ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

 مرکزی وزیرِ ماحولیات کی اسٹارٹ اَپس کے نمائندوں سے ملاقات، دلّی اور قومی راجدھانی خطے میں فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کم خرچ، مؤثر اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کرنے پر زور


پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے اختراع کاروں کے درمیان فاصلے کو کم کرنے اور فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ایک فعال اور پیشگی اقدام: بھوپیندر یادو

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 17 OCT 2026 2:06PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی  بھوپیندر یادو نے آج فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے کام کرنے والے اسٹارٹ اَپس اور اختراعی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کا مقصد ددلّی اور قومی راجدھانی خطہ (این سی آر) میں فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے عملی، مؤثر، بڑے پیمانے پر قابلِ استعمال اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی حل تلاش کرنا تھا۔ یہ ملاقات ’’صاف ستھری ہوا میں حصہ داری، ہم سبھی کی ہے ذمہ داری‘‘ مہم کے تحت مختلف متعلقہ فریقوں سے رابطے اور تبادلۂ خیال کی جاری کوششوں کا حصہ تھی۔اس موقع پر مرکزی وزیر مملکت برائے ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی  تبدیلی کیرتی وردھن سنگھ، حکومتِ ددلّی کے وزیر برائے ماحولیات، جنگلات اور جنگلی حیات سردار منجندر سنگھ سرسا کے علاوہ وزارتِ ماحولیات، جنگلات اور آب وہوا کی تبدیلی (ایم او ای ایف سی سی) ، وزارتِ ہاؤسنگ و شہری امور(ایم او ای یو اے) ، وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود(ایم او اے ایف ڈبلیو)، حکومتِ ددلّی، کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ(سی اے کیو ایم)، مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ(سی پی سی بی) اور ددلّی آلودگی کنٹرول کمیٹی(ڈی پی سی سی) کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

ملاقات میں اس بات پر توجہ مرکوز کی گئی کہ جدید ٹیکنالوجی کو ایسے عملی، کم خرچ اور قابلِ نفاذ حل میں تبدیل کیا جائے جو حقیقی حالات میں مؤثر ثابت ہوں اور آلودگی کے ذرائع پر براہِ راست اور فوری اثر ڈال سکیں۔ بھوپیندر یادو نے فضائی آلودگی کے انتظام سے متعلق نو اہم شعبوں میں مخصوص مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے اختراع کاروں سے تبادلۂ خیال کیا کہ ان کی ٹیکنالوجی کو زمینی سطح پر کس طرح بہتر بنایا، وسیع پیمانے پر استعمال کیا اور نافذ کیا جا سکتا ہے۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اس کوشش کا مقصد فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے پہلے سے جاری اقدامات، مثلاً درجہ وار ردِعمل کا منصوبہ (جی آر اے پی)، صاف ستھرا ایندھن اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا فروغ اور فضائی معیار کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ، آلودگی کے ذرائع پر براہِ راست ٹیکنالوجی کے ذریعے  اقدامات  کو فروغ دینا ہے۔

مجوزہ حل فضائی آلودگی کے انتظام کے تمام اہم مراحل پر محیط تھے، جن میں آلودگی کی شناخت، نگرانی، پیش گوئی، قواعد و ضوابط پر عمل درآمد اور آلودگی میں کمی شامل ہیں۔ ان میں آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام(او سی ای ایم ایس)، فضائی آلودگی پر قابو پانے والے آلات (اے پی سی ڈی)اور آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی)کی جانچ کے نظام کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ بنانے والی ٹیکنالوجی شامل تھی۔اس کے علاوہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) کی مدد سے صنعتی اخراج میں ضابطوں کی خلاف ورزی کی نشاندہی، ایندھن جلنے کی کارکردگی اور ڈیزل جنریٹرز میں اخراج کو کنٹرول کرنے والے آلات کی حقیقی وقت میں نگرانی، نیز تعمیراتی اور انہدامی مقامات پر گردوغبار کی شناخت اور اس پر قابو پانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔سڑکوں کی کم خرچ مشینی صفائی، گاڑیوں کی آمدورفت سے سڑکوں کی گرد دوبارہ فضا میں پھیلنے کی نگرانی، سڑکوں کے گڑھوں کی فوری مرمت اور گردوغبار کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ماڈیولر نظام بھی زیرِ بحث آئے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھوپیندر یادو نے کہا کہ اسٹارٹ اَپس کے ساتھ یہ تبادلۂ خیال ایک نئی اور پیشگی نوعیت کی پہل ہے، جس کا مقصد پالیسی سازوں اور ٹیکنالوجی کے اختراع کاروں کے درمیان فاصلے کو کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کوششوں سے پالیسیوں پر عمل درآمد میں یکسانیت لانے اور حکومتی نظام میں شفافیت بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔ٹیکنالوجی کی مدد سے قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صنعتی اکائیوں کے آن لائن مسلسل اخراج کی نگرانی کے نظام (او سی ای ایم ایس)سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو پلانٹ کے آپریشن سے متعلق معلومات کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے، تاکہ بے ضابطگیوں اور غلط طریقۂ کار کی نشاندہی کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول میں مصنوعی ذہانت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مرکزی وزیر نے شہر بھر میں فضائی معیار کی نگرانی کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے ماحول کے لیے سازگار  گاڑیوں کے استعمال اور ٹریفک کے بہتر انتظام پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ (پی یو سی)کی نگرانی کے نظام کو چھیڑ چھاڑ سے محفوظ بنانے اور مصنوعی ذہانت کی مدد سے ٹریفک جام کے ممکنہ مقامات کی پیش گوئی کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے اسٹارٹ اَپس پر زور دیا کہ وہ فصلوں کی باقیات، ٹھوس کچرے اور تعمیراتی و انہدامی فضلے کے سائنسی اور ماحول کے لیے سازگار  انتظام کے لیے حل تیار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فصلوں کی باقیات، خصوصاً پرالی، کو ذخیرہ کرنے کے لیے وزارتِ زراعت و کسانوں کی بہبود، کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ اور مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کو مل کر رہنما اصول تیار کرنے چاہئیں۔ اس کے ساتھ فصلوں کی باقیات کو کھیت میں ہی مناسب طریقے سے ذخیرہ کرنے کا ماڈل بھی تیار کیا جانا چاہیے۔جناب یادو نے سڑکوں کی گردوغبار پر مؤثر قابو پانے کے لیے سڑکوں کی مرمت کے کام کو تیز رفتار اور زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے بتایا کہ اس ملاقات کا بنیادی مقصد مصنوعی ذہانت، سینسرز، ریموٹ سینسنگ، سیٹلائٹ اور ڈرون پر مبنی ٹیکنالوجی اور ڈیٹا کے تجزیے کو بروئے کار لا کر فضائی آلودگی کی حقیقی وقت میں صورتِ حال کو سمجھنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اختراع کاروں کی جانب سے پیش کیے گئے حل میں مقامی سطح پر فضائی معیار کی نگرانی، پورے شہر میں آلودگی کی نقشہ سازی، آلودگی کے زیادہ اثرات والے مقامات کی نشاندہی اور پیش گوئی، مصنوعی ذہانت کے ذریعے آلودگی کے مختلف ذرائع کا تعین، آلودگی پھیلانے والے ذرائع کی فوری شناخت اور ٹریفک جام کی پیشگی پیش گوئی و انتظام شامل ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ایسی ٹیکنالوجی بھی پیش کی گئی جو چوبیس گھنٹے فصلوں کی باقیات اور دیگر حیاتیاتی مادّوں کو کھلے عام جلانے کے واقعات کی نشاندہی کر سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے خودکار نظام بھی دکھائے گئے جو درست اور مؤثر آلودگی کنٹرول سرٹیفکیٹ( پی یو سی)کے بغیر چلنے والی گاڑیوں اور مقررہ مدت سے زیادہ پرانی گاڑیوں کی شناخت کر سکتے ہیں۔ ان ٹیکنالوجیز سے بروقت کارروائی اور مؤثر نگرانی کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

