شماریات اور پروگرام کے نفاذ کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

قومی کھاتوں کے گوشوارے - 2026  کی اشاعت

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 AUG 2026 3:55PM by PIB Delhi
  1. وزارتِ شماریات و پروگراموں کےنفاذ(ایم او ایس پی آئی) نے بنیادی سال2022-23کے ’’قومی کھاتوں کے گوشوارے  2026‘‘ کے عنوان سے تازہ اشاعت جاری کی ہے۔ اس اشاعت میں ہندوستانی معیشت کی قومی آمدنی، پیداوار، اخراجات اور دیگر اہم مجموعی معاشی اشاریوں کے جامع اور تفصیلی تخمینے پیش کیے گئے ہیں۔ یہ اشاعت پالیسی سازوں، محققین، تجزیہ کاروں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے ہندوستانی معیشت کی کارکردگی اور اس کی ساخت میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے معلومات کا اہم ذریعہ ہے۔
  2.  اس اشاعت میں مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے تازہ ترین حتمی تخمینوں اور مالی سال 2024-25 کے پہلے نظرثانی شدہ تخمینے پر مبنی 60 گوشوارے پیش کیے گئے ہیں، جن میں تخمینوں کی درج ذیل وسیع زمرے شامل ہیں:
  • مجموعی  بڑےمعاشی اشاریے: مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)، قومی آمدنی، فی کس آمدنی، قیمتوں اور مقدار کے اشاریے۔
  • پیداوار اور قدر میں اضافے سے متعلق گوشوارے: معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے مختلف شعبوں کی پیداوار، درمیانی استعمال اور مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) کی تفصیلات۔
  • کھپت اور اخراجات سے متعلق گوشوارے: نجی حتمی کھپت کے اخراجات(پی ایف سی ای) اور حکومتی حتمی کھپت اخراجات (جی ایف سی ای)۔
  • بچت اور سرمایہ سے متعلق گوشوارے: ادارہ جاتی شعبوں کی بچت، جس میں گھریلو، کارپوریٹ اور عمومی حکومتی شعبے شامل ہیں؛ استعمال کی صنعت، اثاثوں کی نوعیت اور ادارہ جاتی شعبے کے لحاظ سے سرمایہ کی تفصیلات۔
  • سرکاری شعبے اور بیرونی لین دین کے گوشوارے: سرکاری شعبے کے لین دین اور بیرونی لین دین کے کھاتوں، جن میں بین الاقوامی تجارت اور بیرونی مالیاتی بہاؤ کی عکاسی کی گئی ہے۔
  1.  اس اشاعت میں مالی سال 2025-26 کے لیے مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے تازہ ترین عارضی تخمینوں پر مشتمل چار گوشوارے بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مالی سال 2022-23 سے 2025-26 تک کے سہ ماہی جی ڈی پی کے تخمینے بھی پیش کیے گئے ہیں۔
  2.  اس اشاعت میں سالانہ اور سہ ماہی تخمینوں کو نئے اشاریوں کی بنیاد پر اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ ان میں پیداواری قیمت کا اشاریہ (پی پی آئی)، صنعتی پیداوار کااشاریہ (آئی آئی پی) اور بینکاری خدمات کی مالیت کا اشاریہ (بی کے ایس پی آئی) شامل ہیں، جن کی بنیادی سال 2022-23 پر مبنی نئی سیریز جون 2026 میں جاری کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، انتظامی ذرائع سے حاصل ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
  3.  بنیادی سال 2022-23 پر مبنی مذکورہ نئے اشاریوں میں، سابقہ سیریز کے مقابلے میں مصنوعات کی فہرست اور قیمتوں میں توسیع کے ذریعے ساختیاتی تبدیلیاں شامل ہیں اور اس کےطریقۂ کار کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ پی پی آئی میں شامل اشیاء کے زمروں میں متعدد نئی ابھرتی ہوئی مصنوعات شامل کی گئی ہیں، جبکہ تھوک قیمت  کےاشاریہ (ڈبلیو پی آئی) کی سابقہ سیریز میں شامل بعض اشیاء کو خارج کر دیا گیا ہے۔ پی پی آئی میں شامل اشیاء کے وسیع تر دائرۂ کار اور تازہ ترین وزن کے استعمال سے قومی کھاتوں میں شامل سرگرمیوں کے لحاظ سے قیمتوں کے اشاریوں کی بہتر مطابقت ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح، بنیادی سال 2022-23 پر مبنی صنعتی پیداوار کےاشاریہ (آئی آئی پی) میں اشیاء اور قیمتوں کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے اور اس کے بنیادی قیمت سے متعلق اشاریوں میں سے ایک کے طور پر ڈبلیو پی آئی کی جگہ پی پی آئی کو استعمال کیا گیا ہے۔ بینکاری خدمات کی مالیت کا اشاریہ (بی کے ایس پی آئی)، جس کا بنیادی سال 2022-23 ہے، وقت کے ساتھ بینکاری خدمات کے حقیقی حجم اور لین دین کی سرگرمیوں میں ہونے والی نمو کا تخمینہ لگانے میں معاون ہے۔
  4.  ان تازہ ترین اشاریوں کو شامل کرنے کے نتیجے میں مالی سال 2022-23 سے آگے کے سالانہ اور سہ ماہی جی ڈی پی تخمینوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ یہ نظرثانی موجودہ اور مستقل دونوں قیمتوں پر مبنی تخمینوں میں کی گئی ہے۔ مستقل قیمتوں پر مبنی تخمینوں میں ان شعبوں کی تبدیلیاں زیادہ نمایاں ہیں جہاں قیمتوں کی پیمائش کے لیے سابقہ ڈبلیو پی آئی کی جگہ پی پی آئی کو بروئے کارلایاگیا ہے۔ موجودہ قیمتوں کے تخمینوں میں مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) پر نظرثانی بنیادی طور پر عمومی حکومتی شعبے اور محکمہ جاتی اداروں کے تازہ ترین تخمینوں سے متعلق ہے۔ اس نظرثانی کی بڑی وجہ پی پی آئی سیریز کو شامل کرنے کے نتیجے میں خالص مقررہ سرمایہ جاتی اسٹاک اور مقررہ سرمائے کے استعمال (سی ایف سی) کے تخمینوں میں کی گئی اپڈیٹ ہے۔
  5.  تازہ ترین اشاریوں کے اثرات مختلف شعبوں میں الگ الگ ہیں۔ اس کی وجہ تخمینے لگانے کے طریقۂ کار میں ان اشاریوں کا مختلف انداز میں استعمال اور بنیادی اشاریوں میں تبدیلیوں کی نوعیت اور دائرہ ہے۔مثال کے طور پر، کان کنی اور کھدائی کے شعبے میں مستقل قیمتوں کی مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) کے تخمینے پر نظرثانی، نئی صنعتی پیداوار کےاشاریہ (آئی آئی پی)کی سیریز کو شامل کرنے سے متعلق ہے۔ یہ نئی سیریز معدنیاتی پیداوار کے اشاریے کی نظرثانی شدہ بنیاد پر تیار کی گئی ہے، جسے انڈین بیورو آف مائنز کے ذریعہ مرتب کیا جاتا ہے۔صنعتی پیداوار کے شعبے میں پی پی آئی کے وسیع تر دائرۂ کار سے قیمتوں کے اشاریوں اور متعلقہ معاشی سرگرمیوں کے درمیان بہتر مطابقت پیدا ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں تخمینوں پر نظرثانی کی گئی ہے۔ تجارتی خدمات کے تخمینوں کو بھی ڈبلیو پی آئی کی جگہ پی پی آئی استعمال کرکے اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ عوامی انتظامیہ اور رہائش کی ملکیت کے شعبوں میں موجودہ قیمتوں پر مبنی تخمینوں میں نظرثانی کے مطابق مستقل قیمتوں پر مبنی تخمینوں کو بھی اپڈیٹ کیا گیا ہے۔
  6.  مالی سال 2025-26 کے تخمینوں میں نسبتاً وسیع پیمانے پر نظرثانی کی گئی ہے، کیونکہ اس سال کے تخمینے نئے پی پی آئی اور آئی آئی پی سیریز کے استعمال کے علاوہ، گزشتہ مالی سال کے بنیادی تخمینوں کو اپڈیٹ کرنے سے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
  7.  مالی سال 2022-23 اور 2023-24 کے لیے رسد اور استعمال کے ٹیبل (ایس یو ٹی) کو بھی مذکورہ بالا تبدیلیوں کو شامل کرنے کے لیے اپڈیٹ کیا گیا ہے۔ نظرثانی شدہ رسد و استعمال کے ٹیبل اور ان سے متعلقہ ’’طریقۂ کار سے متعلق نوٹ‘‘ وزارتِ شماریات و پروگرام کے نفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی سرکاری ویب سائٹ    https://www.mospi.gov.in/publications-reports/innerpage/847پر دستیاب ہیں۔
  8.  مالی سال 2022-23 سے مالی سال 2025-26 تک موجودہ اور مستقل قیمتوں پر مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کی سطح اور شرحِ نمو میں ہونے والی تبدیلیوں کی تفصیلات ذیل میں پیش کی گئی ہیں:

مالی سال

موجودہ قیمتوں پر

مستقل قیمتوں پر

جی ڈی پی (کروڑ روپے میں)

جی ڈی پی کی شرحِ نمو (فیصد)

جی ڈی پی (کروڑ روپے میں)

جی ڈی پی کی شرحِ نمو (فیصد)

سابقہ جاری کردہ

اپڈیٹ شدہ

سابقہ جاری کردہ

اپڈیٹ شدہ

سابقہ جاری کردہ

اپڈیٹ شدہ

سابقہ جاری کردہ

اپڈیٹ شدہ

2022–23

2,61,17,627

2,61,77,001

 

 

2,61,17,627

2,61,77,001

 

 

2023–24

2,89,83,909

2,90,73,287

11.0فیصد

11.1فیصد

2,80,00,767

2,80,94,358

7.2فیصد

7.3فیصد

مالی سال 2024–25 (حتمی نظرثانی شدہ تخمینے)

3,18,07,309

3,17,98,524

9.7فیصد

9.4فیصد

2,99,88,619

3,01,15,428

7.1فیصد

7.2فیصد

مالی سال 2025–26 (عارضی تخمینے)

3,46,35,638

3,45,36,796

8.9فیصد

8.6فیصد

3,23,12,034

3,24,70,100

7.7فیصد

7.8فیصد

  1.  تفصیلی تخمینوں کے لیے ضمیمہ میں درج ’’قومی کھاتوں کے گوشوارے- 2026‘‘ کی اشاعت کے متعلقہ گوشواروں کوملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اشاعت وزارتِ شماریات و پروگرام کےنفاذ (ایم او ایس پی آئی) کی سرکاری ویب سائٹ https://mospi.gov.in/publications-reports/innerpage/2861.پر ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے دستیاب ہے۔

 

ضمیمہ

قومی کھاتوں کے گوشوارے- 2026: گوشواروں کی فہرست

 

نمبر شمار

گوشوارے کا نام

1.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر قومی کھاتوں کے اہم مجموعی اشاریے

2.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر فی کس آمدنی، پیداوار اور حتمی کھپت

3.

قیمتوں اور مقدار کے اعداد وشمار

4.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے پیداواری نتائج اور استعمال کی صنعت کے لحاظ سے سرمایہ  کی تشکیل

5.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے مجموعی قدر میں اضافہ (جی وی اے)

6.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) کا فیصد حصہ

7.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) میں فیصد تبدیلی

8.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے خالص قدر میں اضافہ

9.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے مقررہ سرمائے کا استعمال (سی ایف سی)

10.

موجودہ قیمتوں پر مجموعی سرمایہ (جی سی ایف) کے مالی ذرائع

11.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر استعمال کی صنعت کے لحاظ سے مجموعی سرمایہ کی تشکیل

12.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر اثاثوں اور ادارہ جاتی شعبوں کے لحاظ سے مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)

13.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر نجی حتمی کھپت کے اخراجات

14.

موجودہ قیمتوں پر استعمال کے لحاظ سے مالیاتی درمیانی خدمات کے بالواسطہ طور پر پیمائش شدہ اخراجات (ایف آئی ایس آئی ایم) — درمیانی کھپت اور اخراجات

15.

موجودہ قیمتوں پر ادارہ جاتی شعبوں کے کھاتے — اہم معاشی اشاریے

16.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی قدر میں اضافے کی تفصیلات

17.

موجودہ قیمتوں پر حکومتی سرگرمی کی درجہ بندی کے مطابق عمومی حکومتی اخراجات

18.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر اشیاء کے لحاظ سے نجی حتمی کھپت کے اخراجات

19.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر گھرانوں اور عمومی حکومت کے انفرادی کھپت کے اخراجات

20.

موجودہ قیمتوں پر گھریلو شعبے کے مالیاتی اثاثے اور واجبات

21.

موجودہ قیمتوں پر بیرونی لین دین کے تفصیلی حسابات

22.

مستقل قیمتوں پر بیرونی لین دین کے منتخب مجموعی اشاریے

23.

موجودہ قیمتوں پر صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

24.

موجودہ قیمتوں پر سرکاری شعبے میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

25.

موجودہ قیمتوں پر نجی کارپوریٹ اداروں میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

26.

موجودہ قیمتوں پر گھریلو شعبے میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

27.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر صنعت کے لحاظ سے مجموعی سرمایہ (جی سی ایف)، مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)، اسٹاک میں تبدیلی (سی آئی ایس) اور مقررہ سرمائے کا استعمال (سی ایف سی)

28.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر سرکاری شعبے میں صنعت کے لحاظ سے مجموعی سرمایہ (جی سی ایف)، مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)، اسٹاک میں تبدیلی (سی آئی ایس) اور مقررہ سرمائے کا استعمال (سی ایف سی)

29.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر نجی کارپوریٹ اداروں میں صنعت کے لحاظ سے مجموعی سرمایہ (جی سی ایف)، مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)، اسٹاک میں تبدیلی (سی آئی ایس) اور مقررہ سرمائے کا استعمال (سی ایف سی)

30.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر گھریلو شعبے میں صنعت کے لحاظ سے مجموعی سرمایہ (جی سی ایف)، مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)، اسٹاک میں تبدیلی (سی آئی ایس) اور مقررہ سرمائے کا استعمال (سی ایف سی)

31.

