عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خصوصی مہم 6.0 کے تحت عملہ اور تربیت کے محکمے میں ای کچرے کو ٹھکانے لگانے کی سرگرمی میں حصہ لیا
آج ٹھکانے لگائی گئی الیکٹرانک اشیا میں 152 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 35 پرنٹر، 8 اسکینر، 3 فوٹو کاپی مشینیں، 59 یو پی ایس یونٹ، 52 ایئر کنڈیشنر، 4 ٹیلی ویژن سیٹ، 5 ریفریجریٹر، 17 واٹر ڈسپنسر اور 217 دیگر متفرق اشیا شامل ہیں، جن کی بنیادی قیمت 9 لاکھ روپے ہے
خصوصی مہم 6.0 صفائی ستھرائی کے طریقوں کو مزید مستحکم کرنے اور ناکارہ اشیا سے قدر حاصل کرنے کے لیے ایک ماہ تک جاری رہنے والی مخصوص مہم ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جی ای ایم پورٹل کے ذریعے الیکٹرانک کباڑ کو منظم طریقے سے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے؛ وزیر موصوف نے اعتماد ظاہر کیا کہ 31 اکتوبر تک مہم کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی دوگنا سے بھی زیادہ ہو جائے گی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
21 OCT 2026 3:41PM by PIB Delhi
مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم، نیز وزیر مملکت برائے دفترِ وزیر اعظم (پی ایم او)، محکمہ جوہری توانائی، محکمہ خلائی، عملہ، عوامی شکایات اور پنشن ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج خصوصی سوچھتا مہم 6.0 کے تحت محکمہ عملہ و تربیت میں الیکٹرانک کچرے کو ٹھکانے لگانے کی سرگرمی میں حصہ لیتے ہوئے الیکٹرانک کباڑ کو منظم طریقے سے ٹھکانے لگانے کی اہمیت اور دفتری استعمال کے فرسودہ آلات کی باقی ماندہ قدر کو تسلیم کرنے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔
اس مہم کو ایک ماہ تک جاری رہنے والی خصوصی مشق قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اس کا مقصد صفائی ستھرائی کے طریقوں کو مزید مستحکم کرنا اور اس مقصد کے تئیں عزم کی تجدید کرنا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گاندھی جینتی سے پٹیل جینتی تک چلائی جانے والی یہ مہم سال بھر صفائی ستھرائی برقرار رکھنے کا متبادل نہیں ہے، بلکہ مرکوز اقدامات کے ذریعے ان طریقوں کو نئے سرے سے مؤثر بنانے اور مزید مضبوط کرنے کا ایک موقع ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ہر نئی مہم میں سابقہ مہمات کے تجربات کی بنیاد پر نئے عناصر شامل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم سبق یہ ملا ہے کہ فرسودہ الیکٹرانک آلات اور دیگر غیر استعمال شدہ اشیا کو ٹھکانے لگانے سے حاصل ہونے والے کباڑ کی بھی قدر ہوتی ہے، جسے منظم طریقے سے نمٹانے پر خاطر خواہ آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔
موجودہ مہم کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ پہلے 15 سے 17 دنوں کے دوران کباڑ کو ٹھکانے لگانے سے تقریباً 490 کروڑ روپے حاصل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ 31 اکتوبر تک یہ رقم دوگنا سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔
کباڑ کو ٹھکانے لگانے کے طریقۂ کار میں تبدیلی کو اجاگر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ پہلے کباڑ کو کسی یکساں طریقۂ کار کے بغیر بازار میں بھیج دیا جاتا تھا، جب کہ موجودہ مہم میں اس مقصد کے لیے جی ای ایم پورٹل کو اپنایا گیا ہے۔ یہ طریقۂ کار اس بڑھتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ فرسودہ آلات کو محض کچرا سمجھ کر نہیں پھینک دینا چاہیے، بلکہ ان کی باقی ماندہ قدر سے بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے دفاتر میں رائج اس عام طریقے کی جانب توجہ مبذول کرائی جس کے تحت ماؤس یا اسکرین جیسے کسی ایک حصے کے ناقابلِ استعمال ہو جانے پر کمپیوٹر کا پورا سیٹ ضائع کر دیا جاتا ہے، حالاں کہ باقی آلات صحیح حالت میں ہوتے ہیں۔ انہوں نے تلفی کے لیے شناخت کی گئی اشیا میں شامل 152 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز اور 52 ایئر کنڈیشنرز کی مثال دیتے ہوئے اس ضرورت پر زور دیا کہ فرسودہ یا غیر استعمال شدہ آلات کی قدر کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔
عملہ و تربیت کے محکمے (ڈی او پی ٹی) میں تلفی کی اس کارروائی کے حصے کے طور پر، 30 ستمبر 2026 کو جی ای ایم پورٹل پر نیلامی کے تین نوٹس جاری کیے گئے، جن میں فرسودہ اور غیر استعمال شدہ آئی ٹی اشیا، برقی اور الیکٹرانک اشیا اور فرنیچر شامل ہیں۔ ان تینوں زمروں کے لیے نوٹس میں الگ الگ تجویز کردہ بنیادی قیمتیں مقرر کی گئی ہیں۔
آئی ٹی کے زمرے میں 152 ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر، 35 پرنٹر، 8 اسکینر، 3 فوٹو کاپی مشینیں، 59 یو پی ایس یونٹ اور 217 متفرق اشیا شامل ہیں، جن میں کی بورڈ اور ماؤس بھی شامل ہیں۔
برقی اور الیکٹرانک اشیا کے زمرے میں 52 ایئر کنڈیشنر، 4 ٹیلی ویژن، 5 ریفریجریٹر اور 17 واٹر ڈسپنسر شامل ہیں۔ فرنیچر کے زمرے میں کرسیاں، میزیں، الماریاں، صوفے، درازیں اور ورک اسٹیشن سمیت دیگر اشیا شامل ہیں۔ فرسودہ اشیا کے ان تینوں زمروں کی مجموعی تجویز کردہ بنیادی قیمت تقریباً 9 لاکھ روپے ہے۔
تلفی کی یہ کارروائی خصوصی مہم 6.0 کے تحت محکمے کی سرگرمیوں کا حصہ ہے، جس میں صفائی ستھرائی کے مقصد کو فرسودہ اثاثوں کو منظم طریقے سے ٹھکانے لگانے اور ان کی باقی ماندہ قدر سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ محکمہ عملہ و تربیت کی سکریٹری محترمہ رچنا شاہ نے بھی محکمے کے دیگر سینئر افسران کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی۔




******
ش ح۔ ک ح ۔ خ م
UN-NO-6408
(ریلیز آئی ڈی: 2326029)
وزیٹر کاؤنٹر : 8