PIB Backgrounder
گندے پانی کی صفائی کے نظام میں یکسر تبدیلی
نمامی گنگے مشن کے تحت جدید ٹیکنالوجی اور اختراعی اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 3:46PM by PIB Delhi
گھریلو اور شہری سرگرمیوں سے روزانہ گندے پانی کا اخراج ہوتا ہے۔ قصبوں اور شہروں کے پھیلاؤ کے ساتھ، گندے پانی کو جمع کرنے، اسے ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچانے اور اس کی صفائی کے لیے درکار انتظامات کی ضرورت بھی بڑھتی جاتی ہے۔ لہٰذا، گندے پانی کی مؤثر صفائی کے لیے اس کی نوعیت، مقامی حالات اور دستیاب بنیادی ڈھانچے کے مطابق مختلف تکنیکی طریقۂ کار اپنانا ضروری ہے۔شہری علاقوں میں گندا پانی زیرِ زمین نکاسیٔ آب کے نیٹ ورک کے ذریعے مرکزی صفائی پلانٹس تک پہنچتا ہے۔ تاہم، ایسے علاقوں میں جہاں نکاسیٔ آب کا مکمل نیٹ ورک موجود نہیں ہے، سیپٹک ٹینکوں اور دیگر مقامی نظام کے ذریعے جمع ہونے والے گندے پانی کی صفائی کے لیے متبادل حل درکار ہوتے ہیں۔ اسی طرح، گندے پانی کی خصوصیات، دستیاب زمین، اخراج کے مقررہ معیارات اور صاف کیے گئے پانی کو دوبارہ استعمال کرنے کے امکانات کے لحاظ سے بھی صفائی کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں۔ ان اختلافات سے نمٹنے کے لیے روایتی صفائی کے نظاموں کے ساتھ ایسی جدید ٹیکنالوجیز کو یکجا کرنے کی ضرورت ہے جو مخصوص حالات اور ضروریات کے مطابق موزوں ہوں۔
یہی طریقۂ کار 2014 میں شروع کیے گئے نمامی گنگے پروگرام (این جی پی) کی بنیاد ہے۔ یہ ایک مربوط تحفظاتی مشن ہے، جس کے دو بنیادی مقاصد آلودگی کو مؤثر طریقے سے کم کرنا اور قومی دریا گنگا کا تحفظ و احیا کرنا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے اہم ستونوں میں سیوریج ٹریٹمنٹ کا بنیادی ڈھانچہ، دریا کے کناروں کی ترقی، دریا کی سطح کی صفائی، حیاتیاتی تنوع کا تحفظ، شجرکاری، عوامی بیداری، صنعتی فضلے کے اخراج کی نگرانی اور گنگا گرام شامل ہیں۔
یہ پروگرام آلودگی میں کمی لانے کی کوششوں میں سیوریج کی صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو مرکزی حیثیت دیتا ہے۔ اس کے تحت صفائی کی نئی صلاحیت پیدا کرنے، موجودہ سہولیات کی بحالی اور صفائی کی مختلف ٹیکنالوجیز اپنانے کے اقدامات کو یکجا کیا گیا ہے۔ پروگرام کے تحت تقریباً 31,327 کروڑ روپے کی تخمینہ لاگت سے سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کے 199 منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن میں سے 116 مکمل ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد روزانہ 5,270 ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) اضافی گندے پانی کی صفائی کی صلاحیت رکھنے والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) قائم کرنا ہے، جن میں سے اب تک 2,237 ایم ایل ڈی کی صلاحیت تیار کی جا چکی ہے۔ اس پروگرام کے تحت موجودہ ایس ٹی پیز کی 925 ایم ایل ڈی صفائی کی صلاحیت کو بحال کرنے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے، جس میں سے 873 ایم ایل ڈی کی صلاحیت بحال کی جا چکی ہے۔ ان کوششوں سے نہ صرف گندے پانی کی صفائی کی مجموعی صلاحیت میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ موجودہ بنیادی ڈھانچے کی کارکردگی بھی بہتر بنائی جا رہی ہے۔

نمامی گنگے کا ٹیکنالوجی کے انتخاب میں غیر جانب دارانہ طریقۂ کار
نمامی گنگے پروگرام میں ٹیکنالوجی کے انتخاب کے لیے ایک غیر جانب دارانہ طریقۂ کار اپنایا جاتا ہے، جس کے تحت مقامی ضروریات کے مطابق گندے پانی کی صفائی کے طریقوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اختیار کی گئی ٹیکنالوجیز میں روایتی ایکٹیویٹڈ سلج پراسیس، اپ فلو اینیروبک سلج بلینکٹ اور ایریٹڈ لیگونز کے ساتھ اس کے امتزاج، سیکوینشل بیچ ری ایکٹر، موونگ بیڈ بایوفلم ری ایکٹر ، فلوئیڈائزڈ ایریٹڈ بیڈ (ایف اے بی) اور فوڈ چین ری ایکٹر شامل ہیں۔ دیگر حلوں میں الیکٹرو کوایگولیشن، مصنوعی طور پر تیار کردہ آبی دلدلی نظام اور جوکاسو جیسے پیکجڈ صفائی نظام شامل ہیں۔
|
ایکٹیویٹڈ سلج سے مراد ایسےانتہائی چھوٹے جاندار کی ایک بڑی مقدار ہے، جنہیں صفائی کے عمل کے دوران اس مقصد کے لیے پروان چڑھایا جاتا ہے کہ وہ نامیاتی مادّوں کو توڑ کر کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی اور دیگر غیر نامیاتی مرکبات میں تبدیل کر سکیں۔
|
سیکوینشل بیچ ری ایکٹر ایک چکری عمل پر مبنی ایکٹیویٹڈ سلج صفائی کا نظام ہے، جو ایک ہی مرحلے پر مبنی حیاتیاتی عمل کے ذریعے گندے پانی کی زیادہ سے زیادہ ممکنہ صفائی کی کارکردگی فراہم کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی کے انتخاب میںیہ لچک صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو مختلف حالات کے مطابق ڈھالنے کے قابل بناتی ہے، جن میں بڑے شہری مراکز، چھوٹی آبادیاں، پہاڑی علاقے اور محدود زمین والے مقامات شامل ہیں۔ اس پروگرام میں این ای آر ای ڈی اے، سوائل بایوٹیکنالوجی، مقام پر ہی ایڈوانسڈ آکسیڈیشن پراسیس پر مبنی صفائی، کثیر منزلہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس(ایس ٹی پی) اور غیر مرکزی صفائی کے نظام جیسی جدید ٹیکنالوجیز بھی شامل کی گئی ہیں۔ فضلے کیچڑ اور سیپٹک ٹینکوں سے جمع ہونے والے فضلے کے انتظام کے ذریعے صفائی کے ان اختیارات کو روایتی نکاسیٔ آب کے نیٹ ورک سے آگے تک وسعت دی گئی ہے۔
فوڈ چین ری ایکٹر اور الیکٹرو کوایگولیشن

فوڈ چین ری ایکٹر
فوڈ چین ری ایکٹر (ایف سی آر) ٹیکنالوجی کو بھارت میں نمامی گنگے پروگرام (این جی پی) کے ذریعے متعارف کرایا گیا۔ یہ ٹیکنالوجی ایکٹیویٹڈ سلج پروسیس اور سیکوینشل بیچ ری ایکٹر کے نظام کو بہتر بناتی ہے، جس میں مصنوعی مستقل میڈیم اور پودوں کی جڑوں کو شامل کیا جاتا ہے۔ اس کے فوائد میں کم جگہ کا استعمال، بجلی کی کم کھپت اور غذائی اجزا کا اخراج شامل ہیں۔ پروگرام کے ریکارڈ کے مطابق، ایف سی آر پر مبنی پانچ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) فعال ہیں، جن میں سے دو بھاٹ پارہ، مغربی بنگال میں اور تین پریاگ راج، اتر پردیش میں واقع ہیں۔ بہار کے بھاگل پور میں ایک اور پلانٹ زیرِ تعمیر ہے، جس کے لیے فی ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) تقریباً 175 مربع میٹر رقبہ درکار ہے۔

اتراکھنڈ میں الیکٹرو کوایگولیشن ٹیکنالوجی کا استعمال
الیکٹرو کوایگولیشن اور الیکٹرو آکسیڈیشن صفائی کے ایسے طریقے ہیں جنہیں اس پروگرام کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے۔ الیکٹرو کوایگولیشن ایک غیر حیاتیاتی صفائی کا عمل ہے، جس میں برقی رو اور کوایگولینٹ دھات کے اینوڈ کا استعمال کرتے ہوئے معلق اور ایملسیفائیڈ آلودہ مادّوں کو غیر مستحکم کیا جاتا ہے۔ یہ نظام سرد درجۂ حرارت، پہاڑی علاقوں اور ایسی جگہوں کے لیے موزوں ہیں جہاں رسائی محدود ہو۔ اتراکھنڈ میں بدری ناتھ اور چمولی جیسے مقامات پر یہ نظام نصب کیے گئے ہیں، جہاں مجموعی طور پر 17 تنصیبات درج کی گئی ہیں۔ ان میں پولیس چوکی میں 0.05 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی)، وویکانند کالونی میں 1.19 ایم ایل ڈی گنجائش کا پلانٹ اور پوکھری بینڈ میں 1.25 ایم ایل ڈی گنجائش کا پلانٹ شامل ہیں۔ اس طرح یہ نظام ان مقامات تک بھی صفائی کے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دے سکتے ہیں جہاں روایتی طریقوں پر عمل درآمد مشکل ہو سکتا ہے۔
