سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے 12ویں این ایل ای پی سی میں 62 نوجوان اختراع کاروں کو اعزاز سے نوازا؛ کہا کہ اسکول کے طلبہ اپنے خیالات کو بازار میں فروخت کے قابل مصنوعات اور کاروباری منصوبوں میں تبدیل کر رہے ہیں


پچیس طلبہ پہلے ہی اپنی مصنوعات بازار میں متعارف کرا چکے ہیں؛ بعض طلبہ اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہوئے بھی لاکھوں روپے کما رہے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

مرکزی وزیر نے طلبہ کی اختراعات کو بازار تک پہنچانے کے لیے صنعتی شراکت داری، کاروبار سے کاروبار (بی 2 بی) کے درمیان روابط اور مؤثر رہنمائی پر زور دیا

نوجوان اختراع کاروں نے تقریباً 250 دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر) حاصل کیے؛ وزیر نے والدین کی شرکت کے ساتھ خصوصی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز پیش کی

انسپائر-مانک نے 2009 میں آغازسے اب تک 18.27 لاکھ سے زیادہ طلبہ کا انتخاب کیا ؛ تقریب کے دوران ایک کمپینڈیم  (مجموعہ ) جاری کیا گیا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 6:38PM by PIB Delhi

سائنس اور ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انسپائر-مانک کے تحت 12ویں قومی سطح کی نمائش اور پروجیکٹ مقابلے (این ایل ای پی سی) میں 62 نوجوان اختراع کاروں کو اعزاز سے نوازا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے طلبہ تیزی سے اپنے خیالات کو بازار میں فروخت کے قابل مصنوعات اور کاروباری سرگرمیوں میں تبدیل کر رہے ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ 25 طلبہ اپنی مصنوعات پہلے ہی بازار میں پیش کر چکے ہیں، جبکہ نوجوان اختراع کاروں نے تقریباً 250 دانشورانہ املاک کے حقوق حاصل کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض طلبہ اسکول میں زیرِ تعلیم رہتے ہوئے لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنسی تجسس، عزم اور مواقع تک رسائی کے ذریعے خیالات کو عملی نتائج میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

اعزازات کی یہ تقریب حکومتِ ہند کے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) نے نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن-انڈیا (این آئی ایف) کے تعاون سے نئی دہلی میں منعقد کی۔ اس تقریب میں مجموعی طور پر 729 طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی۔ واگھمارے، نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن-انڈیا کے چیئرمین پروفیسر انیل ڈی۔ سہسربدھے، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سائنس و ٹیکنالوجی صلاحیت سازی ڈویژن کے سربراہ ڈاکٹر امیش کمار شرما اور نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن-انڈیا کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اروند سی۔ راناڈے سمیت سینئر عہدیداروں، اساتذہ، سرپرستوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر انسپائر-مانک 2026 کی سالانہ اشاعت بھی جاری کی گئی۔

نوجوان اختراع کاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ طلبہ اس پروگرام کی اصل کشش ہیں اور ان کے کام سے انسپائر-مانک کی حقیقی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ پروگرام کے آغاز کے وقت اس کے نام کے بارے میں اپنے ابتدائی تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شریک طلبہ کی کامیابیوں نے انہیں اس پروگرام کی اہمیت اور اس کے تحت ہونے والی اختراع کے بلند معیار کا قائل کر دیا ہے۔

وزیر موصوف نے نمائش میں پیش کیے گئے کئی پروجیکٹوں کا ذکر کیا، جن میں سائنسی اور تکنیکی حل کے ذریعے روزمرہ زندگی کے مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان میں مصنوعی ذہانت پر مبنی الکحل کی شناخت کا ایک نظام شامل تھا، جو الکحل کی موجودگی کا پتا چلنے پر گاڑی کو اسٹارٹ ہونے سے روکتا ہے؛ پانی کی بچت کرنے والی ایک الٹراسونک واشنگ مشین؛ ارتعاش کے ذریعے آوارہ کتوں کو دور رکھنے کے لیے تیار کردہ ایک آلہ؛ اور بصارت سے محروم طلبہ کے لیے معاون ٹیکنالوجی شامل تھی۔ انہوں نے نمائش میں پیش کی گئی ایک ٹریکنگ واکنگ اسٹک کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ پروجیکٹ ظاہر کرتے ہیں کہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ، جو ملک کے مختلف حصوں کی نمائندگی کرتے ہیں، اپنے گرد و پیش کے مسائل کی نشان دہی کر رہے ہیں اور ایسے حل تیار کر رہے ہیں جنہیں وسیع پیمانے پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مصنوعات کو بازار تک پہنچانے اور دانشورانہ املاک کے حقوق حاصل کرنے والے طلبہ کی کامیابیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ اسکول کی سطح پر ہونے والی اختراعات کو کاروباری سرگرمیوں اور تجارتی استعمال تک لے جایا جا سکتا ہے۔

