عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
مرکزی وزیر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی کے کرتویہ بھون-3 میں دفتر میں بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز اور خون کے عطیہ کیمپ کا افتتاح کیا
دو ہزار مربع فٹ پر محیط اس مثالی مرکز میں 30 سے 35 بچوں کی گنجائش ہے، جبکہ اب تک 27 بچوں کا داخلہ ہو چکا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
خصوصی سوچھتا مہم 6.0 کے تحت دفتر کی 2,000 مربع فٹ سے زائد غیر مستعمل جگہ کو مرکزی حکومت کے ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے دفتر میں بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز کے طور پر مفید استعمال میں لایا گیا
کرتویہ بھون-3 میں خون کے عطیہ کے لیے 100 سے زائد افراد نے اندراج کرایا، جو مرکزی حکومت کے ملازمین کی بھرپور شرکت کا عکاس ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
19 OCT 2026 4:58PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی سائنسز (آزادانہ چارج)کے مرکزی وزیر مملکت ، نیز وزیر اعظم کا دفتر، عملہ جاتی امور، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور کےوزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج دہلی کے کرتویہ بھون-3 میں دفتر میں بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز اور خون کے عطیہ کیمپ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی صفائی مہم 6.0 کو طرزِ حکمرانی کے ایک وسیع تر نقطۂ نظر کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں سرکاری دفاتر کی جگہوں کا مؤثر استعمال، ملازمین کی فلاح و بہبود اور کام کے لیے زیادہ سازگار ماحول کی فراہمی کو یکجا کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے 26 مئی 2014 سے جاری اصلاحاتی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کا دائرہ صرف انتظامی طریقۂ کار کو آسان بنانے اور شفافیت یقینی بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ ان میں سرکاری ملازمین کی عملی ضروریات کو پورا کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دفاتر میں ایسی سہولتیں فراہم کرنا، جو ملازمین، خصوصاً ملازمت پیشہ والدین کو زیادہ یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل بنائیں، انتظامی کارکردگی بہتر بنانے اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اصلاحاتی سفر کو ’’ریفارم ایکسپریس‘‘ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ سرکاری ملازمین کے کام کرنے کے حالات پر مناسب توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ وہ اپنی سرکاری ذمہ داریوں پر پوری توجہ مرکوز کر سکیں۔ انہوں نے ملازمین کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے سلسلے میں دفاتر میں جم، پینٹری اور کھانے پینے کے لیے مخصوص جگہوں جیسی سہولتوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرتویہ بھون-3 میں قائم کیا گیا بچوں کی دیکھ ریکھ کا نیامرکز اس نقطۂ نظر کو مزید آگے بڑھاتا ہے اور ملازمت پیشہ والدین کی بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق ضروریات پوری کرتا ہے۔
خواتین و اطفال کی ترقی کی وزارت کے رہنما خطوط کے مطابق قائم کیا گیا، کرتویہ بھون-3 میں بچوں کی دیکھ بھال کا مرکز 2,000 مربع فٹ سے زیادہ رقبے پر محیط ہے اور اس میں تقریباً 30 سے 35 بچوں کو رکھنے کی گنجائش ہے۔ اب تک 27 بچوں کا داخلہ ہو چکا ہے، جبکہ باقی نشستوں کو پُر کرنے کا عمل جاری ہے۔
