سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
ہمالیہ کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے، اس میں ہر شہری کا حصہ ہے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ
ہمالیائی ماحولیاتی نظام چشموں، آبی ذخائر اور دریاؤں کے منبع کو برقرار رکھنے کے ساتھ سیاحت، زراعت اور روزگار کے ذرائع کو بھی سہارا دیتا ہے: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
مرکزی وزیر نے ترقیاتی ضروریات اور ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن پر زور دیا، غیر مجاز تعمیرات اور غیر منظم سرگرمیوں کے خلاف خبردار کیا
وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے اقدامات میں ہمالیائی ماحولیاتی نظام کے تحقیقی مراکز، گلیشیئرز کی نگرانی، گلیشیئر کے علوم کی تربیت اور موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق شامل ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
اروما مشن اور پرپل انقلاب نے جموں و کشمیر کو قومی شناخت دی؛ یہ اس بات کی مثال ہیں کہ سائنس اور منڈی کے روابط کس طرح روزگار کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
وزیر اعظم مودی کے ‘من کی بات’ پروگرام اور یومِ جمہوریہ کی جھانکی نے جموں و کشمیر کے پرپل انقلاب کو قومی سطح پر نمایاں کیا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
13 OCT 2026 5:03PM by PIB Delhi
سائنس و ٹیکنالوجی اور ارضیاتی علوم کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے منگل کے روز کہا کہ ہمالیہ اور ہمالیائی ماحولیاتی نظام کا تحفظ ایک قومی ذمہ داری ہے، کیونکہ اس اہم قدرتی وسائل کے تحفظ میں ہر شہری کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمالیائی خطے کے تحفظ کی ذمہ داری صرف حکومت اور سائنسی برادری تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں ہر شہری کی ذمہ داری شامل ہے۔

یہ خصوصی اجلاس شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی آف کشمیر (ایس کے یو اے ایس ٹی-کے) کے شالیمار کنونشن سینٹر میں منعقد ہوا۔ یہ 13ویں آل انڈیا پائیدار پہاڑی ترقیاتی سربراہی اجلاس کا حصہ تھا، جو 12 سے 14 اکتوبر تک ’’جامع ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے پائیدار ہمالیائی خطوں کی تشکیل‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس سربراہی اجلاس کا مشترکہ اہتمام ایس کے یو اے ایس ٹی-کے اور انٹیگریٹڈ ماؤنٹین انیشی ایٹو (آئی ایم آئی) نے کیا ہے۔ اس میں پائیدار پہاڑی ترقی اور جموں و کشمیر کی مجوزہ پائیدار پہاڑی ترقیاتی پالیسی 2026 پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر سائنس و ٹیکنالوجی کی سکریٹری بابیلا رکوال، ایس کے یو اے ایس ٹی-کے کے وائس چانسلر پروفیسر نذیر اے گنائی، نیز تعلیمی شعبے اور پہاڑی ترقی سے وابستہ برادری کے نمائندے موجود تھے۔
خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہمالیہ ملک کے ماحولیاتی تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے اور چشموں، آبی ذخائر، دریاؤں کے منابع اور گلیشیئرز کو سہارا دیتا ہے۔ یہ خطہ سیاحت، زراعت اور روزگار کے ذرائع کو بھی برقرار رکھتا ہے، اس لیے اس کا تحفظ ماحولیاتی سلامتی اور جامع اقتصادی ترقی، دونوں کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اصل چیلنج ترقیاتی ضروریات اور روزگار کے مواقع کے ساتھ نازک پہاڑی ماحولیاتی نظام کے تحفظ کے تقاضوں میں توازن قائم کرنا ہے۔ غیر مجاز تعمیرات، غیر منظم سرگرمیاں اور انسانی سرگرمیوں کے دیگر منفی اثرات حساس پہاڑی علاقوں میں خطرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ اس لیے ترقیاتی منصوبہ بندی میں ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کو لازمی طور پر شامل کیا جانا چاہیے، جس کے لیے عوام کا ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور مقامی برادریوں سمیت دیگر متعلقہ فریقوں میں زیادہ بیداری ضروری ہے۔

