وزارت دفاع
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت ہندوستان کو ایک ایسا ملک بنانے کے لیے کوشاں ہے جو خوشحالی، علم اور طاقت کے ساتھ عالمی امن اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے عزم کو یکجا کرے: وزیردفاع
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
20 OCT 2026 8:53PM by PIB Delhi
وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ‘‘وسودھیو کٹمبکم’’(پوری دنیا ایک خاندان ہے) کے فلسفے سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے ہندوستان ایک ایسا ملک بننے کا خواہش مند ہے جو خوشحالی، علم اور طاقت کے ساتھ عالمی امن اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے عزم کو یکجا کرے۔ انہوں نے یہ بات 20 اکتوبر- 2026 کو تاجکستان کے شہر دوشنبہ میں ہندوستانی برادری سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کی معاشی تبدیلی، اصلاحات پر مبنی حکمرانی، تکنیکی ترقی اور عالمی سطح پر بڑھتا ہوا وقار اس ویژن کی تکمیل کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
ہندوستان کی ترقی کے سفر کو اجاگر کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ عالمی اقتصادی ترقی میں ہندوستان کا حصہ 16 فیصد سے زیادہ ہے اور ملک تقریباً سات اعشاریہ آٹھ فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا ہے، جبکہ کئی بڑی معیشتیں سست روی کا سامنا کر رہی ہیں۔ عالمی تجارتی منظرنامہ میں تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے 38 ممالک کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدے کیے ہیں، جس سے ہندوستانی صنعت کاروں اور مصنوعات تیار کرنے والوں کے لیے نئی منڈیاں کھلی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور برطانیہ نیز ہندوستان اور یوروپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدوں سے ان منڈیوں میں ہندوستان کی99 فیصد برآمدات پر محصولات ختم ہونے کی توقع ہے، جس سے ملک کے تجارتی امکانات اور عالمی اقتصادی شراکت داری کو تقویت ملے گی۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران حکمرانی اور پالیسی سازی میں آنے والی تبدیلیوں کا ذکر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستان واضح پالیسی سمت کے تحت‘مفلوج پالیسی’ کے دور سے نکل کر ‘اصلاحات کی ایکسپریس’ پر سوار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا- ‘‘ہمارے لیے اصلاحات کوئی مجبوری نہیں بلکہ ہمارا پختہ یقین ہیں۔’’
وزیردفاع نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جو 12 سے 13 سال پہلے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے چار فیصد سے زیادہ تھا، گزشتہ مالی سال میں کم ہو کر 0.61 فیصد رہ گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 700 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں، جبکہ ملک کا بینکاری نظام اب تک کی اپنی مضبوط ترین پوزیشن میں ہے۔
دفاعی سازوسامان کی تیاری کے شعبہ میں ہندوستان کی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ دفاعی برآمدات ریکارڈ 38,424 کروڑ روپے تک پہنچ گئی ہیں، جبکہ دفاعی پیداوار بڑھ کر 1.80 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2014 سے پہلے چند سو تک محدود رہنے والے اسٹارٹ اَپس کی تعداد بڑھ کر 2.5 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف اسٹارٹ اَپس چھوٹے شہروں اور قصبوں سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ 45 فیصد سے زیادہ اسٹارٹ اَپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر یا شراکت دار ہے۔
انہوں نے کہا کہ سستے موبائل ڈیٹا اور مواصلاتی سہولتوں کی وسیع تر دستیابی نے زیادہ سے زیادہ ہندوستانیوں کے لیے نئے مواقع تک رسائی ممکن بنائی ہے، جس سے جدت طرازی کو فروغ ملا، نئی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مدد ملی اور نئے حل تلاش کرنے کی راہیں ہموار ہوئی ہیں۔
وزیرِ دفاع نے شمولیتی ترقی کے اثرات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران تقریباً 25 کروڑ افراد کو غربت سے باہر نکالا گیا ہے۔ انہوں نے مستحقین کے بینک کھاتوں میں سرکاری امداد براہِ راست پہنچانے، بدعنوانی میں کمی لانے اور شفافیت و سہولت کو بڑھانے میں جے اے ایم(جے اے ایم) سہ رخی نظام اور براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے کردار کو نمایاں کیا۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ ہندوستان کی قابل تجدید توانائی کی صلاحیت 2014 میں تقریباً 75 گیگاواٹ سے بڑھ کر اب تقریباً 300 گیگاواٹ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمی کون انڈیا پروگرام اور انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن کے ذریعے ہندوستان سیمی کنڈکٹر کی تیاری کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا‘‘ہم جہازوں کے ساتھ ساتھ چپس کی تیاری کی سمت بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے اہم اسٹریٹجک (تزویراتی) شعبوں میں ہماری پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔’’
ہندوستان کی ڈجیٹل تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ملک فوری ڈجیٹل لین دین کے معاملے میں عالمی مرکز بن کر ابھرا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے لین دین کی مالیت 2016-17 میں 7,000 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2025-26 میں 314 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسے نظام معیشت کی جانب ہندوستان کی پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں جہاں لین دین آسانی سے ہوتا ہے اور کاغذ اور نقد رقم کا استعمال کم سے کم ہوتا ہے۔ انہوں نے ریلوے، سڑکوں، ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور براڈ بینڈ رابطے سمیت ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے میں ہونے والی غیر معمولی توسیع کو بھی اجاگر کیا۔
سائنس اور خلائی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ہندوستان کی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے چندریان اور آدتیہ-ایل 1 مشنوں کی کامیابیوں کا حوالہ دیا۔ انہوں نے انسانی خلائی پرواز کے مشن گگن یان کی تیاریوں میں ہونے والی پیش رفت پر بھی اعتماد کا اظہار کیا۔
وزیردفاع نے ہندوستان کو ایک پراعتماد ملک قرار دیا، جس کے ساتھ دنیا بھر کے ممالک مضبوط اور مثبت تعلقات قائم کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نژاد افراد ثقافتی سفیروں کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں اور دنیا بھر میں ہندوستان کی اقدار اور روایات کو متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی ترقی میں بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں۔
جناب راج ناتھ سنگھ نے ہندوستان اور تاجکستان کے درمیان ثقافتی اور عوامی سطح پر روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی گیتوں، موسیقی، ادب اور سنیما کی تاجک عوام میں مقبولیت نے دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے مضبوط رشتے کو مزید مستحکم کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان اور تاجکستان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات قائم ہیں، جنہیں مضبوط بنانے میں ہندوستانی برادری کا کردار دونوں ممالک کو جوڑنے والا ایک اہم عنصر ہے۔
اس موقع پر وزیرِ دفاع نے معروف ماہرہندیات اور تاجکستان سے پہلے پدم شری ایوارڈ یافتہ پروفیسر حبیب اللہ رجبوف کو بھی اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے ہندی ادب اور تعلیم کے شعبوں میں پروفیسر رجبوف کی قابل قدر خدمات کو سراہا، جن میں علم اللسان کا گہرا مطالعہ بھی شامل ہے۔ تقریب میں ہندوستانی اور تاجک فنکاروں نے ثقافتی پروگرام بھی پیش کیے۔
***
ش ح-ظ الف- م ش
UR No. 6389
(ریلیز آئی ڈی: 2325741)
وزیٹر کاؤنٹر : 9