PIB Backgrounder
azadi ka amrit mahotsav

دیہی تبدیلی کے آخری مرحلے کے معمار

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 20 SEP 2026 9:47AM by PIB Delhi

تربیت یافتہ زمینی سطح کے کارکنوں کا ایک نیٹ ورک غیر مرکزی خدمات کی فراہمی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کارکن سرکاری پروگراموں پر عمل درآمد میں معاونت کرتے ہیں، لوگوں کو متحرک کرتے ہیں اور گاؤں کی سطح پر بروقت مدد فراہم کرتے ہیں۔ ملک بھر میں 9 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی)، آشا کارکنوں، آنگن واڑی کارکنوں، سوچھ گرہیوں، آواس متروں اور دیگر صفِ اوّل کے کارکنوں کے ساتھ مل کر اداروں اور دیہیکنبوں کے درمیان فاصلے کو کم کر رہے ہیں۔ 9 لاکھ سی آر پی میں سے تقریباً 4.08 لاکھ ذریعۂ معاش سے متعلق سی آر پی ہیں، جو زراعت، مویشی پروری، ماہی پروری، جنگلاتی پیداوار اور کاروباری سرگرمیوں کی ترقی میں معاونت کرتے ہیں۔ دیگر سی آر پی صنفی بیداری، مالی خواندگی اور معاشرے کی ترقی جیسے شعبوں میں خدمات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ صحت اور غذائیت کے شعبوں میں 10.40 لاکھ سے زیادہ آشا کارکن اور 10.58 لاکھ تربیت یافتہ آنگن واڑی کارکن لوگوں کی صحت کی دیکھ بھال اور ابتدائی بچپن کی خدمات کو مضبوط بنا رہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے والے یہ زمینی سطح کے کارکن مختلف پروگراموں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور مقامی اداروں کو مضبوط بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔

آخری مرحلے تک خدمات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرنے والے کمیونٹی کارکن

گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران حکومت نے مختلف پروگراموں کے ذریعے دیہی ترقی کے لیے متعدد شعبوں، مثلاً ذریعۂ معاش، صحت، غذائیت، صفائی ستھرائی، پینے کے پانی، رہائش، مالی شمولیت اور روزگار میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کی ہے۔ ان اقدامات کو مؤثر بنانے میں صفِ اوّل کے کارکنوں کے ایک وقف نیٹ ورک نے اہم کردار ادا کیا ہے، جو دیہی برادریوں کے ساتھ مسلسل رابطے کو ممکن بناتا ہے اور آخری مرحلے تک خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں صحت اور غذائیت کے شعبوں میں 10.40 لاکھ سے زیادہ تسلیم شدہ سماجی صحت کارکنان (آشا)، 10.58 لاکھ آنگن واڑی کارکنان (اے ڈبلیو ڈبلیو) اور معاون نرس دائیاں (اے این ایم) شامل ہیں۔ 9 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آرپی) زمینی سطح پر سرگرم ہیں، جو زراعت، بینکاری، بیمہ وغیرہ جیسے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً 4.08 لاکھ سی آر پی زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں اور دیہی کاروباری اداروں میں ذریعۂ معاش کے فروغ کے لیے کام کرتے ہیں اور انہیں مختلف ناموں سے جانا جاتا ہے، جن میں کرشی سکھی، پشو سکھی، متسیہ سکھی اور ون سکھی شامل ہیں۔ باقی تقریباً 5 لاکھ سی آر پی بینک سکھی، بزنس کورسپانڈنٹ سکھی، مالی خواندگی سے متعلق سی آر پی، بیمہ سکھی اور صنفی مساوات کے علم برداروں کے طور پر کام کرتے ہیں اور مالی شمولیت، مالی خواندگی، بیمہ، صنفی بیداری اور لوگوں  کی ترقی جیسے دیگر خصوصی شعبوں میں ضروری معاونت فراہم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، صفِ اوّل کے کارکنوں میں سوچھاگریہی بھی شامل ہیں، جو صفائی ستھرائی کے شعبے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔

بیداری پیدا کرنے، صلاحیتوں میں اضافے، خدمات کی فراہمی میں معاونت اور بہتر رسائی کو یقینی بنانے کے ذریعے یہ مقامی صفِ اوّل کے کارکن اداروں اور لوگوں  کے درمیان رابطے کو مضبوط بناتے ہیں۔ یہ رابطہ خدمات تک رسائی بہتر بنانے، پروگراموں پر عمل درآمد میں معاونت کرنے اور کنبوں  کی سطح پر خدمات کی فراہمی میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں مدد دیتا ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image003_20260920094039_aa9052.jpg

عملی طور پر کارکنوں کے نیٹ ورک کا طریقۂ کار: شعبہ بہ شعبہ، گاؤں بہ گاؤں

کمیونٹی کیڈر کا طریقۂ کار ایک غیر مرکزی نظام ہے، جس کا مقصد تربیت یافتہ زمینی سطح کے کارکنوں کے ذریعے آخری مرحلے تک خدمات کی مؤثر فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ یہ کمیونٹی کارکن ایک دوسرے سے منسلک متعدد کردار ادا کرتے ہیں۔ تربیت کاروں کی حیثیت سے، وہ باہمی سیکھنے اور مہارتوں کی منتقلی کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ خدمات فراہم کرنے والوں کے طور پر، وہ کمیونٹی کی سطح پر روزگار اور مالیاتی خدمات تک رسائی کو یقینی بناتے ہیں۔ رویّوں میں تبدیلی کے محرکین کی حیثیت سے، وہ بیداری پیدا کرتے ہیں اور صحت، صفائی ستھرائی اور سماجی شمولیت کے شعبوں میں بہتر طریقوں کو اپنانے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ سرکاری اسکیموں میں سہولت کاروں کے طور پر، وہ دستاویزات کی تیاری، روابط کے قیام اور مختلف پروگراموں کے درمیان ہم آہنگی میں مدد فراہم کرکے سرکاری پروگراموں تک رسائی ممکن بناتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں صفِ اوّل کے کارکنوں کو حکومت کی جانب سے جاری کردہ متعلقہ اسکیموں کے رہنما خطوط کے مطابق معاوضہ دیا جاتا ہے۔ عموماً یہ معاوضہ سرگرمیوں کی بنیاد پر مقرر کیا جاتا ہے، جس میں ترغیبی رقم کو خدمات کی فراہمی کے نتائج، تفویض کردہ کاموں کی تکمیل اور کمیونٹی کو متحرک کرنے کی کوششوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔

کھیتوں سے کاروباری اداروں تک: وسیع پیمانے پر ذریعۂ معاش کے مواقع

دیہی کنبوں کے لیے معلومات، خدمات، قرض اور منڈیوں تک محدود رسائی اکثر ذریعۂ معاش کے فروغ میں رکاوٹ بنتی ہے۔ اسی لیے حکومتِ ہند نے ایسے ادارے قائم کرکے کمیونٹی کی قیادت میں چلنے والے طریقۂ کار کو مضبوط بنایا ہے، جو دیہی کنبوں کو ان کے گھروں کے قریب ذریعۂ معاش، مالیاتی خدمات، سماجی ترقی کے اقدامات اور سرکاری پروگراموں تک رسائی فراہم کرتے ہیں۔ دین دیال انتودیہ یوجنا۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی- این آر ایل ایم) اس طریقۂ کار کا ایک مرکزی حصہ ہے۔ اس مشن نے خواتین کی قیادت میں کام کرنے والے کمیونٹی اداروں کے ملک کے سب سے بڑے نیٹ ورکس میں سے ایک قائم کیا ہے، جس کے تحت ملک بھر میں 10 کروڑ سے زیادہ دیہی کنبوں کو تقریباً 92 لاکھ اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) میں منظم کیا گیا ہے۔

گاؤں کی تنظیموں اور کلسٹر سطح کی فیڈریشنوں کے علاوہ، ان اداروں کو مختلف موضوعاتی شعبوں میں کام کرنے والے کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی) کا ایک وسیع نیٹ ورک معاونت فراہم کرتا ہے۔ 9 لاکھ سے زیادہ کمیونٹی کارکن زراعت، مویشی پروری، ماہی پروری، کاروبار کے فروغ، بینکاری، مالی خواندگی، بیمہ اور سماجی ترقی سمیت مختلف شعبوں میں دیہی برادریوں کی مدد کر رہے ہیں۔ یہ کارکن زرعی اور غیر زرعی، دونوں شعبوں میں مواقع تک رسائی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ سی آر پیز کا انتخاب خود کمیونٹی میں سے کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے متعلقہ شعبوں میں تربیت، عملی میدان میں مسلسل رہنمائی اور صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

کرشی سکھی، پشو سکھی، متسیہ سکھی اور کاروبار کے فروغ کے لیے کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی- ای پی) جیسے کمیونٹی کارکن دیہی ذریعۂ معاش کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ معاشرے پر مبنی افرادی قوت دیہی خواتین کو ترقیاتی پروگراموں میں محض شرکت کرنے سے آگے بڑھ کر تربیت یافتہ خدمات فراہم کرنے والی، لوگوں  کی رہنما اور مقامی سطح پر تبدیلی لانے والی شخصیات بننے کے قابل بنا رہی ہے۔

ذریعۂ معاش سے متعلق سی آر پیز

یہ سی آر پیز زرعی اور غیر زرعی، دونوں شعبوں میں سرگرم ہیں۔ زرعی ذریعۂ معاش سے متعلق سی آر پیز تربیت یافتہ کمیونٹی کارکن ہیں، جواپنی مدد آپ گروپوں (ایچ ایچ جی) کے ارکان اور دیہی کنبوں کو بہتر زرعی طریقے اپنانے، مویشیوں کے انتظام کو مضبوط بنانے، پیداوار میں اضافہ کرنے اور ذریعۂ معاش سے متعلق خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ جون 2025 تک، ذریعۂ معاش سے متعلق اقدامات کے تحت 4.62 کروڑ سے زیادہ مہیلا کسانوں کا احاطہ کیا جا چکا تھا، جنہیں 3 لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ ذریعۂ معاش کے سی آر پیز کی معاونت حاصل تھی۔

کرشی سکھی زرعی ذریعۂ معاش کو مضبوط بنانے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ کسانوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہ کر پائیدار زراعت اور زرعی مصنوعات کی مارکیٹنگ کو فروغ دیتی ہیں۔ سالانہ رپورٹ 2025-26 کے مطابق، 1.91 لاکھ سے زیادہ کرشی سکھیوں کو متحرک کیا جا چکا ہے، جس سے زمینی  سطح پر زرعی توسیعی خدمات کی رسائی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جنگلاتی علاقوں میں ون سکھی غیر عمارتی جنگلاتی مصنوعات (این ٹی ایف پی) کی جمع آوری، کاشت اور قدر میں اضافے کے عمل میں معاونت فراہم کرتی ہیں۔ تقریباً 2,993 ون سکھی میدان میں رہ کر معاونت فراہم کر رہی ہیں اور معلومات و علم کو عام کر رہی ہیں۔

