الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹکنالوجی کی وزارت
بھاشینی اور آئی آئی ایس سی بنگلورکی پہل: سوراشٹر زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ ماڈل کی تیاری
مصنوعی ذہانت پر مبنی نئی اسپیچ ٹیکنالوجی سے کم وسائل والی ہندوستانی زبان تک ڈیجیٹل رسائی، اس کے تحفظ اور وسیع تر استعمال کو فروغ ملے گا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
16 OCT 2026 2:32PM by PIB Delhi
کم وسائل والی ہندوستانی زبانوں کے لیے اسپیچ ٹیکنالوجی کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت کے تحت الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) کے ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) نے بنگلورکے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (آئی آئی ایس سی) کے اشتراک سے سوراشٹر زبان کے لیے ٹیکسٹ ٹو اسپیچ (ٹی ٹی ایس) ماڈلز تیار کیے ہیں۔ یہ کم وسائل رکھنے والی ہند نژاد ہند -آریائی زبانوں کے لیے لسانی ٹیکنالوجی کو مضبوط بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ سوراشٹر زبان بنیادی طور پر تمل ناڈو میں آباد اقلیتی سوراشٹر برادری کی زبان ہے۔
اس اقدام کا مقصد ان زبانوں کے لیے اسپیچ ٹیکنالوجی کی دستیابی کو وسعت دینا ہے جن کے ڈیجیٹل وسائل محدود ہیں، تاکہ انہیں ڈیجیٹل ایپلی کیشنز، زبان سیکھنے، سہولت کاری کے حل، دستاویز بندی اور تحقیق کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
نئے تیار کردہ ماڈلز میں وی آئی ٹی ایس (ویریشنل انفرینس ود ایڈورسریل لرننگ فار اینڈ ٹو اینڈ ٹیکسٹ ٹو اسپیچ) ساخت استعمال کی گئی ہے۔ یہ ماڈلز تحریری متن کو براہِ راست سوراشٹر زبان کے تکلم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں مرد اور خاتون، دونوں کی آوازیں شامل ہیں اور ہر آواز میں تمل رسم الخط اور سوراشٹر رسم الخط میں لکھے گئے متن کو آواز میں تبدیل کرنے کی سہولت دستیاب ہے۔ اس طرح صارفین زبان کے لیے رائج دونوں رسم الخط میں سوراشٹر زبان کی عبارت کو استعمال کر سکتے ہیں۔
ان ماڈلز کی تربیت کے لیے سوراشٹر زبان کےخصوصی اسپیچ کارپس کواستعمال کیا گیا، جسے بنگلورکے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس کی اسپائر لیب نے تیار کیا ہے۔ اس کارپس میں 28 گھنٹے سے زیادہ کے تکلم کی ریکارڈنگ شامل ہے، جن میں مردانہ اور نسوانی آوازوں کا تناسب متوازن رکھا گیا ہے۔ ان ریکارڈنگز میں ایک مرد اور ایک خاتون وائس آرٹسٹ کی آوازیں شامل ہیں۔ کارپس میں خود ساختہ جملوں کے ساتھ ساتھ ادب سے اخذ کردہ جملے بھی شامل ہیں، جن کی تحریری شکل سوراشٹر اور تمل، دونوں رسم الخط میں دستیاب ہے۔
اے آئی کوش :بھاشینی کا اے آئی کوش پلیٹ فارم ایسے لسانی ڈیٹاسیٹ اور وسائل تک رسائی فراہم کرتا ہے جو ہندوستانی زبانوں کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں معاون ہیں۔ اب ایس پی آئی سی او آر- ٹی ٹی ایس 3.0سوراشٹر کارپس بھی اے آئی کوش پر دستیاب ہے۔ اس میں بنگلور کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں تیار کردہ سوراشٹر زبان کے 28 گھنٹے سے زیادہ کے متوازن تکلم کے ڈیٹا کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کارپس میں متنوع موضوعات اور ادبی مواد دونوں سوراشٹر اور تمل اسکرپٹ میں موجود ہیں، جو سوراشٹر زبان کے لیے نئی ٹیکنالوجی کی تیاری میں معاون ثابت ہوں گے۔
مردانہ آواز پر مبنی ماڈل کی تربیت تقریباً 10,000 جملوں، جبکہ نسوانی آواز پر مبنی ماڈل کی ٹریننگ تقریباً 11,400 جملوں کی مدد سے کی گئی ہے۔ ان ماڈلز کی تیاری کے لیے اسپیچ کارپس اور اس سے متعلق ٹیکسٹ ڈیٹا کو احتیاط سے مرتب کرنے کے ساتھ واضح اور درست بھی کیا گیا۔