 

مرکزی وزیر نے فضائی آلودگی کے مسئلے میں کچرے اور فصلوں کی باقیات کے کردار سے نمٹنے کے لیے پیش کیے گئے حل کا بھی ذکر کیا۔ ان میں ایسی ٹیکنالوجی پر مبنی نظام شامل تھے جو تعمیراتی اور انہدامی فضلے سے تیار کردہ ری سائیکل مصنوعات کو تعمیراتی شعبے کی ضروریات سے جوڑ سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ بلدیاتی ٹھوس کچرے کے انتظام اور دھان کی پرالی کو جمع کرنے، منتقل کرنے اور مفید مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے مربوط نظام بھی پیش کیے گئے۔ان نظاموں کے ذریعے پرالی کو بایو انرجی، بایوماس ایندھن، کھاد بنانے اور ماحول کے لیے سازگار  پیکیجنگ جیسی دیگر قیمتی مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے کھیتوں میں پرالی جلانے کی ضرورت کم کرنے میں مدد ملے گی۔فصلوں کی باقیات سے مختلف مصنوعات تیار کرنے اور بایوچار پر مبنی حل پیش کرنے والے اسٹارٹ اَپس نے بھی یہ امکانات اجاگر کیے کہ زرعی باقیات کو کچرا سمجھ کر ضائع کرنے کے بجائے مفید اور پیداواری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جناب  یادو نے مزید بتایا کہ اجلاس میں شریک اختراع کاروں نے مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، انٹرنیٹ آف تھنگز (آئی او ٹی)پر مبنی ماحولیاتی نگرانی، آلودگی کے اعداد و شمار کے تجزیے، ڈرون کے ذریعے فضائی نقشہ سازی، ریموٹ سینسنگ، جدید سینسر نظام اور آلودگی کے ذرائع پر براہِ راست قابو پانے والی ٹیکنالوجیز میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ اس ملاقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے الگ الگ ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے کے بجائے ایسے مربوط، قابلِ توسیع اور معاشی طور پر قابلِ عمل حل اپنانے کی ضرورت ہے جنہیں ددلّی اور قومی راجدھانی خطے میں بڑے پیمانے پر نافذ کیا جا سکے۔انہوں نے اختراع کاروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی ٹیکنالوجیز کو زمینی سطح پر درپیش واضح ضروریات کے مطابق تیار کریں اور مناسب نفاذ و نگرانی کے نظام کے ذریعے کامیاب حل کو بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے امکانات تلاش کریں۔

یہ رابطہ کاری حکومت، ٹیکنالوجی کے اختراع کاروں اور زمینی سطح پر عمل درآمد کرنے والے اداروں کو جن بھاگیداری کے تحت یکجا کرنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ دلّی اور قومی راجدھانی خطے میں فضائی آلودگی کے سنگین مسئلے سے نمٹنے کے لیے قابلِ عمل اور مؤثر حل تیار کیے جا سکیں۔

*********

ش ح-ا ع خ    ۔ر  ا

U-No- 6250


(ریلیز آئی ڈی: 2324671) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , Bengali , Tamil