متعلقہ شعبوں میں بھی کمیونٹی کارکن خدمات انجام دے رہے ہیں، جن میں پشو سکھی اور متسیہ سکھی شامل ہیں۔ تقریباً 1.70 لاکھ پشو سکھیوں کو متحرک کیا جا چکا ہے اور مویشی پرور کنبوں کو جانوروں کی صحت بہتر بنانے، پیداواری اخراجات کم کرنے اور پیداوار میں اضافہ کرنے کے لیے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ اسی طرح، 2,012 سے زیادہ متسیہ سکھی ماہی پروری پر مبنی ذریعۂ معاش کو فروغ دینے اور منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

زرعی اور اس سے منسلک سرگرمیوں کے علاوہ، کاروباری اداروں کی ترقی کے ذریعے غیر زرعی ذریعہ معاش پر بھی بڑھتی ہوئی توجہ دی جا رہی ہے۔ کاروبار کے فروغ کے لیے کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی- ای پی) اور اُدیوگ سکھی کنبوں کو قابلِ عمل کاروباری مواقع کی نشاندہی کرنے، کاروباری منصوبے تیار کرنے، قرض تک رسائی میں سہولت فراہم کرنے اور منڈیوں سے روابط قائم کرنے میں مدد دے رہی ہیں۔ غیر زرعی ذریعہ معاش کی معاونت کرنے والی تقریباً 48,785 اُدیوگ سکھیوں اور اسٹارٹ اَپ ولیج انٹرپرینیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی) کے تحت خصوصی معاونت فراہم کرنے والے سی آر پی-ای پیز کے ذریعے دیہی کاروبار کو فروغ دینے کے لیے ایک مضبوط ادارہ جاتی نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔

جون 2026 تک، ایس وی ای پی کے تحت 4.32 لاکھ کاروباری اداروں کو معاونت فراہم کی جا چکی ہے۔ متعدد ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سیکڑوں بلاکس میں سرگرم کاروبار کے فروغ کے لیے مخصوص اقدامات کے ذریعے اس کوشش کو مزید ادارہ جاتی شکل دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسی ادارہ جاتی نیٹ ورک کی بنیاد پر حکومت کاروبار سے متعلق قومی مہم نافذ کر رہی ہے، جس کا مقصد کاروبار کے فروغ کے لیے 50,000 سی آر پیز کو تربیت دینا اور 50 لاکھ اپنی مدد آپ گروپوں (ایچ ایچ جی) کے ارکان کو کاروبار کی ترقی سے متعلق تربیت فراہم کرنا ہے۔

صفِ اوّل میں مالی خدمات

بزنس کورسپانڈنٹ (بی سی) سکھی اور بینک سکھی، دین دیال انتودیہ یوجنا۔ قومی دیہی روزی روٹی مشن (ڈی اے وائی- این آر ایل ایم) کے تحت فروغ دی جانے والی تربیت یافتہ خواتین کمیونٹی کارکن ہیں، جو زمینی  سطح پر مالیاتی ثالث کے طور پر کام کرتی ہیں۔ 1.48 لاکھ سے زیادہ بی سی سکھی دیہات میں ڈیجیٹل ذرائع سے گھر کی دہلیز پر مختلف مالیاتی خدمات فراہم کرتی ہیں، جن میں بینک کھاتے کھولنا، رقم جمع کرنا، رقم نکالنا، رقوم کی منتقلی اور کھاتے میں موجود رقم کی معلومات فراہم کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، شاخوں کی سطح پر کام کرنے والی 50,548 بینک سکھی قرض کی سہولت تک رسائی اور قرض کے روابط قائم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ 2013-14 سے اب تک، بینک سکھیوں نے اپنی مدد آپ گروپوں (ایس ایچ جی) کو بینکوں سے 13.41 لاکھ کروڑ روپے کا قرض حاصل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

اس ایکو سسٹم کو 56,727 مالی خواندگی سے متعلق کمیونٹی ریسورس پرسنز (سی آر پی) کی معاونت بھی حاصل ہے، جو گاؤں کی سطح پر بیداری مہمات چلاتے ہیں۔ وہ بینکوں کے زیرِ انتظام مالی خواندگی مراکز کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے باخبر مالی فیصلے کرنے کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔ 2025-26 کے دوران، 3.81 کروڑ سے زیادہ ایس ایچ جی کے ارکان کو مالی خواندگی کی تربیت فراہم کی گئی، جس میں مالی منصوبہ بندی، بچت، قرض، بیمہ، پنشن، کاروباری اداروں کے لیے مالی وسائل اور بزنس کورسپانڈنس جیسے موضوعات شامل تھے۔

بینکاری اور کاروبار میں توازن: ایک بی سی سکھی کی متاثر کن داستان

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image004_20260920094110_d36684.jpg

آسام کے ضلع ناگاؤں کے گاؤں  میں دیباشری گوگوئی بورا کی جدوجہد اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ کس طرح بی سی سکھی دیہی بینکاری میں تبدیلی لا رہی ہیں اور ذریعۂ معاش کے متنوع مواقع بھی پیدا کر رہی ہیں۔ ایک پڑوسن کے ذریعے اس پروگرام سے متعارف ہونے کے بعد، انہوں نے بینکاری کے بنیادی لین دین سے کام شروع کیا اور بعد میں کامن سروس سینٹر (سی ایس سی) کی آئی ڈی حاصل کرکے کسٹمر سروس پوائنٹ (سی ایس پی) قائم کیا۔

پانچ سال سے زیادہ عرصے سے دیباشری دیہی باشندوں کو مقامی سطح پر مالیاتی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دے رہی ہیں، جن میں پی ایم کسان اور ارونودوئی جیسی اسکیموں کے فوائد بھی شامل ہیں۔ روزانہ 30 سے 35 صارفین کو خدمات فراہم کرتے ہوئے، وہ گھر کی دہلیز پر بینکاری کی سہولت مہیا کرتی ہیں۔ اپریل سے اگست کے درمیان انہوں نے 2,500 سے زیادہ مالیاتی لین دین مکمل کیے اور ہر ماہ 10,000 سے 17,000 روپے تک کمیشن حاصل کیا۔

