواٹ تھی۔
  • نیو کلیائی توانائی مشن: بھارت کا ہدف 2047 تک  نیو کلیائی توانائی کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر 100 گیگاواٹ کرنا ہے۔
  • منصوبہ بند توسیع: دیسی ساختہ 700 میگاواٹ اور 1,000 میگاواٹ کے ری ایکٹروں کی تیاری اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے نیو کلیائی توانائی کی صلاحیت 2031-32 تک بڑھ کر 22.38 گیگاواٹ ہونے کی توقع ہے۔
  • چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز:  نیوکلیائی توانائی مشن کے تحت چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹروں کے ڈیزائن، تیاری اور تنصیب کے لیے 20,000 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے تحت 2033 تک کم از کم پانچ دیسی ساختہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز تیار کرنے کا ہدف ہے۔
  • فاسٹ بریڈر ری ایکٹر: کلپکم میں واقع 500 میگاواٹ الیکٹرک صلاحیت کے پروٹوٹائپ فاسٹ بریڈر ری ایکٹر نے 6 اپریل 2026 کو پہلی بار نیوکلیئر چین ری ایکشن کا آغاز کیا، جو بھارت کے تین مرحلوں پر مشتمل نیوکلیائی توانائی پروگرام میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔

شانتی ایکٹ، 2025

بھارت میں نیوکلیائی توانائی کے پائیدار استعمال اور ترقی کے ذریعے تبدیلی لانے سے متعلق ایکٹ( ایس ایچ اے این ٹی آئی ایکٹ 2025) کے تحت نجی شعبے کو لائسنس کے ذریعے نیوکلیائی تنصیب قائم کرنے یا نیوکلیائی توانائی کی پیداوار، استعمال اور تلف کرنے کے نظام سے متعلق سرگرمیاں انجام دینے کی اجازت دی گئی ہے۔

  • شہری ذمہ داری: ہر نیوکلیائی حادثے کے لیے زیادہ سے زیادہ ذمہ داری کی حد 30 کروڑ خصوصی زرِ مبادلہ حقوق(ایس ڈی آر)کے مساوی بھارتی روپے یا مرکزی حکومت کی جانب سے مقرر کردہ رقم ہوگی۔
  • اس ایکٹ کے تحت نیوکلیائی توانائی کے ضابطہ جاتی بورڈ(اے ای آر بی)کو قانونی حیثیت دی گئی ہے، جس سے اس کے ضابطہ جاتی اختیارات اور حفاظتی ذمہ داریوں کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے۔

ارضی حرارتی توانائی

  • ارضی حرارتی توانائی قابلِ تجدید توانائی کا ایک قابلِ اعتماد ذریعہ ہے، جو شمسی اور ہوائی توانائی جیسے غیر مستقل ذرائع کی تکمیل کر سکتی ہے۔ اس طریقے میں زمین کے اندر ذخیرہ شدہ حرارت کو بجلی پیدا کرنے یا براہِ راست حرارت فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

ارضی حرارتی توانائی سے متعلق قومی پالیسی (15 ستمبر 2025 کو نوٹیفائی کی گئی)

  • اس پالیسی کے تحت ارضی حرارتی وسائل کی تلاش، ترقی اور استعمال کے لیے ایک جامع لائحۂ عمل فراہم کیا گیا ہے۔
  • ارضی حرارتی وسائل کی تلاش کے دوران ارضیاتی سروے آف انڈیا نے بھارت میں 381 گرم چشموں کی نشاندہی کی  بنیاد پر اس توانائی کی ممکنہ صلاحیت تقریباً 10,600 میگاواٹ ہونے کا تخمینہ لگایا ہے۔ ان میں سے 42 ارضی حرارتی مقامات کو امید افزا علاقوں کے طور پر شناخت کیا گیا ہے۔
  • اس پالیسی کے تحت ٹیکنالوجی کے شعبے میں شراکت داری، علم و تجربے کی منتقلی اور مشترکہ تحقیق و ترقی کو فروغ دیا جاتا ہے۔ بھارت نے ارضی حرارتی توانائی کے شعبے میں آسٹریلیا، آئس لینڈ، سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ تعاون کے طریقۂ کار بھی قائم کیے ہیں۔
  • جولائی اور اگست 2025 کے دوران پانچ منصوبوں کو منظوری دی گئی، جن میں ایک آزمائشی پیداواری پلانٹ، وسائل کی جانچ کے منصوبے اور شمسی و ارضی حرارتی توانائی پر مبنی ایک مشترکہ پلانٹ شامل ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ارضی حرارتی توانائی کے استعمال کی تکنیکی اور اقتصادی افادیت کا تعین کرنا ہے۔

