سڑک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

کھیتوں سے سرحدوں تک: قومی شاہراہ 22 کو چار لین میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بہار میں رابطوں اور اقتصادی ترقی کو فروغ دے گا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 OCT 2026 4:25PM by PIB Delhi

سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ زرعی علاقوں، صنعتی مراکز اور سرحدی علاقوں کو وسیع تر بازاروں سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہار میں قومی شاہراہ 22 (این ایچ-22) کا مظفر پور–سیتامڑھی–سونبرسا حصہ ایک اہم اقتصادی مرکز اور ہند-نیپال سرحد کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس شاہراہ کو چار لین میں تبدیل کرنے سے اس راہداری کی گنجائش میں اضافہ ہوگا اور علاقائی رابطوں کو مزید مضبوطی ملے گی۔

اس منصوبے سے مسافروں اوربار برداری کی آمدورفت زیادہ ہموار ہونے، اقتصادی مراکز تک رسائی بہتر بنانے اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔ اس سے سڑک، ریل اور رسد کے دیگر بنیادی ڈھانچوں کے درمیان رابطے بھی مضبوط ہوں گے، جس سے شمالی بہار میں نقل و حمل کا ایک زیادہ مربوط نیٹ ورک قائم ہوگا۔

اگست 2026 میں اقتصادی امور سے متعلق کابینہ کمیٹی (سی سی ای اے) نے ہائبرڈ اینیوٹی موڈ (ایچ اے ایم) کے تحت 82.57 کلومیٹر طویل اس حصے کو چار لین میں تبدیل کرنے کی منظوری دی، جس پر مجموعی سرمایہ جاتی لاگت 3,590.73 کروڑ روپے آئے گی۔

نیپال کی سرحد تک رابطوں کو مضبوط بنانا

قومی شاہراہ 22 مظفر پور کو ہند-نیپال سرحد پر واقع سونبرسا سے جوڑتی ہے۔ مظفر پور میں یہ قومی شاہراہ 27 سے ملتی ہے، جو مشرق-مغرب راہداری کا حصہ ہے۔ سونبرسا کی جانب یہ شاہراہ قومی شاہراہوں کے نیٹ ورک اور سرحد پار نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتی ہے۔

بہتر بنائی گئی یہ شاہراہ قریبی بھیٹھاموڑے لینڈ پورٹ کے ذریعے سرحد پار مسافروں اور سامان کی آمدورفت میں معاون ہوگی۔ اقتصادی مراکز اور سرحدی علاقوں کے درمیان رابطوں کو بہتر بنا کر اس سے علاقائی تجارت کو فروغ دینے اور سامان کی نقل و حرکت کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

ہموار اور محفوظ سفر کے لیے چار لین کی شاہراہ

موجودہ راستہ گنجان آبادی والے علاقوں سے گزرتا ہے، جن میں مظفر پور، مکسود پور، رنی سید پور، تھما، ڈمرا، بھوتاہی اور سونبرسا شامل ہیں۔ شاہراہ کو چار لین میں تبدیل کرنے سے ان حصوں میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی آنے اور آمدورفت کو ہموار بنانے کی توقع ہے۔

اس شاہراہ کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جبکہ اس پر اوسط عملی رفتار 80 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور سڑک کی سطح پر درمیانی پٹی میں کوئی کھلا راستہ نہیں ہوگا۔ اس سے مسافروں اور بار بردار گاڑیوں کے لیے سفر زیادہ منظم اور قابلِ توقع بنانے میں مدد ملے گی۔

اس منصوبے میں سات بڑے پل شامل ہیں، جن میں سال بھر بہنے والے دریائے باگمتی پر 340 میٹر طویل پل، ریلوے کے اوپر سے گزرنے والے تین پل اور دو فلائی اوور شامل ہیں۔ یہ تعمیرات اہم گزرگاہوں پر آمدورفت کے مسائل دور کریں گی، ٹریفک کے بہاؤ کو مسلسل برقرار رکھنے میں مدد دیں گی اور سڑک و ریل کی آمدورفت کے درمیان تصادم کے امکانات کو کم کریں گی۔