بینکاری کے ساتھ ساتھ، وہ ڈیسک ٹاپ پبلشنگ (ڈی پی ٹی)، فوٹو کاپی اور تصاویر کی پرنٹنگ کی خدمات بھی فراہم کرتی ہیں، جبکہ گھر میں بیکنگ کے ان کے ہنر سے مقامی تقریبات میں بھی مدد ملتی ہے۔  اپنے شوہر کی معاونت سے وہ متعدد کاروباری سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کسٹمر سروس پوائنٹ کو ایک مخصوص دکان میں منتقل کرنے کا ان کا منصوبہ خدمات کو وسعت دینے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ دیباشری کی کہانی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح بی سی سکھی مالی شمولیت کو مضبوط بنانے اور دیہی علاقوں میں پائیدار کاروباری ادارے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

سماجی ترقی کے لیے کمیونٹی کارکن

دین دیال انتودیہ یوجنا۔ قومی دیہی ذریعۂ معاش مشن (ڈی اے وائی- این آر ایل ایم) کے تحت کمیونٹی اداروں کا نظام ذریعۂ معاش اور مالی شمولیت سے آگے بڑھ کر سماجی ترقی کے شعبے تک پھیلا ہوا ہے۔ کمیونٹی کارکن صنفی مساوات، غذائیت، صحت، صفائی ستھرائی، سماجی شمولیت اور سرکاری خدمات تک رسائی سے متعلق اقدامات میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔ ڈی اے وائی۔ این آر ایل ایم نے اپنے کمیونٹی اداروں اور حکومت کے دیگر پروگراموں کے صفِ اوّل کے نظاموں، مثلاً آنگن واڑی کارکنوں، معاون نرس دائیوں اور آشا کارکنوں کے درمیان ہم آہنگی کو بھی مضبوط بنایا ہے، تاکہ کمیونٹی کے ساتھ رابطے کو فروغ دیا جا سکے اورکنبوں کی سطح تک رسائی ممکن ہو۔

 

ہر گھر میں صحت اور غذائیت

صحت کے نتائج کو بہتر بنانے کے لیے صرف بنیادی ڈھانچہ کافی نہیں، بلکہ اس کے لیے بیداری پیدا کرنا اور کمیونٹی کی فعال شرکت بھی ضروری ہے۔ اس ضمن میں صحت کے شعبے کے صفِ اوّل کے کارکن مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ 31 دسمبر 2025 تک، 10.40 لاکھ سے زیادہ آشا کارکن ہندوستان کے صحت عامہ کے نظام میں رابطے کے پہلے ذریعے کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔

یہ کارکن کمیونٹی اور صحت کی ضروری خدمات کے درمیان ایک اہم رابطے کا کردار ادا کرتے ہیں۔ کمیونٹی کی سطح پر رضاکارانہ خدمات انجام دینے والی والی آشا کارکن مقررہ اوقات کی پابندی سے بالاتر ہوکر قدرے نرمی والے  انداز میں کام کرتی ہیں، مقامی ضروریات کے مطابق ردِعمل دیتے ہیں اور قومی صحت پروگراموں کے تحت کارکردگی کی بنیاد پر ترغیبی رقم حاصل کرتے ہیں۔

ان کے ساتھ ساتھ، آنگن واڑی کارکن (اے ڈبلیو ڈبلیو) مربوط خدماتِ اطفال (آئی سی ڈی ایس) اور پوشن 2.0 کے تحت غذائیت اور ابتدائی بچپن کی نگہداشت کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔ وہ شدید درجے کی غذائی قلت اور درمیانے درجے کی غذائی قلت (ایس اے ایم/ایم اے ایم) سے متاثرہ بچوں کی جانچ کرتے ہیں اور ان کی شناخت کرتے ہیں، اضافی غذائیت فراہم کرتے ہیں اور بچوں کو خوراک دینے، ماں کا دودھ پلانے، حفظانِ صحت اور صفائی ستھرائی سے متعلق رویّوں میں تبدیلی کو فروغ دیتے ہیں۔

پوشن بھی پڑھائی بھی اقدام کا مقصد آنگن واڑی نظام کے ذریعے ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم (ای سی سی ای) کے معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس کے تحت آنگن واڑی مراکز (اے ڈبلیو سی) کو بہتر بنیادی ڈھانچے، کھیل پر مبنی تعلیمی مواد اور اچھی تربیت یافتہ آنگن واڑی کارکنوں سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے تحت ابتدائی بچپن کی نگہداشت اور تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے آنگن واڑی کارکنوں کی صلاحیتوں میں اضافے کو ترجیح دی گئی ہے۔ مارچ 2026 تک، 10.58 لاکھ سے زیادہ آنگن واڑی کارکنوں کو تربیت دی جا چکی تھی، جس سے زمینی  سطح پر ابتدائی بچپن کی خدمات کے معیار اور رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔

رویوں میں تبدیلی کے ذریعے بڑے پیمانےپر صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت  کو وسعت دینا

