ارضیاتی سائنس کی وزارت
آئی آئی ٹی ایم نے کلائمیٹ سائنس ان ٹو سروسز فار انڈیا فورم ( سی ایس ایس آئی ایف) پر پہلی اسٹیک ہولڈر مشاورتی میٹنگ کی میزبانی کی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 OCT 2026 3:45PM by PIB Delhi
جھلکیاں:
کلائمیٹ سائنس ان سروسز فار انڈیا فورم (سی ایس ایس آئی ایف) کی پہلی اسٹیک ہولڈر مشاورتی میٹنگ 17 اکتوبر 2026 کو آئی آئی ٹی ایم، پنے میں منعقد ہوئی۔
میٹنگ میں پالیسی سے متعلق معلومات اور باخبر فیصلہ سازی میں مدد کے لیے ماحولیاتی سائنس کو عملی خدمات سے مربوط کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔
تکنیکی سیشن میں موسم اور آب و ہوا کی مصنوعات، آب و ہوا کے ماڈلز، ڈیٹا اور ملک کے لیے کلائمیٹ سروسز انفارمیشن سسٹم ( سی ایس آئی ایس ) کی ضرورت کا احاطہ کیا گیا۔
شعبہ جاتی مشاورت میں صحت سے متعلق موضوعاتی گروپوں کو شامل کیا گیا جس میں موسمیاتی انتہاؤں کے اثرات، توانائی اور مالیات، آب و ہوا کے تخمینے اور خدمات پر خصوصی توجہ دی گئی ۔
موضوعاتی سیشن نے شعبے کی مخصوص آب و ہوا کی معلومات کی ضروریات اور ایپلی کیشنز پر ذہن سازی اور بات چیت کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔
آئی آئی ٹی ایم پنے؛ 17 اکتوبر 2026: وزارتِ ارضیاتی سائنس کے تحت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹروپیکل میٹرولوجی ( آئی آئی ٹی ایم) ، پنے نے 17 اکتوبر 2026 کو اپنے پنے کیمپس میں 'کلائمیٹ سائنس ان ٹو سروسز فار انڈیا فورم‘ ( سی ایس ایس آئی ایف) کی پہلی اسٹیک ہولڈر مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا۔ اس اجلاس میں ملک کی مختلف ریاستوں کے 80 سے زائد اداروں کے 150 سے زیادہ شرکاء نے شرکت کی، جن میں سرکاری وزارتوں اور محکموں، آپریشنل ایجنسیوں، تحقیقی و تعلیمی اداروں، غیر سرکاری تنظیموں، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز شامل تھے۔
اس مشاورت میں متعلقہ موسمیاتی خدمات کو تیار کرنے اور مختلف شعبوں میں موسم اور آب و ہوا کی معلومات کے اطلاق کو مضبوط بنانے میں موسمیاتی سائنس کے کردار پر توجہ مرکوز کی گئی ۔
پروگرام کا آغاز معزز مہمانوں کے استقبال اور تہنیت سے ہوا، جس کے بعد آئی آئی ٹی ایم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اے سوریا چندر راؤ نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر وی کے دادھوال نے بطور مہمانِ خصوصی شرکاء سے خطاب کیا۔ سینٹر فار کلائمیٹ چینج ریسرچ، آئی آئی ٹی ایم کی پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر سورنا فڑنویس نے اسٹیک ہولڈر مشاورتی میٹنگ کا ایک جائزہ پیش کیا۔
تکنیکی اجلاس میں ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن کے کلائمیٹ ایپلی کیشنز اینڈ سروسز ڈویژن کے سابق چیف ڈاکٹر روپا کمار کولی نے ملک کے لیے 'کلائمیٹ سروسز انفارمیشن سسٹم' کی ضرورت پر ایک تعارفی تقریر کی۔ وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے سائنسداں جناب امردیپ راجو نے پالیسی سے متعلق موسمیاتی تبدیلی کی معلومات کی ضرورت پر خطاب کیا ۔ اس سیشن میں آئی آئی ٹی ایم - ایم او ای ایس کے موسم اور آب و ہوا سے متعلق پروڈکٹس اور کلائمیٹ ماڈلز، ڈیٹا اور پروڈکٹس کا بھی احاطہ کیا گیا، جسے سی سی سی آر، آئی آئی ٹی ایم کی سینئر سائنسداں ڈاکٹر سوپنا پنیکل نے پیش کیا۔