موجودہ قیمتوں پر اثاثوں کےزمرے اور صنعت کے لحاظ سے مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)

32.

موجودہ قیمتوں پر سرکاری شعبے میں اثاثوں کے زمرےاور صنعت کے لحاظ سے مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)

33.

موجودہ قیمتوں پر نجی کارپوریٹ اداروں میں اثاثوں کے زمرے اور صنعت کے لحاظ سے مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)

34.

موجودہ قیمتوں پر گھریلو شعبے میں اثاثوں کے زمرے اور صنعت کے لحاظ سے مجموعی مستقل سرمایہ (جی ایف سی ایف)

35.

موجودہ قیمتوں پر استعمال کی صنعت کے لحاظ سے خالص سرمایہ جاتی اسٹاک

36.

موجودہ قیمتوں پر سرکاری شعبے میں استعمال کی صنعت کے لحاظ سے خالص سرمایہ جاتی اسٹاک

37.

موجودہ قیمتوں پر نجی کارپوریٹ اداروں میں استعمال کی صنعت کے لحاظ سے خالص سرمایہ جاتی اسٹاک

38.

موجودہ قیمتوں پر گھریلو شعبے میں استعمال کی صنعت کے لحاظ سے خالص سرمایہ جاتی اسٹاک

39.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر فصلوں کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

40.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر فصلوں کے لحاظ سے پیداوار کی مالیت

41.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر مویشی پروری کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

42.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر جنگلات اور درختوں کی کٹائی کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

43.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

44.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر کان کنی اور کھدائی کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

45.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر کارپوریٹ شعبے میں صنعتی پیداوار (مینوفیکچرنگ) کی تفصیلات

46.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر کارپوریٹ شعبے میں صنعتی پیداوار سے قدر میں اضافے کی تفصیلات

47.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر گھریلو شعبے میں صنعتی پیداوار کی تفصیلات

48.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر گھریلو شعبے میں صنعتی پیداوار سے قدر میں اضافے کی تفصیلات

49.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر بجلی، گیس، آبی فراہمی اور دیگر عوامی سہولیات کی خدمات کے شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

50.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر تعمیراتی شعبے کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

51.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر تجارت، تعمیراتی خدمات، ہوٹلوں اور ریستورانوں کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

52.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر نقل و حمل کی خدمات کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

53.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر اسٹوریج، مواصلات اور نشریات سے متعلق خدمات کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

54.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر مالیاتی خدمات سے قدر میں اضافے کی تفصیلات

55.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر جائیداد، مکانات کی ملکیت اور پیشہ ورانہ خدمات کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

56.

موجودہ اور مستقل قیمتوں پر دیگر خدمات کی پیداوار اور قدر میں اضافے کی تفصیلات

57.

موجودہ قیمتوں پر عمومی حکومتی شعبے میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

58.

موجودہ قیمتوں پر محکمہ جاتی اداروں میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

59.

موجودہ قیمتوں پر غیر محکمہ جاتی اداروں میں صنعت کے لحاظ سے پیداوار، قدر میں اضافہ، ملازمین کا معاوضہ (سی ای) اور عملیاتی /مرکب آمدنی (او ایس/ایم آئی)

60.

کھاتوں کی کتاب میں مذکور موجودہ قیمتوں پر خسارے

61

مالی سال 2025-26 کے لیے قومی آمدنی اور دیگر مجموعی معاشی اشاریوں کے عارضی تخمینے

62

مالی سال 2025-26 کے لیے معاشی سرگرمیوں کے لحاظ سے بنیادی قیمتوں پر مجموعی قدر میں اضافے (جی وی اے) کے عارضی تخمینے

63

مستقل قیمتوں پر اخراجات کے عناصر سمیت جی ڈی پی کے سہ ماہی تخمینے

64

موجودہ قیمتوں پر اخراجات کے عناصر سمیت جی ڈی پی کے سہ ماہی تخمینے

پی ڈی ایف دیکھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

Click here to see pdf

******

ش ح ۔ م ش ع ۔ م ا

UR No-6316                         


(ریلیز آئی ڈی: 2325213) وزیٹر کاؤنٹر : 3
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Tamil