حکومت ہند کے سائنٹفک امور کے مشیر خاص کا دفتر
azadi ka amrit mahotsav

 پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر سود نے چنڈی گڑھ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام کلسٹروں کی چوتھی میٹنگ کی صدارت کی،  میٹنگ میں مضبوط تعاون اور ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا


سنہتی: کاریہ سادھیکا- سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام کلسٹروں کی چوتھی میٹنگ  نے اختراع کو فروغ دینے کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت کی توثیق کی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 10 OCT 2026 8:46PM by PIB Delhi

حکومتِ ہند کے پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے 9 اور 10 اکتوبر 2026 کو پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ میں منعقدہ سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام کلسٹروں کی چوتھی میٹنگ کی صدارت کی۔ پنجاب یونیورسٹی اور آئی آئی ٹی روپڑ کے علاقائی مرکز برائے جامع اختراعات فاؤنڈیشن (پی آئی-راہی) نے اس میٹنگ کی میزبانی کی۔ اس موقع پر سائنسی سکریٹری ڈاکٹر (محترمہ) پرویندر مینی اور پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر میں سائنس داں ایف ڈاکٹر وشال چودھری بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔ میٹنگ میں پنجاب یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر میناکشی گوئل، آئی آئی ٹی روپڑ کے ڈائریکٹر پروفیسر راجیو آہوجا، آئی آئی ٹی جودھپور کے ڈائریکٹر پروفیسر اویناش کمار اگروال، پروفیسر رجت سندھیر، پی آئی-راہی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پشپیندر پی سنگھ سمیت سائنس و ٹیکنالوجی کے آٹھوں کلسٹروں کے نمائندوں نے بھی تبادلۂ خیال میں حصہ لیا۔

افتتاحی خطاب میں پروفیسر سود نے کہا کہ کلسٹر اب مربوط نظام کی شکل اختیار کر چکے ہیں، جو علاقائی، صنعتی اور سماجی چیلنجوں سے نمٹ رہے ہیں اور تیزی سے ’’قومی ٹیکنالوجی کے فروغ کے مراکز‘‘ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کلسٹروں کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانے، متعلقہ فریقوں کی شمولیت بڑھانے، روٹیگ اور آر ایس وی سیز کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور ٹیکنالوجی کو زیادہ نمایاں کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کلسٹروں کے بڑھتے ہوئے عالمی روابط کو بھی اجاگر کیا، جن میں سائنس و ٹیکنالوجی کے کلسٹروں کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس کے نتیجے میں ہونے والے 12 بین الاقوامی مفاہمت نامے اور اس کے بعد مغربی آسٹریلیا کی یونیورسٹی، بھارت-آسٹریلیا اسمارٹ فارم نیٹ ورک اور برطانیہ کے کیٹاپلٹ نیٹ ورک کے ساتھ قائم ہونے والی شراکت داریاں شامل ہیں۔