موقع پر گندے پانی کی صفائی اور کثیر منزلہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس
اس پروگرام کے تحت صفائی کے ایسے حل بھی تلاش کیے گئے ہیں جن کے ذریعے گندے پانی کی صفائی اس کے منبع کے قریب ہی کی جا سکے۔ وارانسی کے اسی ڈرین پر ایڈوانسڈ آکسیڈیشن پروسیس پر مبنی ایک پائلٹ منصوبہ تیار کیا گیا، جس کا مقصد اضافی گندے پانی کو مقام پر ہی صاف کرنا تھا، تاکہ طویل انٹرسیپشن اور ڈائیورژن سیوریج لائنیں بچھانے کی ضرورت نہ پڑے۔ اس طریقۂ کار میں کم سے کم سول تعمیراتی بنیادی ڈھانچے والے نظام استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں نسبتاً تیزی سے مکمل کیا جا سکتا ہے۔ اس صفائی کا مقصد پانی کے معیار کو بہتر بنانا، اس میں تحلیل شدہ آکسیجن کی مقدار بڑھانا اور بدبو ختم کرنا ہے۔ اس ماڈل میں مالی اعانت کا ایک اختراعی انتظام بھی شامل ہے، جس کے تحت ادائیگیاں صاف کیے گئے پانی کی مقدار اور اہم کارکردگی اشاریوں کے حصول سے منسلک ہیں، جبکہ ابتدا میں سرمایہ جاتی ادائیگی کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ انتظام معاوضے کو صفائی کی کارکردگی سے جوڑتا ہے اور ساتھ ہی ڈیزائن اور نظام کی ترتیب کے انتخاب میں آزادی فراہم کرتا ہے۔
اس کی ایک اور مثال منی کی ریتی کے چندریشور نگر میں قائم کثیر منزلہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ ہے۔ یہ نمامی گنگے پروگرام کے تحت کسی بلدیاتی ادارے کے لیے تعمیر کیا گیا ملک کا پہلا چار منزلہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) ہے۔ زمین کی محدود دستیابی، سیوریج کے تین نالوں، بارش کے پانی کی نکاسی کے ایک نالے اور رشی کیش کے تریوینی گھاٹ سے مقام کے بالائی جانب واقع ہونے کی وجہ سے یہاں روایتی طرزِ تعمیر کے ذریعے پلانٹ بنانا مشکل تھا۔ 7.5 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش کا یہ پلانٹ تقریباً 900 مربع میٹر رقبے پر قائم ہے، جہاں جگہ کیکمی پر قابو پانے کے لیے عمودی تعمیرات کا طریقہ اپنایا گیا ہے۔ حیاتیاتی طریقے سے غذائی اجزا کے اخراج سمیت اس پلانٹ کے لیے فیایم ایل ڈی تقریباً 120 مربع میٹر زمین درکار ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں بیان کردہ روایتی متبادل کے لیے فی400ایم ایل ڈی مربع میٹر زمین درکار ہوتی ہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ گندے پانی کے انتظام کی ضروریات پوری کرتے ہوئے صفائی کے نظام کے ڈیزائن کو مقام کے مخصوص حالات کے مطابق کس طرح ڈھالا جا سکتا ہے۔

منی کی ریتی میں کثیر منزلہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ
فطرت سے ہم آہنگاور مقامی سطح پر گندے پانی کی صفائی کے حل

تعمیر شدہ ویٹ لینڈز کے ذریعے صفائی
ہر بستی کو سیوریج کے بنیادی ڈھانچے کی یکساں وسعت درکار نہیں ہوتی۔ چھوٹی آبادیوں میں روایتی سیوریج نیٹ ورک اور گندے پانی کی صفائی کے پلانٹس مہنگے ثابت ہو سکتے ہیں، جبکہ زمین کی محدود دستیابی مزید مشکلات پیدا کرتی ہے۔ نمامی گنگے پروگرام (NGP) کے تحت غیر مرکزی اور قدرتی طریقوں پر مبنی حل ایسے مقامات کے لیے متبادل فراہم کرتے ہیں۔ تعمیر شدہ ویٹ لینڈز انجینئرنگ کے ذریعے تیار کیے گئے ایسے نظام ہیں، جو کنٹرول شدہ حالات میں آلودہ مادّوں کو ختم کرنے کے لیے قدرتی عمل سے استفادہ کرتے ہیں۔ ایک ویٹ لینڈ نظام میں پانی، پودے، نشوونما کے لیے استعمال ہونے والا مواد (سبسٹریٹ)، مٹی اور خردنامیے شامل ہوتے ہیں۔