سوچھ بھارت مشن (گرامین) کا مقصد لوگوں کو صفائی ستھرائی اور حفظانِ صحت کی پائیدار خدمات فراہم کرنا ہے۔ اس کوشش میں سوچھا گریہی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جو سوچھ بھارت مشن کے صفِ اوّل کے کارکن ہیں۔ وہ دیہی ہندوستان میں صفائی ستھرائی کے اہم طریقوں کے حوالے سے رویّوں میں تبدیلی لانے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ مثالی طور پر، ہر گاؤں میں کم از کم ایک سوچھا گریہی ہونا چاہیے، جس کے لیے خواتین کو ترجیح دی جاتی ہے۔ سوچھا گریہی ایک رضاکار ہوتا ہے، جس کا تعلق مختلف پس منظر سے ہو سکتا ہے۔ ان میں آشا کارکن، معاون نرس دائیاں (اے این ایم)، آنگن واڑی کارکن (اے ڈبلیو ڈبلیو) اور معاشرے  کی سطح پر کام کرنے والا دیگر مقامی عملہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ، پانی کی پائپ لائنوں کی مرمت کرنے والے کارکن، پمپ آپریٹرز اور گاؤں کی عام برادری کے ارکان بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔

سوچھ بھارت مشن (گرامین) کے صلاحیت سازی ڈیش بورڈ کے مطابق، 10.36 لاکھ سے زیادہ اہلکاروں اور 36,342 ماسٹر ٹرینرز کو تربیت دی جا چکی ہے۔ اس سے دیہی علاقوں میں مشن پر عمل درآمد اور رویّوں میں تبدیلی لانے کی کوششوں کو تقویت ملی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image005_20260920094120_ca4914.jpg

سوچھتا دیدیاں: بستر میں کچرے کو ذریعۂ معاش میں تبدیل کرنے کا سفر

بستر کے جنگلاتی علاقے میں کبھی کچرا ایک ایسا پوشیدہ بحران تھا جس کی نمایاں علامات میں جگہ جگہ بکھرا ہوا پلاسٹک، فضلے کے غیر منظم ڈھیر اور اس سے نمٹنے کے لیے کسی واضح نظام کا فقدان شامل تھا۔ گاؤں  صفائی ستھرائی کے ناقص انتظامات سے دوچار تھے اور اس کا بوجھ خاموشی سے لوگوں اور ماحول، دونوں پر بڑھتا جا رہا تھا۔ تبدیلی کا آغاز سوچھ بھارت مشن کے ذریعے ہوا، جب ایس ایچ جی سے وابستہ خواتین آگے آئیں اور لوگوں  میں فضلے کو ٹھکانے لگانے کی قیادت کے لیے سوچھتا دیدیوں کا کردار سنبھالا۔

چھوٹے پیمانے پر شروع ہونے والی یہ کوشش جلد ہی 114 گاؤں  اور 71 گرام پنچایتوں تک پھیل گئی، جہاں ٹھوس و مائع وسائل کے انتظام کے مراکز (ایس ایل آرایم) قائم کیے گئے۔ ان مراکز نے کچرے کو جمع کرنے، اس کو الگ کرنے، نقل و حمل، پراسیسنگ اور ری سائیکلنگ کے لیے ایک منظم طریقۂ کار وضع کیا۔

ایس ایل آر ایم مراکز نے صرف ایک سال میں 12.22 لاکھ روپے سے زیادہ کی آمدنی حاصل کی، جبکہ اس سے پہلے کے پورے پانچ سالہ عرصے (2017–22) میں مجموعی آمدنی 15.20 لاکھ روپے تھی۔ اس کے علاوہ، دیہی علاقوں میں ایس ایچ جی سے وابستہ خواتین نے 2.50 لاکھ روپے کمائے، جس میں پنچایتوں سے حاصل ہونے والی ادائیگیاں (1.52 لاکھ روپے) اور مواد کی بازیابی کے مراکز سے حاصل ہونے والی رقم (97,553 روپے) شامل تھی۔ سوچھتا دیدیاں کچرے  کو ٹھکانے لگانے کا کام کرتی ہیں، لوگوں کی سوچ بدلتی ہیں، نظرانداز کیے گئے نظاموں کو دوبارہ فعال بناتی ہیں اور یہ ثابت کرتی ہیں کہ پائیداری کے ساتھ ذریعۂ معاش کے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔

مقامی کارکنوں کے ذریعے پانی کی قابلِ اعتماد فراہمی

تہترویں آئینی ترمیم کے مطابق، جل جیون مشن پنچایتی راج اداروں کے ذریعے گاؤں کی سطح پر منصوبہ بندی اور کمیونٹی کی شمولیت کو فروغ دیتا ہے۔ گرام پنچایتوں اور ان کی ذیلی کمیٹیوں، یعنی گاؤں کی پانی و صفائی ستھرائی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ایس سی) یا پانی سمیتیوں کو گاؤں کے اندر پانی کی فراہمی کے نظام کی منصوبہ بندی، نفاذ، آپریشن اور دیکھ بھال کے اختیارات دیے گئے ہیں۔ وی ڈبلیو ایس سی کے ارکان کا انتخاب گرام سبھا کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ کمیٹیاں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ان میں کم از کم 50 فیصد نمائندگی خواتین کی ہو اور ان میں پنچایت کے ارکان، درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل (ایس سی / ایس ٹی) سے تعلق رکھنے والے نمائندے اور پسماندہ کنبوں کے افراد شامل ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ پانی کے معیار اور صحت سے متعلق اشاریوں کی نگرانی کے لیے مقامی آشا کارکنوں کے ساتھ رابطہ بھی رکھتی ہیں۔ یہ کمیٹیاں گاؤں کی سطح پر آبی تحفظ کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ اس میں فنڈز کا انتظام، بینک کھاتوں کی دیکھ بھال، صارفین کے لیے فیس کا تعین، بجٹ تیار کرنا اور پانی کی فراہمی کے نظام کے درست استعمال اور دیکھ بھال کو یقینی بنانا شامل ہے۔ جل جیون مشن کے ڈیش بورڈ کے مطابق، ملک بھر میں 5.33 لاکھ سے زیادہ وی ڈبلیو ایس سی/پانی سمیتیاں کام کر رہی ہیں۔

