وزارت آیوش
آئی ٹی آر اے، جام نگر نے اپنا چھٹا یومِ تاسیس ’’آئی ٹی آر اے ڈے‘‘ کے طور پر منایا، اس موقع پر آیوروید کی تعلیم، تحقیق اور صحتِ عامہ کے شعبوں میں ادارے کی نمایاں کامیابیوں کو اجاگر کیا گیا
قومی اہمیت کے ادارے کا درجہ حاصل کرنے والے اس آیوروید ادارے نے تعلیم، طبی خدمات اور تحقیق کے ذریعے روایتی طب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 9:55PM by PIB Delhi
انسٹی ٹیوٹ آف ٹیچنگ اینڈ ریسرچ اِن آیوروید (آئی ٹی آر اے)، جام نگر کے چھٹے یومِ تاسیس کے موقع پر ’’آیو ٹیک نوونمیش 2026‘‘ کے تحت ’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آیوروید‘‘ کے موضوع پر ایک قومی کانفرنس منعقد کی گئی۔ کانفرنس میں آیوروید کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مربوط کرنے، تحقیق میں مصنوعی ذہانت کے کردار اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں اس کے ذمہ دارانہ استعمال کے امکانات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اس موقع پر آئی ٹی آر اے کے چینل آیوش نیکسٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک (اے این سی این) سے گفتگو کرتے ہوئے، عالمی ادارۂ صحت کے روایتی طب کے عالمی مرکز (ڈبلیو ایچ او-جی ٹی ایم سی) کے شعبۂ تحقیق، ڈیٹا اور اختراع کی سربراہ ڈاکٹر گیتا کرشنن نے کہا:
’’مصنوعی ذہانت (اے آئی) میں آیوروید کو بہتر طور پر سمجھنے اور اس کے اطلاق کو مزید مؤثر بنانے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ تاہم، کسی بھی نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے سے پہلے آیوروید کے بنیادی سائنسی اصولوں کو گہرائی سے سمجھنا ضروری ہے۔ اے آئی کو آیوروید کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ اس کے بنیادی علم اور حکمت کا متبادل بنایا جانا چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی کے امکانات تلاش کرتے ہوئے آیوروید کی صداقت کو برقرار رکھنا آیوروید کی عالمی برادری کی اہم ذمہ داری ہے۔ متوازن نقطۂ نظر اپنا کر ہم آیوروید کے بنیادی اصولوں سے سمجھوتہ کیے بغیر مصنوعی ذہانت کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ روایت اور اختراع کے درمیان درست توازن قائم کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ہم آیوروید کو بامعنی، مؤثر اور پائیدار انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں۔‘‘
آئی ٹی آر اے، جام نگر کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنوجا نیساری نے کہا کہ ’’آیو ٹیک نوونمیش 2026‘‘ آیوروید کے مستقبل کے لیے اختراع اور تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس نے روایتی آیورویدک علم اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان مکالمے کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کیا۔ اس کے ساتھ ہی آیوروید میں تحقیق، تعلیم، ادویہ کی ترقی اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کے اخلاقی، سائنسی اور عملی پہلوؤں پر مزید غور و خوض کی راہ ہموار ہوئی۔
عالمی ادارۂ صحت کے صدر دفتر میں ڈیجیٹل صحت اور اختراع کے شعبے میں رہنما (اے آئی لیڈ ) جناب سمیر پجاری نے علم کے تحفظ میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے صحت کے شعبے میں اے آئی کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے عالمی ادارۂ صحت، بین الاقوامی ٹیلی مواصلاتی یونین (آئی ٹی یو) اور عالمی ادارۂ دانشورانہ ملکیت (ڈبلیو آئی پی او) کے درمیان 2018 سے جاری عالمی تعاون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت سے وابستہ خطرات اور چیلنجوں پر بھی تبادلۂ خیال کیا، جن میں اخلاقی مسائل، ڈیٹا کی رازداری اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں شامل ہیں۔ انہوں نے روایتی ادویات کے تناظر میں ان پہلوؤں کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
وزارتِ آیوش میں آیوش گرڈ کے آفیسر آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) جناب نمن گوئل نے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ (ایم ایل) کے بنیادی تصورات، ان کے استعمال اور طریقۂ کار پر روشنی ڈالی۔ اس میں ڈیٹا جمع کرنے، اس کی پروسیسنگ، ماڈل کی تربیت، جانچ اور پیش گوئی جیسے اہم مراحل شامل تھے۔ آیوش گرڈ کے تحت مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹس اور اہم ڈیجیٹل ٹولز بھی پیش کیے گئے۔ پریزنٹیشن میں ڈیجیٹل صحت کی خدمات کو مضبوط بنانے اور ٹیکنالوجی پر مبنی آیوش خدمات کو فروغ دینے میں ان ٹولز کے اہم کردار کو اجاگر کیا گیا۔
کانفرنس کا مقصد آیوروید کے وسیع روایتی علم کو جدید ڈیجیٹل ٹیکنالوجی سے مربوط کرنا اور تحقیق، اختراع اور صحت کی دیکھ بھال کی خدمات میں نئے امکانات کو فروغ دینا تھا۔ آیوروید کے اسکالرز، محققین، ماہرینِ تعلیم، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور قومی و بین الاقوامی مندوبین نے مصنوعی ذہانت کے مؤثر، اخلاقی اور سائنسی استعمال سے متعلق اجلاسوں میں بالمشافہ اور آن لائن شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات پیش کیے۔ ان مباحث میں آیورویدک ادویہ کی تحقیق و ترقی، معیار کو یقینی بنانا، طبی آزمائشوں اور تعلیم میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ استعمال کا جائزہ لیا گیا۔ اس دوران روایتی علم کو جدید ڈیٹا پر مبنی طریقوں سے مربوط کرنے، تحقیق کو زیادہ مؤثر بنانے، نئی مصنوعات کی ترقی کو فروغ دینےاور ٹیکنالوجی پر مبنی صحت کی دیکھ بھال کی خدمات کو فروغ دینے پر خصوصی زور دیا گیا۔
موضوعاتی اجلاس اور ماہرین کی شرکت
مندرجہ ذیل موضوعات پر اجلاس اور ماہرین کے مباحثے منعقد ہوئے:
- مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل علم اور روایتی طبی نظاموں میں عالمی تبدیلیاں
- آیوروید کے لیے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت: اخلاقیات، سائنسی شواہد اور اختراع
- اے آئی پر مبنی آیوروید کی صلاحیت: روایتی طریقوں سے ذہین طبی خدمات یا مصنوعی ذہانت سے معاون صحت خدمات تک
- آیوروید میں اختراع، مصنوعات کی تیاری اور ذمہ دارانہ طبی آزمائشوں کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال
مختلف معروف قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ماہرین نے کلیدی اور اہم مقررین کی حیثیت سے شرکت کی۔ ان میں پروفیسر شبھدا ناگرکر (پروفیسر و سربراہ، شعبۂ لائبریری و اطلاعاتی سائنس، اور کوآرڈینیٹر، سینٹر فار پبلی کیشن ایتھکس (سی پی ای)، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی)، ڈاکٹر راجیو واسودیون (بانی، منیجنگ ڈائریکٹر اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر، اپولو آیوروید ہاسپٹلز، بنگلورو) اور ڈاکٹرسمر سنگھ (ایسوسی ایٹ پروفیسر، شعبۂ ڈیزائن، آئی آئی ٹی دہلی) شامل تھے۔
آیوروید اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے دیگر مقررین میں ڈاکٹر ماکی کاجیوارا (ٹیکنیکل آفیسر، ڈبلیو ایچ او-جی ٹی ایم سی)، ڈاکٹر گریش ٹیلو (پرنسپل انویسٹی گیٹر-آیوش، سینٹر آف ایکسی لینس، محکمۂ صحت سائنس، ساوتری بائی پھولے پونے یونیورسٹی)، ڈاکٹر سندیپ کالے (اسسٹنٹ پروفیسر، شعبۂ رس شاستر و وکریتی وگیان، آر اے پودر گورنمنٹ آیوروید میڈیکل کالج، ممبئی)، ڈاکٹر راجیشوری سنگھ (سینئر ایڈوائزر، ڈیٹا، ڈیجیٹل ہیلتھ، اینالیٹکس اور اے آئی، ہیلتھ سسٹمز ڈویژن، ڈبلیو ایچ او، سوئٹزرلینڈ)، پروفیسر ڈاکٹر متالی مکھرجی (پروفیسر، شعبۂ بایوسائنسز و بایو انجینئرنگ، آئی آئی ٹی جودھ پور)، ڈاکٹر سنتوش دکشت (پرنسپل ڈومین ایکسپرٹ، ہیلتھ کیئر اینڈ لائف سائنسز، پرسینٹ سسٹمز) اور ڈاکٹر گنیش کارائیکھیڑے (ہیلتھ کیئر ڈومین ایکسپرٹ، اے آئی کیو ٹی گروپ، سی-ڈیک، پونے) اور ڈاکٹر بالا پیسالا، بانی اور سی ای او،( Ayur.AI)شامل تھے۔
آئی ٹی آر اے، جام نگر کا چھٹا یومِ تاسیس 15 اکتوبر 2026 کو ’’آئی ٹی آر اے ڈے‘‘ کے طور پر منایا گیا۔ اس موقع پر تزویراتی مفاہمت ناموں پر دستخط، باہمی تعاون کے اقدامات، ماہرین کے خطابات، مصنوعی ذہانت اور آیوروید پر مباحثے، نیز ادارہ جاتی اعزازات اور انعامات کی تقریبات منعقد ہوئیں۔
آئی ٹی آر اے ملک کا پہلا آیوروید ادارہ ہے جسے قومی اہمیت کے ادارے کا درجہ دیا گیا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 15 اکتوبر 2020 کو اسے قوم کے نام وقف کیا تھا۔ گزشتہ چھ برسوں کے دوران، اس کے نیشنل ایکریڈیٹیشن بورڈ فار ہاسپٹلز (این اے بی ایچ) سے منظور شدہ 300 بستروں والے اسپتال نے 22 بیرونی مریضوں کے شعبوں (او پی ڈی) کے ذریعے 18,47,807 مریضوں کو مشاورت اور علاج کی سہولت فراہم کی، جب کہ اندرونِ مریض شعبے (آئی پی ڈی) میں 27,520 مریضوں کا علاج کیا گیا۔
ادارے نے اپنے سرکاری ٹی وی چینل، آیوش نیکسٹ کمیونیکیشن نیٹ ورک (اے این سی این)، کا پہلا سال بھی مکمل کیا۔ یہ ادارہ آیوروید، آیورویدک فارمیسی، یوگا اور نیچروپیتھی کے کورسز بھی پیش کرتا ہے۔
اس کانفرنس نے ذمہ دارانہ مصنوعی ذہانت کے استعمال کے ذریعے آیوروید کو آگے بڑھانے کے لیے آئی ٹی آر اے کے عزم کو مزید مستحکم کیا، تاکہ روایت اور اختراع ساتھ ساتھ آگے بڑھ سکیں۔


***
UR-6247
(ش ح۔اس ک )
(ریلیز آئی ڈی: 2324633)
وزیٹر کاؤنٹر : 6