افتتاحی اجلاس کے دوران پروفیسر سود نے خودکار موسمیاتی اسٹیشن کا آغاز کیا اور اس بات کو اجاگر کیا کہ ٹیکنالوجی پر مبنی حل موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ اور اعداد و شمار پر مبنی زراعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس میٹنگ میں پائیدار نقل و حمل اور صاف ستھری ٹیکنالوجی کے شعبوں میں کلسٹروں کے درمیان اہم مشترکہ اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا، جن میں ہماچل پردیش میں برقی گاڑیوں کے لیے چارجنگ اسٹیشن اور پنچکولہ میں ای وی چارجیکس بیٹری کی تبدیلی کے اسٹیشن کا افتتاح شامل ہے۔ ہماچل پردیش کے اس اقدام میں چارجنگ کے بنیادی ڈھانچے، برقی گاڑیوں کے صارفین اور ڈیجیٹل خدمات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اس کے لیے ڈرِیو اور پی آئی-راہی کے باہمی تعاون سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے، تاکہ ریاست میں برقی نقل و حمل کو فروغ دینے کے عمل میں مدد مل سکے۔ پنچکولہ کا یہ مرکز مقامی طور پر تیار کردہ بیٹری کی تبدیلی کی ٹیکنالوجی کو آزمائشی مرحلے سے تجارتی استعمال تک پہنچانے کی مثال پیش کرتا ہے، جہاں برقی گاڑیوں، بیٹریوں، سواروں کے اندراج اور ڈیجیٹل انتظام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا ہے۔ پروفیسر سود نے فائیکوٹری- مائیکرو ایلگل فوٹوبائیوریاکٹر سے متعلق رپورٹ بھی جاری کی۔ اس رپورٹ میں مقامی ٹیکنالوجی کو شناخت کرنے سے لے کر عملی میدان میں اس کی توثیق اور ممکنہ استعمال تک پہنچانے کے لیے ڈرِیو کی کوششوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ان کوششوں میں نئی دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے سلسلے میں جی ایم آر کے ساتھ تعاون بھی شامل ہے۔ اس موقع پر پی آئی-راہی کے لیے ‘‘کلا انوبھو’’ پورٹل بھی پیش کیا گیا، جس میں پنجاب اور جموں و کشمیر کے دست کاروں کے روایتی فنون اور مصنوعات کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ شمالی ہندوستان کے دست کاروں کے کام کی نمائش بھی منعقد کی گئی۔ دیگر اہم اقدامات میں اسپارکس 2.0، اگنائٹ 2.0، جینی 2.0، شمالی ہندوستان کے سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے نظام سے متعلق رپورٹیں اور مفاہمت نامے پر دستخط کی تقریب شامل تھیں۔ اس میٹنگ میں صحت، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور خالص صفر اخراج کی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں برطانیہ کے کیٹاپلٹ مراکز اور سائنس و ٹیکنالوجی کے کلسٹروں کے درمیان تعاون کا اعلان بھی کیا گیا، جس سے ٹیکنالوجی کی ترقی اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات کو مزید تقویت ملے گی۔

سائنسی سکریٹری ڈاکٹر مینی نے ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، مہارت اور صنعتی شراکت داریوں کے تبادلے کے ذریعے ایک مربوط قومی کلسٹر نیٹ ورک قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے ڈی-پی او سی، کلا انوبھو اور آئی-پاسپورٹ کے ذریعے کلسٹروں کے درمیان کامیاب اقدامات کو دہرانے اور اپنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے تحقیق و ترقی سے لے کر توثیق، تجارتی استعمال اور بڑے پیمانے پر نفاذ تک کے تمام مراحل میں صنعت کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر زور دیا۔ انہوں نے کلسٹروں سے اپیل کی کہ وہ کامیاب علاقائی حل کو بڑے قومی اور عالمی پروگراموں میں تبدیل کرنے کے لیے ان کی تکرار، باہمی تعاون اور وسیع پیمانے پر نفاذ پر توجہ مرکوز کریں۔

 

چنڈی گڑھ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے کلسٹروں کو مضبوط بنانے کے موضوع پر متعلقہ فریقوں کی ایک خصوصی میٹنگ بھی منعقد کی گئی۔ اس میں صنعتی شراکت داروں، کارپوریٹ سماجی ذمہ داری (سی ایس آر) سے وابستہ شراکت داروں، تعلیمی اداروں اور سرکاری نمائندوں نے شرکت کی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے کلسٹروں کی قیادت کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔ اس نشست کے ذریعے متعلقہ فریقوں کی زیادہ سے زیادہ شمولیت اور ٹیکنالوجی کی ترقی، توثیق اور عملی نفاذ کے لیے شراکت داری کو مضبوط بنانے پر تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

