پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 SEP 2026 12:08PM by PIB Delhi
|
سیمیکون 1.0 کے کامیاب نفاذ کے بعد مرکزی کابینہ نے 15 جولائی 2026 کو 1,27,500 کروڑ روپے کے مالیاتی اخراجات کے ساتھ سیمیکون 2.0 کی منظوری دی۔ جہاں پہلے مرحلے نے ہندوستان میں سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کی بنیاد رکھی، وہیں سیمیکون 2.0 چھ اہم اسٹریٹیجک ستونوں کے ذریعے اگلے مرحلے کو آگے بڑھائے گا۔ ان میں تحقیق و ترقی، چِپ ڈیزائن، مشینیں اور مواد، مزید فیبریکیشن پلانٹس (فیبس) کا قیام، افرادی قوت کی ترقی اور اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی صنعت کو مزید مضبوط بنانا شامل ہیں۔ یہ اقدام ہندوستان کو عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر قائم کرے گا اور وِکست بھارت (ترقی یافتہ ہندوستان)کے وژن کو آگے بڑھائے گا۔
|
پس منظر
سیمی کنڈکٹر جدید ٹیکنالوجی کے بنیادی اجزا اور معاشی طاقت کی بنیاد ہیں۔ یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)، ٹیلی مواصلات، برقی نقل و حرکت، دفاع اور جدید مینوفیکچرنگ کے شعبوں کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی )5جی/6جی، ڈیٹا سینٹرز اور خودکار گاڑیوں جیسی ٹیکنالوجیز بھی چِپس کی طلب میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔ سیمی کنڈکٹرز کی دستیابی اور ان کی تکنیکی صلاحیتیں مستقبل میں اختراع، مسابقت اور قومی تکنیکی قوت کی سمت متعین کرنے میں تیزی سے اہم کردار ادا کریں گی۔

عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ کی تیزی سے توسیع اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔ 2014 سے 2024 کے درمیان عالمی سیمی کنڈکٹر مارکیٹ میں مرکب سالانہ شرحِ نمو(سی اے جی آر)6.5 فیصد رہی۔ آئندہ 5 سے 10 برسوں کے دوران اس مارکیٹ میں 8.5 فیصد کی شرح سے اضافے کا تخمینہ ہے۔ تاہم، حالیہ خلل نے سیمی کنڈکٹرز کی باہم مربوط عالمی ویلیو چین کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے بیرونی ذرائع پر رسد کے انحصار سے وابستہ خطرات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ اسی لیے بڑی معیشتیں اپنے تکنیکی اور معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے ملکی سیمی کنڈکٹر صلاحیتوں کو مضبوط بنا رہی ہیں۔
ہندوستان میں بھی سیمی کنڈکٹرز کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اندازہ ہے کہ یہ طلب مالی سال 2030 تک 110 ارب امریکی ڈالر اور مالی سال 2035 تک 200 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ جبکہ ملک میں سیمی کنڈکٹرز کی مقامی مینوفیکچرنگ ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ ہندوستان نے مالی سال 2017 سے مالی سال 2025 کے دوران سیمی کنڈکٹر مصنوعات کی درآمدات پر تقریباً 150 ارب امریکی ڈالر خرچ کیے۔ اس مدت کے دوران درآمدات میں مرکب سالانہ شرحِ نمو(سی اے جی آر) 23 فیصد رہی۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو 2035 تک سالانہ درآمدات 240 بلین امریکی ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ لہٰذا سیمی کنڈکٹرز کا ایک جامع ماحولیاتی نظام تشکیل دینا قومی سطح پر ایک فوری ترجیح ہے۔ حکومتِ ہند خود انحصاری، سلامتی، ہنرمندی اور تکنیکی مسابقت کو فروغ دینے کے لیے اس نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔
|
سیمیکون 2026: ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو فروغ دینا
m

سیمی کنڈکٹر جدید الیکٹرانک نظاموں کا بنیادی جزو ہیں۔ لہٰذاتکنیکی استحکام، معاشی سلامتی اور قومی خود انحصاری کے لیے سیمی کنڈکٹر کا ایک مضبوط ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ضروری ہے۔ اس اسٹریٹیجک اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئےحکومتِ ہند پالیسی معاونت، بنیادی ڈھانچے اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے سیمی کنڈکٹر کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنا رہی ہے۔ اسی کوشش کے تحت، سیمیکون انڈیا 2026 کا افتتاح جس کا موضوع ’’سلیکان سے نظاموں تک: ماحولیاتی نظام کی تعمیر‘‘ ہے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 17 ستمبر 2026 کو نئی دہلی کے یشوبھومی میں کیا۔ 17 سے 19 ستمبر 2026 تک منعقد ہونے والی سیمیکون 2026 میں عالمی صنعت کے رہنما، پالیسی ساز، سرمایہ کار، ماہرینِ تعلیم اور اسٹارٹ اَپس شرکت کر رہے ہیں۔ یہ کانفرنس ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کو آگے بڑھانے اور پوری ویلیو چین میں اس شعبے کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔کانفرنس کے پروگرام کی تفصیلات دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
|
W
سیمی کنڈکٹر کیا ہے؟
سیمی کنڈکٹر ایک ایسا مادہ ہے جس کی برقی موصلیت یا برقی ترسیل کی صلاحیت کو قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ تانبے جیسے موصل مادے برقی رو کو آسانی سے گزرنے دیتے ہیں۔ جبکہ عایق مادے برقی رو کی گزرگاہ میں سخت مزاحمت پیدا کرتے ہیں۔ سیمی کنڈکٹر مادّوں کو اس طرح تیار کیا جا سکتا ہے کہ وہ برقی سگنلز کو تبدیل کرنے، ان کی قوت بڑھانے، ان کا احساس کرنے یا انہیں قابو میں رکھنے کا کام انجام دیں۔ ٹرانزسٹر ایک نہایت چھوٹا الیکٹرانک سوئچ ہوتا ہے۔ جدید انٹیگریٹڈ سرکٹس میں ایک چھوٹی سی چِپ پر لاکھوں یا اربوں ٹرانزسٹرز اور دیگر اجزا نصب ہوتے ہیں۔ ان کی باہمی ہم آہنگی سے کمپیوٹنگ، مواصلات، برقی سگنلز کی شناخت، میموری اور بجلی کی فراہمی و استعمال کو کنٹرول کرنا ممکن ہوتا ہے۔
زیادہ تر جدید الیکٹرانک آلات سیمی کنڈکٹرز پر انحصار کرتے ہیں۔ اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز، طبی آلات، گاڑیوں، دفاعی نظاموں، سیٹلائٹس اور ڈیٹا سینٹرز میں سیمی کنڈکٹر پر مبنی اجزا استعمال ہوتے ہیں۔ آسان الفاظ میں سیمی کنڈکٹر جدید الیکٹرانکس کی بنیادی اینٹیں ہیں۔
سلیکان سے سیمی کنڈکٹر چِپ تک
سلیکان سیمی کنڈکٹر کے طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والا مادہ ہے۔ اسے سلیکا سے حاصل کیا جاتا ہے، جو ریت میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ چِپ کی تیاری کا آغاز انتہائی خالص سلیکان سے ہوتا ہے، جسے بیلناکار انگوٹس (بڑے ٹھوس سلنڈر) کی شکل دی جاتی ہے۔ ان انگوٹس کو کاٹ کر باریک ویفرز (پتلی گول تہیں) بنائی جاتی ہیں اور پھر ان کی سطح کو چمکایا جاتا ہے۔ سیمی کنڈکٹر تیار کرنے والے کارخانوں میں ان ویفرز پر انتہائی احتیاط اور کنٹرول کے ساتھ سیکڑوں مراحل پر مشتمل عمل انجام دیا جاتا ہے۔ ان میں تہہ چڑھانا، فوٹولیتھوگرافی، ایچنگ اور آئن امپلانٹیشن شامل ہیں۔

