سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

نشے کی لت سے نجات اور بحالی تک


آشا رام کا نئی امید اور سماجی بحالی کی جانب سفر

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 16 OCT 2026 3:52PM by PIB Delhi

جناب رمیش کمار (تبدیل شدہ نام) کا تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ بروقت مداخلت اور ہمدردانہ بحالی کے اقدامات افراد کو نشے کی لت سے نکلنے اور صحت مند و باوقار زندگی کی جانب بڑھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

مدھیہ پردیش کے ضلع منڈلا میں واقع سیدھانتک نشہ چھڑانے کے مرکز میں این اے پی ڈی ڈی آر  کے تحت ملنے والی مدد کے ذریعے انہوں نے نئی امید، بہتر صحت اور سماج میں دوبارہ انضمام کی جانب بامعنی پیش رفت کی ہے۔ ان کی کہانی ایسے جامع خدمات کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے جو نشے سے نجات کے عمل میں معاون ثابت ہوتی ہیں اور افراد کو اپنے خاندانوں اور برادریوں سے دوبارہ جڑنے میں مدد دیتی ہیں۔

55 سال کی عمر میں، مدھیہ پردیش کے ضلع منڈلا کے رہائشی جناب رمیش کمار کو طویل عرصے تک نشہ آور اشیا کے استعمال کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ درج فہرست ذات (ایس سی) برادری سے تعلق رکھنے والے اور مڈل اسکول تک تعلیم حاصل کرنے والے رمیش کمار بے روزگار تھے۔ اس دوران ان کی جسمانی و ذہنی صحت، مالی استحکام اور خاندانی تعلقات متاثر ہوئے۔ انہیں افسردگی، سماجی تنہائی اور بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواریوں کا بھی سامنا تھا۔

نشہ آور اشیا پر انحصار نے ان کی توجہ مرکوز کرنے اور یادداشت کی صلاحیت کو متاثر کیا، جس کے باعث روزمرہ زندگی پر دوبارہ قابو پانا ان کے لیے مشکل ہو گیا۔ ان کے مالی وسائل کا ایک بڑا حصہ اکثر نشہ آور اشیا پر خرچ ہو جاتا تھا، جس سے ان کی معاشی مشکلات مزید بڑھ جاتی تھیں۔ نشے کی لت سے وابستہ سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک نے بھی ان کی پریشانیوں میں اضافہ کیا اور انہیں بروقت مدد حاصل کرنے سے روکا۔ خاندانی تعلقات میں کشیدگی اور سماجی بے دخلی نے ان مشکلات کو مزید سنگین بنا دیا۔

ان کی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب انہیں مدھیہ پردیش کے ضلع منڈلا میں سیدھانتک شکشا سمیتی کے زیرِ انتظام سیدھانتک نشہ چھڑانے کے مرکز میں مدد حاصل ہوئی۔ یہ مدد منشیات کی طلب میں کمی کے قومی ایکشن پلان (این اے پی ڈی ڈی آر) کے تحت فراہم کی گئی۔ 7 مئی 2026 کو انہوں نے نشے پر انحصار سے متعلق طبی، نفسیاتی، جذباتی اور سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع معاونت حاصل کرنا شروع کی۔

مرکز نے انہیں مفت اور منظم خدمات فراہم کیں، جن میں جسم سے نشہ آور مادوں کے اثرات ختم کرنے کے لیے طبی علاج، انفرادی مشاورت، ادراکی رویہ جاتی تھراپی (سی بی ٹی)، خاندانی تھراپی، بحالی کی سرگرمیاں اور صحت یابی کے دوران محفوظ رہائش شامل تھیں۔ مشاورت اور علاج کے مختلف طریقوں کے ذریعے انہیں نشے پر انحصار کے اثرات سمجھنے، جذباتی پریشانیوں سے نمٹنے اور مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے صحت مند طرزِ عمل اپنانے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔

خاندانی مشاورت اور آگاہی نے باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط بنانے اور ان کی صحت یابی کے لیے معاون ماحول فراہم کرنے میں مدد کی۔ گروپ تھراپی اور دوبارہ نشے کی لت میں مبتلا ہونے سے بچاؤ کی تربیت کے ذریعے انہیں اپنا اعتماد بحال کرنے، زندگی گزارنے کے لیے ضروری مہارتیں سیکھنے اور ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کی تیاری میں مدد ملی جو ان کی پیش رفت کو متاثر کر سکتی تھی۔ اس جامع طریقۂ کار نے نہ صرف ان کے علاج بلکہ ان کی جذباتی صحت، خاندانی تعلقات کی بہتری اور سماج میں دوبارہ انضمام میں بھی معاونت فراہم کی۔

مرکز کی معاونت سے جناب رمیش کمار نے نشے کی لت سے نجات اور صحت یابی کی جانب حوصلہ افزا پیش رفت کی ہے۔ ان کی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری آئی ہے اور انہوں نے جذباتی استحکام اور خود اعتمادی بھی دوبارہ حاصل کی ہے۔ ان کے خاندانی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے، جس سے انہیں زیادہ مستحکم اور سماجی طور پر مربوط زندگی کی جانب بڑھنے میں مدد ملی ہے۔

اگرچہ وہ اب بھی بے روزگار ہیں، تاہم صحت یابی کے عمل نے انہیں دوبارہ خود اعتمادی حاصل کرنے اور روزگار کے مستقبل کے مواقع کے لیے خود کو تیار کرنے میں مدد دی ہے۔ ان کا سفر اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ نشے کی لت پر قابو پانے اور زندگی کو ازسرِنو سنوارنے میں نشہ چھڑانے کی قابلِ رسائی خدمات، پیشہ ورانہ مشاورت، خاندان کی شمولیت اور مسلسل بحالی کے اقدامات   افراد کے لیے کتنے اہم ہیں۔

***

ش ح۔ ا ک۔ ر ب

U.NO.6212


(ریلیز آئی ڈی: 2324395) وزیٹر کاؤنٹر : 6
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी