سماجی انصاف اور تفویض اختیارات کی وزارت
صفائی مزدور سے کاروباری شخص تک
شیو لال کا عزت و وقار اور خود انحصاری کی جانب سفر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 OCT 2026 4:01PM by PIB Delhi
راجستھان کے ضلع جھنجھنو کے رہنے والے 44 سالہ جناب شیو لال تقریباً دو دہائیوں تک اپنے کنبے کی کفالت کے لیے سیور اور سیپٹک ٹینک کی صفائی کرنے والے مددگار کے طور پر کام کرتے رہے۔
درج فہرست ذات (ایس سی)کے والمیکی برادری سے تعلق رکھنے والے شیو لال کو برسوں کی محنت اور لگن کے باوجود مسلسل مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صرف آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے باعث ان کے لیے تکنیکی ہنر سیکھنے یا بہتر تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے کے مواقع محدود تھے۔ ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً 6,000 روپے تھی، جو گھر کے اخراجات پورے کرنے اور بچوں کی تعلیم کے لیے مناسب وسائل فراہم کرنے کے لیے ناکافی تھی۔
جناب شیو لال کی شادی 2002 میں ہوئی تھی اور ان کی اہلیہ گھریلو خاتون ہیں۔ ان کے 19 سالہ بیٹے کو حال ہی میں کالج میں داخلہ ملا ہے، جب کہ ان کی 10 سالہ بیٹی اسکول میں زیرِ تعلیم ہے۔ محدود مالی وسائل کے باعث گھر کی روزمرہ ضروریات پوری کرنا اور بچوں کی تعلیم سے وابستہ خواہشات کو پورا کرنا مسلسل ایک چیلنج بنا ہوا تھا۔ اس کے باوجود وہ اپنے خاندان کے حالات بہتر بنانے اور بچوں کے لیے زیادہ محفوظ مستقبل یقینی بنانے کے عزم پر قائم رہے۔
صفائی کے شعبے میں کئی سال تک کام کرنے کے باوجود جناب شیو لال کے لیے معاشی ترقی کے مواقع محدود تھے۔ معمولی آمدنی، تکنیکی ہنر کی کمی اور محدود تعلیمی قابلیت نے ان کی مالی خود انحصاری کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ صفائی کے کام سے وابستہ سماجی بدنامی اور امتیازی سلوک نے بھی ان کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ تاہم، وہ یومیہ اجرت پر کام کرنے سے آگے بڑھ کر اپنا کاروبار قائم کرنا چاہتے تھے۔ ان کا خواب ایک ٹریکٹر کے ساتھ سکشن مشین خریدنے کا تھا، جس کی مدد سے وہ آزادانہ طور پر صفائی کی خدمات فراہم کر سکیں، بہتر آمدنی حاصل کر سکیں اور اپنے خاندان کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکیں۔
12 اگست 2025 کو اس وقت ایک اہم موڑ آیا، جب جناب شیو لال کو نمستے اسکیم کے ایک جزو، سوچھتا ادیمی یوجنا (ایس یو وائی)کے تحت مالی امداد حاصل ہوئی۔ پیشگی سرمایہ جاتی سبسڈی کی صورت میں فراہم کی گئی اس امداد سے انہیں ٹریکٹر کے ساتھ سکشن مشین خریدنے اور صفائی کی خدمات کا اپنا کاروبار قائم کرنے میں مدد ملی۔ اس منصوبے کی کل لاگت 11,34,000 روپے تھی، جس میں سے 7,25,500 روپے قرض کے ذریعے فراہم کیے گئے، جب کہ 4,08,500 روپے سرمایہ جاتی سبسڈی کے طور پر دیے گئے۔ اس مالی تعاون نے انہیں ایک بڑی مالی رکاوٹ پر قابو پانے اور مددگار کی حیثیت سے کام کرنے کے بجائے خود روزگار اختیار کرکے کاروباری شخصیت بننے میں مدد دی۔

آج جناب شیو لال صفائی کی خدمات کا اپنا کاروبار چلا رہے ہیں، جس سے انہیں روزی روٹی کے معاملے میں زیادہ خود مختاری حاصل ہوئی ہے اور آمدنی بڑھانے کے بہتر مواقع ملے ہیں۔ تقریباً 18,186 روپے ماہانہ قرض کی قسط اور تقریباً 8,000 روپے مزدوری کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، وہ کاروبار چلانے کے دیگر اخراجات اور قرض کی ادائیگی کو مدنظر رکھتے ہوئے تقریباً 10,000 سے 12,000 روپے ماہانہ خالص بچت بتاتے ہیں۔ ان کی سابقہ ماہانہ آمدنی 6,000 روپے تھی، اس کے مقابلے میں یہ ان کی معاشی حالت اور آمدنی کی صلاحیت میں قابلِ ذکر بہتری ہے۔
اس اقدام سے جناب شیو لال کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا ہے اور وہ پائیدار ذریعۂ معاش قائم کرنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ ان کی بہتر مالی حالت سے بچوں کی تعلیم اور خاندان کی ضروریات کی تکمیل میں زیادہ مدد مل رہی ہے۔ کاروبار کے مالک بن کر انہوں نے خود انحصاری اور اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں زیادہ عزت و وقار کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔
جناب شیو لال کا سفر ظاہر کرتا ہے کہ ہدف کے مطابق مالی امداد اور پیداواری اثاثوں تک رسائی صفائی کے مزدوروں کے لیے کاروباری شخصیت بننے کے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔ نمستے اسکیم کے تحت سوچھتا ادیمی یوجنا کے ذریعے وہ کم اجرت والی ملازمت سے آگے بڑھ کر روزی روٹی کا ایک خود مختار ذریعہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ان کا تجربہ جامع ترقی کے ایسے اقدامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جو صفائی کے مزدوروں کو بااختیار بناتے ہیں، معاشی خود مختاری کو فروغ دیتے ہیں اور خاندانوں کو زیادہ محفوظ مستقبل بنانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔
معمولی ماہانہ اجرت سے صفائی کی خدمات کے ایک خود مختار کاروبار تک جناب شیو لال کا سفر ثابت قدمی، مواقع اور خود انحصاری کے ذریعے عزت و وقار حاصل کرنے کی کوشش کی ایک مثال ہے۔
*****
ش ح۔ک ح ۔ ت ع
U. N-6158
(ریلیز آئی ڈی: 2323968)
وزیٹر کاؤنٹر : 8