یہ تمام مراحل مل کر پیچیدہ ساختیں تیار کرتے ہیں، جن میں اربوں ٹرانزسٹرز اور دیگر اجزا شامل ہوتے ہیں۔ فوٹولیتھوگرافی کے دوران روشنی کی مدد سے ویفر کی سطح پر مخصوص نقش و نمونے منتقل کیے جاتے ہیں۔ ان نمونوں سے ایسی ساختیں بنتی ہیں جو بالآخر ٹرانزسٹرز، باہمی رابطے کی برقی پٹڑیوں اور چِپ کے دیگر حصوں کی تشکیل کرتی ہیں۔ ٹرانزسٹر چِپ پر موجود نہایت چھوٹے الیکٹرانک سوئچ ہوتے ہیں، جو برقی رو کے بہاؤ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ پیچیدہ انٹیگریٹڈ سرکٹس تیار کرنے کے لیے یہ عمل متعدد تہوں پر بار بار دہرایا جاتا ہے۔
تیار شدہ سیمی کنڈکٹر آلات کو اس کے بعد اسمبلی، ٹیسٹنگ، مارکنگ اور پیکیجنگ (اے ٹی ایم پی) یا آؤٹ سورسڈ سیمی کنڈکٹر اسمبلی اینڈ ٹیسٹ (او ایس اے ٹی) کے مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ پیکیجنگ چِپ کو محفوظ رکھتی ہے اور اسے دیگر الیکٹرانک اجزا سے جوڑنے کے قابل بناتی ہے۔ ٹیسٹنگ کے ذریعے اس بات کو یقینی بنایا جاتا ہے کہ تیار شدہ آلات کارکردگی اور معیار کے مقررہ معیارات پر پورا اتریں۔
سیمی کنڈکٹر نوڈ کو سمجھنا
سیمی کنڈکٹر نوڈ سے مراد مینوفیکچرنگ ٹیکنالوجی کی ایک نسل ہے۔ ماضی میں 90 نینو میٹر، 45 نینو میٹر اور 28 نینو میٹر جیسی اصطلاحات مخصوص طبعی ابعاد کی نشاندہی کرتی تھیں۔ آج کل نوڈ کے نام بنیادی طور پر مینوفیکچرنگ کے عمل کی کسی نسل کو ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ چھوٹا نوڈ ٹرانزسٹرز کی زیادہ کثافت، بہتر کارکردگی یا کم توانائی کے استعمال کو ممکن بنا سکتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ سرکٹ کے ڈیزائن، مواد، پیکیجنگ اور مطلوبہ استعمال پر بھی منحصر ہوتا ہے۔ جدید ترین نوڈز کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ وہ اعلیٰ کارکردگی والی کمپیوٹنگ اور جدید ترین پروسیسرز کی تیاری میں معاون ہیں۔ تاہم، نسبتاً پرانی اور آزمودہ نوڈ ٹیکنالوجیز بھی گاڑیوں، صنعتی الیکٹرانکس، ٹیلی مواصلات، بجلی کے نظاموں اور صارفین کی روزمرہ استعمال کی متعدد مصنوعات کے لیے ناگزیر ہیں۔ ہندوستان اب ایسی صلاحیتیں تیار کر رہا ہے جو پہلے سے قائم نوڈ ٹیکنالوجیز سے لے کر مزید جدید سیمی کنڈکٹر ٹیکنالوجیز تک پھیلی ہوئی ہیں۔

سیمی کنڈکٹرز کیوں اہم ہیں؟ ایک اسٹریٹیجک نقطۂ نظر

سیمی کنڈکٹرز معاشی ترقی، تکنیکی قیادت اور قومی سلامتی کے لیے ایک اسٹریٹجک وسیلے کے طور پر ابھرے ہیں۔ اس وقت تائیوان، جنوبی کوریا، جاپان، چین اور امریکہ عالمی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ تائیوان اکیلا دنیا کی مجموعی چِپ پیداوار کا 60 فیصد سے زیادہ اور جدید ترین چِپس کا تقریباً 90 فیصد تیار کرتا ہے۔ پیداوار کے اس ارتکاز نے محفوظ، متنوع اور مضبوط سیمی کنڈکٹر سپلائی چینز کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ہندوستان کے لیے مقامی سطح پر سیمی کنڈکٹر تیار کرنے کی صلاحیتیں محض ایک صنعتی موقع نہیں ہیں، بلکہ یہ درآمدات پر انحصار کم کرنے، قومی سلامتی کو مضبوط بنانے اور اعلیٰ قدر کی حامل ملازمتیں پیدا کرنے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ ان صلاحیتوں سے تکنیکی خود انحصاری کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور اہم اسٹریٹجک شعبوں میں موجود کمزوریوں کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔کوئی ایک ملک سیمی کنڈکٹر کی پوری ویلیو چین پر کنٹرول نہیں رکھتا۔ مختلف معیشتیں چِپ ڈیزائن، فیبریکیشن، آلات، مواد، میموری اور پیکیجنگ کے شعبوں میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ اس تخصص سے کارکردگی بہتر ہوئی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں چند مخصوص ممالک یا خطوں پر انحصار کا خطرہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ اسی لیے ہندوستان کی پالیسی کا مقصد ملکی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ قابلِ اعتماد عالمی شراکت داریوں کو فروغ دینا بھی ہے۔
|
سیمی کنڈکٹر ہندوستان کے اسٹریٹجک مشنوں کو طاقت دیتے ہیں
- سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) موہالی نے مصنوعی سیاروں اور لانچ گاڑیوں کے لیے فلائٹ گریڈ چپس تیار کی ہیں ، جو انتہائی خلائی حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کی گئی ہیں ۔
- چندریان-3 کے لینڈر میں ایک ہندوستانی ساختہ کیمرہ چپ تھی ، جو لینڈر کے امیجنگ سسٹم کو سپورٹ کرتی تھی ۔
- ایس سی ایل کا وکرم پروسیسر سیٹلائٹ لانچ گاڑیوں اور راکٹوں میں استعمال ہوتا ہے ۔
- آدتیہ-ایل 1 ، سورج کا مطالعہ کرنے کا ہندوستان کا مشن ، ایس سی ایل کے ذریعہ تیار کردہ تابکاری سے سخت اے ڈی سی چپس کا استعمال کرتا ہے ۔
|
ہندوستان کا ابھرتا ہوا سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام
ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر کا سفر اسٹریٹجک صلاحیتوں کی تعمیر سے لے کر ایک وسیع تر گھریلو ماحولیاتی نظام بنانے تک تیار ہوا ہے ۔ سیمی کنڈکٹر لیبارٹری (ایس سی ایل) جیسے ابتدائی اداروں نے بنیاد رکھی ، جبکہ حالیہ پالیسی مداخلتوں نے سرمایہ کاری ، اختراع اور صلاحیتوں کی ترقی کو تیز کیا ہے ۔ یہ کوششیں ہندوستان کو سیمی کنڈکٹر ویلیو چین میں حصہ لینے کے لیے تیار کر رہی ہیں ۔
حکومت ہند نے دسمبر 2021 میں 76,000 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ سیمیکون 1.0 کو منظوری دی تھی ۔ اس کا مقصد ایک گھریلو سیمی کنڈکٹر اور ڈسپلے مینوفیکچرنگ ماحولیاتی نظام قائم کرنا تھا ۔ پروگرام میں سیمی کنڈکٹر فاب اور ڈسپلے فاب کے قیام کے لیے مخصوص اسکیمیں متعارف کرائی گئیں ۔ اس نے کمپاؤنڈ سیمی کنڈکٹرز ، سلیکن فوٹوونکس ، سینسرز اور سیمی کنڈکٹر اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی سہولیات کے قیام کی اسکیم بھی متعارف کرائی ۔ مزید برآں ڈیزائن سے منسلک ترغیبی (ڈی ایل آئی) اسکیمنے ہندوستان کی سیمی کنڈکٹر ڈیزائن کی صلاحیتوں کو مضبوط کیا ۔ ان اسکیموں نے مل کر چپ ڈیزائن ، من گھڑت سازی ، پیکیجنگ اور متعلقہ ٹیکنالوجیز کی بنیاد رکھی ۔
|
سیمیکون 1.0: اہم کامیابیاں
- بارہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ یونٹس کو منظوری دی گئی ، جن میں 1.64 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔
- ان میں ایک سلکان فاب ، ایک سلکان کاربائڈ فاب ، ایک گیلیم نائٹرائڈ مائیکرو ایل ای ڈی ڈسپلے فاب اور نو اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی یونٹ شامل ہیں ۔
- اکائیاں گجرات ، آسام ، اتر پردیش ، اڈیشہ ، پنجاب اور آندھرا پردیش میں واقع ہیں ۔ پانچ اکائیوں نے تجارتی پیداوار شروع کر دی ہے ۔
- تقریبا 900 کروڑ روپے کی کل مالیت کے چوبیس چپ ڈیزائن پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی ۔
- 400 تعلیمی اداروں اور 100 اسٹارٹ اپس سمیت ملک بھر کی 500 تنظیموں کے 1 لاکھ سے زیادہ انجینئروں کو جدید چپ ڈیزائن ٹولز تک رسائی فراہم کی گئی ہے ۔
- ہماری تنظیموں نے مل کر 300 سے زیادہ چپ ڈیزائن تیار کیے ہیں ۔
- ہندوستان نے امریکہ ، جاپان ، یورپی یونین ، سنگاپور اور نیدرلینڈز سمیت شراکت داروں کے ساتھ سیمی کنڈکٹر تعاون قائم کیا ہے ۔
- ہندوستان نے 12 سے 13 جنوری 2026 تک جرمن چانسلر کے دورے کے دوران ہندوستان-جرمنی سیمی کنڈکٹر ایکوسسٹم پارٹنرشپ پر مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے اور فروری 2026 میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ میں پیکس سلیکا میں شمولیت اختیار کی ۔
- ہندوستان سیمی کنڈکٹر ڈومین کے دنیا کے عالمی صلاحیت مراکز (جی سی سی) کے تقریباً 7فیصد کی میزبانی کرتا ہے اور عالمی سیمی کنڈکٹر چپ ڈیزائن ورک فورس کے تقریباً 20فیصد کو ملازمت دیتا ہے ۔
|
سیمیکون 2.0: ایک مکمل ماحولیاتی نظام کی تعمیر
سیمیکون1.0 کے ذریعے رکھی گئی بنیاد کو آگے بڑھاتے ہوئے، حکومتِ ہند نے جولائی 2026 میں 1,27,500 کروڑ روپے کے مجموعی مالیاتی اخراجات کے ساتھ سیمیکون 2.0 کی منظوری دی۔ اس پروگرام کا مقصد ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر شعبے کو مسلسل اور طویل مدتی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس کے تحت سیمیکون 1.0 کے دوران پیدا کی گئی صلاحیتوں کو مزید وسعت دینے اور عالمی سطح پر مسابقت کے قابل سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ سیمیکون 1.0 میں بنیادی طور پر فیبریکیشن پلانٹس (فیبس) اور اے ٹی ایم پی/او ایس اے ٹی پلانٹس پر توجہ مرکوز کی گئی تھی، جبکہ سیمیکون 2.0 میں مشینوں اور مواد، چِپ ڈیزائن، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کو بھی اس مشن میں شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح دونوں مراحل مل کر خام مال سے لے کر تیار شدہ چِپس تک پوری ویلیو چین کا احاطہ کرتے ہیں۔
سیمیکون 2.0 چھ ستونوں پر مبنی ہے، جن میں چِپ ڈیزائن، مشینیں اور مواد، نئے فیبریکیشن پلانٹس کا قیام، جدید پیکیجنگ کو مزید فروغ دینا، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی شامل ہیں۔ اس کا مقصد صرف آخری مراحل تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے اندر چِپ کی مکمل ویلیو چین تیار کرنا ہے۔ یہ کوشش ہندوستان کو سپلائی چین کے استحکام، اسٹریٹیجک خود مختاری اور اس ٹیکنالوجی کے شعبے میں اعلیٰ قدر کی حامل ملازمتوں کی فراہمی کی جانب لے جائے گی، جو اب ہر جدید صنعت کی بنیاد بن چکی ہے۔