یہ ماڈلز 22,050 ہارٹز کی آڈیو فریکوئنسی پر مرتب ہیں اور حروف کی سطح پر براہِ راست متن کو پروسیس کرتے ہیں، جس کے باعث الگ سے فونیمائزر کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ ان چار ماڈلز میں دو مختلف آوازیں شامل ہیں اور ہر آواز کا ماڈل تمل رسم الخط اور سوراشٹر رسم الخط، دونوں میں دستیاب ہے۔
سال2011 کی مردم شماری کے مطابق سوراشٹر زبان بولنے والوں کی تعداد تقریباً 2.48 لاکھ ہے۔ اس زبان کی ڈیجیٹل دنیا میں موجودگی نسبتاً محدود ہے اور اس کے لیے اسپیچ ٹیکنالوجی کے وسائل بھی کم دستیاب ہیں۔ ان ماڈلز کی تیاری محض زبان کے تحفظ تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد سوراشٹر زبان کو ڈیجیٹل نظام کا حصہ بنانا بھی ہے۔
یہ ٹیکنالوجی سوراشٹر زبان بولنے والی برادری کو اپنی زبان میں ڈیجیٹل مواد تک رسائی فراہم کرنے، طلبہ اور زبان سیکھنے والوں کے لیے آواز پر مبنی تعلیمی وسائل تیار کرنے اور ایسے صارفین کی سہولت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے جو ڈیجیٹل مواد سن کر استفادہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان ماڈلز اور بنیادی تکلم کے وسائل کی دستیابی محققین، ڈیولپر اور اداروں کو تعلیم، سہولت کاری اور عوامی خدمات سے متعلق ڈیجیٹل ایپلی کیشن سمیت مختلف شعبوں میں سوراشٹر زبان کی مزید ٹیکنالوجیز تیار کرنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔
یہ ماڈلز سوراشٹر زبان کی عبارت کو آواز میں پڑھنے، زبان سیکھنے، خصوصی ضروریات والے صارفین کے لیے سہولیتی حل تیار کرنے اور محدود وسائل والی زبانوں میں اسپیچ سینتھیسس پر تحقیق جیسے کاموں میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس طرح سوراشٹر اور دیگر ایسی ہندوستانی زبانوں کے لیے ڈیجیٹل وسائل کی ترقی کو بھی فروغ ملے گا جنہیں ڈیجیٹل دنیا میں اب تک خاطر خواہ نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی ہے۔
تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری سے بھاشینی ہندوستانی زبانوں کے ڈیٹاسیٹس، اسپیچ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی لسانی حل کے نظام کو مسلسل مضبوط بنا رہا ہے، بالخصوص ان زبانوں کے لیے جن کی ڈیجیٹل دنیا میں نمائندگی محدود ہے۔
ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ڈویژن (ڈی آئی بی ڈی) کے بارے میں
ڈیجیٹل انڈیا کارپوریشن (ڈی آئی سی) اور الیکٹرانکس و اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے تحت کام کرنے والا ڈیجیٹل انڈیا بھاشینی ڈویژن، مصنوعی ذہانت پر مبنی کثیر لسانی ڈیجیٹل شمولیت کا قومی نظام تشکیل دے رہا ہے۔ بھاشینی 36 ہندوستانی تحریری زبانوں، 23 ہندوستانی صوتی زبانوں اور 35 بین الاقوامی زبانوں کی معاونت یافتہ ہے اور سرکاری و عوامی ڈیجیٹل خدمات میں لسانی مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو شامل کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔
اس کے نظام میں ترجمہ، تکلم کی شناخت، اسپیچ سینتھیسس، رسم الخط کی تبدیلی اور دیگر لسانی خدمات سے متعلق ٹیکنالوجی شامل ہیں۔ ان کا مقصد ہندوستان کے لسانی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے ڈیجیٹل معلومات اور خدمات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے قابلِ رسائی بنانا ہے۔
***
ش ح۔ م ش ع ۔م ذ
U NO: 6200
(ریلیز آئی ڈی: 2324338)
وزیٹر کاؤنٹر : 6