وزیر موصوف نے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبۂ سائنس و ٹیکنالوجی (ڈی ایس ٹی) کے ان اقدامات کا ذکر کیا، جو موسمیاتی تبدیلی سے متعلق قومی عملی منصوبے کے تحت ہمالیائی ماحولیاتی نظام کو برقرار رکھنے کے قومی مشن کے تحت کیے جا رہے ہیں۔ ڈی ایس ٹی نے موسمیاتی تبدیلی اور ہمالیائی ماحولیاتی نظام سے متعلق تحقیق کو مضبوط بنانے کے لیے کشمیر یونیورسٹی، سکم یونیورسٹی اور تیج پور یونیورسٹی میں تین مراکز کی نشاندہی کی ہے۔ ہندوستانی ہمالیائی خطے میں ریاستی سطح کے اقدامات کے ذریعے بھی موسمیاتی تبدیلی سے متعلق تحقیق اور ادارہ جاتی صلاحیت سازی کی حمایت کی جا رہی ہے۔
انہوں نے 2015 سے لداخ اور ڈوڈہ کے علاقے میں واڈیا انسٹی ٹیوٹ آف ہمالین جیولوجی کی جانب سے گلیشیئرز کی نگرانی اور زمینی سطح پر کی جانے والی تحقیق کا حوالہ دیا۔ اس کام میں خودکار موسمیاتی اسٹیشنوں اور زلزلہ پیما آلات کا استعمال، نیز زمین کھسکنے کے واقعات اور ماضی میں آنے والے زلزلوں سے متعلق مطالعات شامل ہیں۔ وزیر موصوف نے خطے کے بدلتے ہوئے ماحول کے بارے میں سائنسی مہارت اور فہم کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر کشمیر میں گلیشیئرز کے علوم کے شعبے میں صلاحیت سازی کا بھی ذکر کیا۔
موسمیاتی مشاہدے میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہندوستان میں موسمیاتی ریڈار نیٹ ورک 2014 میں 16 ریڈاروں سے بڑھ کر اب 50 ریڈاروں تک پہنچ گیا ہے، جبکہ مشن موسم کے تحت مزید 50 ریڈار نصب کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس طرح کا سائنسی بنیادی ڈھانچہ موسم کی نگرانی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو مضبوط بناتا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں شدید موسمی حالات اور قدرتی آفات کا خطرہ رہتا ہے۔
وزیر موصوف نے واڈیا انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے جموں و کشمیر کے 10 گاؤں میں شروع کیے گئے ایک آزمائشی مطالعے کا بھی ذکر کیا۔ اس مطالعے کے نتائج مقامی حالات کے مطابق مناسب اقدامات طے کرنے اور موزوں اقدامات کو دیگر علاقوں میں بھی نافذ کرنے کے امکانات کی رہنمائی میں مدد دے سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی مجوزہ پائیدار پہاڑی ترقیاتی پالیسی کا اس تناظر میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔
ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اروما مشن اور پرپل انقلاب کو جموں و کشمیر میں سائنس کی مدد سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی مثالوں کے طور پر پیش کیا۔ گلمرگ اور پدر جیسے علاقوں میں گلِ عباس کی کاشت نے کسانوں اور دیہی کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع پیدا کیے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی خطے کے لیے موزوں مخصوص فصلیں مقامی معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اس طرح کے اقدامات کے لیے صرف کاشتکاری کافی نہیں ہے۔ ان مواقع کو پائیدار بنانے کے لیے کاشت کاروں کو خوشبو اور عطر کی صنعتوں سے جوڑنے والے مضبوط بازاری روابط، ٹیکنالوجی اور مالی وسائل تک رسائی، نیز کاروبار شروع کرنے اور اسے فروغ دینے کے لیے تعاون ضروری ہے۔ خواتین کے خود امدادی گروپ اور نوجوان کاروباری افراد بھی روزگار کے مواقع بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ جموں و کشمیر کا تجربہ ان دیگر خطوں کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتا ہے، جو اپنے قدرتی وسائل اور زرعی صلاحیتوں کی بنیاد پر مقامی معیشتوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔
اجتماعی کوششوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ سائنسی اقدامات اور سرکاری پروگراموں کے ساتھ زمینی سطح پر ذمہ دارانہ فیصلے بھی ضروری ہیں۔ ہمالیہ کا تحفظ نہ صرف اس خطے کی برادریوں اور ان کے روزگار کے لیے، بلکہ ملک کی طویل مدتی ماحولیاتی بہتری کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
***
ش ح۔ض ر۔ اش ق
U. No-6008
(ریلیز آئی ڈی: 2322903)
وزیٹر کاؤنٹر : 9