ہندوستان کے تیزی سے فروغ پاتے اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ملک میں اسٹارٹ اپس کی تعداد 2014 میں تقریباً 350 سے 400 تھی، جو بڑھ کر تقریباً 2.5 لاکھ ہو گئی ہے۔ ان میں سے تقریباً 60 فیصد درجۂ دوم اور درجۂ سوم کے شہروں میں واقع ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے نوجوانوں کو معلومات اور مواقع تک پہلے سے کہیں زیادہ رسائی حاصل ہے اور وہ اپنے جذبے، عزم اور محنت سے نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے امید افزا نوجوان اختراع کاروں کو اپنی مصنوعات بہتر بنانے، بازار کی ضروریات پوری کرنے اور تجارتی مواقع تلاش کرنے میں مدد دینے کے لیے صنعت کے ساتھ مضبوط شراکت داریوں پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوان اختراع کاروں اور کاروباری اداروں کے درمیان کاروبار بہ کاروبار (بی 2 بی) رابطوں کو فروغ دینے کی تجویز پیش کی، تاکہ ان کے خیالات کو صنعتی شعبے سے رائے مل سکے اور انہیں وسیع پیمانے پر استعمال کے قابل بنایا جا سکے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ امید افزا اختراعات کو محض نمائشوں یا عملی نمونوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ کاروباری صلاحیت رکھنے والے طلبہ کو صنعت کے ساتھ کام کرنے اور عملی ضروریات کو پورا کرنے والے حل تیار کرنے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ابتدائی مرحلے ہی میں نوجوان اختراع کاروں کو متعلقہ کاروباری اداروں اور تکنیکی ماہرین سے جوڑنے کے طریقے تلاش کریں۔

کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کی معاونت سے چلنے والے ڈیپ ٹیک اسٹارٹ اپس کے لیے تین سالہ وجود کی شرط ختم کرنے والی پالیسی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اختراع کے فروغ کے لیے نئے خیالات کی حمایت اور سوچ سمجھ کر خطرات مول لینے کی آمادگی ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کی اختراعی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور ان کی ٹیکنالوجیز کو مزید ترقی دینے کے لیے حکومت اور صنعت کے درمیان تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

وزیر موصوف نے طلبہ کو اپنی صلاحیتیں پہچاننے، اپنے خیالات کو بہتر بنانے اور ابتدائی تصور سے عملی اطلاق تک کے مراحل طے کرنے میں مدد دینے کے لیے سرپرستی کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ پروگرام کے آئندہ ایڈیشن میں ایک خصوصی نشست رکھی جائے، جس میں نوجوان اختراع کار اپنے کام اور تجربات کے بارے میں براہِ راست اظہارِ خیال کر سکیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے تجویز پیش کی کہ پروگرام کے آئندہ ایڈیشن میں ایک خصوصی نشست رکھی جائے، جس میں ہر شریک طالب علم کے ساتھ کم از کم ایک والدین یا سرپرست بھی موجود ہو۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات والدین اپنے بچوں کے اختراعی کام کی نوعیت سے پوری طرح واقف نہیں ہوتے اور وہ ان کی حوصلہ شکنی کے ارادے کے بغیر بھی نادانستہ طور پر ایسے خیالات کو آگے بڑھانے کے لیے درکار وقت اور کوششوں میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

وزیر موصوف نے اس بات پر زور دیا کہ والدین، اساتذہ اور سرپرست بچوں کے لیے ایسا سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، جہاں وہ تجربات کرنے، مروجہ طریقوں پر سوال اٹھانے اور ناکامیوں سے سیکھنے کی حوصلہ افزائی محسوس کریں۔ انہوں نے طلبہ کے لیے اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، مناسب رہنمائی حاصل کرنے اور سیکھنے کے لیے ہمہ وقت آمادہ رہنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، کیونکہ ٹیکنالوجی اور مواقع مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ نوجوان اختراع کاروں کو کسی کامیابی کے بعد مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے اور نئے علم کے مطابق خود کو ڈھالنے کا عمل جاری رکھنا چاہیے۔ انہوں نے ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی دلچسپیوں کے شعبوں کو دریافت کریں، سوچ سمجھ کر فیصلے کریں اور تجربات و عملی مشق کے ذریعے اپنے خیالات کو مسلسل بہتر بناتے رہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کے سکریٹری پروفیسر امیش وی۔ واگھمارے نے کہا کہ یہ نمائش نوجوان طلبہ کی اس صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ معاشرے کو درپیش مسائل کی نشاندہی کر سکتے ہیں اور اس بات پر غور کر سکتے ہیں کہ سائنس ان مسائل کے حل میں کس طرح مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے انڈمان و نکوبار جزائر سے کشمیر اور میزورم سے ممبئی تک آنے والے شرکاء کے جغرافیائی تنوع کا ذکر کیا۔ انہوں نے زراعت، صحت کی دیکھ بھال، ماحولیاتی تحفظ، رسائی، توانائی، پانی کے تحفظ، سلامتی اور بزرگوں کی روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے سے متعلق مختلف پروجیکٹوں کا بھی حوالہ دیا۔

انسپائر-مانک، جس کا پورا نام ’’ملین مائنڈز اگمینٹنگ نیشنل ایسپیریشنز اینڈ نالج‘‘ ہے، محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی کا ایک اہم پروگرام ہے، جسے ڈی ایس ٹی کے تحت ایک خود مختار ادارے، نیشنل انوویشن فاؤنڈیشن-انڈیا کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کا مقصد چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ کو سائنس اور اس کے سماجی استعمالات سے مربوط اصل خیالات اور اختراعات کو فروغ دینے کی ترغیب دینا ہے۔

2017 میں اس پروگرام کے آغاز سے لے کر 2025-26 تک، انسپائر-مانک کے تحت مجموعی طور پر 18,27,580 طلبہ کا انتخاب کیا جا چکا ہے۔ اس دوران محکمۂ سائنس و ٹیکنالوجی نے قومی سطح کی 11 نمائشیں اور پروجیکٹ مقابلے منعقد کیے، جن میں 7,444 طلبہ نے اپنے اختراعی پروجیکٹوں اور ماڈلز کی نمائش کی۔

اس اسکیم کے تحت 2023-24 اور 2024-25 میں بالترتیب 46,926 اور 50,009 طلبہ کا انتخاب کیا گیا۔ 12ویں قومی سطح کی نمائش اور پروجیکٹ مقابلے (این ایل ای پی سی) میں ان دونوں مالی سالوں کے دوران منتخب ہونے والے طلبہ نے شرکت کی۔ اس مقابلے نے انہیں اپنے پروجیکٹ پیش کرنے، ماہرین سے تبادلۂ خیال کرنے اور نمائش کے ساتھ ساتھ سرپرستی حاصل کرنے کے لیے ایک قومی پلیٹ فارم فراہم کیا۔

اس پروگرام کے تحت منتخب طلبہ کو ورکشاپس اور ماہرین نیز سرکردہ تکنیکی اداروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کے ذریعے اپنے پروجیکٹوں کو بہتر بنانے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ انہیں اپنے خیالات کو عملی ماڈلز اور تصور کے ثبوت پر مبنی پروٹوٹائپس میں تبدیل کرنے میں بھی مدد دی جاتی ہے۔ اس پہل کا مقصد کم عمری ہی سے سائنسی مزاج، تخلیقی صلاحیت اور اختراع کو فروغ دینا اور طلبہ کو روزمرہ زندگی کے مسائل کے مشاہدے کی بنیاد پر عملی حل تیار کرنے کی ترغیب دینا ہے۔

نوجوان اختراع کاروں کو مبارک باد دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے انہیں تحقیق و جستجو، تجربات اور سیکھنے کا عمل جاری رکھنے اور اپنے خیالات کو مزید فروغ دینے کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کی سطح ہی سے نوجوان اختراع کاروں کی سرپرستی اور معاونت ہندوستان کے اختراعی نظام کو مضبوط بنانے اور وکست بھارت کے وژن کی تکمیل میں معاون ثابت ہوگی۔

 

***

 

UR-6098

(ش ح۔اس ک  )

 


(ریلیز آئی ڈی: 2323622) وزیٹر کاؤنٹر : 10
یہ ریلیز پڑھیں: Telugu , English , हिन्दी