معاون پالیسیوں کا اہم ماحولیاتی نظام
ہندوستان کے سیمی کنڈکٹر سے متعلق عزائم کو ایک ترقی پسند پالیسی نظام کی معاونت حاصل ہے، جس میں مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت کی ترقی شامل ہیں۔ ان اقدامات نے بتدریج الیکٹرانکس کی ویلیو چین کو مضبوط کیا ہے اور سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں خود انحصاری کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔
- قومی الیکٹرانکس پالیسی (این پی ای) 2019: اس پالیسی نے الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اینڈ مینوفیکچرنگ (ای ایس ڈی ایم) کے لیے ایک جامع فریم ورک قائم کیا، جس میں چِپ سیٹس جیسے بنیادی اجزا بھی شامل ہیں۔
- الیکٹرانک اجزا اور سیمی کنڈکٹرز کی مینوفیکچرنگ کے فروغ کی اسکیم (ایس پی ای سی ایس) 2020: اس اسکیم کے تحت ملک میں الیکٹرانک اجزاء، ذیلی اسمبلیوں اور سیمی کنڈکٹرز کی مقامی مینوفیکچرنگ کے لیے سرمایہ جاتی اخراجات سے منسلک مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ تاکہ ملک میں الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔
- ترمیم شدہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کلسٹرز اسکیم(ای ایم سی 2.0) 2020: یہ اسکیم الیکٹرانکس کی مینوفیکچرنگ کے لیے عالمی معیار کے بنیادی ڈھانچے، مشترکہ سہولتوں اور فوری طور پر استعمال کے لیے تیار صنعتی سہولتوں کی فراہمی میں معاونت کرتی ہے۔
- بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم(پی ایل آئی)2020: اس اسکیم کے تحت مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور موبائل فونز و ان کے اجزا کی تیاری میں بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے پیداوار سے منسلک مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔
- انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) ہارڈویئر(2023)کے لیے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم(پی ایل آئی)2.0: اس اسکیم کا مقصد آئی ٹی ہارڈویئر کی مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا اور اس کی ویلیو چین میں بڑی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔ اس کے تحت لیپ ٹاپ، ٹیبلٹس، آل اِن وَن پرسنل کمپیوٹرز اور سرورز کی مقامی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔
- الیکٹرانکس اجزا کی مینوفیکچرنگ اسکیم2025: بجٹ 27-2026 میں اس اسکیم کے لیے مالیاتی اخراجات بڑھا کر 40,000 کروڑ روپے کر دیے گئے ہیں۔ اس کا مقصد ویلیو چین کے مختلف مراحل میں سرمایہ کاری کو راغب کرکے اجزا ءکی مینوفیکچرنگ کا ایک مضبوط ماحولیاتی نظام تشکیل دینا ہے، جس سے مقامی قدر میں اضافے (ڈی وی اے) میں اضافہ ہوگا۔
- موبائل فون مینوفیکچرنگ اسکیم2026: اس اسکیم کا مقصد عالمی مسابقت کو بڑھانا، بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کو مزید فروغ دینا، مقامی قدر میں اضافے (ڈی وی اے) کے ذریعے موبائل مینوفیکچرنگ سپلائی چین کو وسعت دینا، ملکی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا اور ہندوستانی موبائل برانڈز کی معاونت کرنا ہے۔
