کامرس اور صنعت کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

تجارت و صنعت کےمرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے عالمی اقتصادی روابط میں ہندوستان کی بڑھتی ہوئی شمولیت اور عالمی ویلیو چین کے ساتھ اس کے گہرے ہوتے انضمام کو اجاگر کیا


اگلے پانچ برسوں میں ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی سالانہ مانگ 150 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے: جناب گوئل

تقریباً 120 سے زائد یونیکورنز کے ساتھ ہندوستان دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بن کر ابھرا ہے: جناب گوئل

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 SEP 2026 9:17PM by PIB Delhi

تجارت و صنعت کےمرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے عالمی معیشت کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے ہوئے روابط اور عالمی ویلیو چینز اور سپلائی چینز میں ملک کی شمولیت کو مضبوط بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔ نئی دہلی میں 13ویں پی اے ایف آئی سالانہ فورم 2026 کے تحت منعقدہ لیڈرشپ ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان ایک ایسی معیشت کی حیثیت سے تجارتی اور اقتصادی شراکت داریوں کے لیے مذاکرات کر رہا ہے، جس کے جلد  30  ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کی توقع ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ ہندوستان آج 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کی حیثیت سے دنیا کے ساتھ مذاکرات کرتا ہے، جب کہ قوتِ خرید کی برابری کی بنیاد پر اس کی معیشت کا حجم تقریباً 20 ٹریلین ڈالر ہے، جس کے لحاظ سے ہندوستان دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے ہندوستان 30 ٹریلین ڈالر کی معیشت بننے کے اپنے تصور کی جانب پیش رفت کرے گا، ان دونوں پیمانوں کے درمیان فرق کم ہوتا جائے گا۔

وزیر موصوف نے کہا کہ تجارتی مذاکرات کے لیے ہندوستان کا طریقۂ کار ملک کی بدلتی ہوئی اقتصادی حیثیت اور عالمی منڈیوں کے ساتھ انضمام کو مضبوط بنانے کے مقصد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وسیع تر اقتصادی شراکت داریاں اشیاء، خدمات، سیاحوں، تعلیمی اداروں اور کھیلوں کے شعبے میں بلارکاوٹ آمدورفت اور تبادلے کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

جناب گوئل نے کہا کہ اس وقت کینیڈا، چلی، پیرو، جنوبی افریقی کسٹمز یونین (ایس اے سی یو)، میکسیکو، مالدیپ، یوریشیا، وسطی ایشیا، روس، خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد عالمی ویلیو چینز اور سپلائی چینز میں ہندوستان کی شرکت کے مواقع کو وسعت دینا اور اشیا و خدمات کی نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں ہندوستان میں سیمی کنڈکٹرز کی کھپت کی مانگ بڑھ کر سالانہ 150 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے پورے ایکو سسٹم میں صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا، جس میں بڑے لسانی ماڈلز اور ایجنٹک ماڈلز شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے ہندوستان کے اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم کی ترقی کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب اسٹارٹ اَپ انڈیا کا آغاز کیا گیا تھا، اس وقت ملک میں تقریباً 400 سے 500 اسٹارٹ اَپس تھے، جب کہ اس کے بعد ہندوستان 120 سے زائد یونیکورنز کے ساتھ دنیا کا تیسرا سب سے بڑا اسٹارٹ اَپ ایکو سسٹم بن چکا ہے۔

جناب گوئل نے کہا کہ اب توجہ اختراع اور ڈیپ ٹیک ایکو سسٹم میں ہندوستانی اسٹارٹ اَپس کو فروغ دینے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اس بات کو بھی اجاگر کیا کہ ہندوستان دنیا کا تیسرا ایسا ملک بن کر ابھرا ہے، جہاں نجی شعبے کے ذریعے تیار کردہ راکٹ کو خلا ء میں بھیجا گیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ہندوستان کی نوجوان آبادی عالمی پیش رفت اور مواقع کے بارے میں تیزی سے باخبر ہو رہی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں کی اس صلاحیت پر اعتماد کا اظہار کیا کہ وہ اپنے مستقبل کے بارے میں باخبر فیصلے کر سکتے ہیں۔

........................................................................................................

) ش ح –م م-ق ر)

U.No- 6313


(ریلیز آئی ڈی: 2325139) وزیٹر کاؤنٹر : 9