صنعت، ریلوے اور رسد کے نظام کو مربوط بنانا

پی ایم گتی شکتی قومی ماسٹر پلان کے تحت تیار کیے گئے اس منصوبے کا مقصد صنعتی مراکز، زرعی پیداواری علاقوں اور رسد کے بنیادی ڈھانچے کے درمیان رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ راہداری پانچ اقتصادی مراکز کو آپس میں جوڑے گی، جن میں چار صنعتی علاقے اور ایک میگا فوڈ پارک شامل ہیں۔ اس سے مینوفیکچرنگ، غذائی اشیا کی پروسیسنگ اور زراعت پر مبنی صنعتوں کو فروغ ملے گا۔ مظفر پور اور سیتامڑھی ریلوے اسٹیشنوں تک بہتر رسائی سے کثیر ذرائعی رسد اور مال برداری میں بھی سہولت ہوگی۔

قومی شاہراہ 31 اور قومی شاہراہ 122 سے اس کے روابط بہار کے نقل و حمل کے نیٹ ورک کے ساتھ اس راہداری کے انضمام کو مزید مضبوط کریں گے۔ برونی کے صنعتی مرکز اور دریائے گنگا کے کنارے واقع آبی رسد کے مراکز تک بہتر رابطوں سے اندرونِ ملک آبی راستوں کے ذریعے تجارت کے نئے مواقع پیدا ہونے اور فراہمی کے سلسلے  کی کارکردگی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

کھیتوں سے منڈیوں تک رابطوں کو مضبوطی

ایسے خطے میں جہاں زراعت مقامی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، سڑکوں کے بہتر رابطوں سے زرعی پیداوار کو منڈیوں اور پروسیسنگ مراکز تک زیادہ مؤثر طریقے سے پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔ سفر کے وقت میں کمی، نقل و حمل کے اخراجات میں تخفیف اور ایندھن کی بہتر بچت سےفراہمی کےزیادہ قابلِ اعتماد سلسلوں  کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔

ریلوے اسٹیشنوں، صنعتی علاقوں اور نقل و حمل کی وسیع تر راہداریوں سے بہتر رابطے زرعی پیداوار کو قریبی خطے سے باہر کی منڈیوں تک پہنچانے میں بھی سہولت فراہم کریں گے۔

اہم مقامات تک رسائی کی بہتری

بہتر بنائی گئی شاہراہ سے اہم مذہبی، ثقافتی اور سماجی مقامات تک رسائی میں بہتری آئے گی، جن میں بابا غریب ناتھ مندر، ماتا جانکی مندر، پونورہ دھام اور بدھ سرکٹ شامل ہیں۔

اس سے مظفر پور اور سیتامڑھی تک کنیکٹوٹی بھی مضبوط ہوگی ۔ ان دونوں اضلاع کو امنگوں والے اضلاع کے طور پر نشان زد کیا گیا ہے۔ اس طرح علاقائی آمدورفت اور اہم مقامات تک رسائی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

زیادہ مربوط نقل و حمل کے نیٹ ورک کی تعمیر

قومی شاہراہ 22 کو چار لین میں تبدیل کرنے سے ایک اہم راہداری مضبوط ہوگی، جو اقتصادی مراکز، زرعی علاقوں، صنعتی مراکز اور ہند-نیپال سرحد کو آپس میں جوڑتی ہے۔ شاہراہ کی گنجائش میں اضافے، گزرگاہوں کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے اور ریلوے و رسد کی سہولتوں سے روابط مضبوط کرنے کے ذریعے اس منصوبے کا مقصد ٹریفک کی موجودہ رکاوٹوں کو دور کرنا اور خطے کی رابطے کی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

سڑک کے ذریعے نقل و حمل، صنعتی سرگرمیوں، زرعی سپلائی چین اور سرحد پار آمدورفت کو ایک دوسرے سے جوڑ کر مظفر پور–سیتامڑھی–سونبرسا راہداری خطے میں نقل و حمل کے زیادہ مربوط نیٹ ورک کی تشکیل میں تعاون کرے گی، جس سے رابطوں اور اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

***

ش ح۔ک ح۔ خ م

U.NO.6004


(ریلیز آئی ڈی: 2322843) وزیٹر کاؤنٹر : 8
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी