شمال مشرقی ریاستوں کی ترقی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانت مجمدار نےبینکرز کنکلیو 3.0 میں شمال مشرقی ہندوستان میں بینکاری خدمات کی توسیع میں تیزی لانے اور قرضوں تک رسائی کو بہتر بنانے پر زور دیا


مرکزی وزیر مملکت نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ قرض اور جمع شدہ رقم کے تناسب کو بہتر بنائیں اور ایم ایس ایم ایز، کسانوں اور خاتون صنعت کاروں کو قرض کی فراہمی کے عمل کو مضبوط کریں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 14 OCT 2026 2:30PM by PIB Delhi

شمال مشرقی خطے کی ترقی (ایم ڈی او این ای آر) اور تعلیم کے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانت مجمدار نے 13 اکتوبر 2026 کو میزورم یونیورسٹی، آئزول میں منعقدہ شمال مشرقی بینکرس کنکلیو 3.0 سے خطاب کرتے ہوئے بینکاری خدمات کی توسیع میں تیزی لانے، قرضوں تک رسائی بڑھانے اور اقتصادی ترقی کو رفتار دینے کے لئے بینکوں اور ریاستی حکومتوں کے درمیان بہتر تال میل قائم کرنے پر زور دیا۔

مالی شمولیت کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر مجمدار نے کہا کہ شمال مشرقی خطے میں بینکوں کی 131 نئی شاخیں کھولی گئی ہیں اور 126 اے ٹی ایم نصب کئے گئے ہیں۔ نشان زدہ 9,479 گاؤں میں سے 6,905 گاؤں، یعنی تقریباً 73 فیصد، اب کسی بینک کی شاخ یا انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک (آئی پی پی بی) سے منسلک ہو چکے ہیں۔

خطے میں قرض اور جمع شدہ رقم کے تناسب (سی ڈی ریشو)پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانت مجمدار نے کہا کہ منی پور اور آسام اس معاملے میں 79.5 فیصد کے قومی تناسب کے برابر یا اس سے آگے ہیں، جبکہ میزورم اور شمال مشرقی خطے کی کئی دیگر ریاستیں پیچھے ہیں۔ انہوں نے علاقائی بچت کو مقامی سرمایہ کاری اور کاروباری مواقع میں تبدیل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

قرضوں کی فراہمی کو بہتر بنانے کے لئے ڈاکٹر مجمدار نے بینکوں کے لئے مخصوص قرض فراہمی کے اہداف مقرر کرنے، ریاستی سطح کی بینکرس کمیٹیوں (ایس ایل بی سیز) کے ذریعے باقاعدہ جائزہ لینے، زمین کے قابل اعتماد ریکارڈ تیار کرنے، اہل کرنٹ اکاؤنٹ اور بچت کھاتوں (سی اے ایس اے) کو آدھار سے مکمل طور پر منسلک کرنے اور پی ایم سواندھی میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کی شرکت یقینی بنانے پر زور دیا۔ انہوں نے بینکوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ کسانوں، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، خواتین کاروباریوں اور سیاحت سے وابستہ کاروباری اداروں کی قابل عمل قرض درخواستوں کا فعال طور پر جائزہ لیں۔

ڈاکٹر سوکانت مجمدار نے نشاندہی کی کہ 2,574 گاؤں اب بھی بینکاری خدمات سے محروم ہیں۔ ان میں سے 2,515 گاؤں کو انڈیا پوسٹ پیمنٹس بینک کے ذریعے اور 59 گاؤں کو بینکوں کی باقاعدہ شاخوں کے ذریعے منسلک کیا جانا ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں اور بینکوں پر زور دیا کہ وہ واضح مدت مقرر کریں اور بینکاری خدمات کی توسیع کے عمل میں تیزی لائیں۔

مرکزی وزیر مملکت نے مناسب عمارتوں، ہر موسم میں قابل استعمال سڑکوں اور وی سیٹ یا فائبر کنکٹیویٹی کی کمی کو اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے چیف سکریٹریوں پر زور دیا کہ وہ ہر زیر التوا مقام کے لیے واضح ذمہ داریاں اور مدت مقرر کریں۔ انہوں نے بینکوں سے یہ بھی کہا کہ وہ تیار مقامات پر جلد از جلد بینکاری خدمات شروع کریں اور جہاں مکمل بینک شاخیں قائم کرنا ممکن نہ ہو، وہاں بینکنگ نمائندوں اور بی سی سکھیوں کو تعینات کریں۔

دسمبر 2024 میں اگرتلہ میں مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ کی رہنمائی میں منعقدہ شمال مشرقی بینکرس کنکلیو 2.0 میں اختیار کیے گئے چھ نکاتی لائحۂ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر سوکانت مجمدار نے بینکاری بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے اور مالی شمولیت کو بہتر بنانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کو اجاگر کیا۔

اس لائحۂ عمل میں بینکوں کی شاخوں اور اے ٹی ایم کی تعداد میں اضافہ، بینکاری خدمات سے محروم گاؤں کو ان خدمات سے جوڑنا، کم آبادی کی کثافت والے اضلاع میں بینکاری خدمات کی رسائی بہتر بنانا، علاقائی حالات کے مطابق بینکاری ضوابط میں تبدیلی کرنا اور براہِ راست فوائد کی منتقلی (ڈی بی ٹی) تک سبھی کی رسائی یقینی بنانا شامل تھا۔

ان کوششوں کے تحت شمال مشرقی خطے میں بینک کی شاخ قائم کرنے کے لیے آبادی کی حد کو کلسٹر کی بنیاد پر کم کرکے 2,000 کردیا گیا ہے، جبکہ ملک بھر میں یہ حد 3,000 ہے۔ علاقائی بینکاری سہولیات میں موجود خامیوں کو دور کرنے کے لیے پہلا شمال مشرقی بینکرس کنکلیو اپریل 2023 میں نئی دہلی میں منعقد ہوا تھا۔

ڈاکٹر مجمدار نے اس بات پر زور دیا کہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے ساتھ آسانی سے دستیاب اور سستے قرضوں کی فراہمی بھی ضروری ہے، تاکہ کسان، کاروباری افراد اور چھوٹے کاروبار نئے اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھا سکیں۔

شمال مشرقی خطے میں زراعت، سیاحت، کاروبار اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں موجود امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے ڈاکٹر سوکانتا مجمدار نے کہا کہ یہ کنکلیو خطے کے مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔

کنکلیو میں چار الگ الگ اجلاس منعقد کیے گئے، جن میں بینکاری کے بنیادی ڈھانچے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں اور خواتین کاروباریوں، زرعی مالیات اور بنیادی ڈھانچے کے لیے مالی اعانت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

مرکزی وزیر مملکت ڈاکٹر سوکانتا مجمدار نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں مرکزی حکومت پالیسی سے متعلق رکاوٹوں کو دور کرنے اور بینکاری لائحۂ عمل پر پیش رفت کی نگرانی کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے ریاستی حکومتوں، بینکوں اور مرکزی ایجنسیوں پر زور دیا کہ وہ واضح ذمہ داریوں اور مقررہ مدت کے ساتھ مل کر کام کریں، تاکہ زمینی سطح پر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔

انہوں نے خطے کی ترقی کو آگے بڑھانے میں شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا کی رہنمائی کا بھی اعتراف کیا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ڈاکٹر مجمدار نے زور دیا کہ بینکاری کے مضبوط بنیادی ڈھانچے، قرضوں تک بہتر رسائی اور مربوط عمل درآمد سے مزید مواقع پیدا کرنے، لوگوں کے روزگار کو مستحکم بنانے اور میزورم سمیت پورے شمال مشرقی خطے میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

**********

 

ش ح۔ک ا۔ ش ہ ب

Urdu No. 6059


(ریلیز آئی ڈی: 2323250) وزیٹر کاؤنٹر : 13
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Bengali-TR