- تحقیق، ترقی اور اختراع کی اسکیم: یہ اسکیم سیمیکون 2.0 کے تحت اہل تحقیقی منصوبوں کی معاونت کرتی ہے اور مقامی سیمی کنڈکٹر اختراع کو مضبوط بناتی ہے۔
- الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے 100 فیصد براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پالیسی: یہ پالیسی عالمی سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داریوں کو آسان بناتی ہے اور ہندوستان کو عالمی الیکٹرانکس و سیمی کنڈکٹر ویلیو چینز سے منسلک کرنے میں مدد دیتی ہے۔
یہ اقدامات ایک مضبوط سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کے لیے ضروری صنعتی بنیاد، مارکیٹ میں طلب اور سرمایہ کاری کے سازگار ماحول کو تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ اقدامات سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں حکومت کے اہم اقدامات کو تقویت دیتے ہیں اور ہندوستان کو عالمی الیکٹرانکس و سیمی کنڈکٹر مرکز بنانے کے ہدف کو آگے بڑھاتے ہیں۔
ایک ترقی یافتہ اور خود انحصار ہندوستان کی جانب
ہندوستان نے مختصر عرصے میں سیمی کنڈکٹر کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ 2021 میں ملک میں چِپس کی تیاری کا کوئی تجارتی پلانٹ موجود نہیں تھا۔ 2026 تک 12 یونٹس کو منظوری دی جا چکی ہے، جن میں سے پانچ میں پیداوار جاری ہے۔ ملک بھر کے سیکڑوں کالجوں کے طلبہ اب چِپس ڈیزائن کر رہے ہیں۔سیمیکون 2.0 اس سفر کا ایک فطری اگلا مرحلہ ہے۔ یہ پروگرام نئے سرے سے آغاز نہیں کرتا بلکہ پہلے سے فعال ماحولیاتی نظام کو مکمل شکل دیتا ہے۔ اب مشینیں، مواد، ڈیزائن، تحقیق اور ہنرمند افرادی قوت بھی فیبریکیشن پلانٹس اور پیکیجنگ کے شعبوں کے ساتھ اس نظام کا حصہ بن رہے ہیں۔آگے کا راستہ چیلنجوں سے بھرپور ہے۔ چِپس کی مینوفیکچرنگ دنیا کی پیچیدہ ترین صنعتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے لیے صبر، غیر معمولی درستگی اور پالیسیوں کی مسلسل معاونت درکار ہے۔ سیمیکون 2.0 طویل مدت کے لیے یہی معاونت فراہم کرتا ہے۔
عام شہریوں کے لیے اس کے فوائد شاید خاموشی سے سامنے آئیں، لیکن وہ حقیقی ہوں گے۔ الیکٹرانک آلات کی زیادہ تر تیاری ہندوستان میں ہی ممکن ہو سکے گی۔ اہم نظام دور دراز سپلائی چینز پر کم انحصار کریں گے۔ نوجوان انجینئروں کو اپنے ملک میں اعلیٰ قدر کے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ایک چھوٹی سی چِپ اپنے اندر بڑے امکانات کا وعدہ سموئے ہوئے ہے۔ ہندوستان نے اسے اپنے ملک میں تیار کرنے کا عزم کر لیا ہے۔
حوالہ جات
Ministry of Electronics and Information Technology
India Semiconductor Mission
Semiconductor Laboratory
Union Cabinet
Press Information Bureau (Factsheets and Backgrounders)
NITI Aayog
Indian Institute of Technology Madras
Indian Institute of Technology Kanpur
https://sathee.iitk.ac.in/sathee-jee/ncert-books/jee-ncert-books/jee-nb-phy-12/phy-12-chapter-14-semiconductor-electronics-materials-devices-and-simple-circuits/
Union Minister for Electronics and Information Technology
ہندوستان سیمی کنڈکٹر کے مستقبل کی تعمیر کر رہا ہے
********
(ش ح ۔م ح۔ع د)
U. No.6470