سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
سماجی انصاف و تفویض اختیارات کے مرکزی وزارت کےسکریٹری جناب سدھانش پنت نے کرناٹک کے میسورو میں منعقدہ ’شِلپ سماگم میلہ 2026‘ کا دورہ کیا
نو روزہ میلے میں 83 اسٹال لگائے گئے ہیں، جن میں سے 37 خواتین دست کار سمیت 80 اسٹال دست کاروں کو الاٹ کیے گئے ہیں
میلے میں 12 ریاستیں اور مرکز کے زیرانتظام علاقے حصہ لے رہے ہیں
سکریٹری موصوف نے پسماندہ طبقات کے لیے بازار تک بہتر رسائی کو یقینی بنانے، کاروباری سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنے اور معاشی طور پر انہیں بااختیار بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
18 OCT 2026 9:29PM by PIB Delhi
سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی مرکزی وزارت کے سکریٹری جناب سدھانش پنت نے آج شام کرناٹک کے میسورو میں جاری نو روزہ شِلپ سماگم میلہ 2026 کا دورہ کیا۔

یہ میلہ وزارت کے تحت کام کرنے والے تین قومی مالیاتی و ترقیاتی اداروں کے اشتراک سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ جن میں قومی درج فہرست ذاتوں کا مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس ایف ڈی سی)، قومی پسماندہ طبقات کا مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این بی سی ایف ڈی سی) اور قومی صفائی ملازمین کا مالیاتی و ترقیاتی کارپوریشن (این ایس کے ایف ڈی سی) ادارے شامل ہیں۔ مذکورہ ادارے دست کاروں اور اہل مستفیدین کو مالی امداد فراہم کرتے ہیں۔

میسورو دسہرہ نمائش گاہ کے دورے کے دوران سکریٹری موصوف نے مختلف اسٹالس کا معائنہ کیا اور اسٹال منیجروں اور وہاں آئے ہوئے لوگوں سے بات چیت کی۔

مرکزی سکریٹری جناب سدھانش پنت وزارت کے زیرِ عمل اسکیموں، پروگراموں اور اقدامات کا انتظامیہ کے ساتھ مل کر جامع جائزہ لینے کے لیے میسورو کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دوران وہ میسورو میں مختلف مقامات کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

جناب پنت نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات کے ذریعے متعلقہ وزارت پسماندہ طبقات کے لیے بازار تک رسائی کو مزید بہتر بنانے، کاروبار کو فروغ دینے اور انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔

شِلپ سماگم میلہ، 19 اکتوبر بروز پیرتک جاری رہے گا۔ یہ میلہ لوگوں کو بھارت کے روایتی دست کاری کے فن پاروں اور ہینڈلوم مصنوعات کو دیکھنے اور ان سے واقف ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے، ساتھ ہی دست کاروں کے روزگار اور ذریعۂ معاش کو تقویت دینے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

وزارت کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ میلہ 11 اکتوبر سے جاری ہے اور اس کے ذریعے درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) اور صفائی ملازمین سے تعلق رکھنے والے دست کاروں اور مستفیدین کو اپنی روایتی دست کاری کی اشیا، ہینڈلوم مصنوعات اور دیگر سامان وسیع تر صارفین کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک مارکیٹنگ پلیٹ فارم فراہم کیا جا رہا ہے۔

افسر نے بتایا کہ جاری میلے میں کل 83 اسٹال لگائے گئے ہیں، جن میں سے 80 اسٹال دست کاروں کو الاٹ کیے گئے ہیں۔ ان دست کاروں میں 37 خواتین بھی شامل ہیں۔ اس نمائش میں 12 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کے دست کار شرکت کر رہے ہیں، جن میں آندھرا پردیش، بہار، کرناٹک، کیرالہ، راجستھان، پڈوچیری، گجرات، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، تلنگانہ، تمل ناڈو اور اتر پردیش شامل ہیں۔