اتر پردیش کا قصبہ بٹھور اس طریقۂ کار کی ایک مثال پیش کرتا ہے۔ تقریباً 20,000 کی آبادی والی نگر پنچایت کو روایتی سیوریج کے بنیادی ڈھانچے پر آنے والے بھاری اخراجات اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کے لیے موزوں زمین کی عدم دستیابی جیسے مسائل کا سامنا تھا۔ تیسرے فریق کی جانب سے جائزے کے بعد تعمیر شدہ ویٹ لینڈز کو صفائی کی ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کے طور پر منتخب کیا گیا۔ نالوں پر ہی چھ ویٹ لینڈز تیار کیے گئے، جن کے ذریعے تقریباً 2 ملین لیٹر یومیہ گندے پانی کی مقام پر ہی صفائی کی جا رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں پانی میں حیاتیاتی آکسیجن کی طلب کی سطح، جو نالے میں داخل ہونے والے پانی میں تقریباً 75 ملی گرام فی لیٹر تھی، صاف کیے گئے پانی میں کم ہو کر 10 ملی گرام فی لیٹر سے بھی نیچے آ گئی۔ یہ ٹیکنالوجی ایسے نالوں کے لیے موزوں سمجھی جاتی ہے جن میں کم مقدار میں نسبتاً کم آلودگی والا پانی بہتا ہو اور جہاں نالے کی لمبائی اور چوڑائی کے لحاظ سے کافی جگہ دستیاب ہو۔
جوکاسو سیوریج کی صفائی کے لیے ایک اور غیر مرکزی متبادل فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک پیکجڈ صفائی کا نظام ہے، جو گھریلو گندے پانی کو مقررہ ضابطوں اور قومی گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے معیارات کے مطابق صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس نظام میں سیوریج کی صفائی کے متعدد مراحل کو ایک پہلے سے تیار شدہ، فوری طور پر نصب اور استعمال کے لیے تیاریونٹ میںیکجا کیا جاتا ہے۔ جوکاسو پر مبنی غیر مرکزی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کم بہاؤ والے مقامات، ایسی جگہوں جہاں تعمیراتی کام مشکل ہو اور محدود جگہ والے مقامات کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں ایسے مقامات بھی شامل ہیں جہاں نظام کو زمین کے نیچے نصب کیا جا سکتا ہے۔ اتراکھنڈ میں متعدد مقامات پر یہ نظام استعمال کیے گئے ہیں، جہاں اب تک چھ تنصیبات درج کی گئی ہیں۔
یہ نظام مقام پر کل وقتی آپریٹرز کی ضرورت اور روزانہ کی بنیاد پر کیچڑ کو سنبھالنے کے کام کو کم کرتے ہیں۔ مختلف اقسام کے بہاؤ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان میں سلنڈر نما اور کیپسول نما ڈیزائن سمیت متعدد ترتیبیں دستیاب ہیں۔ نظام کی ترتیب کے مطابق صفائی کے عمل میں چھاننے، ابتدائی صفائی، حیاتیاتی صفائی، ثانوی تہ نشینی، دوبارہ گردش، جراثیم کشی اور فلٹریشن کے مراحل شامل ہوتے ہیں۔ ان خصوصیات کی بدولت جوکاسو ایسی بستیوں کے لیے موزوں ہے جہاں روایتی سیوریج کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کرنا یا اس کی نگرانی کرنا مشکل ہو۔ اتراکھنڈ میں اس کا استعمال اس ضرورت کو ظاہر کرتا ہے کہ غیر مرکزی صفائی کے حل مقامی جغرافیائی حالات کے مطابق اختیار کیے جائیں۔
نیریڈا: گندے پانی کی صفائیکیلئے ایک مؤثر حیاتیاتی طریقۂ کار
نیریڈا گندے پانی کی صفائی کی ایک اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی ہے، جسے نمامی گنگے پروگرام (این جی پی) کے ذریعے متعارف کرایا گیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں ایروبک گرینولر سلج (ہوا کی موجودگی میں کام کرنے والا دانے دار کیچڑ) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس میں وہی بیکٹیریا استعمال ہوتے ہیں جو روایتی ایکٹیویٹڈ سلج کے عمل میں کام آتے ہیں، تاہم یہ بیکٹیریا مل کر ایسے چھوٹے اور گنجان دانے بناتے ہیں جو آسانی سے تہہ نشین ہو جاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کے فوائد میں کم جگہ کی ضرورت، تعمیراتی لاگت میں کمی اور نظام کو چلانے کے اخراجات میں کمی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس ٹیکنالوجی کے ذریعے روایتی ایکٹیویٹڈ سلج پروسیس کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد اور سیکوینشل بیچ ری ایکٹر (ایس بی آر) کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد بجلی کی بچت بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پہاڑی پٹنہ میں نیریڈا ٹیکنالوجی پر مبنی 60 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) اس کے فوائد کی نمایاں مثال ہے۔ اس کے بائیو ری ایکٹر کا رقبہ تقریباً 1,900 مربع میٹر ہے، جبکہ مذکورہ ایس بی آر نظام کے بائیو ری ایکٹر کے لیے 5,400 مربع میٹر جگہ درکار ہوتی ہے۔ نیریڈا ٹیکنالوجییہ ظاہر کرتی ہے کہ جدید حیاتیاتی صفائی کے ذریعے بڑے پلانٹس میں جگہ اور توانائی کی ضروریات کو کس طرح کم کیا جا سکتا ہے۔

نیریڈا ری ایکٹر
مٹی کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی اور فضلے کے کیچڑ و سیپٹک ٹینکوں سے جمع ہونے والے فضلے کا انتظام

دیو پریاگ میں مٹی کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ
مٹی کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی پروگرام کے تحت صفائی کا ایک قدرتی طریقۂ کار فراہم کرتی ہے۔ گندے پانی کی صفائی کا یہ زمینی نظام طبعی عمل، مثلاً تہہ نشینی اور پانی کے مٹی میں جذب ہونے، کو حیاتی کیمیائی عمل کے ساتھ یکجا کرتا ہے۔ اس کے ذریعے گندے پانی میں موجود معلق ٹھوس ذرات، نامیاتی اور غیر نامیاتی مادّوں کو دور کیا جاتا ہے۔ اس نظام کے اہم اجزا میں موزوں معدنی ترکیب، مقامی خردنامیے اور حیاتیاتی اشاریے کے طور پر کام کرنے والے پودے شامل ہیں۔
اس نظام کو تعمیر شدہ مٹی کے فلٹر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اسے مسلح سیمنٹ کنکریٹ (آر سی سی)، پتھر کی چنائییا مٹی کے بند بنا کر تیار کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بنیادی اجزا میں خام پانی کا ٹینک، بائیو ری ایکٹر کا حفاظتی ڈھانچہ، صاف کیے گئے پانی کا ٹینک، پائپ اور پمپ شامل ہیں۔ مطلوبہ معیار کے مطابق پانی حاصل کرنے کے لیےیہ نظام ایک مرحلے یا متعدد مراحل میں کام کر سکتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں مشینییا حرکت کرنے والے آلات کی ضرورت کم سے کم ہوتی ہے، جس سے نظام کو چلانا اور اس کی دیکھ بھال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ دیو پریاگ میں مٹی کی حیاتیاتی ٹیکنالوجی پر مبنی 1.2 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش کا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا گیا، جس کے صاف شدہ پانی کے اخراج کے معیارات قومی گرین ٹریبونل (این جی ٹی) کے مقررہ پیرامیٹرز کی بنیاد پر طے کیے گئے ہیں۔
فضلے کے کیچڑ اور سیپٹک ٹینکوں سے جمع ہونے والے فضلے کا انتظام صفائی کے پورے نظام کے ایک اور اہم حصے سے متعلق ہے۔ اتر پردیش کے شہر چنار میں روزانہ 10 کلو لیٹر (کے ایل ڈی) گنجائش کے فضلے کے کیچڑ کی صفائی کے پلانٹ (ایف ایس ٹی پی) کے ایک آزمائشی منصوبے کی منظوری دی گئی، جس کی تعمیر پر 2.70 کروڑ روپے لاگت آئی۔ چھوٹی آبادی کے لیے زیادہ اخراجات کے باعث روایتی انٹرسیپشن اور ڈائیورژن نیٹ ورک اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کی تعمیر کو ناقابلِ عمل سمجھا گیا۔ وہاں سیپٹک ٹینک اور سوک پٹس عام تھے، جبکہ نالوں میں پانی کا بہاؤ کم رہتا تھا اور بعض نالے خشک ہو جاتے تھے۔ تیسرے فریق کے جائزے کے بعد تعمیر شدہ ویٹ لینڈزیا قدرتی طریقوں پر مبنی دیگر حل کو زیادہ موزوں قرار دیا گیا۔
فضلے کے کیچڑ کی صفائی کا پلانٹ (ایف ایس ٹی پی)، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کا متبادل نہیں ہے، کیونکہیہ سوک پٹس سے وقفے وقفے سے جمع ہونے والے سیپٹک فضلے کو صاف کرتا ہے۔ مشترکہ صفائی کے عملکے ذریعے ایسے علاقوں سے آنے والے سیپٹک فضلے کو بھی صفائی کے وسیع تر نظام میں شامل کیا جا سکتا ہے جو سیوریج نیٹ ورک سے منسلک نہیں ہیں۔ اس عمل میں سیپٹک فضلہ لانے والے ٹینکروں کے لیے ایک وصولی مرکز قائم کیا جاتا ہے، جہاں جمع شدہ فضلے کو نیٹ ورک میں منتقل کیا جاتا ہے تاکہ شہر کے سیوریج کے ساتھ اس کی بھی صفائی کی جا سکے۔

فضلہ کی گاد اور سیپٹیج کا انتظام
توانائی کی بازیابی،فضلے کا انتظام اور وسائل کا استعمال
نمامی گنگے پروگرام کے تحت کیچڑ کے انتظام، توانائی کی بازیافت اور آپریشنل ضروریات و وسائل کی کھپت میں کمی پر توجہ دی جا رہی ہے۔ کیچڑ کے غیر ہوائی عمل کے ذریعے بایو گیس کی پیداوار توانائی حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ اینیروبک ڈائجیشنایسا حیاتیاتی عمل ہے جس میں آکسیجن کی عدم موجودگی میں نامیاتی مادّوں کو تحلیل کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے پیدا ہونے والی بایو گیس کو بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ وارانسی کے 140 ملین لیٹریومیہ گنجائش والے دیناپور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) میں پانی کا حقیقی بہاؤ تقریباً 110 ایم ایل ڈی ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ بجلی کی حقیقی مجموعی کھپت ماہانہ 4,20,000 یونٹ ہے۔ بایو گیس سے بجلی کی پیداوار ماہانہ تقریباً 2,20,000 سے 3,00,000 یونٹ تک پہنچ گئی، جو بجلی کی مجموعی کھپت کا تقریباً 52 سے 72 فیصد ہے۔ پریاگراج کے 80 ایم ایل ڈی گنجائش والے نینی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں بایو گیس سے حاصل ہونے والی بجلی روزانہ کی مجموعی کھپت کا تقریباً 50 فیصد رہی۔ دیگر مثالوں میں کانپور کے جاجمؤ اور بھاگل پور کے منصوبے شامل ہیں، جبکہ میرٹھ میں 220 ایم ایل ڈی گنجائش والے ایک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کو بایو سی این جی کی پیداوار کے لیے نشان زد کیا گیا ہے۔
کیچڑ سے پانی نکالنے کا عمل بھی پلانٹس کی عملی کارکردگی بہتر بنانے میں معاون ہے۔ ڈی واٹرنگ سے مراد کیچڑ میں موجود مائع حصے کی کچھ مقدار الگ کرکے ٹھوس مادّوں کی شرح بڑھانے کے لیے ٹھوس اور مائع اجزا کو جدا کرنا ہے۔ توانائی کی کھپت اور زمین کی ضروریات سے متعلق مقررہ ضمانتی شرائط پوری کرنے کے لیے 50 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش والے رمنا سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) میں وولیوٹ پریس، یعنی کیچڑ سے پانی نکالنے والا ایک آلہ، متعارف کرایا گیا۔ اس کی توانائی کی بچت اور کم جگہ گھیرنے کی صلاحیت کے باعث اسے دیگر مقامات پر بھی اپنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات گندے پانی کے انتظام کو محض آلودگی دور کرنے تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ ان میں باقی ماندہ کیچڑ کی صفائی اور پلانٹس کو زیادہ مؤثر انداز میں چلانا بھی شامل ہے۔
ماحول دوست سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس: توانائی کی بچت اور پائیدار آپریشن
سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی طویل مدتی کارکردگی کا انحصار صفائی کے مقررہ معیارات، مؤثر آپریشن اور وسائل کے پائیدار استعمال پر ہوتا ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے تحت ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ایس ٹی پی پرآن سائٹ شمسی توانائی
سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں مقام پر ہی شمسی توانائی کی پیداوار کا نظام ابتدائی طور پر 42 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش والے نینی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) میں نصب کیا گیا، تاکہ توانائی کی کھپت سے متعلق مقررہ ضمانتی شرائط پوری کی جا سکیں۔ اس کا 1,000 کلوواٹ (کے ڈبلیو) کا شمسی توانائی پلانٹ روزانہ تقریباً 3,850 یونٹ بجلی پیدا کرتا ہے، جبکہ ضرورت 5,700 یونٹ ہے۔ 80 ایم ایل ڈی گنجائش والے نینی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں شمسی توانائی سے روزانہ تقریباً 1,400 یونٹ بجلی حاصل ہوتی ہے، جبکہ بایو گیس سے مزید 4,500 یونٹ بجلی پیدا کی جاتی ہے۔ اس پلانٹ کی بجلی کی مجموعی ضرورت تقریباً 8,900 یونٹیومیہ ہے۔ دیگر تنصیبات اور منصوبوں میں 16 ایم ایل ڈی گنجائش والا جھونسی اور 14 ایم ایل ڈی گنجائش والا پھپھامؤ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بریلی، بھگوان پور، ورنداون، ہاتھرس، شاملی اور سہارن پور میںبھی ایسے منصوبے شامل ہیں۔
میرٹھ میں 220 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش والے ایک سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) کو بھی ماحول دوست پلانٹ کے طور پر تعمیر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت پلانٹ اور اس سے منسلک سہولیات کے لیے 100 فیصد شمسی توانائی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ رعایتی معاہدے کے تحت کام کرنے والی کمپنی آف سائٹ شمسی توانائی کے 10 میگاواٹ (ایم ڈبلیو) کے پلانٹ پر غور کر رہی تھی، جس سے بجلی کی فراہمی حکومتِ ہند کی اوپن ایکسیس پالیسی کے تحت تجویز کی گئی تھی۔
کیچڑ کی صفائی بھی پائیداری کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ رشی کیش میں کیچڑ کو جلانے کے ایک آزمائشی منصوبے کے ذریعے حرارتی عمل سے اسے مستحکم بنانے اور اس کے حجم میں کمی لانے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شہری کیچڑ، جس میں تقریباً 20 فیصد ٹھوس مادّے ہوتے ہیں،سے پانی نکالنے کے بعد اسے گرم ہوا کے ذریعے خشک کرکے ٹھوس مادّوں کی مقدار تقریباً 90 فیصد تک بڑھائی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد خشک کیچڑ کو گرم ہوا پیدا کرنے والے نظام میں آکسیڈائز کیا جاتا ہے۔ اس عمل سے حاصل ہونے والی خشک راکھ حیاتیاتی کھاد نہیں ہوتی، تاہم مستحکم راکھ کو فائر برکس یا کنکریٹ کی تیاری میں استعمال کرنے کے امکان پر غور کیا جا سکتا ہے۔ منی کی ریتی میں اس آزمائشی منصوبے کا مقصد زمین کی محدود دستیابی کے باعث کیچڑ کو ٹھکانے لگانے میں پیش آنے والی مشکلات کا حل تلاش کرنا تھا۔ مجموعی طور پر یہ اقدامات قابلِ تجدید توانائی، مؤثر آلات اور کیچڑ کے بہتر انتظام کو یکجا کرکے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ماحولیاتی اور عملی پائیداری کو مضبوط بناتے ہیں۔

منی کی ریتی میںفضلے کی صفائی
بحالی، ٹرنک سیور اور طویل مدتی کارکردگی
صفائی کی نئی گنجائش پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ موجودہ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) اور ٹرنک سیوریج لائنوں کی بحالی بھی ضروری ہے۔ پرانے آلات، صفائی کے مقررہ معیارات پر پورا نہ اترنے اور تیسرے درجے کی صفائی کے اجزا کی عدم دستیابی کے باعث پلانٹس کو اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ نمامی گنگے پروگرام کے تحت مختلف مقامات پر بحالی کے کاموں کے ذریعے ان مسائل کو حل کیا جا رہا ہے۔ اس کی مثالوں میں پریاگ راج کا 80 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) گنجائش والا نینی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ شامل ہے، جہاں الیکٹرو مکینیکل کام، بایو گیسسے بجلی کی پیداوار اور آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کا نظام (او سی ای ایم ایس) شامل ہیں۔ کانپور کے 130 ایم ایل ڈی گنجائش والے جاجمؤ سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ میں سول اور الیکٹرو مکینیکل نظام کی بحالی، بایو گیس سے بجلی کی پیداوار، کلورین کے ذریعے جراثیم کشی اور او سی ای ایم ایس کی سہولیاتفراہم کی گئیں۔