بھارت میں ایندھن کے شعبے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال

صاف ایندھن سے کھانا پکانے کی سہولت اب محض رسائی کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ یہ گھریلو توانائی کے ایک وسیع پیمانے پر دستیاب ذریعے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ایل پی جی کنکشنز میں توسیع اور اس کے استعمال میں اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت کے کنبوں تک اس سہولت کی رسائی مسلسل بڑھ رہی ہے۔

  • بھارت میں ایل پی جی کی قومی سطح پر رسائی 2014 میں 55.9 فیصد تھی، جو 2026 میں بڑھ کر 107.2 فیصد ہو گئی۔
  • ایل پی جی صارفین کی تعداد 2014 میں 14.51 کروڑ سے بڑھ کر 2026 میں 33.18 کروڑ ہو گئی۔
  • پردھان منتری اجولا یوجنا کے تحت مالی سال 2025-26 میں تقریباً 49.21 کروڑ ایل پی جی سلنڈروں کو دوبارہ بھرنے  اور فراہمی عمل میں آئی۔
  • مالی سال 2025-26 میں پی ایم اجولا یوجنا کے تحت مزید 25 لاکھ ایل پی جی کنکشنز کی منظوری دی گئی، جن میں سے 5 اگست 2026 تک 24.84 لاکھ کنکشن جاری کیے جا چکے تھے۔
  • بھارت خام تیل کو صاف کرنے کی صلاحیت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ملک کی 22 فعال آئل ریفائنریوں کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت 258.1 ملین ٹن سالانہ ہے۔

سمندر منتھن : قومی آف شور تلاش کی اسکیم

سمندر میں تیل اور قدرتی گیس کی تلاش کو فروغ دینے اور توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے سمندر منتھن قومی آف شور تلاش کی اسکیم کو 31 جولائی 2026 کو 84,084 کروڑ روپے کے بجٹ کے ساتھ منظوری دی گئی۔ اس اسکیم کے تحت زلزلے سے متعلق سروے ، گہرے سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے کھدائی اور سمندر میں پیداوار و وسائل کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی شامل ہے۔

مستقبل کی راہ: بھارت کے توانائی کے شعبے کی تعمیر

بھارت  توانائی  کا ایک ایسا نظام تشکیل دے رہا ہے جو تحفظ، پائیداری اور اختراع کو یکجا کرتا ہے۔ غیر فوسل توانائی کی صلاحیت میں توسیع کے ساتھ ملکی وسائل، بنیادی ڈھانچے، مینوفیکچرنگ اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کو بھی مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

توانائی کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیشِ نظر، بھارت کے متنوع توانائی ذرائع قابلِ اعتماد بجلی کی فراہمی، توانائی کے زیادہ تحفظ اور صاف ستھرے مستقبل کو یقینی بنانے میں مدد دیں گے۔ پالیسیوں کی مسلسل معاونت اور ٹیکنالوجی میں پیش رفت سے ایسا توانائی نظام تشکیل دینے میں مدد ملے گی جو مستحکم، خود کفیل اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔

حوالہ جات

کابینہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2241799&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?ModuleId=3&NoteId=158349&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2292445&reg=48&lang=1

وزارتِ نئی اور قابلِ تجدید توانائی (MNRE)

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2296782&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250039&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293256&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2244667&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2245157&lang=2&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2250039&lang=1&reg=3

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2291541&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2026700&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2200435&reg=48&lang=2

https://pmkusum.mnre.gov.in/#/landing

https://mnre.gov.in/en/physical-progress/

https://mnre.gov.in/en/bio-energy-overview/

https://mnre.gov.in/en/new-technologies-overview/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=1777364&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2268992&reg=48&lang=2

https://pmsuryaghar.gov.in/#/

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249408&reg=3&lang=1

وزارتِ پٹرولیم اور قدرتی گیس

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2266034&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2295494&reg=3&lang=1

https://ppac.gov.in/download.php?file=rep_studies/1785837484_LPG_Profile_Report_Q1_FY_2026-27_Final_Web.pdf

https://www.pmuy.gov.in/index.aspx

https://gobardhan.eil.co.in/

وزارتِ کوئلہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2293366&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2289973&lang=2&reg=48

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2260621&lang=2&reg=3

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2286591&reg=48&lang=1

محکمۂ جوہری توانائی (DAE)

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2198951&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156593&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2294814&reg=48&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2249537&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247971&lang=2&reg=48

وزارتِ ریلوے

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2285240&reg=48&lang=1

پی آئی بی کے پس منظر پر مبنی مضامین

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=150630&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/FactsheetDetails.aspx?Id=149232&reg=48&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2270740&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=156593&ModuleId=3&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=155990&ModuleId=3&reg=48&lang=2

Click here to see PDF

***

ش ح۔ش ب۔ م ذ

U N-6482


(ریلیز آئی ڈی: 2326703) وزیٹر کاؤنٹر : 14