اسی طرح، نل جل متر پروگرام کمیونٹی کے ارکان کو تربیت دے کر انہیں نل جل متر بناتا ہے، تاکہ مقامی سطح پر صلاحیتوں کو مضبوط کیا جا سکے۔ انہیں پلمبنگ، برقی کام اور پمپ چلانے جیسے تکنیکی ہنر سکھائے جاتے ہیں۔ یہ ہنر انہیں پانی کی فراہمی کے نظام کا انتظام کرنے اور اس کی معمولی مرمت انجام دینے کے قابل بناتے ہیں۔

کمیونٹی کے تعاون سے تعمیر ہونے والے گھر

آواس متر پردھان منتری آواس یوجنا-گرامیں ( پی ایم اے وائی-جی) کے تحت میدانی سطح پر سہولت فراہم کرنے والے کارکن ہیں، جو دیہی علاقوں میں رہائش کی فراہمی کے منصوبے پر عمل درآمد، نگرانی اور مستفیدین کی معاونت کرتے ہیں۔ ہر منظور شدہ مکان کو گاؤں کی سطح پر کام کرنے والے کسی اہلکار سے منسلک کیا جاتا ہے، جیسے گرام روزگار سہایک، آواس سہایک، آواس متر یا  ایس ایج جی کا کوئی رکن۔ یہ کارکن مکان کی تعمیر مکمل ہونے تک مسلسل معاونت اور اس کی پیش رفت کی نگرانی کو یقینی بناتے ہیں۔ معاونت کے اس منظم نظام کے ذریعے، پی ایم اے وائی-جی کا مقصد مارچ 2029 تک 4.95 کروڑ مکانات تعمیر کرنا ہے۔

آواس متر کے ذریعے محفوظ رہائش کی فراہمی — پکے مکان تک سمتی دیبرما کا سفر

پردھان منتری آواس یوجنا-گرامین (پی ایم اے وائی-جی) میں آواس متر اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اہل خاندانوں کی شناخت اور دستاویزات کی تکمیل سے لے کر تعمیراتی کام کی نگرانی اور مکانات کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے تک، ہر مرحلے پر مستفیدین کی مدد کرتے ہیں۔ مغربی تریپورہ کے موہن پور بلاک میں واقع رنگاچھیرا گرام پنچایت کی محترمہ سمتی دیبرما کی کہانی ظاہر کرتی ہے کہ یہ معاونت کس طرح لوگوں کی زندگیوں میں تبدیلی لاتی ہے۔

وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ایک خستہ حال کچے مکان میں رہتی تھیں۔ کمزور چھت، کچی مٹی کا فرش اور نازک دیواریں مکان کو غیر محفوظ بناتی تھیں، خصوصاً برسات کے موسم میں۔ آواس متر کی مدد سے انہوں نے پی ایم اے وائی-جی کے تحت مالی امداد حاصل کی اور 2022 میں اپنے مکان کی تعمیر کامیابی کے ساتھ مکمل کر لی۔ انہیں تعمیراتی کام کی پیش رفت اور جیو ٹیگنگ سے منسلک براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے ذریعے تین قسطوں میں 1.30 لاکھ روپے موصول ہوئے۔

اس پورے عمل کے دوران، آواس متر نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی، دستاویزات کی تکمیل میں مدد دی، تعمیراتی کام کی نگرانی کی اور بلاک انتظامیہ کے ساتھ رابطہ قائم رکھا۔ اس معاونت اور شرمدان یعنی رضاکارانہ محنت کے ذریعے کمیونٹی کی شمولیت سے سمتی نے مقررہ وقت پر اپنا پکا مکان مکمل کر لیا۔ ان کا نیا گھر رہائش کے لیے ایک محفوظ مقام فراہم کرتا ہے، جس سے ان کے معیارِ زندگی میں بہتری آئی ہے اور ان کے خاندان کو سخت موسمی حالات سے تحفظ حاصل ہوا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image008_20260920094316_012ffd.jpg

 

نظام کو خدمات میں تبدیل کرتے کمیونٹی کے کارکنان

یہ کارکن رسائی، آگاہی، صلاحیت سازی اور خدمات کی فراہمی کے یکے بعد دیگرے مراحل کے ذریعے تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ سب سے پہلے اپنی کمیونٹی میں اہل مستفیدین کی شناخت کرتے ہیں، جس سے سرکاری خدمات تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔ وہ دستاویزات کی تیاری، تصدیق اور بینک کھاتوں کو منسلک کرنے میں مدد فراہم کرکے اندراج کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ مالی خدمات، سرکاری پروگراموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بارے میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ کمیونٹی میں ان کی قابلِ اعتماد موجودگی رویّوں میں تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور خدمات سے استفادہ کرنے کے رجحان کو بہتر بناتی ہے۔

مسلسل رہنمائی اور مالی خواندگی، ذریعۂ معاش اور کاروباری ترقی کے شعبوں میں صلاحیت سازی سےکنبوں کی صلاحیتیں مضبوط ہوتی ہیں اور خود انحصاری کو فروغ ملتا ہے۔

یہ کارکن رسائی، آگاہی، صلاحیت سازی اور خدمات کی فراہمی کے یکے بعد دیگرے مراحل کے ذریعے تبدیلی لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وہ سب سے پہلے اپنی کمیونٹی میں اہل مستفیدین کی شناخت کرتے ہیں، جس سے سرکاری خدمات تک رسائی بہتر ہوتی ہے۔ وہ دستاویزات کی تیاری، تصدیق اور بینک کھاتوں کو منسلک کرنے میں مدد فراہم کرکے اندراج کے عمل کو آسان بناتے ہیں۔ اس کے علاوہ، وہ مالی خدمات، سرکاری پروگراموں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بارے میں آگاہی پیدا کرتے ہیں۔ کمیونٹی میں ان کی قابلِ اعتماد موجودگی رویّوں میں تبدیلی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور خدمات سے استفادہ کرنے کے رجحان کو بہتر بناتی ہے۔