شعبہ جاتی مشاورت میں مخصوص موضوعاتی گروپ شامل کیے گئے تاکہ شعبہ جات کے لحاظ سے درپیش چیلنجز میں ماحولیاتی سائنس کے اطلاق پر غور و فکر اور باہمی گفت و شنید کو فروغ دیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی موسمیاتی شدت جیسے کہ شدید بارشوں، گرمی کی لہروں اور جنگل کی آگ پر خصوصی توجہ دی گئی؛ توانائی اور فنانس، بشمول قابلِ تجدید توانائی کی منتقلی، انشورنس اور معاشی خطرات کا جائزہ؛ اور موسمیاتی پیش گوئیاں و خدمات، جن میں سمندری گرمی کی لہروں ، سمندری پیداواری صلاحیت، ساحلی خطرات اور مشاہدات کو خدمات میں تبدیل کرنے کے فریم ورک کا احاطہ کیا گیا۔
شعبہ وار موضوعاتی مشاورت کے ذریعے، اسٹیک ہولڈروں نے اپنی موسمیاتی معلومات کی ضروریات، آپریشنل چیلنجز اور توقعات کو اجاگر کیا، جبکہ آئی آئی ٹی ایم کی موسمیاتی تحقیق، ڈیٹا سیٹس اور پروڈکٹس اور ان کو مفید و قابلِ عمل موسمیاتی خدمات میں تبدیل کرنے کے امکانات کے بارے میں گہری معلومات حاصل کیں۔ اس مشاورت سے سامنے آنے والی کلیدی سفارشات کلائمیٹ سائنس، سروسز، پالیسی اور سماجی ضروریات کے درمیان روابط کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
یہ میٹنگ ہندوستان کے لیے سائنسی طور پر مستحکم، صارف رخی اور شعبہ وار متعلقہ موسمیاتی معلومات اور خدمات تیار کرنے کی سمت میں سی ایس ایس آئی ایف کے تحت ایک مستقل اشتراک کے آغاز کی علامت ہے۔
شرکاء نے بڑی قومی اور ریاستی سطح کی تنظیموں کی ایک وسیع رینج کی نمائندگی کی، جن میں وزارتِ ارضیاتی سائنس، وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی ، انڈیا میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ ، نیول ہیڈ کوارٹرز، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزاسٹر مینجمنٹ ، سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ اسٹیشن ، نیشنل واٹر اکیڈمی، ریزرو بینک آف انڈیا ، نیشنل سینٹر فار میڈیم رینج ویدر فورکاسٹنگ ، نیشنل سینٹر فار پولر اینڈ اوشین ریسرچ ، انڈین نیشنل سینٹر فار اوشین انفارمیشن سروسز، نیشنل سینٹر فار کوسٹل ریسرچ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی ، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمیولوجی اور آئی سی اے آر انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں۔
اس اجلاس میں ریاستی سطح کی تنظیموں کی جانب سے بھی بھرپور شرکت دیکھنے کو ملی ، جن میں اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز، ریاستوں کے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کے محکمے، پنے میونسپل کارپوریشن، کرناٹک اسٹیٹ نیچورل ڈیزاسٹر مانیٹرنگ سینٹر، گوا اسٹیٹ پولیو شن کنٹرول بورڈ، مدھیہ پردیش کلائمیٹ چینج سینٹر، گوا اسٹیٹ کلائمیٹ چینج سیل، آسام کلائمیٹ چینج مینجمنٹ سوسائٹی، بہار موسم سیوا کیندرا اور ملک بھر کی دیگر ریاستی ایجنسیاں شامل ہیں۔
اس مشاورت میں سرکردہ این جی اوز اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندے بھی شامل تھے جیسے کہ 'دی نیچر کنزروینسی انڈیا'، واٹر شیڈ آرگنائزیشن ٹرسٹ ، بی اے آئی ایف ڈیولپمنٹ ریسرچ فاؤنڈیشن، ٹی ای آر آر ای پالیسی سینٹر، سوایم شکشن پریوگ ، ڈیولپمنٹ سپورٹ سینٹر، نام فاؤنڈیشن، ارتھ سائٹ فاؤنڈیشن، جی آر اے اے ایم اور ایکولوجیکل سوسائٹی؛ ان کے ساتھ ساتھ ساوتری بائی پھولے پنے یونیورسٹی، کرسچین میڈیکل کالج ویلور، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز، گوکھلے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹکس اینڈ اکانومکس، کریا یونیورسٹی جیسی یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں کے نمائندے اور آئی آئی ٹی ایم کے سائنسداں بھی شریک ہوئے۔
پروگرام آئی آئی ٹی ایم کے یوٹیوب چینل پر دستیاب ہے: https://youtube.com/live/kOTL91NGmFg?feature=share





(ش ح- ن ا)
U.N:6253
(ریلیز آئی ڈی: 2324764)
وزیٹر کاؤنٹر : 5