دوسرے دن پروفیسر سود نے چنڈی گڑھ میں پنجاب یونیورسٹی کے طبی مرکز میں ڈیجیٹل پوڈیاٹرک کلینک کا افتتاح کیا۔ یہ کلینک ایچ ایل کلیموو کی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت شراکت داری سے پی آئی-راہی نے قائم کیا ہے۔ اسے شمالی ہندوستان کا پہلا ڈیجیٹل پوڈیاٹرک کلینک قرار دیا گیا ہے۔ اس میں مصنوعی ذہانت پر مبنی پیروں کی جانچ کی ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی ہے، جس سے ذیابیطس کے مریضوں میں پیروں سے متعلق مسائل کی ابتدائی مرحلے میں شناخت اور احتیاطی نگہداشت میں مدد ملتی ہے۔ اس طرح جدید طبی ٹیکنالوجی کو عوامی صحت کی خدمات کے قریب لایا گیا ہے۔ افتتاح کے بعد وفد کے ارکان نے بھی اس مرکز کا دورہ کیا۔

 

پروفیسر سود نے سائنس و ٹیکنالوجی کے کلسٹروں کی دوسری بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان بھی کیا، جو کلسٹر پہل کے بین الاقوامی روابط کے اگلے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس اعلان کے بعد کلسٹروں کے موجودہ اور مستقبل کے منصوبوں پر مزید تبادلۂ خیال کیا گیا اور اجلاس کے صدر کی قیادت میں مختلف امور پر گفتگو ہوئی۔

دو روزہ میٹنگ میں سائنس و ٹیکنالوجی کے آٹھوں کلسٹروں کی پیش رفت کا جائزہ لینے، ان کے جاری اقدامات کا اندازہ لگانے اور موجودہ و مستقبل کے منصوبوں پر تبادلۂ خیال کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا۔ اس دوران ٹیکنالوجی کو عملی شکل دینے، کلسٹروں کے درمیان باہمی تعاون، صنعت کی شمولیت اور علاقائی اختراعی نظام کو مضبوط بنانے پر خصوصی زور دیا گیا۔ دونوں دن کلسٹروں کی جانب سے پیشکشیں کی گئیں اور ان پر مزید تبادلۂ خیال ہوا۔ ان میں پونے نالج کلسٹر فاؤنڈیشن (پی کے سی ایف)، جودھپور سٹی نالج اینڈ انوویشن فاؤنڈیشن (جے سی کے آئی ایف)، بھوبنیشور سٹی نالج اینڈ انوویشن کلسٹر (بی سی کے آئی سی)، دہلی ریسرچ امپلی منٹیشن اینڈ انوویشن (ڈرِیو)، اے ایم ٹی زیڈ-ویزاگ کلسٹر، بنگلورو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کلسٹر (بیسٹ)، ریسرچ اینڈ انوویشن سرکل آف حیدرآباد (رِچ) اور پی آئی-راہی شامل تھے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے تمام کلسٹروں کی چوتھی میٹنگ میں آٹھوں کلسٹروں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے اور صنعت، تعلیمی اداروں، حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کی اہمیت کی توثیق کی گئی۔ تبادلۂ خیال میں کلسٹروں کی قیادت میں شروع کیے گئے اقدامات کو آگے بڑھانے، ٹیکنالوجی کے عملی استعمال کو فروغ دینے اور مختلف علاقوں میں حل کو دہرانے اور بڑے پیمانے پر نافذ کرنے کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی۔

وزیر اعظم کی سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع سے متعلق مشاورتی کونسل (پی ایم-ایس ٹی آئی اے سی) کی سفارشات کے بعد 2020 میں شروع کیے گئے، پرنسپل سائنسی مشیر کے دفتر (او پی ایس اے) کے سائنس و ٹیکنالوجی کلسٹر پروگرام کے تحت تعلیمی اداروں، تحقیقی اداروں، صنعت، نئے کاروباری اداروں، حکومت اور دیگر متعلقہ فریقوں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے، تاکہ سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے ذریعے علاقائی چیلنجوں سے نمٹا جا سکے۔ گزشتہ برسوں کے دوران یہ کلسٹر علاقائی اختراعی نظام کے طور پر ترقی کر چکے ہیں، جن کا مقصد تحقیق اور ٹیکنالوجی کو ایسے حل میں تبدیل کرنا ہے جن سے سماجی اور اقتصادی سطح پر فائدہ پہنچے۔

*****

ش ح۔م م ع۔ف ر

U- 6048


(ریلیز آئی ڈی: 2323091) وزیٹر کاؤنٹر : 4
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Gujarati