مسلسل رہنمائی اور مالی خواندگی، ذریعۂ معاش اور کاروباری ترقی کے شعبوں میں صلاحیت سازی سےکنبوں کی صلاحیتیں مضبوط ہوتی ہیں اور خود انحصاری کو فروغ ملتا ہے۔

کنبوں  کی سطح پر اشتراک: حقیقی تبدیلی

کنبوں  کی سطح پر اشتراک کا تصور اس خیال پر مبنی ہے کہ دیہی علاقوں کے ہر گھرانے کو بیک وقت ترقی کے متعدد پہلوؤں سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ ان میں ذریعۂ معاش، صحت، صفائی ستھرائی اور مالی شمولیت شامل ہیں۔

روایتی طور پر مخصوص شعبوں تک محدود ذمہ داریوں سے آگے بڑھتے ہوئے، اب کمیونٹی کے کارکنوں کوکنبوں کی فلاح و بہبود کے متعدد پہلوؤں سے نمٹنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر، آشا کارکن بنیادی طور پر ماں اور بچے کی صحت کے لیے ذمہ دار ہوتے ہیں، تاہم انہیں صفائی ستھرائی، غذائیت سے متعلق آگاہی اور خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات سے نمٹنے کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔

اسی طرح، قومی دیہی ذریعۂ معاش مشن (این آر ایل ایم) کے تحت صنفی امور سے متعلق کمیونٹی ریسورس پرسنز (جینڈر سی آر پی) صنفی بنیاد پر تشدد، محرومی اور عدم مساوات جیسے گہرے سماجی مسائل سے نمٹنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کردار سماجی شمولیت کو مضبوط بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ترقیاتی اقدامات منصفانہ ہوں اور معاشرے کے تمام طبقات کی ضروریات کے مطابق ہوں۔ دیہی ترقی کی وزارت، خواتین و بچوں کی ترقی  کی وزارت،  صحت و خاندانی بہبود کی وزارت کی مشترکہ ہدایت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ صفِ اوّل کے کارکن مختلف ترقیاتی اقدامات کے درمیان اشتراک کو آخری مرحلے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اشتراک محض کاغذی سطح پر رابطہ کاری تک محدود نہیں رہتا، بلکہ دیہی کنبوں کے معیارِ زندگی میں ٹھوس بہتری لانے کا ذریعہ بنتا ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image009_20260920094338_d09a5c.jpg

مشکلات کے خلاف جدوجہد: آرتی کی زمینی  سطح پر قیادت کی کہانی

اتر پردیش کے ضلع بستی کی تھانوا مدیاری گرام پنچایت سے تعلق رکھنے والی 32 سالہ خاتون آرتی ایک ایسے کنبے میں پلی بڑھیں جسے مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ وہ اپنی تعلیم مکمل نہیں کر سکیں اور کم عمری میں ان کی شادی ہو گئی۔ ان کا خاندان ایک کچے مکان میں رہتا تھا اور ان کے شوہر کی روزگار کے لیے دوسرے علاقے میں ہجرت سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتا تھا۔

سال2016 میں، وہ ایک ایس ایچ جی میں شامل ہوئیں، جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور کمیونٹی کی سرگرمیوں میں ان کی شرکت بڑھی۔ بعد ازاں، وہ ایس ایچ جی ، گاؤں کی تنظیم اور پھر کلسٹر سطح کی فیڈریشن میں عہدے دار بن گئیں۔ ان کی زندگی نے اس وقت نیا موڑ لیا جب وہ پنچایتی راج اداروں اور کمیونٹی پر مبنی تنظیموں (پی آر آئی- سی بی او) کے اشتراکی منصوبے کے تحت کنورجنس کمیونٹی ریسورس پرسن (سی سی آر پی) بنیں۔

انہوں نے گاؤں والوں کو متحرک کرنے میں مدد دی، ہفتہ وار بازار کے قیام میں تعاون کیا اور پنچایت، صفِ اوّل کے کارکنوں اور دیہی کنبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنایا۔ ان کی کوششوں سے ان کے خاندان کی آمدنی میں اضافے میں بھی مدد ملی۔

صلاحیت سازی اب کوئی یک وقتی سرگرمی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل بن چکی ہے، جس میں ابتدائی تربیت، موضوعاتی تربیتی ماڈیولز، ریفریشر کورسز، میدانی رہنمائی اور جائے کار پر عملی معاونت شامل ہیں۔ اسے این آر ایل ایم کے تحت منظم انداز میں ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے۔ اس مشن نے کمیونٹی کارکنوں کا ایک متنوع نظام تیار کیا ہے، جس میں کرشی سکھی، پشو سکھی، متسیہ سکھی اور سی آر پی-ای پی  شامل ہیں۔ انہیں زراعت، اس سے منسلک شعبوں اور لوگوں کو متحرک کرنے کے حوالے سے کلاس روم میں تدریس اور میدانی سطح پر عملی تربیت کے امتزاج کے ذریعے تربیت دی جاتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/2026/sep/image010_20260920094344_3710de.jpg

تربیت کا یہی طریقۂ کار مختلف شعبوں میں بھی اپنایا گیا ہے:

  • صحت اور غذائیت: آشا کارکنوں کو سال بھر میں مرحلہ وار تربیت دی جاتی ہے، جو مجموعی طور پر 23 دن پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس تربیت میں فیلڈ کی سطح پر استعمال ہونے والے معاون ذرائع اور مہارتوں کو باقاعدگی سے مزید بہتر بنانے پر زور دیا جاتا ہے۔
  • صفائی ستھرائی: سوچھا گریہیوں کو رویّوں میں تبدیلی لانے اور صفائی ستھرائی کے طریقوں کو مستقل طور پر اپنانے کے فروغ کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔
  • پانی کا  تحفظ: گاؤں کی پانی و صفائی ستھرائی کمیٹیوں (وی ڈبلیو ای سسی) کے ارکان اور جل سکھیوں کو گاؤں میں پانی کی منصوبہ بندی، پانی کے معیار کی نگرانی اور پانی کی فراہمی کے نظام کے آپریشن اور دیکھ بھال کی تربیت دی جاتی ہے۔
  • رہائش: آواس متر کو مستفیدین کی شناخت، تعمیراتی کام کی نگرانی اور دیگر سرکاری اسکیموں کے ساتھ اشتراک کو فروغ دینے کے لیے تربیت دی جاتی ہے۔

یہ کارکن ایک مشترکہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی نمایاں خصوصیات مسلسل صلاحیت سازی، غیر مرکزی سطح پر علم کی منتقلی اور کمیونٹی میں مستقل موجودگی ہیں۔

دیہی تبدیلی کی اصل قوت: انسانی سرمایہ

کمیونٹی کے صفِ اوّل کے کارکن حکومتی اقدامات کوکنبوں کی سطح پر بامعنی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شراکت دار بن کر ابھرے ہیں۔ وہ آگاہی پیدا کرتے ہیں، صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہیں، خدمات تک رسائی آسان بناتے ہیں اور مختلف شعبوں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیتے ہیں۔ ان کی کوششیں اس بات کو یقینی بناتی ہیں کہ ترقی کے ثمرات ان لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ دیہی ہندوستان میں مسلسل تبدیلی کے اس دور میں، کمیونٹی پر مبنی ان اداروں اور صفِ اوّل کے کارکنوں پر مستقل سرمایہ کاری خدمات کی فراہمی کو مضبوط بنانے، ذرائعٔ معاش کو بہتر بنانے اور سماجی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے بدستور ناگزیر رہے گی، تاکہ مضبوط، بااختیار اور خود انحصار دیہی برادریوں کی تعمیر کی جا سکے۔

حوالہ جات

دیہی ترقی کی وزارت

https://www.dord.gov.in/static/uploads/2024/02/43f6d3ecbd0cf21b1a0c23d80d270e0c.pdf

https://nirdpr.org.in/nird_docs/nrlm/nrlmhandbook240614.pdf

https://pmayg.dord.gov.in/netiayHome/Uploaded/Guidelines-English_Book_Final.pdf

https://rural.tripura.gov.in/sites/default/files/2024-01/A_success_story_on_PMAY-G_from_Tripura.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2247564&reg=3&lang=2

https://kudumbashreenro.org/wp-content/uploads/2025/04/AAGHAAZ_Convergence_Project.pdf

https://www.brlf.in/wp-content/uploads/2025/09/Gender-Resource-Person-Maharashtra-and-Jharkhand_under-FF.pdf

https://www.dord.gov.in/static/uploads/2026/04/2a7fb3eb1a8c8dce16d7b95713c2c7d3.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2154249&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2224571&lang=1&reg=3

https://cdnbbsr.s3waas.gov.in/s3d69116f8b0140cdeb1f99a4d5096ffe4/uploads/2026/04/202604211510022943.pdf

صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت

https://nhm.gov.in/index1.php?lang=1&level=1&sublinkid=150&lid=226

https://nhm.gov.in/images/pdf/communitisation/task-group-reports/guidelines-on-asha.pdf

https://nhm.gov.in/New-Update-2023-24/ASHA/Orders_and_guidelines/ASHA-INCENTIVES.pdf

https://nhm.gov.in/images/pdf/communitisation/asha/ASHA_HandbookMobilizing_for_Action_on_Violence_against_Women_English.pdf

https://nhm.gov.in/images/pdf/communitisation/asha/book-no-1.pdf

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2096075&lang=2&reg=3

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3480_k89CxP.pdf?source=pqals

خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت

https://lakhpaticdn.lokos.in/lakhpati/2025/07/3.-Joint-Advisory-on-MWCD-MRD-MHFW.pdf

جل شکتی کی وزارت

https://jaljeevanmission.gov.in/sites/default/files/guideline/GPHandbook_0.pdf

https://jaljeevanmission.gov.in/infrastructure

https://ejalshakti.gov.in/jjm/citizen_corner/villageinformation.aspx

https://www.watersanitationlearning.gov.in/

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/Guidelines/SBM%28G%29_Guidelines.pdf

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/Guidelines/Swachhagrahi_Guidelines_2018.pdf

https://swachhbharatmission.ddws.gov.in/sites/default/files/communication-material/Swachhata_Chronicles_val-3.pdf

https://sansad.in/getFile/loksabhaquestions/annex/187/AU3236_7XM0b2.pdf?source=pqals

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/specificdocs/documents/2023/jun/doc2023616213901.pdf

https://jaljeevanmission.gov.in/sites/default/files/guideline/Margdarshika_for_Gram_Panchayat_and_Paani_Samiti.pdf

وزارت خزانہ

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2097875&reg=3&lang=2

https://www.indiabudget.gov.in/economicsurvey/doc/echapter.pdf

زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت

https://sansad.in/getFile/annex/267/AU3223_iWlEwp.pdf?source=pqars

پی آئی بی بیک گراؤنڈر

https://www.pib.gov.in/PressReleseDetailm.aspx?PRID=2181702&reg=3&lang=2

پی ڈی ایف دیکھنے کےلئے یہاں کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ش۔ن م۔

U- 6471


(ریلیز آئی ڈی: 2326537) وزیٹر کاؤنٹر : 13