افسر نے بتایا کہ میلے کے اسٹالس پر مختلف اقسام کی مصنوعات پیش کی گئی ہیں، جن میں دست کاری کی اشیا، ہینڈلوم ساڑھیاں، مصالحے، اچار، اگربتیاں، شہد سے بنی مصنوعات، بلاک پرنٹ والے سامان، چمڑے کی اشیا، لکڑی کے کھلونے، بیگ، پرس، ٹیراکوٹا کی مصنوعات، مصنوعی زیورات، گلاب کی لکڑی سے تیار کردہ دیوار پر لگانے والی آرائشی اشیا اور بستر و کشن کے غلاف شامل ہیں۔ انہوں نے کھانے پینے کے اسٹالس کا بھی دورہ کیا، جہاں روایتی پکوان پیش کیے جا رہے ہیں، جو میلے میں آنے والوں کے تجربے کو مزید خوشگوار بنارہے ہیں۔

افسر موصوف نے مزید بتایا کہ اس میلے کا مقصد دست کاروں کو منڈیوں سے بہتر طور پر جوڑنا، روایتی دست کاری کو فروغ دینا اور روزگار کے پائیدار مواقع پیدا کرنا ہے۔ میلے میں آنے والوں اور ممکنہ خریداروں سے براہِ راست بات چیت کے ذریعے شرکت کرنے والے دست کاروں کو اپنی مصنوعات کی نمائش کرنے، اپنے صارفین کا دائرہ وسیع کرنے اور اپنے کاروبار کی منڈیوں تک رسائی بہتر بنانے کا موقع حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پہل بھارت کے مالا مال ثقافتی ورثے کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ روایتی فنون اور ہنر کے تحفظ میں بھی معاون ہے۔

سینئر افسر نے مزید کہا کہ یہ میلہ وزارت اور اس کے تین قومی کارپوریشنوں کی اسکیموں اور پروگراموں کے بارے میں معلومات عام کرنے کے لیے بھی ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر کام کرتا ہے۔ اس کے ذریعے اہل مستفیدین کو دستیاب مالی امداد اور کاروبار شروع کرنے کے مواقع کے بارے میں جاننے میں مدد ملتی ہے۔
افسر نے بتایا کہ وزارت نے دست کاروں کو مفت اسٹال فراہم کرکے اور مروجہ انتظامات کے مطابق سفری اخراجات، یومیہ الاؤنس، سامان کی نقل و حمل اور کھانے پینے کے اخراجات میں مدد کر کے میلے میں ان کی شرکت کو آسان بنایا ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میلے کے علاوہ وزارت ’بھارت ٹیولپ‘ (روایتی دست کاروں کی ترقی اور ذریعۂ معاش کا پروگرام) کی پہل کو بھی فروغ دے رہی ہے۔ اس کا مقصد ہدفی گروپ کے دست کاروں کی تیار کردہ مصنوعات کو بھارت اور بیرونِ ملک ڈیجیٹل پلیٹ فارمس کے ذریعے فروخت کرنے کے مواقع بڑھانا ہے۔ ’بھارت ٹیولپ‘ کے تحت مصنوعات کی برانڈنگ سے ان کی شناخت اور تشہیر کو بہتر بنانے، آن لائن فروخت کو آسان بنانے اور روایتی دست کاروں کو صارفین کے وسیع تر حلقے سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔
مذکورہ وزارت 2022 سے شِلپ سماگم میلوں کا انعقاد کر رہی ہے۔ اب تک منعقد کیے گئے 13 میلوں سے 975 دست کار مستفید ہو چکے ہیں۔
میسورو میں جاری میلہ مالی سال 2026-27 کا پہلا شِلپ سماگم میلہ ہے۔
متعلقہ وزارت نے رواں مالی سال کے دوران مزید میلوں کے انعقاد کی تجویز بھی پیش کی ہے، جن میں گوہاٹی میں 21 سے 28 اکتوبر 2026 تک، نئی دہلی کے دلی ہاٹ، جودھ پور اور لکھنؤ میں میلے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، مذکورہ وزارت 14 سے 27 نومبر 2026 تک نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے انڈیا انٹرنیشنل ٹریڈ فیئر 2026 اور فروری 2027 میں منعقد ہونے والے سورج کنڈ میلے جیسی بڑی نمائشوں میں بھی شرکت کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(ش ح –ش م-ع ن)
U. No. 6287
(ریلیز آئی ڈی: 2325011)
وزیٹر کاؤنٹر : 10