پرانے نیٹ ورکس میں گاد جمع ہونے، نقصان پہنچنے اور سوراخ ہونے جیسے مسائل کو حل کرنے کے لیے ٹرنک سیوریج لائنوں کی بحالی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ وارانسی میں اینٹوں سے بنی 7 کلومیٹر طویل پرانی ٹرنک سیوریج لائن کی بحالی کا کام گلاس ری اِنفورسڈ پائپ لائنر کے ذریعے کیا گیا۔ اس لائن کا قطر 2,400 ملی میٹر تک تھا۔ کانپور میں اینٹوں سے بنی 9.3 کلومیٹر طویل پرانی ٹرنک سیوریج لائن کی بحالی کے لیے مشین واؤنڈ اسپائرل لائننگ کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس لائن کا قطر 2,250 ملی میٹر تک تھا۔
یہ پروگرام نئی اور موجودہ سیوریج کی سہولیات کو یکجا کرنے کے لیے ہائبرڈ اینیوٹی ماڈل (ایچ اے ایم) پر مبنی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) اور ’’ایک شہر/کلسٹر، ایک آپریٹر‘‘ کے ماڈل کو بھی بروئے کار لاتا ہے۔ اس نظام کے تحت تعمیراتی کام کی پیش رفت سے منسلک ادائیگیوں کے ساتھ 15 سال تک کارکردگی کی بنیاد پر ادائیگیاں بھی کی جاتی ہیں، جس سے جواب دہی اور مسلسل مؤثر آپریشن کو فروغ ملتا ہے۔ اس ماڈل کے تحت 1,955 ملین لیٹریومیہ (ایم ایل ڈی) کی مجموعی گنجائش پر مشتمل 31 منصوبوں پر کام شروع کیا گیا۔ ان میں سے 454 ایم ایل ڈی کی مجموعی گنجائش والے 11 منصوبے مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ 235 ایم ایل ڈی کی مجموعی گنجائش والے 6 منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ بحالی، آپریشن اور دیکھ بھال پر توجہ دینے سے گندے پانی کی صفائی محض ایک مرتبہ تعمیر کیے جانے والے بنیادی ڈھانچے کا کام نہیں رہتی، بلکہ ایک مسلسل فراہم کی جانے والی خدمت بن جاتی ہے۔
سیوریج کی صفائی سے گندے پانی کے پائیدار انتظام تک
نمامی گنگے پروگرام کے تحت گندے پانی کی صفائی کا طریقۂ کار بنیادی ڈھانچے، متنوع ٹیکنالوجیز، غیر مرکزی حل، بحالی اور طویل مدتی آپریشن کو یکجا کرتا ہے۔ روایتی اور جدید صفائی کے طریقے، قدرتی نظام اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز مقامی ضروریات کی مختلف نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان سے نمٹنے میں مدد دیتے ہیں۔ کارکردگی پر مبنی آپریشنل ماڈل، وسائل کی بازیافت، توانائی کی بچت، کیچڑ کا انتظام اور صاف کیے گئے پانی کا دوبارہ استعمال صفائی کے مجموعی نظام کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ بالآخر، اس پروگرام کا مقصد صرف سیوریجٹریٹمنٹ پلانٹس (ایس ٹی پی) کی تعمیر تک محدود نہیں، بلکہ گندے پانی کے انتظام کے ایسے پائیدار نظام قائم کرنا ہے جو پورے دریائی طاس میں مؤثر صفائی، قابلِ اعتماد کارکردگی اور وسائل کی بازیافت کو یقینی بنائیں۔
حوالہ جات
وزارتِ جل شکتی
https://nmcg.nic.in/NamamiGanga.aspx
https://ejalshakti.gov.in/misc/Innovative_LRT_S.aspx/1000
https://nmcg.nic.in/pdf/NGP-At%20a%20Glance%20(Final%20Version%20Printed).pdf
دیگر
https://gwilws.gujarat.gov.in/web/public/content/cms.portal.document/302/document/Sewage-Treatment-Technologies.pdf
https://www.niti.gov.in/node/306
پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں
***
) ش ح –ک ا- ش ہ ب )
U.No. 6411
(ریلیز آئی ڈی: 2326243)
وزیٹر کاؤنٹر : 9