اس مرکز میں بچوں کے لیے موزوں بیت الخلا، کھلونوں اور تعلیمی مواد سے آراستہ مخصوص کھیلنے کی جگہ، سمعی و بصری آلات، پینے کا صاف پانی، سونے کے لیے الگ جگہ، بچوں کی دیکھ بھال اور دودھ پلانے کا کمرہ، نیز باورچی خانہ یا خشک اشیائے خورونوش رکھنے کے لیے پینٹری شامل ہیں۔ حفاظتی انتظامات میں سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی، نرم گدے دار فرش اور دیواریں، اور طبی امداد کی کٹ بھی شامل ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دفتر میں بچوں کی دیکھ بھال کا قابلِ اعتماد انتظام خاص طور پر ملازمت پیشہ ماؤں کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ انہیں اکثر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ بچوں کی نگہداشت، غذائیت اور فلاح و بہبود سے متعلق فکرمندیوں میں بھی توازن قائم کرنا پڑتا ہے۔ اس مرکز میں بچوں کا داخلہ کرانے والے ملازمین نے بتایا ہے کہ اس سہولت سے انہیں اپنے کام پر توجہ مرکوز کرنے میں آسانی ہوئی ہے، کیونکہ انہیں اطمینان ہے کہ ان کے بچوں کی مناسب دیکھ بھال کی جا رہی ہے اور انہیں بھرپور توجہ دی جا رہی ہے۔
کرتویہ بھون-3 میں کیے گئے یہ اقدامات انتظامی نظام میں بہتری کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے مؤثر طرزِ حکمرانی کے وسیع تر مقصد کو تقویت دیتے ہیں۔ اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کام کرنے کا سازگار ماحول ملازمین کو زیادہ یکسوئی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل بناتا ہے، جس سے عوام کو زیادہ مؤثر انداز میں خدمات فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
بچوں کی دیکھ بھال کے اس مرکز کا انتظام گِرِہ کلیان کیندر (جی کے کے) کے سپرد ہوگا، جو محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کے تحت کام کرنے والی ایک سوسائٹی ہے اور مرکزی حکومت کے ملازمین اور ان کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ جی کے کے، دہلی بھر میں بچوں کی دیکھ بھال کے تقریباً چھ دیگر مراکز بھی چلاتی ہے۔ اس نے غیر سرکاری تنظیم ’موبائل کریچز‘ کے ساتھ اشتراک کیا ہے، تاکہ تربیت اور معاونت کے ذریعے اساتذہ اور نگہداشت کرنے والے عملے کی صلاحیتوں کو بہتر بنایا جا سکے اور بچوں کی معیاری دیکھ بھال کے طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔
خون کے عطیہ کیمپ اور بچوں کی دیکھ بھال کے مرکز کا افتتاح، عوامی خدمت، معاشرے کے لیے رضاکارانہ تعاون اور سرکاری ملازمین و ان کے اہلِ خانہ کی ادارہ جاتی معاونت کے باہم مربوط مظاہر ہیں۔ یہ دونوں اقدامات مل کر ’’سیوا سنکلپ‘‘ کے وسیع تر جذبے کی عکاسی کرتے ہیں، جس میں سماجی ذمہ داری کو جواب دہ اور سب کو ساتھ لے کر چلنے والے طرزِ حکمرانی کے عزم کے ساتھ یکجا کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کرتویہ بھون جدید، مؤثر اور شہریوں کو مرکزیت دینے والے انتظامی نظام کے لیے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کام کرنے کا ماحول ملازمین کی ضروریات کے تئیں خیال رکھنے، شمولیت، وقار اور حساسیت کے جذبے کا آئینہ دار ہونا چاہیے۔ انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال کا مرکز قائم کرنے میں محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی)، گِرِہ کلیان کیندر اور اس سے وابستہ تمام افسران کی کوششوں کو سراہا۔
صفائی ستھرائی اور خصوصی مہم 6.0 کے مقاصد سے ہم آہنگ ایک اور اقدام کے تحت، ڈی او پی ٹی نے محکمہ جاتی استعمال کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کو بھی منظوری دی ہے۔ ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی 18 گاڑیوں کو غیرمستعمل قرار دے کر ان کی جگہ الیکٹرک گاڑیاں شامل کی گئی ہیں، جس سے سرکاری امور کی انجام دہی کو زیادہ صاف ستھرا اور پائیدار بنانے میں مدد ملی ہے۔
اس پروگرام میں متعلقہ وزارتوں اور محکموں سے وابستہ سینئر افسران نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمۂ عملہ و تربیت (ڈی او پی ٹی) کی سکریٹری محترمہ رچنا شاہ اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔
****
ش ح۔ع ح۔ج ا
U-6324
(ریلیز آئی ڈی: 2325198)
وزیٹر کاؤنٹر : 11